Sunday, May 3, 2026

لا سلام و ولا کلام علی الطعام اور حنفی عوام!

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
 
موضوع: لا سلام  ولا کلام علی الطعام اور حنفی عوام! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

اقبال قاسمی سلفی 

لوگوں میں یہ مقولہ مشہور ہے: 
لاسلام ولا کلام علی الطعام ۔
یعنی کھاتے ہوئے نہ کوئی سلام ہے اور نہ کوئی کلام ہے۔
اسی لیے ہمارے یہاں دیوبندی اور بریلوی عوام میں یہ بات رائج ہے کہ کھانا کھانے والے کو سلام نہیں کیا جاتا ہے اور اگر کوئی سلام کردے تو سلام کا جواب دینے کے بجائے وہ یہ کہتے ہیں کہ کھانا کھا رہے ہیں ۔ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں بھی یہ بات موجود ہے کہ کھانا کھانے والے کو سلام نہیں کرنا چاہیے ۔

 لیکن " لا سلام ولا کلام علی المعام "یعنی کھاتے وقت کوئی سلام اور کلام نہیں" محض ایک مقولہ ہے جس کی کوئی استنادی حیثیت موجود نہیں ہے ۔صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے ۔

اس عوامی مقولے کے بر عکس کھانے کے دوران گفتگو کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ 
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَعْوَةٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ، وَقَالَ : أَنَا سَيِّدُ الْقَوْمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَلْ تَدْرُونَ بِمَنْ يَجْمَعُ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُبْصِرُهُمُ النَّاظِرُ وَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَتَدْنُو مِنْهُمُ الشَّمْسُ ، فَيَقُولُ : بَعْضُ النَّاسِ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا أَنْتُمْ فِيهِ إِلَى مَا بَلَغَكُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ ، فَيَقُولُ : بَعْضُ النَّاسِ أَبُوكُمْ آدَمُ فَيَأْتُونَهُ ، فَيَقُولُونَ : يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ وَأَسْكَنَكَ الْجَنَّةَ أَلَا تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ وَمَا بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ : رَبِّي غَضِبَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَنَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا ، فَيَقُولُونَ : يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا أَمَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى إِلَى مَا بَلَغَنَا أَلَا تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَيَقُولُ : رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ نَفْسِي نَفْسِي ائْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَأَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهْ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ : لَا أَحْفَظُ سَائِرَهُ .
 ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے ۔ آپ ﷺ کی خدمت میں دست کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ کو بہت مرغوب تھا ۔ آپ نے اس دست کی ہڈی کا گوشت دانتوں سے نکال کر کھایا ۔ پھر فرمایا کہ میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا ۔ تمہیں معلوم ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) تمام مخلوق کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا ؟ اس طرح کہ دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا ۔ آواز دینے والے کی آواز ہر جگہ سنی جا سکے گی اور سورج بالکل قریب ہو جائے گا ۔ ایک شخص اپنے قریب کے دوسرے شخص سے کہے گا ، دیکھتے نہیں کہ سب لوگ کیسی پریشانی میں مبتلا ہیں ؟ اور مصیبت کس حد تک پہنچ چکی ہے ؟ کیوں نہ کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو اللہ پاک کی بارگاہ میں ہم سب کی شفاعت کے لیے جائے ۔ کچھ لوگوں کا مشورہ ہو گا کہ دادا آدم علیہ السلام اس کے لیے مناسب ہیں ۔ چنانچہ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے ، اے باوا آدم ! آپ انسانوں کے دادا ہیں ۔ اللہ پاک نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا ، اپنی روح آپ کے اندر پھونکی تھی ، ملائکہ کو حکم دیا تھا اور انہوں نے آپ کو سجدہ کیا تھا اور جنت میں آپ کو ( پیدا کرنے کے بعد ) ٹھہرایا تھا ۔ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیں ۔ آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کس درجہ الجھن اور پریشانی میں مبتلا ہیں ۔ وہ فرمائیں گے کہ ( گناہ گاروں پر ) اللہ تعالیٰ آج اس درجہ غضبناک ہے کہ کبھی اتنا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی ہو گا اور مجھے پہلے ہی درخت ( جنت ) کے کھانے سے منع کر چکا تھا لیکن میں اس فرمان کو بجا لانے میں کوتاہی کر گیا ۔ آج تو مجھے اپنی ہی پڑی ہے ( نفسی نفسی ) تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ ۔ ہاں ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ چنانچہ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے ، اے نوح علیہ السلام ! آپ ( آدم علیہ السلام کے بعد ) روئے زمین پر سب سے پہلے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ” عبد شکور “ کہہ کر پکارا ہے ۔ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ آج ہم کیسی مصیبت و پریشانی میں مبتلا ہیں ؟ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیجیے ۔ وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میرا رب آج اس درجہ غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ کبھی اس کے بعد اتنا غضبناک ہو گا ۔ آج تو مجھے خود اپنی ہی فکر ہے ۔ ( نفسی نفسی ) تم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جاؤ ۔ چنانچہ وہ لوگ میرے پاس آئیں گے ۔ میں ( ان کی شفاعت کے لیے ) عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑوں گا ۔ پھر آواز آئے گی ، اے محمد ! سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو ، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی ۔ مانگو تمہیں دیا جائے گا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر: 3340
آپ نے دیکھا کہ کھانا کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو فرماتے ہوے طویل حدیث صحابہ کو بیان فرمائی جو شفاعت سے متعلق ہے‌۔ 

اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: 
 عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدُمَ فَقَالُوا مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے گھر والوں سے سالن کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے ، آپ نے سرکہ منگایا اور اسی کے ساتھ روٹی کھانا شروع کر دی ۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ سرکہ عمدہ سالن ہے ، سرکہ عمدہ سالن ہے ۔‘‘ 
صحیح مسلم حدیث نمبر: 2052
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھاتے ہوئے بات بھی کر لیا کرتے تھے، جیسے کہ پہلے سرکہ والی حدیث میں اس بات کا تذکرہ ہے، اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سوتیلے بیٹے عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو کھانا کھلاتے ہوئے فرمایا: (بسم اللہ پڑھو، اور اپنے سامنے سے کھاؤ)" انتہی
"زاد المعاد " (2/366)

اسی طرح حنفی دیوبندی دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
سے پوچھا گیا کہ کیا کھانا کھانے کے دوران باتیں کرنا چاہیے یا نہیں؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ باتیں نہ کرنا کافروں سے مشابہت ہے.
تو اس دارالافتاء نے جواب دیا :
 
کھانے کے دوران گفتگو جائز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا کھانے کے دوران گفتگو کرنا ثابت ہے۔
 نیز کھانا کھاتے ہوئے خاموش رہنا غیر قوموں کا طریقہ ہے، فتاویٰ ہندیہ اور فتاویٰ شامی میں اسے مجوسیوں کا طریقہ لکھا گیا ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے، کھانے کھاتے ہوئے اچھی باتوں کے تذکرے، مثلاً: نیک لوگوں کی حکایات وغیرہ بہتر ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 340):
"ويكره السكوت حالة الأكل؛ لأنه تشبه بالمجوس، و يتكلم بالمعروف".

الفتاوى الهندية (5 / 345):
"يكره السكوت حالة الأكل؛ لأنه تشبه بالمجوس، كذا في السراجية. ولايسكت على الطعام ولكن يتكلم بالمعروف وحكايات الصالحين، كذا في الغرائب". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر : 144107200416

اس تفصیل سے ہمیں بخوبی معلوم ہو گیا ہوگا کہ کھانے کے دوران گفتگو کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث سے ثابت ہے ۔
اور جب دوران طعام گفتگو کرنا ثابت شدہ ہے تو سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا بدرجہ اولی جائز ہوگا۔
نیز قرآن و سنت نے ہمیں سلام کو عام کرنے اور اس میں پہل کرنے کی تعلیم دی ہے۔

سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا (86)
 اور جب تمھیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے ، تو تم اس سے اچھی سلامتی کی دعا دو، یا جواب میں وہی کہہ دو ۔ بےشک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کا پورا حساب کرنے والا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو سلام عام کرنے کا حکم دیا ہے ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ»
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم مومن ہو جاؤ ، اور تم مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو ۔ کیا تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگو ، آپس میں سلام عام کرو ۔‘‘ 
صحیح مسلم حدیث نمبر:54

 عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلَانِ يَلْتَقِيَانِ أَيُّهُمَا يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَوْلَاهُمَا بِاللَّهِ ،‏‏‏‏

پوچھا گیا: اللہ کے رسول! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے؟ آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے“ ( وہ پہل کرے گا ) .
سنن ترمذی حدیث نمبر 2694

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ ".
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے پیچھے (جنازے میں) جاؤ۔“ 
[صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5651]

عن ابی هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیادہ کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5646]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ"

 عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کھانا کھلائے اور ہر شخص کو سلام کرے خواہ اس کو تو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 28]

یہ احادیث عام ہیں اور ان احادیث میں بلا استثناء سلام کو عام کرنے ،عند اللقاء سلام میں پہل کرنے اور معروف غیر معروف ہر طرح کے لوگوں کو سلام کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ کھانے کے دوران سلام کرنے یا سلام کا جواب دینے کی ممانعت کسی بھی صحیح حدیث میں موجود نہیں ہے ، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ سلام علی الطعام ممنوع یا مکروہ ہے۔

ان حقائق کے برخلاف حنفی اداروں کے فتوے بڑا مضحکہ خیز ہیں جنہوں نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ اگر لقمہ منہ میں ہو تو اس وقت سلام کرنا ممنوع ہے ۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے اس بابت جب دریافت کیا گیا کہ کیا کھانا کھاتے وقت سلام کرنا اور جواب دینا منع ہے یا جائز ہے؟ 
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
لقمہ اگر منھ میں نہ ہو تو اس وقت سلام کرنا اور جواب دینا دونوں جائز ہے، لقمہ منھ میں ہونے کی حالت میں سلام نہ کرنا چاہیے، اسی طرح اگر کوئی سلام کرے تو اس کا جواب دینا بھی واجب نہیں۔ قال في الشامي: رَدُّ السَّلام واجبٌ إلا علی مَن في الصلاة أو بأکل شغلا۔
دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 20663

جواباً عرض ہے کہ: 
یہ فتویٰ قرآن و حدیث کے دلائل سے بالکل خالی اور عاری ہے۔ یہ محض ایک تقلیدی فتویٰ ہے‌ ۔ جس علامہ شامی کے حوالے سے یہ فتویٰ دیا گیا ہے اس شامی نے اس تخصیص کی کتاب و سنت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے کوئی دلیل نہیں دی۔ 

یہ بات عقل و مشاہدے ک بھی خلاف ہے کیونکہ جو لوگ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں تب وہ سلام کا جواب دینے کے بجائے جواباً اتنا ضرور عرض کرتے ہیں کہ " کھانا کھا رہاہوں ، ائیے کھانا کھائیے ۔ جب اتنا کہنے میں لقمہ حلق میں نہیں اٹکتا نہ کوئی عجز پایا جاتاہے  تو سلام کا جواب دینے میں کیسے اٹک سکتا ہے جس اندیشے کی بنیاد پر علماء احناف نے سلام کا جواب دینے سے مکروہ لکھا ہے۔ 
آج لوگوں کو عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ کھانے کے دوران لمبی لمبی گفتگو کرتے ہیں یا فون کالز پر لگے رہتے ہیں لیکن جب انہیں سلام کر دیا جائے تو وہ سلام کا جواب دینے کے بجائے فوراً یہ کہ دیتے ہیں کہ ابھی کھانا کھا رہا ہوں ۔ گویا کہ سلام سنتے ہی لقمہ ان کے حلق میں اٹکنے لگتا ہے یا وہ عاجز و اپاہج ہو جاتے ہیں۔
اور اگر بالفرض کسی نے اسی لمحہ سلام کر دیا جب لقمہ بالکل درمیان حلق میں تھا تب زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ سلام کا جواب دینے میں اتنی تاخیر ہو جتنی کہ لقمہ حلق سے نیچے اتر جائے ۔جو کہ ایسی معمولی تاخیر ہے جس کی پیمائش یہ مفتیان ہی کر سکتے ہیں ، تب بھی سلام کرنے کو ممنوع نہیں قرار دیا جا سکتا۔ بلکہ سلام کا جواب اس معمولی لمحے تک کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے جتنی دیر میں ان کا لقمہ حلق سے نہ اتر جاۓ۔
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے سلام کا جواب تاخیر سے دیا کیونکہ اس وقت آپ پیشاب کر رہے تھے: 
عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلا عَلَى طُهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ عَلَى طَهَارَةٍ . 
  حضرت مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی ﷺ کے پاس سے گزرے اور آپ پیشاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے سلام کیا تو آپ نے جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ نے وضو کیا ( اور جواب دیا ) اور معذرت کرتے ہوئے فرمایا :’’ مجھے یہ بات ناپسند آئی کہ طہارت کے بغیر اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں ۔

سنن ابوداؤد حدیث نمبر: 17
 
واضح ہو کہ حنفی علماء نے کھانے والے کو سلام کرنا اس وقت مکروہ لکھا تھا جب لقمہ بالکل منہ میں ہو اور مبادا وہ لقمہ جواب دینے سے حلق میں نہ اٹک جاۓ ۔لیکن آج صورت حال یہ ہو گئ ہے کہ لوگ کھانے کے دوران سلام کرنے کو مطلقاً مکروہ اور ناجائز سمجھتے ہیں ۔اور ان میں یہ تصور قائم ہو گیا ہے کہ جوٹھا منہ ہونے کی وجہ سے سلام کا جواب نہیں دینا چاہیے ۔ اور یہ غلط تصورات اس غلط اور من گھڑت تکلفات کا نتیجہ ہے جو علماء احناف نے اس مسئلے میں اختیار کیا ہے ۔
موشگافی پر مبنی یہ  تخصیص و تفصیل کتاب و سنت میں کہیں موجود نہیں ہے ۔
علماء احناف نے تو وضو ، اذان ، ذکر و اذکار اور تلاوت میں مشغول شخص کو بھی سلام کرنے کو مکروہ لکھا ہے ۔ 
جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں شامی کے حوالے سے موجود ہے : 
وضو کرنے والا اگر وضو کی دعاؤں میں مشغول ہو،یادورانِ اکل کھانا منھ میں ہو،یا کوئی شخص اذان کا جواب دینے میں لگا ہو توایسے لوگوں پر سلام کا جواب دینا واجب نہیں۔ یکرہ السلام علی العاجر عن الجواب حقیقة کالمشغول بالأکل أو الاستفراغ، أو شرعًا کالمشغول بالصلاة وقراء ة القرآن، لو سلّم لا یستحق الجواب … یأثم بالسلام علی المشغولین بالخطبة أو الأذان والإقامة ویردون في الباقي لإمکان الجمع بین فضیلتي الرد․(شامي:۲/۳۷۵کتاب الصلاة / باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیہا، مطلب: المواضع التي یکرہ فیہا السلام ،ط: زکریا)
دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 154606

لیکن یہ مسائل احناف کے ان ہفوات میں سے ہیں جو بے دلیل اور بے سند ہونے کی وجہ سے یکسر مردود ہے۔ جسے ان شاء اللہ ہم دوسرے پوسٹ میں ملاحظہ کریں گے۔
علامہ بن باز رحمہ اللہ سے جب اس بابت پوچھا گیا کہ:  
إذا مر رجل على قوم يأكلون، هل يسلم عليهم، لأنا سمعنا أن ذلك لا يجوز؟
جب کوئی شخص کھانا کھانے والے لوگوں ک پاس سے گزرے تو کیا وہ انہیں سلام کرے ،کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے۔؟

تو علامہ بن باز نے جواب دیا: 

نعم يسلم عليهم، والذي قال: لا يسلم غلط، يسلم عليهم، إذا جاء لقوم وهم يأكلون، أو يقرؤون، أو يتحدثون؛ يسلم عليهم، يقول: السلام عليكم، أو السلام عليكم ورحمة الله، أو ورحمة الله وبركاته، ولا يكره ذلك، بل يشرع، وهم يردون عليه. نعم..

Recent posts

لا سلام و ولا کلام علی الطعام اور حنفی عوام!

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ   موضوع: لا سلام  ولا کلام علی الطعام اور حنفی عوام!  مصادر: مختلف مراجع و مصادر  ...

Popular post