بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
موضوع: اذان سے پہلے سلام پڑھنے کی شرعی حیثیت!
محمد اقبال قاسمی سلفی
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
ہمارے یہاں عام طور سے بریلوی مساجد میں اذان سے پہلے سلام پڑھنے کو سنیت اور رضا خانیت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اذان سے پہلے سلام نہ پڑھنے والے پر غیر سنی ہونے کا فتوی لگایا جاتا ہے۔ اذان سے پہلے سلام پڑھنے اور نہ پڑھنے کو امتیازی مسائلِ بناتے ہوے ایک دوسرے کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں۔
جبکہ اذان س پہلے درود و سلام پڑھنا فرض ہ نہ واجب ہ اور نہ سنت۔
اذان سے پہلے درود و سلام پڑھنے کی تخصیص کسی بھی
صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے ، صحیح تو کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی کوئی ایسی روایت موجود نہیں ہے جس میں صراحت کے ساتھ اذان سے پہلے درود و سلام پڑھنا مذکور ہو۔
اذان سے پہلے درود و سلام پڑھنا نہ قرآن کی کسی آیت میں ہے ۔
نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں۔
نہ خلفاء راشدین سے ثابت ہے نہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی سے۔
اذان کے متعلق پوری تفصیل احادیث کی کتابوں میں موجود ہے مثلاً اذان کی ابتداء کیسے ہوئی ، اذان کے کلمات کیا ہیں، اذان کی فضیلت کیا ہے ، اذان سن کر شیاطین بھاگتے ہیں، اذان سننے والا اذان کا جواب کیسے دے ، اذان کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا اور اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ کے لیے دعاۓ شفا ۔
مدینے میں اذان کی ابتداء ہوئی ۔
، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ ، يَقُولُ : كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ .
جب مسلمان ( ہجرت کر کے ) مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کر کے نماز کے لیے آتے تھے ۔ اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی ۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا ۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نرسنگا ( بگل ) بنا لو ، اس کو پھونک دیا کرو لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے پکار دیا کرے ۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے ( اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے ) فرمایا کہ بلال ! اٹھ اور نماز کے لیے اذان دے ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر:604
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالرُّؤْيَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا حَقٍّ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَإِنَّهُ أَنْدَى وَأَمَدُّ صَوْتًا مِنْكَ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَكَ وَلْيُنَادِ بِذَلِكَ ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِدَاءَ بِلَالٍ بِالصَّلَاةِ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَجُرُّ إِزَارَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ فَذَلِكَ أَثْبَتُ ۔
جب ہم نے ( مدینہ منورہ میں ایک رات ) صبح کی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور میں نے آپ کو اپنا خواب بتایا ۱؎ تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایک سچا خواب ہے، تم اٹھو بلال کے ساتھ جاؤ وہ تم سے اونچی اور لمبی آواز والے ہیں۔ اور جو تمہیں بتایا گیا ہے، وہ ان پر پیش کرو، وہ اسے زور سے پکار کر کہیں“، جب عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے بلال رضی الله عنہ کی اذان سنی تو اپنا تہ بند کھینچتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے، میں نے ( بھی ) اسی طرح دیکھا ہے جو انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے، یہ بات اور پکی ہو گئی“۔
سنن ترمذی حدیث نمبر 189
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ، طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ فَقُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ؟ فَقُلْتُ لَهُ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ قَالَ: وَتَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ، فَقَالَ: إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ، فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، وَيَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔
جناب محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تاکہ اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا جائے تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس سے ایک آدمی گزر رہا ہے ، ہاتھ میں ناقوس لیے ہوئے ہے ۔ میں نے اس سے کہا : اے اللہ کے بندے ! کیا تو ناقوس بیچے گا ؟ اس نے کہا : تم اس کا کیا کرو گے ؟ میں نے کہا : ہم اس سے لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں گے ۔ وہ کہنے لگا : کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دوں جو اس سے زیادہ بہتر ہے ۔ میں نے کہا : کیوں نہیں ۔ اس نے کہا : تم یوں کہا کرو : ( الله أكبر الله أكبر ۔ الله أكبر الله أكبر ۔ أشهد أن لا إله إلا الله ۔ أشهد أن لا إله إلا الله ۔ أشهد أن محمدا رسول الله ۔ أشهد أن محمدا رسول الله ۔ حى على الصلاة ۔ حى على الصلاة ۔ حى على الفلاح ۔ حى على الفلاح ۔ الله أكبر الله أكبر ۔ لا إله إلا الله ) ’’ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ۔ آؤ نماز کی طرف ۔ آؤ نماز کی طرف ۔ آؤ کامیابی کی طرف ۔ آؤ کامیابی کی طرف ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔‘‘ پھر وہ مجھ سے کچھ پیچھے ہٹ گیا اور کہا جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو یوں کہو : ( الله أكبر الله أكبر ۔ أشهد أن لا إله إلا الله ۔ أشهد أن محمدا رسول الله ۔ حى على الصلاة ۔ حى على الفلاح ۔ قد قامت الصلاة ۔ قد قامت الصلاة ۔ الله أكبر الله أكبر ۔ لا إله إلا الله ) جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ خواب میں دیکھا تھا آپ کو بتلایا ۔ تو آپ نے فرمایا :’’ یہ ان شاء اللہ سچا خواب ہے ۔ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور اسے وہ کلمات بتاتے جاؤ جو تم نے دیکھے ہیں ۔ وہ اذان کہے گا کیونکہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز والا ہے ۔‘‘ چنانچہ میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور انہیں وہ الفاظ بتاتا گیا اور وہ اذان کہتے گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں تھے ، انہوں نے اسے سنا تو ( جلدی سے ) چادر گھسیٹتے ہوئے آئے ، کہنے لگے : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے ، اے اللہ کے رسول ! میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے جیسے کہ اسے دکھایا گیا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ۔
سنن ابوداؤد حدیث نمبر 499
اناحادیث سے معلوم ہوا کہ اذان کے کلمات عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خواب میں بتاۓ گۓ اور انہوں نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا ، اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے یہی کلمات مقرر فرما دییے ۔
اس میں اذان سے پہلے درود و سلام پڑھنا کہیں بھی مذکور نہیں ہے ۔
اذان کا جواب دینا
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتُمْ النِّدَاءَ فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم اذان سنو تو اسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے ۔‘‘
سنن ابن ماجہ حدیث نمبر :720
اذان ک بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور دعاۓ وسیلہ پڑھنا
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِي الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ»
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو سنا ، آپ فرما رہے تھے : جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو کیونکہ وہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے وہ میں ہوں گا ، چنانچہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا اس کے لیے ( میری ) شفاعت واجب ہو گئی ۔‘‘
صحیح مسلم حدیث نمبر:749
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے بعد درود پڑھنے دعاۓ وسیلہ مانگنے کی تعلیم دی ہے۔
معلوم ہوا کہ شریعت نے اذان کے بعد درود پڑھنا مشروع کیا ہے نہ کہ اذان سے پہلے ۔
اذان سے قبل درود
مکتب رضاخانی کو یہ بات مسلم ہے کہ اذان سے درود پڑھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ سو سال بعد شروع ہوا ۔یعنی دور نبوت سے لیکر چھ سو سال تک کسی نے اس عمل کو انجام نہیں دیا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا چھ سو سالوں تک پوری امت میں ایک بھی سنی نہیں تھا۔ کیا مؤذنین رسول سنی نہیں تھے ۔خلفاءراشدین اور صحابہ کرام میں کوئی سنی نہیں تھا؟ محدثین سنی نہیں تھے ،کیا فقہاء غیر سنی تھے ؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان ک بعد درود پھنے کی تعلیم دی ہے جیسا کہ حدیث ک الفاظ ہیں کہ جب مؤذن اذان کہ دے" ثم صلوا علی " پھر مجھ پر درود پڑھو ۔اور ثم عربی زبان میں حرف عطف ہے جو ترتیب( sequence )اور تراخی (delay) کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ یعنی یہ حرف یہ بتاتا ہے کہ ایک کام کے بعد دوسرا کام انجام پایا یا ایک کام ک بعد دوسرا کام انجام دو۔جیسے: ذَهَبَ زَيْدٌ إِلَى الْمَسْجِدِ ثُمَّ إِلَى السُّوقِ (زید مسجد گیا، پھر بازار گیا)۔
اس مثال میں ثم استعمال کیا گیا ہے جو ترتیب یعنی sequence کو بتا رہا ہے یعنی زید پہلے مسجد گیا پھر بازار گیا۔
قرآن مجید سے مثال
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا.
ترجمہ: اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر تمہیں جوڑا (میاں بیوی) بنایا۔ (سورۃ فاطر: 11)
یہاں اس آیت کریمہ میں ثم کا استعمال ہوا ہے جس میں تخلیقی ترتیب کو بتایا گیا ہے ۔
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو نماز کی احسن تعلیم دیتے ہوے فرمایا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ، قَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ، صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ثُمَّ قَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا عَلِّمْنِي، قَالَ: إِذَ قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو ایک آدمی مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا، آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ شخص واپس گیا اور پہلے کی طرح نماز ادا کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعلیکم السلام کہا اور فرمایا: ”واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ حتیٰ کہ تین دفعہ ایسا ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تو اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے تم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا، آپ مجھے سکھلا دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو «اللہ اکبر» کہو اور پھر جتنا تم کو قرآن یاد ہے وہ پڑھو، پھر رکوع کرو حتیٰ کہ رکوع میں تمہیں اتمام ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ حتیٰ کہ اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو حتیٰ کہ سجدے میں اطمینان ہو، پھر سر اٹھاؤ حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر پوری نماز میں اسی طرح کرو۔“
صحیح مسلم حدیث نمبر 885
اس حدیث میں ثم کا استعمال بار بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس صحابی کو ارکان نماز کی ترتیب سمجھائی کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو «اللہ اکبر» کہو اور پھر جتنا تم کو قرآن یاد ہے وہ پڑھو، پھر رکوع کرو حتیٰ کہ رکوع میں تمہیں اتمام ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ حتیٰ کہ اطمینان سے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو حتیٰ کہ سجدے میں اطمینان ہو، پھر سر اٹھاؤ حتیٰ کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر پوری نماز میں اسی طرح کرو۔
تو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ثم صلوا علی فرماکر درود بعد اذان پڑھنے کی تعلیم دی تو کیا اذان س پہلے درود پڑھنا اس تعلیم کے خلاف نہیں ہوگا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دی ہے۔
اجماع
چھ سو سالوں تک امت کا اذان کے پہلے درود نہ پڑھنے پر اجماع اور تعامل امت رہا۔
عن العِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ ، يَقُولُ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَعَظْتَنَا مَوْعِظَةَ مُوَدِّعٍ، فَاعْهَدْ إِلَيْنَا بِعَهْدٍ، فَقَالَ:" عَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، وَسَتَرَوْنَ مِنْ بَعْدِي اخْتِلَافًا شَدِيدًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْأُمُورَ الْمُحْدَثَاتِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ".
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ نے ہمیں ایک مؤثر نصیحت فرمائی، جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو رخصت ہونے والے شخص جیسی نصیحت کی ہے، لہٰذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ سے ڈرو، اور امیر (سربراہ) کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، گرچہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، عنقریب تم لوگ میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے، تو تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رہنا، اور دین میں نئی باتوں (بدعتوں) سے اپنے آپ کو بچانا، اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے“
سنن ابن ماجہ حدیث نمبر:42
اذان س پہلے درود پڑھنا فقہ حنفی کے خلاف ہے۔ اور اس تقلید کے خلاف ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
اذان سے پہلے درود و سلام پڑھنے والوں کے شبہات !
اذان سے پہلے درود و سلام پڑھنے والے عام طور سے وجہ جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے اپنی کتاب قرآن مقدس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا ہے اور یہ عام ہے.
جیساکہ سورہ الاحزاب آیت نمبر 56 میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّ ؕ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا ۞- سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 56
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود پڑھتے ہیں ‘ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود پڑھو اور بہ کثرت سلام پڑھو۔
اس آیت کریمہ سے استدلال اولا تو اس لیے غلط ہے کیونکہ اگر اس آیت کریمہ کے عموم سے استدلال کیا جاتا ہے تو اسلام ک بہت سارے مسائل ایسے ہیں جسے قرآن میں عمومیت ک ساتھ بیان کیا گیا ہے اور جس کی اختراعی صورت نہ قرآن پاک کی کسی آیت میں موجود ہے نہ کسی حدیث میں ۔
مثلاً اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں مطلق نماز کا حکم دیا ہے۔ اقیموا الصلوٰۃ یعنی نماز قائم کرو۔ نہ تعداد رکعات کی تفصیل موجود ہے ،نہ ہی دعاۓ ثنا کاتذکرہ۔ نہ سجدہ سہو کے مسائل مذکور ہیں نہ عیدین کی نمازوں کا مسئلہ زیر بحث۔ نہ نماز جنازہ اور اس کی ہئیت ہ کیفیت کا تذکرہ ہے نہ ہی سنن رواتب اور غیر رواتب کی تفصیل ۔ان سب باتوں کی تفصیل امت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے۔
اب اگر کوئی قرآن کی آیت کے عموم سے استدلال کرتے ہوے فجر کی فرض نماز چار رکعت ادا کرے ، ظہر کی فرض نماز پانچ رکعت ، عصر کی چھ رکعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور قرآن سے یہ استدلال کرے کہ قرآن کریم کی آیت کریمہ عام ہے ۔کہیں ممانعت موجود نہیں ہے ۔ یقیناً اس کا یہ اختراع ناقابل قبول اور یکسر مردود و مطروح سمجھا جائے گا۔اسی سے اس اشتباہ کا بھی رد ہو جاتا ہے کہ درود و سلام پڑھنے کے متعلق قرآن کی آیت مطلق ہے اور المطلق یجری علی اطلاقہ.
قرآن نے مطلق نماز کا حکم دیا ہے اور احادیث میں مذکور فرض رکعات پر اضافے کی کہیں ممانعت بھی موجود نہیں ہے ۔ کوئی کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صلوا رایتمونی کما اصلی فرمایا ہے کہ نماز اسی طرح پڑھو جیسے تم لوگوں ن مجھے نماز پڑھتے ہوے دیکھا ہے ، بایں وجہ ہم اتنی ہی رکعات پر اکتفا کرنے کو لازم قرار دیتے ہیں ۔ تو جواباً عرض ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز کے متعلق یہ ارشاد ہے تو اذان بدرجہ اولی اس کا مصداق ہوگا۔ اور اذان ہی کیوں ؟ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاﭤ(21)
بیشک تمہیں رسولُ الله کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ الله اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور الله کو بہت یاد کرے۔
نافع سے روایت ہے:
عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَنَا أَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، وَلَيْسَ هَكَذَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا، أَنْ نَقُولَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ۔
ابن عمر رضی الله عنہما کے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ یعنی تمام تعریف اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: کہنے کو تو میں بھی الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ کہہ سکتا ہوں ۱؎ لیکن اس طرح کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں سکھلایا ہے۔ آپ نے ہمیں بتایا ہے کہ ہم الحمد لله على كل حال ہر حال میں سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، کہیں۔
سنن ترمذی حدیث نمبر :2738
دیکھیے اس روایت میں چھینک آنے کے بعد الحمدللہ ک ساتھ السلام علی رسول اللہ پڑھنے پر حضرت عبداللہ بن عمر نے اس کا کس طرح نوٹس لیا۔ کیا حضرت عبداللہ بن عمر کو یہ معلوم نہیں تھا کہ قرآن کریم کی آیت کریمہ اس معاملے میں مطلق وارد ہے اور المطلق یجری علی اطلاقہ کا قاعدہ بھی ہے، اس موقع سے درود پڑھنے کی کہیں ممانعت بھی نہیں ہے ، آیت کریمہ عام ہے ، پھر بھی صحابی رسول وہ بھی عبداللہ بن عمر جیسے صحابی اس موقع کی تخصیص س منع کرتے ہوے فرما رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام تو ہم بھی پڑھتے ہیں لیکن اس موقع سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صرف الحمدللہ پڑھنے کی تعلیم دی ہے ۔
کیا عبداللہ بن عمر عاشق رسول نہیں تھے یا نعوذباللہ سلام سے منع کرکے انہوں نے سلام دشمنی کا ثبوت دیا؟ اگر ایسا ہرگز نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے اذان سے پہلے درود و سلام پڑھنے کے معاملے میں بھی یہی کہتا ہوں کہ درود و سلام ہم بھی پڑھتے ہیں لیکن اذان سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھنے کی ہمیں تعلیم نہیں دی ہے بلکہ آپ نے فرمایا:
تم یوں کہا کرو اللہ اکبر اللہ اکبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلی بار کسی کو چھینک ک موقع پر سلام کی تخصیص کرتے ہوے سنا تب آپ نے نکیر فرمائی اگر اذان س پہلے سن لیتے تب آپ کا رویہ کیسا ہوتا ؟ یقناً یہی کہتے :
وَأَنَا اصلی و اسلم عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، وَلَيْسَ هَكَذَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا، أَنْ نَقُولَ: اللہ اکبر اللہ اکبر ۔۔۔۔۔۔
میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھتا ہوں لیکن اس موقع سے سلام پڑھنے کی تعلیم ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دی ہے بلکہ ہمیں اللہ اکبر اللہ سے اذان کو شروع کرنے کی تعلیم دی ہے۔
دوسرا اشتباہ رضاخانی علماء کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے اس لیے جب کہیں ممانعت موجود نہیں ہے اور اشیاء اصلا مباح ہے تو اذان سے پہلے درود پڑھنا بھی مباح اور جائز ہوگا۔
جواباً عرض ہے علماء نے عبادات اور معاملات کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔
عبادات اور معاملات
عبادات ازقبیل توقیفی ہوتے ہیں۔
یعنی کسی بھی عمل کے لیے ثبوت شرعی اور نص شرعی درکار ہے ۔
یہ اصول اللہ رب العزت کے اس فرمان سے ماخوذ ہے۔
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنْ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّه ترجمہ: یا ان کے شریک ہیں جو ان کے لیے دین میں ایسی چیزیں شامل کرتے ہیں جن کی اللہ تعالی نے اجازت نہیں دی۔ [الشوری: 21]
جبکہ عادات و معاملات میں اصل حلت ہے۔ کسی کی کو اس وقت تک حرام نہیں قرار دیا جا سکتا ہے جب تک حرام ہونے کی دلیل نہ مل جائے ۔اور یہ قاعدہ شرعیہ بھی فرمان باری تعالیٰ سے ہی ماخوذ ہے ۔
اللہ ربّ العزت نے فرمایا:
سورۃ الاعراف (آیت 157): ارشاد باری تعالیٰ ہے: "{وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ}"(ترجمہ: اور وہ ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتا ہے اور گندی چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے۔)سورۃ البقرہ (آیت 29): فرمایا: "{هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا}"(ترجمہ: وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔)مفسرین کے مطابق، زمین کی تمام چیزوں کو انسان کے لیے پیدا کرنے کا مقصد ان سے فائدہ اٹھانا ہے، جو اس کے جواز کی دلیل ہے۔2. احادیثِ مبارکہ:جامع ترمذی کی روایت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الحلال ما أحل اللہ فی کتابہ، والحرام ما حرم اللہ فی کتابہ، وما سکت عنہ فہو مما عفا عنہ"(ترجمہ: حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کیا، اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے حرام کیا، اور جس چیز سے خاموشی اختیار فرمائی وہ معاف ہے۔)سنن الدارقطنی کی حدیث: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إن اللہ عز وجل فرض فرائض فلا تضيعوها، وحد حدوداً فلا تعتدوها، وحرم أشياء فلا تنتهكوها، وسكت عن أشياء رحمة بكم غير نسيان فلا تبحثوا عنها"(ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں انہیں ضائع نہ کرو، کچھ حدود مقرر کیں ان سے تجاوز نہ کرو، کچھ چیزیں حرام کیں ان کا ارتکاب نہ کرو، اور کچھ چیزوں کے بارے میں بھولے بغیر محض تمہاری رحمت کے لیے خاموشی اختیار کی، پس ان کی کرید میں نہ پڑو۔)
اگر اذان سے پہلے درود کے مسئلے پر یہ مان لیا جائے کہ تمام امور میں اصل اباحت ہے یہاں تک کہ عبادات میں بھی تو بدعات و منکرات کا ایک دروازہ کھل جائے گا اور کوئی کس منہ سے پھر کسی عمل کو بدعت کہتے گا۔
١)وضو سے پہلے درود پڑھنا وضو کے بعد درود پڑھنا ممنوع کہاں ہے؟
٢)عیدین کی نمازوں کے پہلے اذان دینا منع کہاں ہے؟
جنازے کی نماز کے لیے اذان دینے کی ممانعت کہاں ہے؟
تکبیر تحریمہ کے متصلا بعد دعاۓ ثنا سے پہلے اور بعد میں سورہ فاتحہ سے پہلے درود و سلام پڑھنے کی ممانعت کی دلیل کیا ہے؟
اذان س پہلے تو رو تسمیہ کی ممانعت کہاں ہے؟
احمد رضا خان صاحب مروجہ الوداع جمعہ کے وجہ تسمیہ اور اس میں الوداعی خطبے ک متعلق لکھتے ہیں :
الوداع نہ کہہ کر اس کو صرف جمعہ کا نام ہی دیا جائے تو زیادہ اچھا ہے۔ اور اس کے خطبے میں وہی پڑھنا فرض، واجب یا سنت ہے جو دوسرے جمعوں کے خطبوں میں ہے۔ کسی سال ایسا ہوتا ہے کہ رمضان کی 30 تاریخ جمعہ کے دن پڑ رہی ہو تو کافی لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ الوداع کون سا جمعہ ہوگا؟ کیونکہ اگر چاند 29 کو ہو گیا تو رمضان سے آگے ہو جائیں گے۔ اس طرح کا سوال پوچھنے والے سب ان پڑھ اور بے علم لوگ ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جب اس جمعہ کی کوئی خصوصیت اسلام میں ہے ہی نہیں تو اس کے بارے میں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟"
اب سوال یہ ہے کہ اس طرح کا سوال کرنے والے ان پڑھ اور بے علم کیسے ٹھہرے اور مانا کہ اس جمعہ کی کوئی علحدہ خصوصیت قرآن و حدیث میں نہیں ہے لیکن اس بار میں پوچھنے کی ضرورت یوں ہے کہ ممانعت کہاں ہے اور اس دلیل کدھر ہے ؟ اگر نہیں ہے تو میں بھی تو یہی کہ رہا ہوں کہ اذان سے پہلے درود پڑھنے کی تخصیص اسلام میں کہاں ہے ؟