Sunday, June 21, 2026

موضوع: مصنوعی کربلا ، امام باڑہ اور فتویٰ احمد رضاخان

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مولانا اقبال قاسمي سلفي

موضوع: مصنوعی کربلا ، امام باڑہ اور فتویٰ رضاخانی! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

سب سے پہلے  مصنوعی کربلا کے متعلق مولانا احمد رضا خان  کا فتوی پیش کیے دیتا ہوں۔
 احمد رضا خان اس مصنوعی کربلا کے متعلق فتوی دیتے ہوئے لکھتے ہیں: 

مصنوعی کربلا جانا حرام و ناجائز و گناہ ہے۔ 

(فتاوٰی رضویہ، 24، ص 496، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔

قرآن و حدیث کے واضح شاہراہ کو چھوڑ کر صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے  رضاخانیوں نے شرک و بدعات کے ذریعے اسلام کو مضحکہ خیز بنادیا ہے۔

ان ہی میں سے فرضی اور مصنوعی کربلا بھی ہے، جو آج ہند وپاک میں بکثرت پاۓ جاتے ہیں۔ ماہ محرم میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
 اس فرضی اور مصنوعی امام بارہ کو روضہ حسین کا مقام و مرتبہ دیا جاتاہے ۔
جبکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اصل قبر کے متعلق کسی کو علم نہیں ہے، اور کسی بھی مستند ماخذ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر اور جسم کے مدفن کے بارے میں مذکور نہیں ہے ۔ اسی لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مدفن کے متعلق دعوے کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ کہاں ہے۔ 

علامہ بن باز رحمہ اللہ سے جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ کہاں ہے تو انہوں نے جواب دیا: 

 بالواقع قد اختلف الناس في ذلك، فقيل: إنه دفن في الشام، وقيل: في العراق، والله أعلم بالواقع.
أما رأسه فاختلف فيه؛ فقيل: في الشام، وقيل في العراق، وقيل: في مصر، والصواب أن الذي في مصر ليس قبرًا له، بل هو غلط وليس به رأس الحسين، وقد ألف في ذلك بعض أهل العلم، وبينوا أنه لا أصل لوجود رأسه في مصر ولا وجه لذلك، وإنما الأغلب أنه في الشام؛ لأنه نقل إلى يزيد بن معاوية وهو في الشام، فلا وجه للقول بأنه نقل إلى مصر، فهو إما حفظ في الشام في مخازن الشام، وإما أعيد إلى جسده في العراق، وبكل حال فليس للناس حاجة في أن يعرفوا أين دفن؟ وأين كان؟
وإنما المشروع الدعاء له بالمغفرة والرحمة، غفر الله له ورضي عنه، فقد قتل مظلومًا فيدعى له بالمغفرة والرحمة، ويرجى له خير كثير، وهو وأخوه الحسن سيدًا شباب أهل الجنة، كما قال ذلك النبی صلى الله عليه وسلم. 

(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز (6/ 461).

(در اصل اس بارے میں اختلاف ہے۔ کہاجاتا ہے کہ وہ شام دفن کیے گئے اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ عراق میں دفن کیے گئے ہیں والله اعلم بالواقع. 

سر  حسین کے متعلق بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ شام عراق اور بعض نے مصر کو بھی سر حسین کا مدفن قرار دیا ہے۔ اور درست یہ ہے کہ مصر میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر نہی ہے جس کے متعلق باور کرایا جاتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔ اور اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مصر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر کے پاۓ جانے کی کوئی اصل نہیں ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ وہ شام میں ہے۔ اس لیے کہ اسے شام میں یزید بن معاویہ کی طرف منتقل کر دیا گیا تھا۔ پس یوں تو وہ شام کے مخازن میں ہی محفوظ کردیا گیا یا اسے عراق میں جسد حسین کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ بہر صورت لوگوں کو یہ جاننے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ انہیں کہاں دفن کیا گیا؟ اب ان کے لیے دعاء مغفرت اور رحمت کی ضرورت ہے کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان پر رحم فرماۓ! کیونکہ انہیں ظالمانہ طور پر قتل کیا گیا تو ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جاۓ اور ان کے لیے ڈھیر ساری بھلائیوں کی امید رکھی جائے۔ 
یقیناً حضرت حسین اور انکے بھائی حسن جنتی جوانوں کے سردار ہیں جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے). 
(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز (6/ 461)

اور نہ ہی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد محترم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مدفن کا کسی کو یقینی علم ہے۔ 

اسی لیے مدفن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق سنیوں اور شیعوں کی مختلف آراء ہیں۔ 
اہلسنت کے نزدیک قصرالامارہ، کوفہ ؛ اہل تشیع کے یہاں روضہ حیدریہ،نجف، عراق جبکہ ممکنہ طور پر مسجد ازرق ، افغانستان کو مدفن علی تصور کیا جاتا ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت دریافت کیا گیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار کہاں ہے۔ حوالے کے ساتھ جواب درکار ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا : 

"تحقیق نہیں۔"

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 41513

اس سے معلوم ہوا کہ نواسہ رسول سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کے متعلق کسی کو بھی یقینی علم نہیں ہے اور نہ ہی ان کے والد محترم حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر کے متعلق یقین کے ساتھ یہ کہا جاسکتا کہ ان کا مدفن کہاں ہے ۔

مصنوعی کربلا اور امام باڑوں کے متعلق خود ان کے علماء کے فتوے ملاحظہ کریں:

1)  کیا فرماتے ہیں مفتیان امام باڑہ بنانا اور اس کے سامنے فاتحہ پڑھنا کیسا ہے

المستفتی شمس بهار

وعليكم السلام ورحمت الله وبركاته

الجواب بعون الملك الوهاب

دور حاضر میں امام باڑا بنانا جائز نہیں ہے جیسا کہ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں بے امام باڑا بنانا اور اس کو ماننا اسی طرح مصنوعی کربلا اور فرضی قبر بنا کر اسے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا روضہ سمجھنا پھر اس کے ساتھ امام پاک کے روضہ مبارک کی طرح برتاؤ کرنا حرام و گناہ ہے صاحب عقل یہ بخوبی جانتا ہے کہ فرضی روضه برگزبرگز حضرت امام پاک کا روضہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کربلا ہے نہ وہ امام پاک کی بارگاه یا آرام گاہ ہے پھر اس کے ساتھ اصل روضہ کی طرح برتاؤ کرنا کیوں کر جائز ہو سکتا ہے اسلام فرضی مصنوعی چیز کو حقیقی اور سچی ماننے کی تعلیم نہیں دیتا عوام کا یہ طریقہ بالکل غلط ہے اور اسے امام پاک کا روضہ سمجھ کر وہاں فاتحہ پڑھنے والے اور اسی طرح دوسرے امور انجام دینے والے گناہ گار ہیں فتاوی مرکز تربیت افتاء ج دوم صفحہ نمبر / ٣٧٤)

جب بنانا ہی جائز نہیں تو وہاں جاکر فاتحہ پڑھنے کی بات ہی نہ رہی ویسے فاتحہ امام باڑہ پر کرنا ضروری نہیں ہے بہتر یہ ہے کہ اپنے گھر میں جگہ پاک وصاف کرکے نیاز دلائیں واللہ تعالی اعلم بالصواب

محمد الطاف حسین قادری عفی عنہ لکھیم پور کھیری یوپی انڈیا

 
2)  امام باڑہ میں فاتحہ کرنا اور تعزیہ کے سامنے تقریر کرنا کیسا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع اس مسئلہ ذیل میں اگر کوئی امام صاحب امام باڑہ میں فاتحہ کرے تعزیہ کے سامنے یا تقریر کرے اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟  
ساتویں تاریخ اور دسویں تاریخ محرم الحرام کے موقع پر عورتوں کا ہجوم کافی رہتی ہے امام باڑے پر مذکورہ تاریخ میں شیرینی اگربتی وغیرہ رکھ کر فاتحہ کرنا کیسا ہے؟
تفصیلی جوابات مع حوالہ دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ،                 
سائل:- محمد اعظم نواز برکاتی گرام خوشحالپور بھاگلپور بہار انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونشكره و نصلي علي رسوله الأمين الكريم 
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 
الجواب بعونه تعالي عزوجل
امام باڑہ میں فاتحہ خوانی تعزیہ کے سامنے اور شور و شرابہ اور عورتوں کے بیچ امام صاحب کا ایسا کرنا شرعا جائز نہیں ہے جاہلوں کے گناہ میں معاونت کرنے کی وجہ سے امام صاحب توبہ کریں پھر امامت میں کوئی حرج نہیں ہے 
فتاوی رضویہ میں ہے 
چوک پر تعزیہ کے سامنے کچھ رکھ کر نیاز فاتحہ دلانا تعزیہ کو گاوں و گلی کوچوں میں میں گھمانا ماتم کرنا تاشے اور طرح طرح کے ڈھول بجانا کھیل تماشہ کرنا مصنوعی کربلا کو جانا جلوس میں مرد عورت کا باہم خلط ملط ہونا عورتوں کا مرثیہ گانا کسی مرد پر یا عورت پر بابا کی سواری آنا یہ سب باتیں خرافات وبدعات اور سخت ناجائز وحرام ہیں شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ایسا کرنے والے سخت گنہگار و مستحق عذاب نار ہیں
(فتاویٰ رضویہ ج نہم نصف آخر ص44)

فرضی کربلا جو آج کل محرمات و خرافات کی آماجگاہ ہے‘ کسی کو خود اپنی ملک میں بنانا بھی جائز نہیں‘ چہ جائے کہ وقفی قبرستان میں بنائے‘ یہ حرام در حرام‘ بدکام بدانجام ہے۔ پھر جبکہ وہاں قبر ہونے کا گمان غالب ہو‘ تو اور زیادہ عذاب و نکال و وبالِ شدید کا موجب ہے کہ ایذائے میت ہے‘ جو اشد حرام ہے۔ حضور سرورِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو قبر پر بیٹھتے دیکھا تو فرمایا: اے شخص! قبر سے اُتر‘ صاحب ِقبر کو ایذا نہ دے‘ نہ وہ تجھے ایذا دے‘ اور حدیث میں ہے کہ حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں انگاروں پر چلوں یہ مجھے قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہے۔ علما فرماتے ہیں کہ قبرستان میں جو نیا راستہ نکالا جائے اس میں گزرنا حرام ہے کہ قبروں پر سے گزر کا احتمال ہے‘ تو اس صورت ِخاصہ میں وہاں کچھ بنانا اشد حرام‘ ورنہ قبرستان ہونا ہی کسی تصرفِ اجنبی سے ممانعت کافی۔ ’’ردّ المحتار‘‘ میں ہے:
’’لانہم نصوا علی ان المرور فی سکۃ حادثۃ فیھاحرام‘ فہٰذا أولی‘‘
[ردالمحتار‘ ج۱‘ ص۵۵۶‘ کتاب الطہارۃ‘ باب الانجاس‘ فصل الاستنجاء‘ دارالکتب العلمیۃ‘ بیروت]
عالمگیری میں ہے: ’’لایجوز تغییر الوقف عن ہیئتہ‘‘۔
[فتاویٰ ہندیہ‘ ج۲‘ ص۴۲۳‘ الباب الرابع عشر فی المتفرقات‘ مطبع دارالفکر‘ بیروت]

فتاویٰ تاج الشریعہ جلد 4

قابل غور یہ ہے کہ آج جبکہ ان دونوں حضرات کی قبر محفوظ نہیں ہے تب لوگوں نے غلو کرتے ہوئے مصنوعی قبریں بنا کر شرک و بدعت کی حدیں پار رکھی ہیں جس قبر پرستی سے نبی کریم ﷺ نے سختی کے ساتھ منع فرمایا تھا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ ان لوگوں ( یہود و نصاری ) پر لعنت فرمائے جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنایا ۔‘‘ 
(سنن نسائی : 2048) 


 عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ : لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : لَوْلَا ذَلِكَ لَأُبْرِزَ قَبْرُهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا .

 نبی کریم ﷺ نے اپنے مرض الموت میں فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ کی قبر بھی کھلی رکھی جاتی لیکن آپ کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں آپ کی قبر کو بھی سجدہ نہ کیا جانے لگے ۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4441) 

 حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی ﷺ کو آپ کی وفات سے پانچ دن پہلے یہ کہتے ہوئے سنا :’’ میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے ، جس طرح اس نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا تھا ، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا ، خبردار ! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا کرتے تھے ، خبردار ! تم قبروں کو سجدہ گاہیں نہ بنانا ، میں تم کو اس سے روکتا ہوں ۔‘‘ 

اب اخیر میں ایک بار پھر  مصنوعی کربلا کے متعلق احمد رضا خان صاحب کا  فتوی ۔لاحظہ فرمالیں۔

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی 
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن ! 

مولوی احمد رضا خان  اس مصنوعی کربلا کے متعلق فتوی دیتے ہوئے لکھتے ہیں: 

مصنوعی کربلا جانا حرام و ناجائز و گناہ ہے۔ 

(فتاوٰی رضویہ، 24، ص 496، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔

Recent posts

موضوع: مصنوعی کربلا ، امام باڑہ اور فتویٰ احمد رضاخان

بسم الله الرحمن الرحيم السلام عليكم ورحمة الله وبركاته مولانا اقبال قاسمي سلفي موضوع: مصنوعی کربلا ، امام باڑہ اور فتویٰ رضاخانی!  مصادر : م...