Sunday, April 5, 2026

786 کی بدعت

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

موضوع: 786 کی بدعت
 
اقبال قاسمی سلفی 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

ہمارے یہاں دیوبندی اور بریلوی عوام و خواص میں 786 لکھنے کی بدعت عام ہے۔ لوگ اسے بسم اللہ الرحمن الرحیم کا بدل سمجھ کر بے دھڑک استعمال کرتے ہیں، رضاخانیت کے پیروکاوں نے تو اسے رضاخانیت کی شناخت کا ذریعہ اور علامت ہی نہیں بلکہ اسے تبرک کا عدد بنالیا ہے۔ چنانچہ دین مہر کی مقدار متعین کرنے سے لے کر تعزیے کے چندے تک میں اس عدد کو ملحوظ نظر رکھا جاتا ہے۔
جبکہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ 786 کا استعمال کرنا کتاب و سنت کی تعلیمات کےخلاف ہے ۔ نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہ ثابت ہے اور نہ ہی ائمہ اربعہ رحمہم اللہ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے ۔ بلکہ یہ یہودیت کی روش اور ان کے علوم کی تقلید کے نتیجے میں مسلمانوں کے تقلیدی جماعت میں داخل ہو گیا ہے۔ اس کی کڑیاں اسلام سے تو نہیں لیکن ہندومت ،مجوس اور یہودیوں سے جاکرضرور ملتی ہیں۔ 
اس سلسلے میں ایکسپریس نیوز میں ایک تحقیق شائع ہوئی تھی جسے ملاحظہ کریں:
بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ کی جگہ786کا عدد لکھنے کا رواج برصغیر میں عرصے سے چلا آ رہا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ بعض دینی و علمی مضامین اور کتابوں میں بھی بِسمِ اللّٰہِ کے بجائے786 لکھا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم کے اعداد کو اس کا بدل یا قائم مقام سمجھ کر لکھنا قرآن و سنت کی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔

اس کی بنیاد عبرانی صحائف کے 22 حروفِ تہجی اور ان کے مترادف اعداد پر ہے۔ ان کے ذریعے صحائف ِیہود کے رموز و معانی دریافت ہوتے ہیں جس کی عملی صورت یہ ہے کہ الفاظ کو اعداد میں تبدیل کیا جائے۔ یہ بڑی سہل ترکیب ہے کیونکہ الفاظ جن حروف پر مشتمل ہیں، اْن کی عددی قیمتوں کو جمع کر لیا جائے تو ہمیں ان مقدس عبارتوں کا عددی بدل حاصل ہو جاتا ہے جو اس علم کے حامیوں کے نزدیک ویسے ہی تقدس کا حامل ہے۔

یہ علم مسلمان نْدرت پسندوں نے بھی حاصل کیا جسے عرف عام میں ابجد کہتے ہیں۔ ایک مغربی محقق ،تھامسن پیٹرک ہیولز اپنی تالیف ''ڈکشنری آف اسلام'' میں ابجد کی توضیح ان الفاظ میں کرتا ہے:''یہ حروف تہجی کی ریاضیاتی طور پر ترتیب کا نام ہے جس میں حروف کی عددی قیمت متعین ہوتی ہے جو 1سے لے کر 1000 تک مقرر ہے۔ ''
جب مسلمانوں نے یہود کے علمِ قبالا سے استفادہ کر کے جی میٹریا کا علم حاصل کیا تو پھر اس کا قرآنِ مجید کی آیاتِ مبارکہ بلکہ سورتوں پر بھی اطلاق ایسا عمل تھا جو ہمارے جسارت کوش نْدرت پسندوں کے لیے مشکل نہ تھا ۔انہوں نے اس کا مصحف پاک پر بے دھڑک استعمال کیا۔مگر بِسمِ اللّٰہ کے لیے 786 کا استعمال ہر قسم کی تحریروں مثلاً کتابوں' مجلّوں اور مقالوں میں بہ شدتِ تمام نظر آتا ہے۔ اور یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ786 واقعی بِسمِ اللّٰہ کا بدل ہے۔

درحقیقت یہ ہر گز بدل یا مترادف نہیں۔ یہ تو محض عدد ہے کیونکہ اس کا اطلاق کسی چیز پر بھی کیا جا سکتا ہے، مثلاً786ظروفِ شراب' جڑی بوٹیاں وغیرہ وغیرہ چاہے وہ وہ اچھی ہوں یا بری' حرام ہوں یا حلال۔ لہٰذا یہ اعداد کسی صورت بِسمِ اللّٰہ شریف کا بدل ہر گز نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو عربی زبان میں نازل کیا تا کہ لوگ اس کو سمجھ سکیں اور ہدایت یاب ہوں۔ اگر اعداد ہی سے مقصد حاصل ہو سکتا تو یہ آسان طریقہ کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ کیا نعوذ باللہ ذاتِ باری تعالیٰ سے غلطی سرزد ہوئی جسے ہمارے علما درست کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں؟

اگر اعداد کی شکل میں وحی نازل کی جاتی تو اس سے بنی نوعِ انسان کو کیا حاصل ہوتا؟ ہمیں اوّل تا آخر اعداد ہی کا لا متناہی سلسلہ دکھائی دیتا۔ ہمیں تو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ہم قرآنِ مجید کی تلاوت کریں''اور یہ قرآنِ مجید ہے جس کو ہم نے (پاروں اور رکوعوں) میں تقسیم کیا ہے تا کہ تم وقفوں وقفوں سے اس کی تلاوت کرو اور ہم نے اسے (یکے بعد دیگرے) تنزیلات میں نازل کیا ہے۔''

جن اصحاب نے یہ طریقہ اختیار کیا انہوں نے ہر گز دین کی خدمت نہیں کی بلکہ وہ ایک بدعت کو رواج دینے کے مجرم ہیں۔ لہٰذا قارئین کرام سے پْر زور التماس ہے کہ وہ اس روش کو ترک کر دیں۔ یہ مستحسن کام نہیں بلکہ میں تو کہوں گا کہ یہ قرآن مجید کے خلاف سازش ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں ہم اس لیے ایسا لکھتے ہیں کہ کہیں بسم اللہ کی بے ادبی نہ ہو جائے۔
ایسا لگتا ہے کہ ان کے دل میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ادب و احترام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے سے زیادہ ہے۔
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جب غیر مسلموں کو دعوتی خط لکھےتھے تو آپ علیہ السلام نے پوری بسم اللہ ہی لکھی تھی نہ کہ اس کی جگہ کوئی اور الفاظ استعمال کیے تھےتو ہمارے لیے سب سے بہترین طریقہ نبی علیہ السلام کا طریقہ ہے۔
صلح حدیبیہ جو کہ کفار کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک فیصلہ کن صلح کر رہے تھے ، اور کفار کے ساتھ صلح نامہ لکھا جا رہا تھا ، جن کفار کو اللہ کے نام اور اس کی صفات سے دشمنی تھی ، تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب سے پوری بسم اللہ ہی لکھنے کو کہا جب کافروں نے نے اس پر اعتراض کیا تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےایسے الفاظ لکھنے کو کہا جس میں کم از کم اسم اللہ موجود تھا۔
جیسا کہ صحیح بخاری میں درج ہے: 
فجاء سهيل بن عمرو، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ هات اكتب بيننا وبينكم كتابا، ‏‏‏‏‏‏فدعا النبي صلى الله عليه وسلم الكاتب، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏قال سهيل:‏‏‏‏ اما الرحمن، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما ادري ما هو، ‏‏‏‏‏‏ولكن اكتب باسمك اللهم كما كنت تكتب، ‏‏‏‏‏‏فقال المسلمون:‏‏‏‏ والله لا نكتبها إلا بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ اكتب باسمك اللهم۔
صحیح بخاری حدیث نمبر : 2732
جب سہیل بن عمرو آیا تو کہنے لگا کہ ہمارے اور اپنے درمیان ( صلح ) کی ایک تحریر لکھ لو ۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے کاتب کو بلوایا اور فرمایا کہ لکھو بسم الله الرحمن الرحيم سہیل کہنے لگا رحمن کو اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز ہے ۔ البتہ تم یوں لکھ سکتے ہو باسمك اللهم‏ جیسے پہلے لکھا کرتے تھے مسلمانوں نے کہا کہ قسم اللہ کی ہمیں بسم الله الرحمن الرحيم کے سوا اور کوئی دوسرا جملہ نہ لکھنا چاہئے ۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ باسمك اللهم‏ ہی لکھنے دو ۔ 


سلیمان علیہ السلام اللہ کے نبی تھے ، انہوں نے جب ایک کافر عورت کو اپنا پیغام بھیجا تو اس پیغام کو شروع میں بھی انہوں نے پورا بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا تھا۔
قرآن پاک نے سلیمان علیہ السلام کے اس پیغام کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے ملکہ بلقیس کو لکھا تھا : 
چنانچہ اس واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا: 


 :قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ 
وہ کہنے لگی اے سردارو! میری طرف ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے۔
اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 
جو سلیمان کی طرف سے ہے اور جو بخشش کرنے والے مہربان اللہ کے نام سے شروع ہے۔
 سورۃ النمل آیت نمبر ۲۹،۳۰
اس آیت سے بھی یہی ہم کو درس ملتا ہے کہ چاہے وہ خط کسی کافر کو بھی کیوں نہ لکھنا ہو پوری بسم اللہ لکھ کر ہی شروع کرنا چاہیے۔جو آجکل بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ لکھا جا رہا ہے یہ غلط ہے۔ بعض لوگ بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ تو لکھتے ہیں تو کیا کبھی انہوں نے اسلام علیکم کی جگہ اس کے اعداد لکھے ہیں؟ جو کہ یہ بنتے ہیں ۳۲۲ یقینا کبھی کسی نے ایسا نہیں لکھا تو بسم اللہ کے ساتھ ہی یہ معاملہ کیوں کیا جاتا ہے؟دوسرا اس کا نقصان بھی بہت ہوتا ہے مثلا اگر ہم بسم اللہ لکھیں تو کیونکہ یہ قرآن کی آیت ہے اس لیے ہر لفظ پر ۱۰ نیکیاں ملتی ہیں ٹوٹل اس میں ۱۹ حروف بنتے ہیں تو نیکیاں ۱۹۰ ملتی ہیں اور اگر ہم ۷۸۶ لکھیں تو ایک تو ہم ۱۹۰ نیکیوں سے محروم ہو گے اور دوسرا ایک ایسا عمل کر کے جو کہ قرآن و سنت کے خلاف ہے بدعت کے مرتکب بھی بن گے۔
اس سے یہ بخوبی واضح ہے کہ 786 کو سند جواز عطا کرنے کے لیے جو دلیلیں پیش کرتے ہیں کہ بسم اللہ کے بجائے 786 لکھ کر وہ اسے موقع اہانت سے بچانے کا کام کر رہے ہیں ، ان کا یہ فتویٰ سرے سے غلط ہے ۔ کیونکہ اگر اس اندیشے کی بنیاد پر بسم اللہ نہ لکھنا ہی بہتر ہوتا تو سلیمان علیہ السلام ایک کافرہ کو خط لکھتے ہوے اس ک شروع میں بسم اللہ ہرگز نہیں لکھٹے۔
اب آپ اس کے بر خلاف دارلعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظ کریں
چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے اس بابت پوچھا گیا کہ 7860کی کیا حقیقت ہے؟ کیا اسے بسم اللہ کی لکھا جاسکتا ہے؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
  آیت کریمہ بسم اللہ پر دال ہے، اور آیت کریمہ کا واجب الاحترام والتعظیم ہونا اور اس کو موقع اہانت و ذلت سے بچانا شرعاً واجب ہوتا ہے اورخط وغیرہ عام تحریرات عموماً ہرجگہ پڑی رہتی ہیں اگر آیت کریمہ لکھی جائے تو اس کا موقع ذلت واہانت بلکہ مواقع نجاست تک میں پڑجانا ظاہر ہے اس لیے اگر کوئی شخص اس آیت کریمہ کو موقع ذلت واہانت میں پڑنے سے بچانے کی نیت سے بجائے آیت کریمہ کے ۷۸۶ لکھ دے تو الأمور بمقاصدھا کے مطابق بلاشبہ جائز رہے گا۔ (نظام الفتاویٰ: ج۱ ص۳۹۵)
دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 2857
دارالعلوم دیوبند کے اس فتوے میں بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ 786 لکھنے کو جائز قرار دیا گیا ہے بلکہ اس فتوے کے مطابق بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ 786 لکھنا بلاشبہ جائز ہے ، اور وجہ جواز یہ قرار دیا کہ اسے موقع اہانت و ذلت سے بچانا ہے۔ لیکن بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ 786 کا استعمال ہی سب سے بڑی ذلت و اہانت اور سوء ادب ہے۔ کیونکہ ہمیں اور آپ کو قطعی یہ گوارہ نہیں ہوگا کہ کوئی ہمیں ہمارے نام کے بجائے عدد سے پکارے یا خطاب کرے ۔ مثلا خالد بھائی کو خالد بھائی نہ کہ کر 635 بھائی کہ کر بلایا جاۓ، مولانا صاحب کو 128 صاحب اور مفتی صاحب کو 530 صاحب کہ کر پکارا چاۓ۔ سوچیے ! تب یہ خالد بھائی ،مولانا صاحب اور مفتی صاحب ملکر اس شخص کا کیا حال کریں گے ، مفتی صاحب اس پر بدسلوک، بد تہذیب اور بدتمیز ہونے کے فتوے لگا دیں گے۔ دل میں اہانت و ذلت کی بھٹی سلگ اٹھے گی، تحمل طاق پر ہوگا ، زباں پر تو صرف سب و شتم ہی ہونگے۔
اب غور کیجئے! جب خالد بھائی ،مولانا صاحب اور مفتی صاحب کو اس کے نام کے بجائے نمبر سے بلانا بدسلوکی ،بدتہذیبی اور بدتمیزی کے زمرے میں آۓ گا تب ہم وہی بدسلوکی اللہ کے نام کے ساتھ کیسے روا رکھ سکتے ہیں ؟ 
اللہ رب العزت کا تو فرمان ہے: 

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ-سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(سورہ اعراف: 180)
ترجمہ: اور اللہ سے تو بس وہ نام مخصوص ہیں جو بہت اچھے ) نہایت عمدہ ) ہیں ( اس لیے ) اس کو تو صرف اچھے ہی ناموں کے ذریعے سے پکارو ( پکارا کرو ) اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے سلسلے میں غلط راستہ اختیار کرتے وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں ۔ انھیں اس کی سزا ضرور مل کر ہی رہے گی۔

اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے ان لوگوں سے علحیدگی کا حکم دیا ہے جو لوگ اللہ کے نام میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے نام کے ساتھ الحاد کی کئی شکلیں ہیں ۔ ایک الحاد تو وہ تھا جو کفار مکہ کیا کرتے تھے اور ایک الحاد یہ بھی ہے کہ اللہ کے لیے ایسے نام منتخب کرے جس سے اس کی شان میں کمی آتی ہو جیسا کہ مفسرین نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھا ہے۔
تقی عثمانی دیوبندی صاحب اس آیت ک ضمن میں لکھتے ہیں: 
.......البتہ اس کو پکارنے کے لیے یہ ضرور قرار دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو اچھے اچھے نام (اسمائے حسنی) خود اللہ تعالیٰ نے یا اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتا دئیے ہیں، انہی ناموں سے اس کو پکارا جائے۔ ان اسمائے حسنی کی طرف قرآن کریم نے کئی مقامات پر اشارہ فرمایا ہے (دیکھئے سورۃ بنی اسرائیل 110:17 و سورۃ طہ 8:20 و سورۃ حشر 24:59) اور صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ یہ ننانوے نام ترمذی اور حاکم نے روایت کیے ہیں خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر انہی اسمائے حسنی میں سے کسی اسم مبارک کے ساتھ کرنا چاہئے اور اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام نہیں گھڑ لینا چاہیے۔ بہت سے کافروں کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کا جو ناقص، ادھورا یا غلط تصور تھا اس کے مطابق انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام یا کوئی صفت بنالی تھی یہ آیت متنبہ کررہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ ان لوگوں کی پیروی میں وہ بھی اللہ تعالیٰ کا وہ نام یا صفت استعمال کرنا شروع کردیں۔
دارالعلوم دیوبند کا وجہ جواز اس لیے بھی مردود و مطروح ہے ، کیونکہ کفار تک کو دیے گیۓ خطوط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا ثابت ہے، جیساکہ اور اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
اگر یہ موقع ذلت و اہانت ہوتا تو اللہ رب العزت اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کو ضرور اس پر متنبہ فرماتا۔
مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ اپنی کتاب احکام و مسائل میں لکھتے ہیں: 
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر اعداد الفاظ کا بدل ہیں تو کیا ہم اپنے معاملات میں ان کا اس لحاظ سے استعمال قبول کر سکتے ہیں؟ ایک شخص آپ سے کوئی واقعہ بیان کرتا ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ آپ اسے کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم کھاؤ، وہ کہتا ہے چھیاسٹھ کی دوسو میں سچ کہہ رہا ہوں تو کیا آپ تسلیم کر لیں گے کہ اس نے اللہ کی قسم کھائی ہے؟ کیا اس کی بات کا اعتبار کر لیا جائے ؟ اسی طرح نکاح کے موقع پر دولہا کے میں نے ۱۳۸ کیا تو کیا یہ تسلیم کیا جائے گا کہ اس نے قبول کر لیا ؟ یا کوئی اپنی بیوی سے کہے جا تجھے ۱۴۰ ہے، تو کیا اسے طلاق سمجھا جا سکتا ہے۔ یقینا کوئی سمجھ ار اس منطق کو قبول نہیں کر سکتا۔

پھر کیا وجہ ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے اسے اللہ تعالی کے مقدس نام کے لیے اور جناب رسول اللہ صل الام کے اہم مبارک کے لیے ہم پسند کریں ۔ ایک مومن کے لیے اس کا تصور بھی نا قابل قبول ہے۔
آگے مزید لکھتے ہیں: 
 عجیب بات یہ ہے کہ 786 کا عدد بسم اللہ کا نعم البدل صرف تحریر میں سمجھا جاتا ہے، زبان سے بولنے میں نہیں ، ورنہ کھانا کھاتے ہوئے بھی سات سو چھیاسی 786 پڑھ کر کھانا شروع کر دیا جائے اور تلاوت کرتے ہوئے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جائے اور اگر نماز کے لیے اذکار کے اعداد نکال لیے جائیں تو بڑی آسانی سے جھٹ پٹ نماز سے فراغت حاصل ہو سکتی ہے۔ لہذا قارئین سے گزارش ہے کہ وہ 786 کا عدد استعمال کرنے کی بجائے اللہ تعالی کا مبارک نام اور مکمل "بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا کریں تا کہ وہ یہود و نصاری کی نقل سے بچتے ہوے اللہ کے نام کی۔ برکتوں سے فیض ہو سکیں۔
(احکام و مسائل : صفحہ نمبر : 666)
اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو فہم سلیم عطا فرمائے!

Recent posts

786 کی بدعت

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: 786 کی بدعت   اقبال قاسمی سلفی  مصادر: مختلف مراجع و مصادر  ہمارے یہاں دیوب...