۱۔ آذان کے وقت عورتوں کا دوپٹہ اوڑھنا۔
۲۔ قرآن گر جائے تو اسے چومنا یا اس کے کفارہ میں آٹا صدقہ کرنا۔
۳۔ قرآن کی طرف پیٹھ نہ کرنا۔
۴۔ کعبہ کی طرف پیر نہ کرنا۔
۵۔ اذان کی آواز پر سارے کام ترک کر کے صرف اذان سننا۔
۶۔ بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت بایاں پاؤں پہلے داخل کرنا اور نکلتے وقت پہلے دایاں پاؤں نکالنا۔
۷۔ مرنے والے کا تیجہ، چہلم یا برسی منانا۔
۸۔ ختم قرآن پر مروجہ دعا پڑھنا۔
۹۔ قرآن کی تلاوت کے بعد ’’صدق اللہ العظیم‘‘ پڑھنا۔
۱۰۔ اذان میں اشھد ان محمدا رسول اللہ سن کر شہادت کی انگلی اٹھانا۔
۱۱۔ قرآن کھلا ہو تو اسے اس خیال سے بند کرنا کہ شیطان پڑھتا ہے۔
۱۲۔ جاء نماز کا کونہ اس خیال سے موڑنا کہ کہیں شیطان نماز نہ پڑھ لے۔
۱۳۔ نظر اتارنے کے لیے مرچیں جلا کر دھونی دینا یا پانی سے اتارنا۔
۱۴۔ رات میں ناخن نہ کاٹنا یا ناخن کاٹ کر باہر نہ پھیکنا بلکہ دفنا دینا۔
۱۵۔ کوا بولنے سے مہمان کے آنے کی امید لگانا۔
۱۶۔ قینچی چلانے سے لڑائی جھگڑے کی نحوست سمجھنا۔
۱۷۔ کالے رنگ پر نظر نہیں لگتی اس کے لیے چہرے پر کالے بال ہونے کے باوجود کالا نشان لگانا یا کالا دھاگا باندھنا۔
۱۸۔ رات میں جھاڑو لگانے سے نحوست ماننا۔
۱۹۔ مغرب کے وقت دہلیز پر نہ بیٹھنا۔
۲۰۔ الو کے بولنے سے نحوست ماننا۔
۲۱۔ سور کا نام لینے سے چالیس دن تک زبان کو ناپاک قرار دینا۔
بیٹی کو رخصت کرتے وقت قرآن دینا۔
یہ وہ معاشرتی عقائد ہیں جن کا شرعی عقائد سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔
No comments:
Post a Comment