بسم الله الرحمن الرحيم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا اقبال قاسمی سلفی
موضوع: حدیث "علم حاصل کرو گرچہ تمہیں چین جانا پڑے"
کی تحقیق
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
علم کی فضیلت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حنفی علماء، خطباء اور مفتی حضرات بھی اکثر یہ روایت نقل کیا کرتے ہیں: "اطلبوا العلم ولو بالصين".
ترجمہ: علم حاصل کرو گرچہ تمہیں چین جانا پڑے۔
روایت مع سند درج ذیل ہے۔
امام بیہقی فرماتے ہیں:
أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني ثنا محمد بن علي بن عفان ( ح ) و أخبرنا أبو محمد الأصبهاني أنا أبو سعيد بن زياد ثنا جعفر بن عامر العسكري قالا ثنا الحسن بن عطية عن أبي عاتكة وفي رواية أبي عبد الله ثنا أبو عاتكة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اطلبوا العلم و لو بالصين فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم.
شعب الایمان :(رقم الحدیث: 1663
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم حاصل کرو، اگرچہ تمہیں چین جانا پڑے۔
مذکورہ بالا روایت "شعب الایمان" کے علاوہ درج ذیل کتب میں بھی ذکر کی گئی ہے۔
۱۔ تاریخ اصبھان لابی نعیم الأصبهاني:(رقم الحدیث: 124/2،ط: دارالکتب العلمیۃ)
۲۔المدخل الی السنن الکبری:(رقم الحدیث: 325،241،ط: دار الخلفاء للكتاب الإسلامی)
۳۔جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر:(رقم الحدیث: 17،19،26)ص: 16،18،ط: دارالکتب)
۴۔الرحلة في طلب الحديث للخطیب البغدادی:(رقم الحدیث: 1،72،ط: دارالکتب العلمیۃ)
۵۔ترتیب الامالی للشجری: :(رقم الحدیث: 284،77/1،ط: دارالکتب العلمیۃ)
۶۔مسند الفردوس للدیلمی:(رقم الحدیث: 234،78/1،ط: دارالکتب العلمیۃ)
اس روایت کو "حسن بن عطیہ عن طریف بن سلیمان ابی عاتکہ عن انس" کے طریق سے الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ مرفوعاً نقل کیا گیا ہے، بعض روایات میں صرف "اطلبوا العلم ولو بالصين" اور بعض میں "اطلبوا العلم ولو بالصين" کے بعد "فان طلب العلم فريضة على كل مسلم" کے الفاظ کا اضافہ اور بعض میں صرف "طلب العلم فريضة على كل مسلم" کے الفاظ ملتے ہیں۔
اس کی سند میں ابوعاتکہ طریف بن سلیمان مرکزی راوی ہے۔ جس پر محدثین نے سخت جرح کیا ہے۔
امام حاكم فرماتے ہیں: ليس بالقوي عندهم
یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔
ابن عدی فرماتے ہیں: عامة ما يرويه عن أنس لا يتابعه عليه أحد من الثقات.
یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایسی حدیثیں روایت کرتاہے جس پر ثقہ راویوں کی متابعت نہیں پائی جاتی۔
امام العقيلي : متروك الحديث
یہ متروک الحدیث راوی ہے۔
امام الرازي فرماتے ہیں : ذاهب الحديث
ذاھب الحدیث ہے (جس کی حدیثیں نہیں لی جاتیں)
بن حبان البستي فرماتے ہیں: منكر الحديث جدا يروي عن أنس مالا يشبه حديثه وربما روى عنه ما ليس من حديثه.
یہ انتہائی منکر الحدیث ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایسی حدیثیں روایت کرتے ہے جو ان کی روایتوں کے مشابہ نہیں ہوتیں۔
امام ترمذي فرماتے ہیں: يضعف
محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
امام نسائی فرماتے ہیں:
ليس بثقة.
یہ ثقہ نہیں ہے۔
ابن عبد البر فرماتے ہیں : عندهم ضعيف.
محدثین کے نزدیک یہ ضعیف ہے۔
امام الذهبي فرماتے ہیں : ضعفوه
محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
عبد الرحمن بن مهدي فرماتے ہیں:
عامة ما يرويه عن أنس لا يتابعه عليه أحد من الثقات.
عموماً یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایسی روایتیں بیان کرتا ہے جس پر کسی بھی ثقہ راوی کی متابعت نہیں پائی جاتی ہے۔
محمد بن إسماعيل البخاري : ذكر له حديث، وقال: منكر الحديث.
امام بخاری نے اس کی ایک روایت ذکر کرنے کے بعد فرمایا یہ منکر الحدیث ہے۔
امام بزار مسند بزار میں فرماتے ہیں:فليس لهذا الحديث اصل.
تو اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔
ابن جوزی اور امام سخاوی نے مقاصد حسنه میں ابن حبان کا قول نقل کیا ہے کہ ابن حبان اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
باطل لا أصل له.
یہ حدیث باطل ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
امام بیہقی اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’ھذا حدیث متنہ مشہور و أسانیدہ ضعیفۃ۔ لاأعرف لہ إسنادًا یثبت بمثلہ الحدیث۔ واللّٰہ أعلم‘‘
اس حدیث کا متن مشہور ہے اور اس کی سندیں ضعیف ہیں۔ مجھے اس کی کوئی ایسی سند معلوم نہیں جس سے یہ حدیث ثابت ہوتی ہو۔ واللہ اعلم (المدخل الی السنن الکبریٰ: ۳۲۵)
علامہ البانی نے بھی السلسلۃ الضعیفہ میں اس حدیث کو باطل کہا ہے۔
مشہور حنفی دیوبندی علامہ یوسف بنوری پاکستانی کا بھی اس حدیث کے متعلق یہی فتویٰ ہے۔ چنانچہ جب ان سے پوچھا گیا ہم نے یہ سنا ہے کہ یہ حدیث ہے کہ ’’علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘ کیا یہ حدیث ہے یا نہیں؟
جواب
یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ ملتی ہے: "اطلبوا العلم ولو بالصین". یعنی "علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں چین جانا پڑے". اور اسے امام بیہقی رحمہ اللہ نے "شعب الایمان" میں اور خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے "کتاب الرحلۃ" میں اپنی سندوں کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ذکر کیا ہے، لیکن اکابر محدثین نے ان سندوں کو ضعیف قرار دیا ہے، چناں چہ امام ابنِ حبان نے اس کو باطل قرار دیا اور امام ابنِ جوزی رحمہما اللہ نے موضوع روایات سے متعلق اپنی کتاب میں اس روایت کو بھی ذکر کیا ہے، اس لیے محدثین کے بیان کردہ قواعد کی روشنی میں اس حدیث کو بیان کرنا درست نہیں.
یاد رہے کہ بعض اہلِ علم نے تاریخی واقعات وقرائن سے اس روایت کی تائید پیش کرکے اسے حدیث ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن محدثین کے ہاں جب سنداً روایت کا ثبوت نہ ہو تو خارجی قرائن سے وہ ثابت قرار نہیں پاتی.
فتوی نمبر : 144003200013
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن۔
اس حدیث کا ایک اور طریق ہے، جسے ابن عبد البر نے "جامع بيان العلم و فضله " میں يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم العسقلاني، ثنا عبيد بن محمد الفريابي، نا ابن عيينة، عن الزهري، عن أنس کے طریق سے مثل حدیث ابی عاتکہ مرفوعاً روایت کیا ہے۔
چنانچہ ابن عبد البر فرماتے ہیں:
وأخبرنا أحمد نا مسلمة، نا يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم العسقلاني، ثنا يوسف بن محمد الفريابي ببيت المقدس ثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اطلبوا العلم ولو بالصين فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم"
اس سند میں"یعقوب بن اِسحاق بن اِبراہیم العسقلانی"نامی راوی ہے جِسے اِمام الذہبی رحمہُ اللہ نے لسان المیزان میں کذاب قرار دِیاہے۔
علامہ جلال الدین سیوطی نے "اللآلئ المصنوعة في الاحاديث الموضوعة" میں اس حدیث کا ایک شاہد بھی ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں:
وفي الميزان روى ابن كرام ، حَدَّثَنَا أَحْمَد بْن عَبْد الله الجويباري ، عَن الفضل بْن مُوسَى ، عَن مُحَمَّد بْن عمرو ، عَن أَبِي سلمة ، عَن أَبِي هُرَيْرَةَ ، حديث " اطلبوا العلم ولو بالصين " ، والجويباري وضَّاع . والله أعلم
اس سند میں "احمد بن عبداللہ الجویباری" وضاع ہے۔
امام دارقطنی فرماتے ہیں: كذاب، وكذاب، دجال، خبيث، وضاع للحديث، لا يكتب حديثه، ولا يذاكر.
جھوٹا ہے اور جھوٹا ہے، دجال، خبیث اور حدیثیں گھڑنے والا ہے۔ اس کی حدیث لکھی جائے گی اور نہ اس کا تذکرہ۔
امام ذہبی فرماتے ہیں: كذاب، ممن يضرب به المثل بكذبه.
جھوٹا ہے اور ایسے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے جن کے جھوٹ کی مثال دی جاتی ہے۔
ابن حبان فرماتے ہیں: دجال من الدجاجلة كذاب لا يحل ذكرهم في الكتب إلا على سبيل الجرح فيه
دجالوں میں سے ایک دجال ہے، جھوٹا ہے، کتابوں میں اس کا ذکر کرنا جائز نہیں ہے مگر بر سبیل جرح۔
الله اكبر!!
اس لئے ایک مسلمان کو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی روایتوں کو اللہ کے رسول ﷺ کی طرف منسوب کرے!!
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!