Showing posts with label ضعیف اور موضوع روایات. Show all posts
Showing posts with label ضعیف اور موضوع روایات. Show all posts

Saturday, February 5, 2022

‎"علم حاصل کرو گرچہ تمہیں چین جانا پڑے"حدیث ‏نہیں ہے

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مولانا اقبال قاسمی سلفی

موضوع: حدیث "علم حاصل کرو گرچہ تمہیں چین جانا پڑے"
کی تحقیق

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

علم  کی فضیلت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حنفی علماء، خطباء اور مفتی حضرات بھی اکثر  یہ روایت  نقل کیا کرتے ہیں: "اطلبوا العلم ولو بالصين".
ترجمہ: علم حاصل کرو گرچہ تمہیں چین جانا پڑے۔ 

روایت مع سند درج ذیل ہے۔ 
امام بیہقی فرماتے ہیں: 

أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني ثنا محمد بن علي بن عفان ( ح ) و أخبرنا أبو محمد الأصبهاني أنا أبو سعيد بن زياد ثنا جعفر بن عامر العسكري قالا ثنا الحسن بن عطية عن أبي عاتكة وفي رواية أبي عبد الله ثنا أبو عاتكة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اطلبوا العلم و لو بالصين فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم. 
شعب الایمان :(رقم الحدیث: 1663
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم حاصل کرو، اگرچہ تمہیں چین جانا پڑے۔

مذکورہ بالا روایت "شعب الایمان" کے علاوہ درج ذیل کتب میں بھی ذکر کی گئی ہے۔

۱۔ تاریخ اصبھان لابی نعیم الأصبهاني:(رقم الحدیث: 124/2،ط: دارالکتب العلمیۃ)

۲۔المدخل الی السنن الکبری:(رقم الحدیث: 325،241،ط: دار الخلفاء للكتاب الإسلامی)

۳۔جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر:(رقم الحدیث: 17،19،26)ص: 16،18،ط: دارالکتب)

۴۔الرحلة في طلب الحديث للخطیب البغدادی:(رقم الحدیث: 1،72،ط: دارالکتب العلمیۃ)

۵۔ترتیب الامالی للشجری: :(رقم الحدیث: 284،77/1،ط: دارالکتب العلمیۃ)

۶۔مسند الفردوس للدیلمی:(رقم الحدیث: 234،78/1،ط: دارالکتب العلمیۃ)

 اس روایت کو "حسن بن عطیہ عن طریف بن سلیمان ابی عاتکہ عن انس" کے طریق سے الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ مرفوعاً نقل کیا گیا ہے، بعض روایات میں صرف "اطلبوا العلم ولو بالصين" اور بعض میں "اطلبوا العلم ولو بالصين" کے بعد "فان طلب العلم فريضة على كل مسلم" کے الفاظ کا اضافہ اور بعض میں صرف "طلب العلم فريضة على كل مسلم" کے الفاظ ملتے ہیں۔


اس کی سند میں ابوعاتکہ طریف بن سلیمان مرکزی راوی ہے۔ جس پر محدثین نے سخت جرح کیا ہے۔

امام حاكم فرماتے ہیں: ليس بالقوي عندهم
یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔ 

ابن عدی فرماتے ہیں: عامة ما يرويه عن أنس لا يتابعه عليه أحد من الثقات. 
 یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایسی حدیثیں روایت کرتاہے جس پر ثقہ راویوں کی متابعت نہیں پائی جاتی۔ 

امام العقيلي : متروك الحديث
 یہ متروک الحدیث راوی ہے۔ 

امام الرازي فرماتے ہیں : ذاهب الحديث
 ذاھب الحدیث ہے (جس کی حدیثیں نہیں لی جاتیں) 

 بن حبان البستي فرماتے ہیں: منكر الحديث جدا يروي عن أنس مالا يشبه حديثه وربما روى عنه ما ليس من حديثه. 

یہ انتہائی منکر الحدیث ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایسی حدیثیں روایت کرتے ہے جو ان کی روایتوں کے مشابہ نہیں ہوتیں۔ 

امام ترمذي فرماتے ہیں: يضعف
محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ 
امام نسائی فرماتے ہیں:
 ليس بثقة. 
یہ ثقہ نہیں ہے۔  

ابن عبد البر فرماتے ہیں : عندهم ضعيف. 
محدثین کے نزدیک یہ ضعیف ہے۔ 
امام الذهبي فرماتے ہیں : ضعفوه
محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ 
عبد الرحمن بن مهدي فرماتے ہیں: 
عامة ما يرويه عن أنس لا يتابعه عليه أحد من الثقات. 
عموماً یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایسی روایتیں بیان کرتا ہے جس پر کسی بھی ثقہ راوی کی متابعت نہیں پائی جاتی ہے۔ 

محمد بن إسماعيل البخاري : ذكر له حديث، وقال: منكر الحديث. 
امام بخاری نے اس کی ایک روایت ذکر کرنے کے بعد فرمایا یہ منکر الحدیث ہے۔ 

امام بزار مسند بزار میں فرماتے ہیں:فليس لهذا الحديث اصل. 
تو اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔ 

ابن جوزی اور امام سخاوی نے مقاصد حسنه میں ابن حبان کا قول نقل کیا ہے کہ ابن حبان اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
باطل لا أصل له.
یہ حدیث باطل ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ 

امام بیہقی اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’ھذا حدیث متنہ مشہور و أسانیدہ ضعیفۃ۔ لاأعرف لہ إسنادًا یثبت بمثلہ الحدیث۔ واللّٰہ أعلم‘‘

اس حدیث کا متن مشہور ہے اور اس کی سندیں ضعیف ہیں۔ مجھے اس کی کوئی ایسی سند معلوم نہیں جس سے یہ حدیث ثابت ہوتی ہو۔ واللہ اعلم (المدخل الی السنن الکبریٰ: ۳۲۵)

علامہ البانی نے بھی السلسلۃ الضعیفہ میں اس حدیث کو باطل کہا ہے۔ 

مشہور حنفی دیوبندی علامہ  یوسف بنوری پاکستانی کا بھی اس حدیث کے متعلق یہی فتویٰ ہے۔ چنانچہ جب ان سے پوچھا گیا ہم نے یہ سنا ہے کہ یہ حدیث ہے کہ ’’علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘  کیا یہ حدیث ہے یا نہیں؟

جواب
یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ ملتی ہے: "اطلبوا العلم ولو بالصین".  یعنی "علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں چین جانا پڑے". اور اسے امام بیہقی رحمہ اللہ نے "شعب الایمان" میں اور خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے "کتاب الرحلۃ" میں اپنی سندوں کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ذکر کیا ہے، لیکن اکابر محدثین نے ان سندوں کو ضعیف قرار دیا ہے، چناں چہ امام ابنِ حبان نے اس کو باطل قرار دیا اور امام ابنِ جوزی رحمہما اللہ نے موضوع روایات سے متعلق اپنی کتاب میں اس روایت کو بھی ذکر کیا ہے، اس لیے محدثین کے بیان کردہ قواعد کی روشنی میں اس حدیث کو بیان کرنا درست نہیں.

یاد رہے کہ بعض اہلِ علم نے تاریخی واقعات وقرائن سے اس روایت کی تائید پیش کرکے اسے حدیث ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن محدثین کے ہاں جب سنداً روایت کا ثبوت نہ ہو تو خارجی قرائن سے وہ ثابت قرار نہیں پاتی.
فتوی نمبر : 144003200013

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن۔ 

اس حدیث کا ایک اور طریق ہے، جسے ابن عبد البر نے "جامع بيان العلم و  فضله " میں يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم العسقلاني، ثنا عبيد بن محمد الفريابي، نا ابن عيينة، عن الزهري، عن أنس کے طریق سے مثل حدیث ابی عاتکہ مرفوعاً روایت کیا ہے۔ 
چنانچہ ابن عبد البر فرماتے ہیں:
وأخبرنا أحمد نا مسلمة، نا يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم العسقلاني، ثنا يوسف بن محمد الفريابي ببيت المقدس ثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اطلبوا العلم ولو بالصين فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم" 

اس سند میں"یعقوب بن اِسحاق بن اِبراہیم العسقلانی"نامی راوی ہے جِسے اِمام الذہبی رحمہُ اللہ نے لسان المیزان میں کذاب قرار دِیاہے۔ 
علامہ جلال الدین سیوطی نے "اللآلئ المصنوعة في الاحاديث الموضوعة" میں اس حدیث کا ایک شاہد بھی ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں:
 وفي الميزان روى ابن كرام ، حَدَّثَنَا أَحْمَد بْن عَبْد الله الجويباري ، عَن الفضل بْن مُوسَى ، عَن مُحَمَّد بْن عمرو ، عَن أَبِي سلمة ، عَن أَبِي هُرَيْرَةَ ، حديث " اطلبوا العلم ولو بالصين " ، والجويباري وضَّاع . والله أعلم
اس سند میں "احمد بن عبداللہ الجویباری" وضاع ہے۔ 

امام دارقطنی فرماتے ہیں: كذاب، وكذاب، دجال، خبيث، وضاع للحديث، لا يكتب حديثه، ولا يذاكر. 
جھوٹا ہے اور جھوٹا ہے، دجال، خبیث اور حدیثیں گھڑنے والا ہے۔ اس کی حدیث لکھی جائے گی اور نہ  اس کا تذکرہ۔ 
امام ذہبی فرماتے ہیں: كذاب، ممن يضرب به المثل بكذبه. 
جھوٹا ہے اور ایسے جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے جن کے جھوٹ کی مثال دی جاتی ہے۔ 
ابن حبان فرماتے ہیں: دجال من الدجاجلة كذاب لا يحل ذكرهم في الكتب إلا على سبيل الجرح فيه
دجالوں میں سے ایک دجال ہے، جھوٹا ہے، کتابوں میں اس کا ذکر کرنا جائز نہیں ہے مگر بر سبیل جرح۔ 
الله اكبر!!

اس لئے ایک مسلمان کو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی روایتوں کو اللہ کے رسول ﷺ کی طرف منسوب کرے!!
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Wednesday, November 3, 2021

کیا قبر قبر روزانہ بولتی ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مولانا اقبال قاسمی سلفی

کیا قبر  قبر روزانہ بولتی  ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں

اکثر خطبا اور مقررین قبر اور آخرت پر وعظ و نصیحت کرتے ہوئے یہ حدیث نقل کرتے ہیں، اور تقریری کتابوں میں بھی یہ حدیث درج ہوتی ہے کہ قبر روزانہ کہتی ہے میں تنہائی کا گھر ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ
آئیے اس حدیث کی صحت وضعف کا جائزہ لیتے ہیں:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَلَّاهُ فَرَأَى نَاسًا كَأَنَّهُمْ يَكْتَشِرُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏    أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ أَكْثَرْتُمْ ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ لَشَغَلَكُمْ عَمَّا أَرَى، ‏‏‏‏‏‏فَأَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ فَإِنَّهُ لَمْ يَأْتِ عَلَى الْقَبْرِ يَوْمٌ إِلَّا تَكَلَّمَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَنَا بَيْتُ الْغُرْبَةِ وَأَنَا بَيْتُ الْوَحْدَةِ وَأَنَا بَيْتُ التُّرَابِ وَأَنَا بَيْتُ الدُّودِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا وَأَهْلًا، ‏‏‏‏‏‏أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَحَبَّ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِيَ بِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَتَّسِعُ لَهُ مَدَّ بَصَرِهِ وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ أَوِ الْكَافِرُ،‏‏‏‏ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ:‏‏‏‏ لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا، ‏‏‏‏‏‏أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَبْغَضَ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِيَ بِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى يَلْتَقِيَ عَلَيْهِ وَتَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِهِ:‏‏‏‏ فَأَدْخَلَ بَعْضَهَا فِي جَوْفِ بَعْضٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيُقَيِّضُ اللَّهُ لَهُ سَبْعِينَ تِنِّينًا لَوْ أَنْ وَاحِدًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ شَيْئًا مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا فَيَنْهَشْنَهُ وَيَخْدِشْنَهُ حَتَّى يُفْضَى بِهِ إِلَى الْحِسَابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ   ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلی پر تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ ہنس رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! اگر تم لوگ لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز کو یاد رکھتے تو تم اپنی ان حرکتوں سے باز رہتے، سو لذتوں کو ختم کر دینے والی موت کا ذکر کثرت سے کرو، اس لیے کہ قبر روزانہ بولتی ہے اور کہتی ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، پھر جب مومن بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا  ( خوش آمدید )  کہتی ہے اور مبارک باد دیتی ہے اور کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ محبوب تھا جو میرے پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہو گئی اور تو میری طرف آ گیا تو اب دیکھ لے گا کہ میں تیرے ساتھ کیسا حسن سلوک کروں گی، پھر اس کی نظر پہنچنے تک قبر کشادہ کر دی جائے گی اور اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا، اور جب فاجر یا کافر دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے نہ ہی مرحبا کہتی ہے اور نہ ہی مبارک باد دیتی ہے بلکہ کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ قابل نفرت تھا جو میری پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہوں اور تو میری طرف آ گیا سو آج تو اپنے ساتھ میری بدسلوکیاں دیکھ لے گا، پھر وہ اس کو دباتی ہے، اور ہر طرف سے اس پر زور ڈالتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک طرف سے دوسری طرف مل جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا اور ایک دوسرے کو آپس میں داخل کر کے فرمایا: ”اللہ اس پر ستر اژدہے مقرر کر دے گا، اگر ان میں سے کوئی ایک بار بھی زمین پر پھونک مار دے تو اس پر رہتی دنیا تک کبھی گھاس نہ اگے، پھر وہ اژدہے اسے حساب و کتاب لیے جانے تک دانتوں سے کاٹیں گے اور نوچیں گے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے“۔ 
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ 
(سنن ترمذی:2460) 
اس کی سند میں عطیہ العوفی ہے جسے امام نسائی، ابوزرعہ اور علامہ ساجی وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ 
عطیہ عوفی سے روایت کرنے والے عبیداللہ بن ولید الوصافی کو بھی محدثین نے ضعیف جدا انتہائی ضعیف قرار ہے۔ 
امام عقیلی فرماتے ہیں : في حديثه مناكير ، لا يتابع على كثير من حديثه .
ابن حبان فرماتے ہیں:
يروي عن الثقات ما لا يشبه حديث الأثبات. 
امام حاکم فرماتے ہیں: 
روى عن محارب أحاديث موضوعة۔
ساجی فرماتے ہیں:
عنده مناكير ضعيف الحديث جدا .
" تهذيب التهذيب" (7 /50-51) ، " ميزان الاعتدال " (3/17) 
علامہ البانی اس حدیث کو ضعیف الترغيب والترہیب(1944) میں ذکر کرنے کے بعد فرمایا:ضعيف جدا. (انتہائی ضعیف ہے)۔

المعجم الاوسط للطبرانی میں اس حدیث کا ایک شاہد ہے، امام طبرانی فرماتے ہیں:

حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ ، نا أَبِي ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ ، فَجَلَسَ إِلَى قَبْرٍ مِنْهَا ، فَقَالَ : " مَا يَأْتِي عَلَى هَذَا الْقَبْرِ مِنْ يَوْمٍ ، إلا وَهُوَ يُنَادِي بِصَوْتٍ طَلْقٍ زَلِقٍ : يَا ابْنَ آدَمَ ، كَيْفَ نَسِيتَنِي ؟ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي بَيْتُ الْوَحْدَةِ ، وَبَيْتُ الْغُرْبَةِ ، وَبَيْتُ الْوَحْشَةِ ، وَبَيْتُ الدُّودِ ، وَبَيْتُ الضِّيقِ ، إلا مَنْ وَسَّعَنِي اللَّهُ عَلَيْهِ " ۔ 
اس سند کے راوی محمد بن ایوب بن سوید اور اس کے والد ایوب بن سوید دونوں ہی سخت ضعیف ہے۔
محمد بن ایوب بن سوید تو محدثین کے یہاں متہم بالوضع ہے یعنی اس کے اوپر حدیثیں گھڑنے کا الزام ہے۔ 
نیز امام طبرانی کے استاذ مسعود بن محمد رملی مجہول الحال ہیں۔

اس حدیث کے آخری جملے کا ایک شاید بہیقی میں بھی موجود ہے:
 أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالا : ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ، أَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَخِي عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ شَيْبَةَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " الْقَبْرُ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ جَهَنَّمَ أَوْ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ "
اس سند میں واقدی ہے جو محدثین کے نزدیک متروک الحدیث ہے۔ 
اسحاق بن راھویہ فرماتے ہیں:
هو عندي ممن يضع الحديث.
میرے نزدیک یہ ان لوگوں میں سے ہے جو حدیثیں وضع کرتا ہے۔
نیز اس سند میں واقدی کے علاوہ سلمہ بن اخی اور عمر بن شیبہ مجہول الحال ہیں۔ 

لہذا یہ روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے۔

واضح ہوکہ اس حدیث کا پہلا جملہ"فَأَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ" سنن ترمذی:2307 ، سنن نسائی:1825،سنن ابن ماجہ:4258 میں بھی مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کی سند سے مروی ہے۔ جسے علامہ البانی اور شیخ زبیر علی زئی صاحب نے صحیح قرار دیا ہے۔ 

نیز اس موضوع پر صحیح احادیث موجود ہیں جسے بیان کرنا چاہئیے۔ ‏‏‏‏‏‏
سنن ترمذی میں ہانی مولی عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: عثمان رضی الله عنہ جب کسی قبرستان پر ٹھہرتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہو جاتی، ان سے کسی نے کہا کہ جب آپ کے سامنے جنت و جہنم کا ذکر کیا جاتا ہے تو نہیں روتے ہیں اور قبر کو دیکھ کر اس قدر رو رہے ہیں؟ تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آخرت کے منازل میں سے قبر پہلی منزل ہے، سو اگر کسی نے قبر کے عذاب سے نجات پائی تو اس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے اور اگر جسے عذاب قبر سے نجات نہ مل سکی تو اس کے بعد کے منازل سخت تر ہوں گے“، عثمان رضی الله عنہ نے مزید کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھبراہٹ اور سختی کے اعتبار سے قبر کی طرح کسی اور منظر کو نہیں دیکھا“۔ (سنن ترمذی:2308،صحیح)
اس طرح اس موضوع پر بہت ساری صحیح احادیث موجود ہیں جو ہمیں ضعیف حدیثوں سے بے نیاز کردیتی ہیں۔ فلله الحمد. 
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Monday, November 1, 2021

-غار ثور میں ابو بکر صدیق کو سانپ کے ڈسنے کا واقعہ

                      
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 
غارثور میں سانپ ڈسنے کے واقعے کی حقیقت!


مولانا اقبال قاسمی سلفی

قصہ گو واعظین ہجرت کے واقعے کو بیان کرتے ہوئے اکثر یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ غار ثور میں جب اللہ کے رسول ﷺ اورحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ داخل ہوۓ تو ابوبکر صدیق نے
اس کی ایک جانب سوراخ دیکھے ، انہوں نے اپنا ازار پھاڑا اور اس سے سوراخوں کو بند کیا ، مگر دو سوراخ باقی رہ گئے اور انہوں نے ان پر اپنے پاؤں 
رکھ دیے اور سانپ نے انہیں ڈس لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔ 
اس جھوٹےواقعے کونشر کرنے میں علامہ شبلی نعمانی مصنف سیرۃالنبی ، صاحب اصح السیر عبد الرؤف دانا پوری، تاریخ اسلام کے مصنف اکبر شاہ نجیب آبادی جیسےاردوکے سیرت نگاروں نے بھی خوب کردارنبھایا ہے، جماعت اہلحدیث کے یہاں سیرت رسول کی مشہور و معروف کتاب "الرحیق المختوم" جو علامہ صفی الرحمٰن مبارک پوری صاحب کی عالمی شہرت یافتہ کتاب ہے۔ اس میں بھی یہ من گھڑت واقعہ درج ہے۔ 

لیکن یہ واقعہ جھوٹ اور موضوع ہے۔ مناوی نے اس واقعے کو بغیر سند کے فیض القدیر میں ذکر کیا ہے۔ آئیے اس روایت کو دیکھتے ہیں:

عَن عمر
ذُكِرَ عِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَبَكَى وَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عَمَلِي كُلَّهُ مِثْلُ عَمَلِهِ يَوْمًا وَاحِدًا مِنْ أَيَّامِهِ وَلَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ لَيَالِيهِ أَمَّا لَيْلَتُهُ فَلَيْلَةٌ سَارَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَار فَلَمَّا انتهينا إِلَيْهِ قَالَ: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُهُ حَتَّى أَدْخُلَ قَبْلَكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ أَصَابَنِي دُونَكَ فَدَخَلَ فَكَسَحَهُ وَوَجَدَ فِي جَانِبِهِ ثُقْبًا فَشَقَّ إزَاره وسدها بِهِ وَبَقِي مِنْهَا اثْنَان فألقمها رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْخُلْ
فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
وَوُضِعَ رَأسه فِي حجره وَنَامَ فَلُدِغَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِجْلِهِ مِنَ الْجُحر وَلم يَتَحَرَّك مَخَافَة أَن ينتبه رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَقَطَتْ دُمُوعُهُ عَلَى وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟» قَالَ: لُدِغْتُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي فَتَفِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ مَا يَجِدُهُ ثُمَّ انْتَقَضَ عَلَيْهِ وَكَانَ سَبَبَ مَوْتِهِ وَأَمَّا يَوْمُهُ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ وَقَالُوا: لَا نُؤَدِّي زَكَاةً. فَقَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّفِ النَّاسَ وَارْفُقْ بِهِمْ. فَقَالَ لِي: أَجَبَّارٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَخَوَّارٌ فِي الْإِسْلَامِ؟ إِنَّهُ قَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَتَمَّ الدِّينُ أَيَنْقُصُ وَأَنا حَيّ؟ . رَوَاهُ رزين
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ابوبکر ؓ کا تذکرہ کیا گیا تو وہ رو پڑے اور کہا : میں چاہتا ہوں کہ میرے سارے عمل ان کے ایام میں سے ایک یوم اور ان کی راتوں میں سے ایک رات کی مثل ہو جائیں ، رہی ان کی رات ، تو وہ رات جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غار کی طرف سفر کیا تھا ، جب وہ دونوں وہاں تک پہنچے تو ابوبکر نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! آپ اس میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ میں آپ سے پہلے داخل ہو جاؤں ، تا کہ اگر اس میں کوئی چیز ہو تو اس کا نقصان مجھے پہنچے آپ اس سے محفوظ رہیں ، وہ اس میں داخل ہوئے ، اسے صاف کیا ، اور انہوں نے اس کی ایک جانب سوراخ دیکھے ، انہوں نے اپنا ازار پھاڑا اور اس سے سوراخوں کو بند کیا ، مگر دو سوراخ باقی رہ گئے اور انہوں نے ان پر اپنے پاؤں رکھ دیے ، پھر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، تشریف لے آئیں ، رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لے آئے اور اپنا سر مبارک ان کی گود میں رکھ کر سو گئے ، سوراخ سے ابوبکر کا پاؤں ڈس لیا گیا ، لیکن انہوں نے اس اندیشے کے پیش نظر کہ آپ بیدار نہ ہو جائیں حرکت نہ کی ، ان کے آنسو رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر گرے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر ! کیا ہوا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میرے والدین آپ پر فدا ہوں مجھے ڈس لیا گیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے لعاب لگایا اور تکلیف جاتی رہی ، اور بعد ازاں اس زہر کا اثر ان پر دوبارہ شروع ہو گیا اور یہی ان کی وفات کا سبب بنا ، رہا ان کا دن تو جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی کچھ عرب مرتد ہو گئے اور انہوں نے کہا : ہم زکوۃ نہیں دیں گے ، انہوں نے فرمایا : اگر انہوں نے ایک رسی بھی دینے سے انکار کیا تو میں ان سے جہاد کروں گا ۔ میں نے کہا : رسول اللہ کے خلیفہ ! لوگوں کو ملائیں اور نرمی کریں ، انہوں نے مجھے فرمایا : کیا جاہلیت میں سخت تھے اور اسلام میں بزدل ہو گئے ہو ، وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ، دین مکمل ہو چکا ، تو کیا میرے جیتے ہوئے دین کم (ناقص) ہو جائے گا ؟ ، رواہ رزین ۔

(مشکوۃ المصابیح:6034)

اس واقعے کو مناوی نے "فیض القدیر" میں بغیر کسی سند کے، صاحب کنز العمال نے، علامہ جلال الدین 
سیوطی نے درر منثور میں، ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں عن عمر اسے ذکر کیا ہے۔
بیہقی کی ذکر کردہ روایت مع سند:
قال البیہقی: "اخبرنا ابو الحسين على بن محمد بن عبدالله بن بشران العدل ببغداد
قال:حدثنا احمد بن سلمان بن النجار الفقيه املاء قال قرئ على يحي بن جعفر و انا اسمع ، قال : اخبرنا عبد الرحمن بن ابراهيم الراسبى، قال :حدثنى فرات بن السائب عن ميمون بن مهران، عن ضبه بن محصن العنزى، عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه فذكر القصة:

اس روایت میں عبدالرحمن بن ابراہیم الراسبی ہے جس پر محدثین نے سخت جرح کیا ہے۔ 
اس سند کے دوسرے راوی فرات بن سائب پر بھی محمحدثین نے سخت کلام کیا ہوا ہے۔
 
أبو حاتم الرازي اس راوی کے بارے میں فرماتے ہیں: 
ضعيف الحديث، منكر الحديث
 ابن حبان فرماتے ہیں : ممن يروي الموضوعات عن الأثبات ويأتي بالمعضلات عن الثقات
أبو زرعة الرازي : ضعيف الحديث
أبو نعيم الأصبهاني : كان غاليا في التشيع لا تحل الرواية عنه ولا الاحتجاج به
أحمد بن شعيب النسائي : متروك الحديث
دارقطني فرماتے ہیں : متروك الحديث
محمد بن إسماعيل البخاري : تركوه منكر الحديث، ومرة: سكتوا عنه
يحيى بن معين فرماتے ہیں : ليس بشيء، ومرة: منكر الحديث
يعقوب بن سفيان الفسوي : متروك مهجور.

نیز یہ روایت قرآن اور صحیح احادیث کے بھی خلاف ہے۔ جن میں اس واقعے کا بیان ہے۔ صحیح بخاری میں خود حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زبانی ہجرت کا یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا یے، لیکن سانپ کے ڈسنے کے کسی واقعے کا بیان موجود نہیں ہے۔ 

اللہ رب العزت نے قرآن میں ہجرت کے واقعے کو یوں بیان فرمایا:
اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰىؕ-وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَاؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(سورہ توبہ:40)
ترجمہ: 
اگر تم اس (نبی) کی مدد نہیں کرو گے تو اللہ ان کی مدد فرماچکا ہے جب کافروں نے انہیں (ان کے وطن سے) نکال دیا تھا جبکہ یہ دو میں سے دوسرے تھے، جب دونوں غار میں تھے، جب یہ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے غم نہ کرو، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اُس پر اپنی تسکین نازل فرمائی اور اُن لشکروں کے ساتھ اُس کی مدد فرمائی جو تم نے نہ دیکھے اور اُس نے کافروں کی بات کو نیچے کردیا اور اللہ کی بات ہی بلندو بالا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
(سورہ توبہ:40) 

 صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
 جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے اپنے ماں باپ کو دین اسلام ہی پر پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر صبح و شام دونوں وقت تشریف نہ لاتے ہوں۔ پھر جب ( مکہ میں ) مسلمانوں کو ستایا جانے لگا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی ہجرت کا ارادہ کر کے نکلے۔ جب آپ مقام برک غماد پر پہنچے تو آپ کی ملاقات ابن الدغنہ سے ہوئی جو قبیلہ قارہ کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا ابوبکر! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے اب میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ ملک ملک کی سیاحت کروں ( اور آزادی کے ساتھ ) اپنے رب کی عبادت کروں۔ ابن الدغنہ نے کہا لیکن ابوبکر! تم جیسے انسان کو اپنے وطن سے نہ خود نکلنا چاہئے اور نہ اسے نکالا جانا چاہیے۔ تم محتاجوں کی مدد کرتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، بے کسوں کا بوجھ اٹھاتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو اور حق پر قائم رہنے کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرتے ہو، میں تمہیں پناہ دیتا ہوں واپس چلو اور اپنے شہر ہی میں اپنے رب کی عبادت کرو۔ چنانچہ وہ واپس آ گئے اور ابن الدغنہ بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ اس کے بعد ابن الدغنہ قریش کے تمام سرداروں کے یہاں شام کے وقت گیا اور سب سے اس نے کہا کہ ابوبکر جیسے شخص کو نہ خود نکلنا چاہیے اور نہ نکالا جانا چاہیے۔ کیا تم ایسے شخص کو نکال دو گے جو محتاجوں کی امداد کرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، بے کسوں کا بوجھ اٹھاتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے اور حق کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرتا ہے؟ قریش نے ابن الدغنہ کی پناہ سے انکار نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہہ دو کہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر کے اندر ہی کیا کریں، وہیں نماز پڑھیں اور جو جی چاہے وہیں پڑھیں، اپنی عبادات سے ہمیں تکلیف نہ پہنچائیں، اس کا اظہار نہ کریں کیونکہ ہمیں اس کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے اس فتنہ میں نہ مبتلا ہو جائیں۔ یہ باتیں ابن الدغنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی آ کر کہہ دیں کچھ دنوں تک تو آپ اس پر قائم رہے اور اپنے گھر کے اندر ہی اپنے رب کی عبادت کرتے رہے، نہ نماز برسر عام پڑھتے اور نہ گھر کے سوا کسی اور جگہ تلاوت قرآن کرتے تھے لیکن پھر انہوں نے کچھ سوچا اور اپنے گھر کے سامنے نماز پڑھنے کے لیے ایک جگہ بنائی جہاں آپ نے نماز پڑھنی شروع کی اور تلاوت قرآن بھی وہیں کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں مشرکین کی عورتوں اور بچوں کا مجمع ہونے لگا۔ وہ سب حیرت اور پسندیدگی کے ساتھ دیکھتے رہا کرتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے۔ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو آنسوؤں کو روک نہ سکتے تھے۔ اس صورت حال سے مشرکین قریش کے سردار گھبرا گئے اور انہوں نے ابن الدغنہ کو بلا بھیجا جب ابن الدغنہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ ہم نے ابوبکر کے لیے تمہاری پناہ اس شرط کے ساتھ تسلیم کی تھی کہ اپنے رب کی عبادت وہ اپنے گھر کے اندر کیا کریں لیکن انہوں نے شرط کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنے گھر کے سامنے نماز پڑھنے کے لیے ایک جگہ بنا کر برسر عام نماز پڑھنے اور تلاوت قرآن کرنے لگے ہیں۔ ہمیں اس کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے اس فتنے میں نہ مبتلا ہو جائیں اس لیے تم انہیں روک دو، اگر انہیں یہ شرط منظور ہو کہ اپنے رب کی عبادت صرف اپنے گھر کے اندر ہی کیا کریں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ اظہار ہی کریں تو ان سے کہو کہ تمہاری پناہ واپس دے دیں، کیونکہ ہمیں یہ پسند نہیں کہ تمہاری دی ہوئی پناہ میں ہم دخل اندازی کریں لیکن ابوبکر کے اس اظہار کو بھی ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ابن الدغنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں آیا اور اس نے کہا کہ جس شرط کے ساتھ میں نے آپ کے ساتھ عہد کیا تھا وہ آپ کو معلوم ہے، اب یا آپ اس شرط پر قائم رہیے یا پھر میرے عہد کو واپس کیجئے کیونکہ یہ مجھے گوارا نہیں کہ عرب کے کانوں تک یہ بات پہنچے کہ میں نے ایک شخص کو پناہ دی تھی۔ لیکن اس میں ( قریش کی طرف سے ) دخل اندازی کی گئی۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہاری پناہ واپس کرتا ہوں اور اپنے رب عزوجل کی پناہ پر راضی اور خوش ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مکہ میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تمہاری ہجرت کی جگہ مجھے خواب میں دکھائی گئی ہے وہاں کھجور کے باغات ہیں اور دو پتھریلے میدانوں کے درمیان واقع ہے، چنانچہ جنہیں ہجرت کرنی تھی انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور جو لوگ سر زمین حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے تھے وہ بھی مدینہ چلے آئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مدینہ ہجرت کی تیاری شروع کر دی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کچھ دنوں کے لیے توقف کرو۔ مجھے توقع ہے کہ ہجرت کی اجازت مجھے بھی مل جائے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا واقعی آپ کو بھی اس کی توقع ہے، میرے باپ آپ پر فدا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سفر کے خیال سے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور دو اونٹنیوں کو جو ان کے پاس تھیں کیکر کے پتے کھلا کر تیار کرنے لگے چار مہینے تک۔ ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ایک دن ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر بیٹھے ہوئے تھے بھری دوپہر تھی کہ کسی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر پر رومال ڈالے تشریف لا رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہمارے یہاں اس وقت آنے کا نہیں تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ ایسے وقت میں آپ کسی خاص وجہ سے ہی تشریف لا رہے ہوں گے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اجازت دی تو آپ اندر داخل ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اس وقت یہاں سے تھوڑی دیر کے لیے سب کو اٹھا دو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہاں اس وقت تو سب گھر کے ہی آدمی ہیں، میرے باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ! کیا مجھے رفاقت سفر کا شرف حاصل ہو سکے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ان دونوں میں سے ایک اونٹنی آپ لے لیجئے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے جلدی جلدی ان کے لیے تیاریاں شروع کر دیں اور کچھ توشہ ایک تھیلے میں رکھ دیا۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے پٹکے کے ٹکڑے کر کے تھیلے کا منہ اس سے باندھ دیا اور اسی وجہ سے انکا نام ذات النطاقین ( دو پٹکے والی ) پڑ گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جبل ثور کے غار میں پڑاؤ کیا اور تین راتیں گزاریں۔ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات وہیں جا کر گزارا کرتے تھے، یہ نوجوان بہت سمجھدار تھے اور ذہین بےحد تھے۔ سحر کے وقت وہاں سے نکل آتے اور صبح سویرے ہی مکہ پہنچ جاتے جیسے وہیں رات گزری ہو۔ پھر جو کچھ یہاں سنتے اور جس کے ذریعہ ان حضرات کے خلاف کاروائی کے لیے کوئی تدبیر کی جاتی تو اسے محفوظ رکھتے اور جب اندھیرا چھا جاتا تو تمام اطلاعات یہاں آ کر پہنچاتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ آپ ہر دو کے لیے قریب ہی دودھ دینے والی بکری چرایا کرتے تھے اور جب کچھ رات گزر جاتی تو اسے غار میں لاتے تھے۔ آپ اسی پر رات گزارتے اس دودھ کو گرم لوہے کے ذریعہ گرم کر لیا جاتا تھا۔ صبح منہ اندھیرے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ غار سے نکل آتے تھے ان تین راتوں میں روزانہ ان کا یہی دستور تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنی الدیل جو بنی عبد بن عدی کی شاخ تھی، کے ایک شخص کو راستہ بتانے کے لیے اجرت پر اپنے ساتھ رکھا تھا۔ یہ شخص راستوں کا بڑا ماہر تھا۔ آل عاص بن وائل سہمی کا یہ حلیف بھی تھا اور کفار قریش کے دین پر قائم تھا۔ ان بزرگوں نے اس پر اعتماد کیا اور اپنے دونوں اونٹ اس کے حوالے کر دیئے۔ قرار یہ پایا تھا کہ تین راتیں گزار کر یہ شخص غار ثور میں ان سے ملاقات کرے۔ چنانچہ تیسری رات کی صبح کو وہ دونوں اونٹ لے کر ( آ گیا ) اب عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور یہ راستہ بتانے والا ان حضرات کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے ساحل کے راستے سے ہوتے ہوئے۔  
(صحیح بخاری:3905) 
مندرجہ ذیل روایت بھی ملاحظہ کریں۔ 
 عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِأَقْدَامِ الْقَوْمِ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْ أَنَّ بَعْضَهُمْ طَأْطَأَ بَصَرَهُ رَآنَا ، قَالَ : اسْكُتْ يَا أَبَا بَكْرٍ اثْنَانِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا . 
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
 میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں تھا۔ میں نے جو سر اٹھایا تو قوم کے چند لوگوں کے قدم ( باہر ) نظر آئے میں نے کہا، اے اللہ کے نبی! اگر ان میں سے کسی نے بھی نیچے جھک کر دیکھ لیا تو وہ ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابوبکر! خاموش رہو ہم ایسے دو ہیں جن کا تیسرا اللہ ہے۔ 
(صحیح بخاری:3922) 
دوسری جگہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جب ہم غار ثور میں چھپے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر مشرکین کے کسی آدمی نے اپنے قدموں پر نظر ڈالی تو وہ ضرور ہم کو دیکھ لے گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے ابوبکر! ان دو کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔“ 
(صحیح بخاری:3653)
اس روایت سے تو یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاؤں غار ثور کے اندر کسی سوراخ پر نہیں تھے بلکہ دونوں ہی حضرات کے پاؤں غار سے باہر کو نکلے ہوے تھے۔ 
 
غار ثور جو جبل ثور میں واقع ہے مکہ مکرمہ سے جنوب کی طرف چارکیلومیٹر کی دوری پر ہے، تقریباً ایک میٹر چوڑا ہے جبکہ اس کا طول 18 بالشت اور عرض 11 بالشت ہے۔ اس کا چھوٹا دہانہ تقریباً نصف میٹر کھلا ہے جبکہ غار میں سیدھے کھڑے ہوں تو سر چھت سے لگتا ہے۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!! 

Friday, June 18, 2021

ایک بڑھیا کا رسول ﷺ پر کوڑا پھینکنے کا واقعہ؟

         بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

مولانا اقبال قاسمی سلفی


موضوع : ایک بڑھیا کا رسول ﷺ پر کوڑا پھینکنے کا واقعہ؟

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

عام طور سے قصہ گو واعظین لوگوں کا من بہلانے کے لئے جھوٹے اور من گھڑت قصے، کہانیاں سناکر لوگوں کو گمراہ تو کرتے ہی رہتے ہیں لیکن یہ جرم اس وقت مزید  سنگینی اختیار کر لیتا ہے جب یہ قصہ گو واعظین منبر و محراب سے من گھڑت اور بے سند قصوں کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان تراشیوں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔

ان ہی میں سے ایک بڑھیا کا واقعہ ہے:

چنانچہ حنفی علماء اور مفتیان  اکثر یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک عورت کوڑا پھینکا کرتی تھی۔ ایک دن اس نے کوڑا نہ پھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر چلے گئے،وہ بیمار تھی تو آپ نے اس کے گھر کو صاف کیا۔ پانی بھرا، اس نے آپ کے اخلاق کو دیکھ کر پوچھا کہ تم کون ہو،آپ نے بتایا کہ میں محمدﷺ ہوں، اتنا سننا تھا کہ وہ مسلمان ہو گئی۔ 

لیکن اللہ کے رسول ﷺ کی طرف منسوب بڑھیا کا یہ واقعہ بلکل جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ حدیث کی کسی کتاب میں اس واقعہ کی  صحیح تو کیا کوئی ضعیف اور موضوع سند بھی مذکور نہیں ہے۔ 

علماۓ احناف نے بھی اس روایت  کو بے سند قرار دیا ہے۔ علامہ یوسف حنفی پاکستانی  اپنے  فتوے میں فرماتے ہیں:

"واضح رہے کہ رسولِ اَکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ذات سے منسوب کسی بھی واقعہ کے درست ہونے کے لیے مستند  کتبِ احادیث میں منقول ہونا ضروری ہے، پس جو واقعہ مستند کتبِ احادیث میں منقول نہ ہو وہ شرعاً بے اصل ہے اور اسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا شرعاً جائز نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں جو واقعہ تعلیمی نصاب کی کتب میں منقول ہے وہ بے اصل قصہ ہے، مستند کتبِ احادیث میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا، لہذا رسولِ اَکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمہ بیان کرنے کے لیے ایسے من گھڑت واقعات کا سہارہ لینے کی چنداں ضرورت نہیں، اور  مذکورہ قصہ کی نسبت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا جائز نہیں۔

آپ ﷺ کو خلقِ عظیم کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہونے کی سند خود باری تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے، اور آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں قدم قدم پر اعلیٰ اخلاقی قدروں کی بے نظیر مثالیں موجود ہیں، مستند ذخیرہ احادیث وکتبِ سیرت ان حوالوں سے بھرا ہوا ہے، لہٰذا آپ ﷺ کے کریمانہ اخلاق کے واقعات صحیح اور ثابت شدہ کتابوں سے بیان کیے جائیں۔فقط واللہ اعلم"

فتوی نمبر : 144004201397

اسی طرح دارالعلوم دیوبند نے بھی ایسے کسی واقعہ کے کتب احادیث میں مذکور ہونے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے, چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے پوچھا گیا کہ:

اللہ کے نبی کی سیرت کے تعلق سے اکثر یہ دو واقعات بڑھیا کے سننے ملتے ہیں، ایک وہ بڑھیا جو اللہ کے نبی پر روزانہ کوڑا کرکٹ پھینکا کرتی تھی اور دوسرا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک بڑھیا کا قصہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکا سامان اٹھایا اور اس نے آپ علیہ السلام کے بارے میں برابھلا شروع کردیا پھر جب آپ علیہ السلام نے اپنا نام بتایا تو وہ بڑھیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی وجہ سے مسلمان ہوئی ، ان واقعات کی کیا حقیقت ہے ؟
 
تو جواب ملا :

"یہ دونوں واقعات کسی حدیث میں ہماری نظر سے نہیں گذرے( اور نہ ہی کبھی گذریں گے ان شاءاللہ)  کسی اچھے مورخ کی طرف رجوع فرمائیں"
فتویٰ نمبر:155541

اس لئے ہر مسلمان کو چاہیئے کہ ایسے واقعات بیان کرنے سے پہلے تحقیق کرلے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایسے واقعات بیان کرکے وہ جہنم کا مستحق ہو جائے۔ کیونکہ اس طرح کے بے سند واقعات  اللہ کے رسول ﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کرنا رسول ﷺ کے اوپر بہتان باندھنا ہے۔ اور اللہ کے رسول ﷺ پر بہتان باندھنے کی بہت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ 
حضرت ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا:
جو شخص گھڑ کر میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔    (ابن ماجہ:34، صحیح)
 
عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ :    إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ.   
  حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ: "میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔"
(صحيح البخاري:1291) 

ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے ۔ ‘‘ 
(صحیح مسلم:5) 


حضرت ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: 
انسان بسا اوقات کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جسکی پروا نہیں کرتا لیکن اسی بات کی وجہ سے وہ ستر سال کی مسافت سے جہنم میں گرتا چلا جاتا ہے۔ 
(صیحح الترغيب والترہیب:2875) 

اس لئے مسلمانوں بالخصوص مقررین کو چاہیئے کہ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے کوئی بھی واقعہ بیان کرنے سے پہلےاس کی تحقیق کر لیں، اصول حدیث کی روشنی میں اس کی جانچ کر لیں۔اورصرف انہیں باتوں کو بیان کریں جو صحیح سند سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں.
نبیﷺ کے بلنداخلاق کے بہت سارے واقعات صحیح احادیث میں موجود ہیں۔ 

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه !!

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...