Wednesday, November 3, 2021

کیا قبر قبر روزانہ بولتی ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مولانا اقبال قاسمی سلفی

کیا قبر  قبر روزانہ بولتی  ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں

اکثر خطبا اور مقررین قبر اور آخرت پر وعظ و نصیحت کرتے ہوئے یہ حدیث نقل کرتے ہیں، اور تقریری کتابوں میں بھی یہ حدیث درج ہوتی ہے کہ قبر روزانہ کہتی ہے میں تنہائی کا گھر ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ
آئیے اس حدیث کی صحت وضعف کا جائزہ لیتے ہیں:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَلَّاهُ فَرَأَى نَاسًا كَأَنَّهُمْ يَكْتَشِرُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏    أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ أَكْثَرْتُمْ ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ لَشَغَلَكُمْ عَمَّا أَرَى، ‏‏‏‏‏‏فَأَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ فَإِنَّهُ لَمْ يَأْتِ عَلَى الْقَبْرِ يَوْمٌ إِلَّا تَكَلَّمَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَنَا بَيْتُ الْغُرْبَةِ وَأَنَا بَيْتُ الْوَحْدَةِ وَأَنَا بَيْتُ التُّرَابِ وَأَنَا بَيْتُ الدُّودِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا وَأَهْلًا، ‏‏‏‏‏‏أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَحَبَّ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِيَ بِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَتَّسِعُ لَهُ مَدَّ بَصَرِهِ وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ أَوِ الْكَافِرُ،‏‏‏‏ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ:‏‏‏‏ لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا، ‏‏‏‏‏‏أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَبْغَضَ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِيَ بِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى يَلْتَقِيَ عَلَيْهِ وَتَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِهِ:‏‏‏‏ فَأَدْخَلَ بَعْضَهَا فِي جَوْفِ بَعْضٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيُقَيِّضُ اللَّهُ لَهُ سَبْعِينَ تِنِّينًا لَوْ أَنْ وَاحِدًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ شَيْئًا مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا فَيَنْهَشْنَهُ وَيَخْدِشْنَهُ حَتَّى يُفْضَى بِهِ إِلَى الْحِسَابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ   ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلی پر تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ ہنس رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! اگر تم لوگ لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز کو یاد رکھتے تو تم اپنی ان حرکتوں سے باز رہتے، سو لذتوں کو ختم کر دینے والی موت کا ذکر کثرت سے کرو، اس لیے کہ قبر روزانہ بولتی ہے اور کہتی ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، پھر جب مومن بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا  ( خوش آمدید )  کہتی ہے اور مبارک باد دیتی ہے اور کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ محبوب تھا جو میرے پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہو گئی اور تو میری طرف آ گیا تو اب دیکھ لے گا کہ میں تیرے ساتھ کیسا حسن سلوک کروں گی، پھر اس کی نظر پہنچنے تک قبر کشادہ کر دی جائے گی اور اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا، اور جب فاجر یا کافر دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے نہ ہی مرحبا کہتی ہے اور نہ ہی مبارک باد دیتی ہے بلکہ کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ قابل نفرت تھا جو میری پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہوں اور تو میری طرف آ گیا سو آج تو اپنے ساتھ میری بدسلوکیاں دیکھ لے گا، پھر وہ اس کو دباتی ہے، اور ہر طرف سے اس پر زور ڈالتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک طرف سے دوسری طرف مل جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا اور ایک دوسرے کو آپس میں داخل کر کے فرمایا: ”اللہ اس پر ستر اژدہے مقرر کر دے گا، اگر ان میں سے کوئی ایک بار بھی زمین پر پھونک مار دے تو اس پر رہتی دنیا تک کبھی گھاس نہ اگے، پھر وہ اژدہے اسے حساب و کتاب لیے جانے تک دانتوں سے کاٹیں گے اور نوچیں گے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے“۔ 
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ 
(سنن ترمذی:2460) 
اس کی سند میں عطیہ العوفی ہے جسے امام نسائی، ابوزرعہ اور علامہ ساجی وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ 
عطیہ عوفی سے روایت کرنے والے عبیداللہ بن ولید الوصافی کو بھی محدثین نے ضعیف جدا انتہائی ضعیف قرار ہے۔ 
امام عقیلی فرماتے ہیں : في حديثه مناكير ، لا يتابع على كثير من حديثه .
ابن حبان فرماتے ہیں:
يروي عن الثقات ما لا يشبه حديث الأثبات. 
امام حاکم فرماتے ہیں: 
روى عن محارب أحاديث موضوعة۔
ساجی فرماتے ہیں:
عنده مناكير ضعيف الحديث جدا .
" تهذيب التهذيب" (7 /50-51) ، " ميزان الاعتدال " (3/17) 
علامہ البانی اس حدیث کو ضعیف الترغيب والترہیب(1944) میں ذکر کرنے کے بعد فرمایا:ضعيف جدا. (انتہائی ضعیف ہے)۔

المعجم الاوسط للطبرانی میں اس حدیث کا ایک شاہد ہے، امام طبرانی فرماتے ہیں:

حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ ، نا أَبِي ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ ، فَجَلَسَ إِلَى قَبْرٍ مِنْهَا ، فَقَالَ : " مَا يَأْتِي عَلَى هَذَا الْقَبْرِ مِنْ يَوْمٍ ، إلا وَهُوَ يُنَادِي بِصَوْتٍ طَلْقٍ زَلِقٍ : يَا ابْنَ آدَمَ ، كَيْفَ نَسِيتَنِي ؟ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي بَيْتُ الْوَحْدَةِ ، وَبَيْتُ الْغُرْبَةِ ، وَبَيْتُ الْوَحْشَةِ ، وَبَيْتُ الدُّودِ ، وَبَيْتُ الضِّيقِ ، إلا مَنْ وَسَّعَنِي اللَّهُ عَلَيْهِ " ۔ 
اس سند کے راوی محمد بن ایوب بن سوید اور اس کے والد ایوب بن سوید دونوں ہی سخت ضعیف ہے۔
محمد بن ایوب بن سوید تو محدثین کے یہاں متہم بالوضع ہے یعنی اس کے اوپر حدیثیں گھڑنے کا الزام ہے۔ 
نیز امام طبرانی کے استاذ مسعود بن محمد رملی مجہول الحال ہیں۔

اس حدیث کے آخری جملے کا ایک شاید بہیقی میں بھی موجود ہے:
 أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالا : ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ، أَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَخِي عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ شَيْبَةَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " الْقَبْرُ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ جَهَنَّمَ أَوْ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ "
اس سند میں واقدی ہے جو محدثین کے نزدیک متروک الحدیث ہے۔ 
اسحاق بن راھویہ فرماتے ہیں:
هو عندي ممن يضع الحديث.
میرے نزدیک یہ ان لوگوں میں سے ہے جو حدیثیں وضع کرتا ہے۔
نیز اس سند میں واقدی کے علاوہ سلمہ بن اخی اور عمر بن شیبہ مجہول الحال ہیں۔ 

لہذا یہ روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے۔

واضح ہوکہ اس حدیث کا پہلا جملہ"فَأَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ" سنن ترمذی:2307 ، سنن نسائی:1825،سنن ابن ماجہ:4258 میں بھی مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ کی سند سے مروی ہے۔ جسے علامہ البانی اور شیخ زبیر علی زئی صاحب نے صحیح قرار دیا ہے۔ 

نیز اس موضوع پر صحیح احادیث موجود ہیں جسے بیان کرنا چاہئیے۔ ‏‏‏‏‏‏
سنن ترمذی میں ہانی مولی عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: عثمان رضی الله عنہ جب کسی قبرستان پر ٹھہرتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہو جاتی، ان سے کسی نے کہا کہ جب آپ کے سامنے جنت و جہنم کا ذکر کیا جاتا ہے تو نہیں روتے ہیں اور قبر کو دیکھ کر اس قدر رو رہے ہیں؟ تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آخرت کے منازل میں سے قبر پہلی منزل ہے، سو اگر کسی نے قبر کے عذاب سے نجات پائی تو اس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے اور اگر جسے عذاب قبر سے نجات نہ مل سکی تو اس کے بعد کے منازل سخت تر ہوں گے“، عثمان رضی الله عنہ نے مزید کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھبراہٹ اور سختی کے اعتبار سے قبر کی طرح کسی اور منظر کو نہیں دیکھا“۔ (سنن ترمذی:2308،صحیح)
اس طرح اس موضوع پر بہت ساری صحیح احادیث موجود ہیں جو ہمیں ضعیف حدیثوں سے بے نیاز کردیتی ہیں۔ فلله الحمد. 
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...