Wednesday, August 9, 2023

موضوع: میلاد چھاپ مولویوں کی امامت

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

موضوع: میلاد چھاپ مولویوں کی امامت! 

 سڑک چھاپ نیتا اور جھولا چھاپ ڈاکٹروں کی طرح فاتحہ اور میلاد مروجہ کر کے اپنی جھولی بھرنے والے میلاد چھاپ مولویوں کی تعداد بر صغیر ہندو پاک میں بکثرت پائی جاتی ہے۔ 
جن کا نہ ناظرہ درست ہے۔ 
نہ اردو زبان کا ذوق و شعور ہے۔ 
 نہ قرآن کی آیت کا ترجمہ پتہ ہے۔ 
نہ حدیث رسول کا علم ہے۔ 
نہ مسائل کا حصول ہے۔ 

لیکن افسوس! باوجود اس کے آج میلاد چھاپ مولوی حضرات ہی لوگوں کے سارے مسائل کا امام بنے بیٹھے ہیں۔ 
میلا چھاپ مولوی لوگوں کے ایمان پر ڈاکے ڈال رہے ہیں، خود بھی گمراہ ہیں، دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔
جن کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے پیشنگوئی فرمائی تھی ۔ 

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّو۔ 
(صحیح بخاری : حدیث نمبر:100) 

حضرت عبد اللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے : وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوے سنا : 
کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے ۔ بلکہ وہ ( پختہ کار ) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا ۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے ، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے ۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے ۔

اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث آج حرف بحرف صادق آرہی ہے۔ لوگوں نے ان جاہلوں کو سردار بنا لیا ہے، ان ہی سے عقیدہ، نماز روزے کے مسائل دریافت کئے جارہے ہیں، اور میلاد چھاپ مولوی اپنی جہالت کے باوجود اسے جواب دے رہے ہیں۔ خود تو گمراہ تھے ہی دوسروں کو بھی گمراہ کر کے چہار سو گمراہی کی دعوت دے رہے ہیں۔ 

جبکہ اسلام میں امامت کے مسائل بہت تفصیل سے موجود ہیں۔ نبیﷺ نے امامت کے حقداروں کو تفصیل کے ساتھ بیان فرما دیا ہے:  
 حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

أبو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا۔ 
(سنن ترمذی: 235) 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو، اگر لوگ قرآن کے علم میں برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ سنت کا جاننے والا ہو وہ امامت کرے، اور اگر وہ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے۔ 

اس حدیث میں میلاد چھاپ مولویوں کی امامت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے یہاں جو مولوی ہوا کرتے ہیں وہ تجویدی غلطیوں کے علاوہ امامت کے بنیادی مسائل سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ 
 لیک آج کا میلاد چھاپ مولوی بزعم خویش خود کو ہی امامت کا حقدار اعلیٰ سمجھ بیٹھا ہے۔ عالم بالقرآن والسنہ کے رہتے ہوے بھی جاہل میلاد چھاپ مولوی ہی پنج وقتہ اور جنازے کی امامت کررہے ہیں

مذہب اسلام میں امامت اتنا حساس مسئلہ ہے کہ نبی کریم ﷺ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے رہتے ہوئے کسی دوسرے کو امام نہیں بنایا۔ آپ بار بار یہی فرماتے رہے، ابو بکر کو بلاؤ، اسے کہو کہ امامت کرے۔ 
چنانچہ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : 
عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ ، إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، قَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَعَادَتْ ، فَقَالَ : مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ، فَأَتَاهُ الرَّسُولُ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ 
 نبی کریم ﷺ بیمار ہوئے اور جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ وہ نرم دل ہیں جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان کے لیے نماز پڑھانا مشکل ہو گا ۔ آپ نے پھر فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی بات کہی ۔ آپ نے پھر فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں ، تم لوگ صواحب یوسف ( زلیخا ) کی طرح ( باتیں بناتی ) ہو ۔ آخر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بلانے آیا اور آپ نے لوگوں کو نبی ﷺ کی زندگی میں ہی نماز پڑھائی
(صحیح بخاری: حدیث نمبر : 678)


کتاب و سنت نے امامت کی اہلیت طے کر دی ہے۔ میلاد چھاپ مولوی کے مقابلے میں ایک بچے کو امام بنایا جا سکتا ہے اگر وہ قرآن کو صحیح پڑھنا جانتا ہے۔جیسا کہ صحابہ کرام نے عمرو بن سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو صحابہ کرام نے اپنا اامام منتخب کر لیا تھا جبکہ عمروبن سلمہ ابھی بچے تھے۔ 
حضرت عمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ قافلے ہمارے پاس سے گزرا کرتے تھے ۔ ہم ان سے قرآن سیکھ لیتے تھے ۔ میرے والد محترم نبی ﷺ کے پاس ( اپنی قوم کا نمائندہ بن کر ) گئے ۔ ( واپسی کے وقت ) آپ نے فرمایا : تم میں سے امامت وہ کرائے جو زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو ۔ میرے والد واپس آئے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمھاری امامت وہ شخص کرائے جو قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو ۔ لوگوں نے تلاش کیا تو میں ان سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا تھا ، لہٰذا میں ان کی امامت کراتا تھا ، حالانکہ میں آٹھ سال کا تھا ۔ 
(سنن نسائی: حدیث نمبر: 790) 

میلاد چھاپ مولوی اور شرک ! 
میلاد چھاپ مولوی علانیہ مشرک ہوتے ہیں، یہ لوگ شرک و بدعت پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے داعی بھی ہوتے ہیں، مروجہ میلاد میں ان مولویوں کے ذریعہ پڑھی جانے والی کتابیں سراسر شرک بدعت کا داعی، موضوع اور من گھڑت روایتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

اور مشرک آدمی کے اعمال تباہ و برباد ہوجاتے ہیں وہ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہوتے۔ 
 اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں مختلف انبیاء کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :

وَلَوْ أَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ
(الانعام : 88) 
”اور اگر یہ لوگ بھی شرک کرتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہو جاتے۔ “
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا :
وَلَقَدْ أُوْحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ
( الزمر : 65) 
”اور تحقیق وحی کی گئی آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے تھے، اگر تو نے شرک کیا تو تیرے عمل ضائع ہو جائیں گے اور البتہ تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ “
ان آیات سے واضح ہو گیا کہ مشرک آدمی کے اعمال اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔ خواہ وہ نماز ہو یا روزہ، حج ہو یا زکوٰۃ۔ غرض کسی قسم کا عمل بھی مشرک کا قبول نہیں بلکہ وہ سارے اعمال اکارت اور ضائع ہوں گے۔ تو جب امام مشرک ہو گا اور اس کا اپنا عمل اللہ کے ہاں مقبول نہیں تو اس کی اقتدا میں ادا کی جانے والی نماز کیسے قبول ہو گی ؟

شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ:

ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے جو بزرگوں کی قبروں پر برکت حاصل کرنے کے لیے جاتا ہے یا میلاد وغیرہ کے موقع پر قرآن کی تلاوت کرتا ہے اور اس پر اجرت بھی لیتا ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

"اس میں کچھ تفصیل ہے کہ اگر شرک کے بغیر صرف میلاد ہی مناتا ہے تو یہ شخص بدعتی ہے، اس لیے اس کو [مسجد کا مستقل] امام نہیں ہونا چاہیے؛ کیونکہ صحیح حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (اپنے آپ کو دین میں نت نئے امور سے بچاؤ؛ کیونکہ [دین میں] تمام نت نئے امور بدعت ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے)[ اس روایت کو بو داود ( 3991 ) نے نقل کیا ہے] میلاد منانا بدعات میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ امام مردوں کو پکارے ان سے مدد طلب کرے یا جنوں اور دیگر مخلوقات سے مدد مانگے اور کہے: "یا رسول اللہ مدد" یا کہے کہ: "یا رسول اللہ ہمارے مریض کو شفا دے دیجیے" یا کہے : "یا حسین " یا کہے: "یا سید بدوی" یا دیگر کسی بھی فوت شدہ شخصیت کو پکارے یا بتوں کی طرح جمادات کو پکارے اور ان سے مدد طلب کرے تو ایسا شخص مشرک ہے اور شرک اکبر کا مرتکب ہے، ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جا سکتی اور نہ ہی اس کی امامت صحیح ہو گی -اللہ تعالی ہم سب کو محفوظ رکھے- 

فتاوی شیخ ابن باز " ( 9 / 373 ، 374 ) و ( 12 / 108 ، 109 )

میلاد چھاپ مولوی بد عت مکفرہ کا کھلے عام ارتکاب کرتے ہیں۔ ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا اور نہ پڑھنا دونوں یکساں ہے۔ 

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب یہ سوال کیا گیا کہ: 

میرا سوال یہ ہے کہ بدعتی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟جتنے سارے اعلی حضرت کے متبعین ہیں ان کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟اور کہنا یہ ہے کہ ہمارے امام صاحب قاسمی ہیں ، لیکن عید میں گلے ملتے ہیں اور تراویح کا پیسہ بھی لیتے ہیں ، قرآن خوانی بھی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ تو کہنا یہ ہے کہ یہ سب بھی بدعت ہے تو کیا ان کے پیچھے نماز ہوجائے گی؟ اگر ان کے پیچھے نماز ہوگی تو ان کے پیچھے کیوں نہیں جن کے عقائد درست نہیں ہے، ان کے پیچھے نماز نہیں تو بدعتی کے عقائد بھی تو درست نہیں تو ان کے پیچھے جائز کیسے ہوگی؟اور کوئی کہے کہ عقائد ہم دل میں کیسے دیکھیں تو یہ کیا صحیح ہے؟

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 

بدعتی کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے اور عید کی نماز کے بعد مصافحہ کرنا، گلے ملنا، مروجہ قرآن خوانی کرنا، تراویح پڑھانے پر اجرت لینا ؛ یہ سب امور بھی شریعت کی رو سے صحیح نہیں ہیں، اگر کوئی امام ان چیزوں کا مرتکب ہے، تو اُس کے پیچھے بھی نماز مکروہ ہوگی، لیکن بدعتی کا معاملہ زیادہ نازک ہے؛ اس لیے کہ بعض بدعتی کے عقائد سراسر اِسلام کے خلاف اور کفریہ ہوتے ہیں،اُن کے پیچھے نماز ہوتی ہی نہیں اور جن بدعتیوں کے عقائد و اعمال فسقیہ ہوتے ہیں، اُن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے اور عقائد کا تعلق اگرچہ اندرون اور دل سے ہے؛ لیکن ظاہری اعمال ہی سے باطن پر حکم لگایا جاتا ہے۔

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
(فتوی نمبر : 60626)

بدعتی اور میلاد چھاپ مولویوں کے چنگل سے امت کو بچائیں، ان کا سامنا کریں، لوگوں کو ان کی کم علمی سے آگاہ کریں۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! آمين!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...