السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی ہے؟
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
صوفی سنتوں کے موضوع اور من گھڑت قصے کہانیوں پر چلنے والے رضاخانی مقررین اور مفتیوں کی زبانی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے اکثر یہ روایت سماعت کی جاتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی تھی- اس پر مزید رضاحانی اور شیعی اضافہ یہ کیا جاتا ہے کہ جب حضرت علی کی والدہ کو درد زہ شروع ہوا تو خانہ کعبہ کی دیوار شق ہوگئ، اندرون کعبہ ولادت ہوئی، دوبارہ بیت اللہ کی دیوار شق ہوئی اور فاطمہ اپنے بچے کو لے کر باہر آئیں؛ یہ سراسر شیعہ اور رضاخانی مولویوں کی تقریری اور میلادی اپج ہے۔
اس من گھڑت قصے کو ابن مغازلی نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مناقب کے ذیل میں روایت کیا ہے۔
ابن مغازلی روایت کرتے ہیں:
اخبرنا ابو طاهر محمد بن علي بن محمد البيع ، قال: اخبرنا ابو عبد الله احمد بن محمد بن عبد الله بن خالد الكاتب ، قال : حدثنا أحمد بن جعفر بن محمد بن سالم الختلي قال: حدثني عمر بن أحمد بن روح، قال: حدثني ابو طاهر يحيى بن الحسن العلوي قال: حدثني محمد بن سعيد االدارمي ، حدثني موسى بن جعفر ، عن ابيه ، عن محمد بن علي ، عن ابيه علي بن الحسين قال: كنت جالسا مع ابي ونحن زائرون (زائرين أونزور) قبر جدنا عليه السلام ، وهناك نسوان كثيرة ، فأقبلت أمرأة منهن فقلت لها: من أنت يرحمك الله ؟ قالت: أنا زيدة بنت قريبة بن العجلان من بني ساعدة .فقلت لها : فهل عندك شيئا تحدثينا ؟ فقالت : أي والله حدثتني أمي أم عمارة بنت عبادة بن نضلة بن مالك بن عجلان الساعدي ...أنها كانت ذات يوم في نساء من العرب اذ أقبل أبو طالب كئيبا حزينا ، فقلت له: ما شأنك يا أبا طالب ؟ قال: أن فاطمة بنت أسد في شدة المخاض ، ثم وضع يده على جبهته ، فبينما هو كذلك إذ أقبل محمد صلى الله عليه وسلم فقال: ما شأنك ياعم ؟ فقال : ان فاطمة بنت أسد تشتكي المخاض ، فأخذ بيده وجاء وهي معه فجاء بها الى الكعبة فأجلسها في الكعبة ، ثم قال : اجلسي على أسم الله! قالت: فطلقت طلقة فولدت غلاما مسرورا، نظيفا ، منظفا ، لم أر كحسن وجهه فسماه ابو طالب عليا وحمله النبي صلى الله عليه وأله حتى اداه الى منزلها.قال على بن الحسين عليهم السلام: فوالله ما سمعت بشئ قط إلا وهذا أحسن منه.
ترجمہ
ام عمارہ بنت عبادہ الساعدیہ کی طرف سے زیدہ بنت عجلان الساعدیہ نے مجھے خبردی ، کہا کہ میں ایک دن عرب کی چند عورتوں میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک ابوطالب غمگین ہو کر آیا ، میں نے کہا : کیا حال ہے ؟ تو ابوطالب نے کہا : فاطمہ بنت اسد دردزہ میں مبتلا ہے اور وقت ہو جانے کے باوجود بچہ پیدا نہیں ہو رہا ، پھر ابوطالب اپنی بیوی فاطمہ کو خانہ کعبہ کے اندر لے آیاـ اور کہا کہ اللہ کے نام پر بیٹھ جاؤ ، بیٹھ گئی اور پھر دردزہ شروع ہو گیا ، اور ایک پاکیزہ بچہ پیدا ہوا جس کا نام ابوطالب نے علی رکھاـ
یہ روایت سرے سے ناقابل استدلال ہے، کیونکہ اس کی سند میں زيدة بنت قريبة بن العجلان من بني ساعدة ، اس کی ماں أم عمارة بنت عبادة بن نضلة بن مالك بن عجلان الساعدي، جیسے مجہول اور یحییٰ بن حسن جیسے کذاب راوی موجود ہیں۔ اسی لئے شیعوں نے بھی اس روایت کو قابل التفات نہیں سمجھا اور اس روایت کو مستدل نہیں بناتے۔ اور نہ ہی " الکافی" میں جسے شیعہ حضرات أعظم كتاب بعد القرآن سمجھتے ہیں، کلینی نے اس روایت قابل ذکر سمجھا۔
اس کی سند میں موجود علتوں کے علاوہ قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ" علی بن حسین بن علی فرماتے ہیں "فوالله ما سمعت بشئ قط إلا وهذا أحسن منه"
"اللہ کی قسم! میں نے اس سے بہتر بات اس سے پہلے کبھی نہیں سنی۔
یہ جملہ صاف بتا رہا ہے کہ خاندان اہل بیت کوبھی اس سے پہلے اس واقعے کا علم نہیں تھا۔ نہ انہوں نے اس پہلے کبھی اس واقعے کو کسی سے سنا تھا۔ نہ کسی صحابی سے اور نہ خود اپنے اہل خانہ سے۔ اپنے جد امجد کی اتنی بڑی فضیلت سے اب تک خانوادہ ناشناس تھا ، کسی کو خبر نہ تھی سواۓ ایک مجہولہ عورت کے۔ بقول شیعوں کے یہ بات خبر متواتر سے ثابت شدہ یے، لیکن خبر متواتر تو کیا، علی بن حسین خبر واحد کا بھی انکار کر رہے ہیں۔ "فوالله ما سمعت بشئ قط إلا وهذا أحسن منه"
"اللہ کی قسم! میں نے اس سے بہتر بات اس سے پہلے کبھی نہیں سنی۔
مزہد یہ کہ ابن مغازلی، یعنی جس کتاب میں یہ روایت موجود ہے، اس کا مصنف ہی کثیر الغلط اور قلیل الحفظ و المعرفہ ہیں۔
ابن نجار تاریخ ذیل بغداد میں ابن مغازلی کے بارے میں لکھتے ہیں: جاء في ذيل تاريخ بغداد لابن النجار: علي بن محمد بن محمد بن الطيب بن أبي يعلى بن الجلابي، أبو الحسن، المعروف بابن المغازلي: من أهل واسط، والد مُحَمَّد الذي قدمنا ذكره، سمع كثيرا وكتب بخطه وحصل، وخرج التاريخ وجمع مجموعات، منها الذيل الذي ذيله على «تاريخ واسط» بحشل ومشيخة لنفسه، وكان كثير الغلط، قليل الحفظ والمعرفة.
ابن نجار کے علاوہ شیعہ عالموں نے تو کتاب "مناقب ابن مغازلی" کے مصنف کا ہی انکار کیا ہے کہ وہ اس کتاب کے کسی مصنف کو نہیں جانتے ۔
چنانچہ راویوں کے جرح و تعدیل پر مشتمل طہرانی(شیعہ)کی کتاب " الذریعہ " ترجمہ نمبر : 7286 کے تحت طہرانی لکھتے ہیں:
مناقب ابن المغازلى كتاب جليل لا أعرف مولفه، مرتب على مطالب رابعها فى مناقب أمير المومنين ع و فيه مقاصد، الخامس و العشرين منها فى ذكر أولاده ثم أولاد سائر الأئمة إلى الحجة ع و ذكر احوالهم، رايته فى خزانة آل السيد عيسى العطار ببغداد.
سیدناعلیؓ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کے لیے ایک اور من گھڑت قصہ بیان کیا جاتا ہے جس کا حقیقت سے دور کا واسطہ نہیں ہے
قصہ کچھ یوں ہے:
''حلمیہ بنت ابی ذوہیب عبداللہ بن الحارث سعدیہ ایک مرتبہ حجاج بن یوسف کے دور خلافت میں ان سے ملنے کے لیے گئیں ـ حجاج نے کہا : ائے حلمیہ ! اللہ تجھے میرے پاس لایا ، میں چاہتا ہوں کہ تجھے بلاؤں اور تم سے انتقام لوں ، حلمیہ نے کہا: اس سورش و غصہ کا کیا سبب ہے ؟ حجاجج نے جواب دیا : میں نے سنا ہے کہ تم علی ؓ کو ابوبکرؓ اور عمرؓ فضیلت دیتی ہو ، حلمیہ نے کہا : حجاج ! خدا کی قسم میں اپنے امام کو اکیلی حضرت عمرؓ و ابوبکرؓ پر فضلیت نہیں دیتی ہوں ، ابوبکرؓ و عمرؓ میں کیا لیاقت ہے کہ حضرت علیؓ سے ان کا موازنہ کیا جائے ، میں تو اپنے امام کو آدم ، نوح ، ابراہیم ، سلمیان ، موسی اور عیسی پر بھی فضیلت دیتی ہو، حجاج نے برآشفتہ ہو کر کہا میں تجھ سے دل برداشتہ ہوں ، میرے بدن میں آگ لگ گئی ہے ، اگر تو نے اس دعوٰی کو ثابت کردیا تو ٹھیک ورنہ میں تجھے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا ، تاکہ تم دوسروں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے ، پھر حلمیہ نے ایک ایک کر کے دلائل کے ساتھ علیؓ کی برتری ثابت کردی ـ یہاں تک کہ جب حجاج نے کہا تو کس دلیل سے علیؓ کو عیسی علیہ السلام پر ترجیح دیتی ہے ؟ حليمہ نے کہا :اے حجاج سنو ! جب مریم بن عمران بچہ جننے کے قریب ہوئی جب کہ وہ بیت المقدس میں ٹھہری تھی ، حکم الہی آیا کہ بیت المقدس سے باہر نکل جاؤ اور جنگل کی طرف رخ کرو تاکہ بت المقدس تیرے نفاس سے ناپاک نہ ہوجائے ، اور جب حضرت علیؓ کی ماں فاطمہ بن اسد وضع حمل کے قریب ہوئیں تو وحی آئی کہ کعبہ میں داخل ہو جاؤ اور میرے گھر کو اس مولود کی پیدائش سے مشرف کر، پھر حلمیہ کہنے لگی ائے حجاج اب تم ہی انصاف کروکہ دونوں بچوں میں کون شریف ہو گا ؟ حجاج یہ سن کر راضی ہو گیا اور حلمیہ کا وظیفہ مقرر کردیا ۔
(آئینہ مذاہب امامیہ از شاہ عبدالعزیز صاحب محد دہلوی :ص 111-113
اس واقعے کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ حلیمہ نے حجاج بن یوسف کے زمانے کو پایا ہی نہیں۔
اس روایت کو صحیح ماننے سے اہل السنہ و الجماعہ کے اصولوں کی مخالفت لازم آئے گی کیونکہ اس روایت میں علیؓ کو عمرین یعنی ابوبکر وعمرؓ پر فوقیت دینے کی کوشش کی گئی ، جبکہ اہل النسہ والجماعہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تمام صحابہ کرام میں سب سے زیادہ افضل ابوبکرؓ پھر عمرؓ پھر عثمانؓ پھر علیؓ اور ان کے بعد عشرہ مبشرہ ؓ ہیں ـ
سنی علماء میں سے ابن مغازلی کے علاوہ امام حاکم نے اپنی کتاب "المستدرک علی الصحیحین" میں اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے، جسے شیعوں نے خوب تر ہوا دی ہے۔ چنانچہ امام حاکم لکھتے ہیں:
"تواترت الأخبار أن فاطمة بنت أسد ولدت أمير المؤمنين علي بن أبي طالب كرم الله وجهه في جوف الكعبة "(5/206)
یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ حضرت علی کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی۔
لیکن امامِ حاکم کی یہ بات صد فی صد نادرست ہے، کیونکہ اخبار متواترہ تو کیا کوئی صحیح خبر مشہور، مستفیض یہاں تک کہ خبر واحد بھی موجود نہیں ہے، اور اگر تھی تو امام حاکم کو وہ روایتیں پیش کرنی چاہیے تھی۔
اور بے دلیل امام حاکم تو کیا، کسی زمانے میں بھی کسی بات کا مشہور ہو جانا، یا مشہور ہونے کادعویٰ کر بیٹھنا اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل ہرگز نہیں ہوا کرتی۔
علامہ سیوطی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
و ما وقع فی مستدرک الحاکم من ان علیا ولد فيها ضعیف
(تدریب الراوی: ص356)
ترجمہ:
امام حاکم کی یہ بات ضعیف ہےكہ حضرت علی کعبہ میں پیدا ہوئے ہیں۔
واضح ہو کہ امام حاکم نے صرف اسی کمزور اور بلا ثبوت بات کو صحیح و متواتر نہیں کہا بلکہ اپنی اس کتاب "المستدرک" ميں اس کے علاوہ بھی بہت سی موضوع اور باطل روایات کو صحیح قرار دے چکے ہیں اور انہوں نے اتنے بڑے بڑے تسامحا ت کیوں کئے ہیں، علماء نے اس کی وجوہات بھی تحریر کی ہیں۔
فتح المغیث میں امام سخاوی لکھتے ہیں:
حاکم نے غفلت کی وجہ سے کئی موضوع احادیث کو بھی صحیح قرار دے دیا ہے ۔ ہو سکتا ہے ایسا انہوں نے تعصب کی وجہ سے کیا ہو کیونکہ ان پر تشیع کا الزام تھا لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ مستدرک ان کی آخری عمر کی تنصیف ہے اور اس وقت ان کے حافظے پر بھی کافی فرق پڑ چکا تھا اور ان پر غفلت طاری تھی اس لیے تنقیح و تصحیح نہیں کر سکے۔ (ج 1ص39)
خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش کے متعلق جمہور
ثقہ محدثین کا اتفاق ہے کہ ان کی پیدائش مکہ کے شعب بنی ہاشم میں ہوئی ہے نہ کہ اندرون کعبہ۔ اندرون کعبہ جن کی پیدائش ہوئی ہے وہ حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ یہی ثقہ علماء اور محدثین کا موقف ہے۔
چنانچہ: امام حاکم نے مستدرک حاکم میں باسند اسے روایت کیا ہے۔
اخبرنا ابو بکر محمد بن احمد بن بالويه ثنا ابراهيم بن اسحاق الحربی ثنا مصعب بن عبد الله فذکر نسب حکیم بن حزام و ذاد فيه:و امه فاختة بنت ذهير بن اسد بن عبد العزٰی و کانت ولدت حکیماً فی الکعبة و هيحامل فضربها المخا ض و هي فی جوف الکعبة فولدت فيها فحملت فی نطع و غسل ما کان تحتها من الثیاب عند حوض زمزم ،ولم یولد قبله و لا بعده فی الکعبة احد۔
امام مسلم (متوفی ۲٦١ ھ) فرماتے ہیں:
ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبة و عاش ماءة و عشرین سنة
حضرت حکیم بن حزام کعبہ میں پیدا ہوے اور آپ ایک سو بیس سال تک زندہ رہے۔
علامہ ابو جعفر محمد بن حبیب بغدادی (متوفی ۲۴۵ ھ) لکھتے ہیں :و حکیم هذا ولد فی الکعبة (کتاب المحبر :ص ١۷٦
امام ازرقی (متوفی ۲۵۰ ھ )لکھتے ہیں:
فولدت حکیما فی الکعبة (اخبار مکہ: ج١ ص ١۷۴
اما م زبیر بن بکار (متوفی ۲۵٦ ھ) لکھتے ہیں:
فولدت حکیم بن حزام فی الکعبة
(جمھرة نسب قریش و اخبارھا : ج١ ص ۳٦٦
درج ذیل تمام کتابوں میں اس کے مصنفین نے حکیم بن حزام کو ہی مولود کعبہ قرار دیا ہے:
اسد الغابہ: 58/2 میں ,
تہذیب الکمال: 173/7 ,
تاریخ اسلام: 277/2 ، الاصابہ: (رقم : 1800 ) ,
تہذیب التہذیب: 447/2 ,
البدایہ واالنہایہ: 68/8, الاستیعاب :362/1'
جمہرۃ انساب العرب: 121
خلیفہ بن خیاط لکھتے ہیں:
ولد علی بمکة فی شعب بنی هاشم
(تاریخ خلیفہ بن خیاط :ص: 199
یعنی حضرت علی کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی۔
ابن عساکر لکھتے ہیں:ولد علی بمکة فی شعب بنی هاشم
(تاریخ دمشق کبیر :ج 45، ص: 448)
حضرت علی کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی۔
ابن حبان البسیتی لکھتے ہیں: فولدت حکیم بن حزام فی جوف الکعبة ۔
(تاریخ الصحابة: ص: 68
امام خطابی فرماتے ہیں: فولدت حکیماً فی الکعبة (غریب الحدیث :ج 2 ص: 557)
حافظ ابو نعیم الاصبھانی لکھتے ہیں: حکیم بن حزام ولد فی الکعبة۔
(معرفة الصحابہ: ج2 ص 701)
ابن عبد البر لکھتے ہیں:حکیم بن حزام بن خویلد ولد فی الکعبة۔
(الاستیعاب:ج1 ص:417)
حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
قالوا ولد حكيم في جوف الكعبة ولا يعرف احد ولد فيه غيره واما ماروي ان علي بن ابي طالب رضي الله عنه ولد فيها فضعيف عند العلماء۔ (تهذیب الاسماء واللغات للنووی:ج1 ص149
حافظ ابن حجر عسقلانی سیدناحکیم بن حزام ؓ کی جائے پیدائش کے بارے رقم طراز ہیں:
أن حكيما ولد في جوف الكعبة قال وكان من سادات قريش وكان صديق النبي صلى الله عليه وسلم قبل المبعث وكان يوده ويحبه بعد البعثة
سیدنا حکیم بن حزام کی جائے ولادت کعبہ ہے ، آپ کا شمار قریش کر سرداروں میں ہوتا تھا ، بعثت سے قبل حکیم بن حزام نبی اکرم ﷺ کے دوست تھے اور بعثت کے بعدبھی وہ آپ ﷺ سے مَحبت کرتے تھے
( الاصابة في تميز صحابة لابن حجر عسقلاني:2/97)
شیعہ عالم نے بھی لکھا ہے کہ :
"محدثین صرف حکیم بن حزام (رضی اللہ عنہ) کو ہی مولودِ کعبہ سمجھتے ہیں.
(شرح نہج البلاغہ : جلد 1، صفحہ 14)
فتویٰ دارالعلوم دیوبند!
سوال:
کیا امیر الموٴمنین اور چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش کعبہ میں ہوئی تھی یا یہ شیعوں اوربریلویوں کی بنائی ہوئی بات ہے؟
جواب!
امیرالموٴمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جائے پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے کہ کہاں ہوئی تھی؟ شیعوں کی ایک بڑی جماعت کو یقین ہے کہ ان کی پیدائش اندرونِ کعبہ ہوئی۔ محدثین نے اس کو تسلیم نہیں کیا، ان کا خیال ہے کہ کعبہ میں جو صاحب پیدا ہوئے وہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ نہیں بلکہ حکیم بن حزام بن اُسد بن العزی بن قصي ہیں۔ (شرح نھج البلاغة لابن أبي الحدید: ج۱ ص۱۴، بحوالہ المرتضی: ص۵۰)
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 1017
رضا خانی مفتی، مفتی محمد امجد علی اپنی کتاب "بہار شریعت" میں تحریر فرماتے ہیں :
"مکانِ ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم و مکان حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا و مکان ولادتِ علی رضی اللہ عنہ و جبلِ ثور و غارِ حرا و مسجد الجن و مسجد جبل ابی قبیس وغیرہا مکانِ متبرکہ کی زیارت سے بھی مشرف ہوا.
(بہار شریعت جلد اول حصہ 6 صفحہ 1150مکتبۃ المدینہ کراچی)
ایک دوسرے رضاخانی مفتی، مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی اس سوال : کیا "حضرت علی خانہ کعبہ شریف میں پیدا ہوے" کے جواب میں رقم طراز ہیں:
جی نہیں ! حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر نہیں ہوئی، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مولودِ کعبہ سمجھنا ایسا کمزور گمان ہے جس کے ثبوت پر کوئی صحیح دلیل نہیں کیونکہ آپ کرم اللہ وجہہ الکریم اپنے والد ابوطالب کے مکان شعبِ بنی ہاشم کے اندر پیدا ہوئے ، جس مکان کو لوگ مولدِ علی کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور اس مکان کے دروازے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی :
"ھذا مولد امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب "
یعنی یہ حضرت امیر المومنین علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ ہے ۔
اور اہل مکہ بھی اس پر بغیر اختلاف کے متفق تھے, نیز آپ کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت گاہ پر ایک قبہ بنا ہوا تھا جس کو نجدیوں نے دیگر مقامات مقدسہ کے ساتھ گرادیا.
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! آمین!
No comments:
Post a Comment