بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا اقبال قاسمی سلفی
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں اور ضعیف و موضوع روایتوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی عوام، علماء اور مفتیوں کو بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ امام کے فرض نماز کے سلام سے فارغ ہوتے ہی لوگ اپنا ماتھا پکڑلیتے ہیں اور مختلف وظیفے ادا کرتے ہیں۔ کوئی ياقوي اور یا نور کا ورد کرتا ہےاور کوئی يارحمان اور يا رحيم کا۔ اور پھر انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرتے ہیں۔
لیکن ان کا یہ عمل بالکل نادرست اور من گھڑت ہے۔ فرض نماز کے نماز کے بعد ماتھا پکڑ کر "ياقوي" اور "يا نور" پڑھنااور انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں میں پھیرنا۔۔۔۔
نہ رسول اللہﷺ سے ثابت ہے
نہ صحابہ کرام سے۔ ۔ ۔۔
نہ امام ابوحنیفہ سے
نہ امام شافعی سے
نہ امام مالک سے
نہ امام احمد بن حنبل سے۔۔ نہ شیخ عبدالقادر جیلانی سے۔۔
یہ عمل صحیح تو کیا کسی ضعیف، موضوع اور من گھڑت روایت میں بھی موجود نہیں ہے۔ یہ کتاب وسنت میں نہیں بلکہ سراسر آج کے تھانویوں اور رضاخانیوں کے دماغ کی اپج ہے، جس کا اعتراف دیوبند کے مشہور مفتی، مفتی شبیر قاسمی نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ وہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :
"اور ’’ یاقوي‘‘یا ’’یا نور‘‘ وغیرہ پڑھنا کسی حدیث میں نہیں ملا؛ البتہ حضرت تھانویؒ نے بہشتی زیور میں بطور علاج اس عمل کو لکھا ہے کہ سلام کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر ’’ یاقوی‘‘ گیارہ مرتبہ پڑھنے سے دماغ میں قوت آتی ہے اور گیارہ مرتبہ ’’یانور‘‘ پڑھ کر انگلیوں پر پھونک مار کر آنکھوں پر پھیر لینے سے آنکھوں کی روشنی بڑھتی ہے، یہ طب اور تجربہ کے اعتبار سے اچھا عمل ہے"
(فتویٰ نمبر9478/38)
معلوم ہوا کہ یہ عمل سراسر تھانوی ایجاد ہے۔
فرض نماز کے بعد صحیح اور مسنون عمل کیا ہیں؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھا کرتے تھے؟ صحیح احادیث میں مذکور ہیں۔ مثلاً نبیﷺسے فرض نماز کے بعد مندرجہ ذیل اذکار ثابت ہیں:
1) اللَّهُ أَكْبَرُ
(صحیح البخاری:842)
2)أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
(مسلم: 591)
3) سُبْحَانَ اللَّهِ (33دفعہ)۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ(33دفعہ)۔ اللَّهُ أَكْبَرُ (34دفعہ)
(مسلم:596)
4) لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ
[بخاری:ـکتاب 844)
5) لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كره الكافرون
(مسلم:594)
6) اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ
(بخاری :2822)
7) اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
(أبوداؤد:1522)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! قسم اللہ کی، میں تم سے محبت کرتا ہوں، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں ، پھر فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك
( اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما)۔
معاذ رضی اللہ عنہ نے صنابحی کو اور صنابحی نے ابوعبدالرحمٰن کو اس کی وصیت کی۔ (ابوداؤد:1522)
8) رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
(مسلم:709 )
9) سورۃ الفلق
10)سورۃ الناس
(ترمذی:2903)
اس طرح اور بھی مسنون اذکار ہیں جو نبی کریم ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت شدہ ہیں جنہیں پڑھنے سے واقعی دل ودماغ تروتازہ اور روشن رہتے ہیں۔ کیونکہ نبیﷺ نے خود یہ دعا فرمائی ہے۔ ”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے(اس پر عمل کرے) اور دوسروں تک پہنچائے" (ابوداؤد:2658)
اب آئیے ان روایتوں کا جائزہ لیتے جن میں نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھنے کا ذکر ہے۔ سلام الطّويل المدائني عن زيد العمي عن معاويه بن قرة عن انس بن مالك رضي الله تعالىٰ عنه سے روایت ہے کہ
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله تعالىٰ عليه وسلم إذا قضي صلاته مسح جبهته بيده اليمني ثم قال : أشهد أن لاإله إلا الله الرحمن الرحيم، اللهم اذهب عني الهم و الحزن
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز پوری کرتے (تو) اپنی پیشانی کو دائیں ہاتھ سے چھوتے پھر فرماتے : ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ رحمٰن و رحیم ہے۔ اے اللہ ! غم اور مصیبت مجھ سے دور کر دے۔ “
[ عمل اليوم الليلة لابن السني : ح 112 واللفظ له، الطبراني فى الاوسط 243/3 ح 2520 دوسرا نسخه : 2499، كتاب الدعاء للطبراني 1096/2 ح 659، الأمالي لابن سمعون : ح 121، نتائج الافكار لابن حجر 301/2، حلية الاولياء لابي نعيم الاصبهاني 301، 302/2 ]
↰ اس روایت کی سند سخت ضعیف ہے۔
➊ سلام الطّویل المدائنی : متروک ہے
◈ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا : تركوه [كتاب الضعفاء مع تحقيقي : تحفة الاقوياء ص 51 ت : 155 ]
◈ حاکم نیشاپوری نے کہا:
”اس نے حمید الطّویل، ابوعمرو بن العلاء اور ثور بن یزید سے موضوع احادیث بیان کی ہیں۔“ [المدخل الي الصحيح ص 144 ت : 73 ]
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے کہا:
وقد أجمعوا على ضعفه ”اور اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔ “ [مجمع الزوائد ج 1 ص 212 ]
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رحمہ الله فرماتے ہیں :
والحديث ضعيف جداً بسببه
”اور (یہ) حدیث سلام الطویل کے سبب کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔“ [نتائج الافكار 301/2 ]
➋ اس سند کا دوسرا راوی زید العمی : ضعیف ہے۔ [تقریب التہذیب : 2131]
اسے جمہور (محدثین) نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزوائد 110/10، 260 ]
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وبقية رجال أحد إسنادي الطبراني ثقات وفي بعضهم خلاف
اور طبرانی کی دو سندوں میں سے ایک سند کے بقیہ راوی ثقہ ہیں اور ان میں سے بعض میں اختلاف ہے۔ [مجمع الزوائد : 110/10 ]
طبرانی والی دوسری سند تو کہیں نہیں ملی، غالباً حافظ ہیثمی رحمہ اللہ کا اشارہ البزار کی حدثنا الحارث بن الخضر العطار : ثنا عثمان ب ن فرقد عن زيد العمي عن معاوية بن قرة عن أنس بن مالك رضي الله تعالىٰ عنه… . . إلخ والی سند کی طرف ہے۔ [ديكهئے كشف الاستار 22/4 ح 3100 ]
عرض ہے کہ الحارث بن الخضر العطار کے حالات کسی کتاب میں نہیں ملے اور یہ عین ممکن ہے کہ اس نے عثمان بن فرقد اور زید العمی کے درمیان سلام الطویل المدائنی کے واسطے کو گرا دیا ہو۔ اگر نہ بھی گرایا ہو تو یہ سند اس کے مجہول ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
دوسری روایت :
كثير بن سليم عن انس بن مالك رضي الله تعالىٰ عنه سے سند مروی ہے کہ :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله تعالىٰ عليه وسلم إذا قضي صلاته مسح جبهته بيمينه ثم يقول : باسم الله الذى لا إله غيره، اللهم اذهب عني الهم و الحزن، ثلاثاً
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز پوری کرتے تو دائیں ہاتھ سے اپنی پیشانی کا مسح کر کے تین دفعہ فرماتے : ”اس اللہ کے نام کے ساتھ (شروع) جس کے علاوہ کوئی [برحق] الٰہ نہیں ہے، اے اللہ ! میرے غم اور مصیبت کو دور کر دے۔“
[الكامل لابن عدي 199/7 ترجمة كثير بن سليم، واللفظ له، الاوسط للطبراني 126/4 ح 3202 وكتاب الدعاء للطبراني 1095/2 ح 658، الأمالي للشجري 249/1 وتاريخ بغداد 480/12 و نتائج الافكار 302، 301/2 ]
کثیر بن سلیم کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : منكر الحديث [كتاب الضعفاء بتحقيقي تحفة الاقوياء : 316]
جسے امام بخاری رحمہ اللہ منکر الحدیث کہہ دیں، ان کے نزدیک اس راوی سے روایت حلال نہیں ہے۔ [ديكهئے لسان الميزان ج1 ص20]
کثیر بن سلیم کے بارے میں امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : متروك الحديث [كتاب الضعفاء و المتروكين : 506 ]
متروک راوی کی روایت شواہد و متابعات میں بھی معتبر نہیں ہے۔ دیکھئے اختصار علوم الحدیث للابن کثیر رحمہ اللہ [ص38، النوع الثاني، تعريفات اخري للحسن ]
خلاصہ التحقیق :
یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ سخت ضعیف ہے۔
شیخ البانی رحمہ الله نے بھی اسے ضعيف جداً ”سخت ضعیف قرار دیا ہے۔“ [السلسة الضعيفة 114/2 ح 660 ]
تنبیہ : سیوطی رحمہ الله نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [الجامع الصغير : 6741 ]
(بتحقیق غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ)
اس تحقیق سے یہ بخوبی واضح ہو گیا کہ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر ذکر کرنے کی جتنی روایتیں آئی ہیں، ان میں کوئی بھی روایت نبیﷺ سے صحیح ثابت نہیں ہے۔ کیونکہ ان روایتوں میں سلام الطویل المدائنی، زید العمی اور کثیر بن سلیم جیسے روات موجود ہیں جن پر محدثین نے متروک الحدیث، منکر الحدیث اور شدید ضعیف ہونے کا حکم لگایا ہے۔ ان جیسے روایوں کی روایت پر عمل کرنا باتفاق امت ناجائز اور حرام ہے۔
رہا نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر گیارہ گیارہ مرتبہ یا قوی پڑھنا اور انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرنا، یہ صحیح تو کیا کوئی موضوع روایت بھی ایسی موجود نہیں ہے۔ بیسویں صدی میں مولانااشرف علی تھانوی نے سب سے پہلے اس وظیفہ کو دماغی قوت بڑھانے کا نسخہ بتایا لوگوں میں ایجاد کیا تھا۔ جسے آج تک لوگ گیارہ گیارہ مرتبہ ہر فرض نماز کےبعد "دماغین ٹانک" سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں۔
لیکن اس ٹانک سے آج تک تقلیدی دیوبندیوں اور رضاخانیوں کا نہ دماغ بڑھا اور نہ ہی عقل بڑھی۔ اور بڑھتی بھی کیسے کیونکہ رہبر انسانیت، حکیم الامت جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے 14 سو سال پہلے ہی اس کو رجکٹ قرار دے دیا تھا
حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں:: من عمل عملا ليس عليه امرنا فهو رد ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم(حدیث، سنت یا طریقہ موجود نہیں ہے) تو وہ مردود (rejected) ہے۔“
(صحیح مسلم:4493)
اس حقیقت کے باوجود دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے کا فتویٰ ملاحظہ کریں۔
چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے اس عمل کے بارے میں پوچھا گیا:
سوال:
کچھ لوگ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ سات مرتبہ یا قوی پڑھتے ہیں ، کیا اس کا ذکر کسی حدیث میں ہے؟
جو جواب ملا وہ ملاحظہ کریں:
قويٌّ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسمائے حسنیٰ کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیتِ دعاء احادیث سے ثابت ہے۔ أسماء اللہ الحسنیٰ التي أمرنا بالدعاء بھا (بخاری ومسلم) وفي لفظ ابن مردویة وأبي نعیم: من دعا بھا استجاب اللہ دعاءہ۔ اور بوقت دعا و ذکر سر پر ہاتھ رکھنا بھی حدیث سے ثابت ہے اور نماز کے بعد بھی وروینا في کتاب ابن السني عن أنس -رضي اللہ عنہ- قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قضی صلاتہ مسح جبھتہ بیدہ الیُمنی ثم قال: أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن (کتاب الأذکار للنووي:ص63) اور جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے اور یاقوي کا وظیفہ وہ شخص پڑھتا ہے جس کا ذہن کمزور ہوتا ہے لہٰذا جب اس کی نظیر احادیث سے ثابت ہے تو اس کو بدعت کہنا درست نہیں۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند۔
جواب نمبر: 1052
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پوچھے گئے سوال کے مطابق :
"کچھ لوگ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ سات مرتبہ یا قوی پڑھتے ہیں ، کیا اس کا ذکر کسی حدیث میں ہے؟"
جواب دیتے کہ سر پر ہاتھ رکھ کر سات مرتبہ یا قوی پڑھنا فلاں حدیث میں ہے۔ یہ عمل فلاں صحابی، تابعی یا تبع تابعی کا ہے۔ یا کم از کم فقہ حنفی کی فلاں کتاب میں یہ عمل مذکور ہے۔
اور دراصل سوال کے طریقےسے سائل کا منشاء بھی یہی ظاہر ہورہا ہے۔ کیونکہ سوال میں واضح طور پر اس عمل کے متعلق حدیث کا مطالبہ کیا گیا۔
لیکن سائل کے اس مطالبے کو پورا کرنے کے بجائے اس بے دلیل عمل کو کس طرح سند جوازعطا کیا گیا۔
آئیے اس فتویٰ کا جائزہ لیں۔
مفتی صاحب فرماتے ہیں:
قويٌّ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسمائے حسنیٰ کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیتِ دعاء احادیث سے ثابت ہے۔ أسماء اللہ الحسنیٰ التي أمرنا بالدعاء بھا (بخاری ومسلم) وفي لفظ ابن مردویة وأبي نعیم: من دعا بھا استجاب اللہ دعاءہ۔
جواب: یقیناً "قوي"اسماۓ حسنی میں سے ہے اور اسماۓ حسنی کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیت دعا قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ اسماء الحسنیٰ کے وسیلے سے دعا کرنا دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا:
وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا (اعراف:180)
" اور اللہ تعالٰی کے سب نام اچھے ہیں، اسے انہی ناموں سے پکارو"۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ان للہ تسعۃ وتسعین اسما مائۃ الا واحد من احصاھا دخل الجنۃ"(مشکوٰۃ ص199)
" بے شک اللہ کے ننانوے ایک کم سو نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا"
پتہ چلا کہ اسماۓ حسنی کے ذریعے اللہ سے دعا کرنی چاہئے۔ دعاؤں میں اللہ کے اسماۓ حسنی کا وسیلہ اختیار کرنا چاہیئے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
أَلِظُّوا بياذا الجلالِ و الإكرامِ.(صحيح الجامع:1250)
ذوالجلال والا کرام کے نام کا حوالہ دیکر اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کیا کرو۔
معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے لوگوں کو اسماۓ حسنی کے ذریعہ دعا کرنے کی تعلیم دی ہے، اپنی طرف سے اسے دماغی قوت بڑھانے کا نسخہ بنانے کی تعلیم نہیں دی ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان تقلیدیوں کا عمل اگر
کتاب و سنت کے مطابق ہوتا تو دماغی قوت میں از خود اضافہ ہوجاتا۔
آگے مفتی صاحب فرماتے ہیں:
" اور بوقت دعا و ذکر سر پر ہاتھ رکھنا بھی حدیث سے ثابت ہے".
جواب : یہ سراسر جھوٹ ہے۔ بوقت دعا اور ذکر سر پر ہاتھ رکھنا کہیں بھی ثابت نہیں ہے۔
آگے فرماتے ہیں:
"اور نماز کے بعد بھی۔ (سر پر ہاتھ رکھنا ثابت ہے۔) وروینا في کتاب ابن السني عن أنس -رضي اللہ عنہ- قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قضی صلاتہ مسح جبھتہ بیدہ الیُمنی ثم قال: أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن" (کتاب الأذکار للنووي:ص63)
جواب:
اس روایت کی تحقیق اوپر گذر چکی کہ باعتبار سند یہ روایت انتہائی ضعیف ہے۔ نیز اس روایت میں "ياقوي" نہیں بلکہ أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن پڑھنا مذکور ہے۔
اور انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرنے کا بھی کہیں ذکر نہیں ہے۔
اس کے بعد فرماتے ہیں:
"اور جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے."
جواب:یقیناً جس عضو میں تکلیف ہو اس ہر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے. سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ایک درد کی شکایت کی ، جو ان کے بدن میں پیدا ہو گیا تھا جب سے وہ مسلمان ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اور تین بار ( بسم اللہ ) کہو ، اس کے بعد سات بار یہ کہو (اَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ )” میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جس کو پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں“ ۔ (صحیح مسلم:5737)
لیکن اس حدیث میں کہیں بھی سر پر ہاتھ رکھ کر "یا قوی" پڑھنے کا ثبوت نہیں ہے۔ نیز بمطابق فتویٰ "جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے." لیکن یہاں تو کسی کے سر میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ اور اگر ہے تو کیا تکلیف بھی ان تقلیدیوں کی اجتماعی ہوتی ہے ؟؟فیا للعجب!
اس کے بعد مفتی دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں:
"اور "یاقوي" کا وظیفہ وہ شخص پڑھتا ہے جس کا ذہن کمزور ہوتا ہے۔"
جواب: صحیح فرمایا آپ نے! قوی ذہن کا آدمی ایسا من گھڑت عمل کر بھی کیسے سکتا ہے؟
اور اخیر میں مفتی صاحب فرماتے ہیں:
"لہٰذا جب اس کی نظیر احادیث سے ثابت ہے تو اس کو بدعت کہنا درست نہیں"
جواب: آپ کا فتویٰ ہی بے نظیر ہے جناب! آپ کے اس فتوے کے بعد دنیا میں کسی بھی بدعت کو بدعت کہنا درست نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہر بدعت کی نظیر یا کم از کم اس نظیر کی نظیر تو موجود ہی ہے۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!