Showing posts with label عبادت میں بدعت. Show all posts
Showing posts with label عبادت میں بدعت. Show all posts

Tuesday, October 26, 2021

روزہ ‏کی ‏من ‏گھڑت ‏نیت، ‏بصوم ‏غد ‏نویت ‏من ‏شھر ‏رمضان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

موضوع: روزہ رکھنے کی من گھڑت نیت  اور مدرسہ رشیدیہ کا قابل تعریف اقدام ! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

   از : محمد اقبال قاسمی سلفی 

ہمارے یہاں  عام طور پر ہر سال کیلنڈروں میں حنفی اداروں کی جانب سے " بصوم غد نويت من شهر رمضان " ک الفاظ  روزہ رکھنے کی نیت کے طور پر شائع کیے جاتے ہیں۔ 

جبکہ روزہ رکھنے کی ایسی کوئی نیت کتاب سنت  میں موجود نہیں ہے۔
1) یہ نیت نہ قرآن مجید میں ہے۔ 
2) نہ کسی حدیث رسول ﷺ میں ہے۔ 
3) نہ خلفاء راشدین سے ثابت ہے۔ 
3) نہ عشرہ مبشرہ سے۔۔۔۔۔۔ 
 
3) نہ کسی صحابی رسول نے یہ نیت کی ہے۔ 
4) نہ کسی تابعی نے۔۔۔۔ 
5) نہ کسی تبع تابعین نے۔۔۔۔ 
6) نہ امام ابو حنیفہؒ، امام شافعی، امام مالک، اور امام احمد بن حنبل نے۔۔۔۔ 
7) نہ امام محمد اور ابو یوسف نے۔۔۔۔۔ 

 کسی صحیح سند میں تو کیا، کسی ضعیف اور من گھڑت سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں روزہ رکھنے کی نیت کے یہ الفاظ موجود ہوں ۔ 

دارالعلوم دیوبند سے جب اس نیت کے الفاظ کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا یہ نیت کسی حدیث میں موجود ہے، تو دارالعلوم دیوبند نے بھی یہ جواب دیا کہ روزہ کی نیت مذکورہ بالا الفاظ کے ساتھ کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں۔ 
(دارالعلوم دیوبند، سوال نمبر :7352) 

عنوان:
روزہ رکھنے کی نیت بصوم غد نویت من شہر رمضان کس حدیث سے ثابت ہے؟ کیا روزہ کی ان الفاظ سے نیت کرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے، یہ نبی ﷺ کی سنت نہیں بلکہ مشائخ کی سنت یے۔ (لیکن یہ کن مشائخ کی سنت ہے، وہ مشائخ کون ہیں آج تک ان کا اتا پتہ نہیں ہے۔) 
(سوال نمبر:7352) 

 یاد رکھیں تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔عمل کی درستگی کے لئے نیت کا درست ہونا ضروری ہے۔ 

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا 
"تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا"
 (صحیح بخاری حدیث نمبر 1) 

اور نماز روزے تو ہماری اہم ترین عبادتوں میں سے ہے اگر  اس کی نیت ہی من گھڑت ہوگی تو ہماری عبادت کا کیا ہوگا کیونکہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے۔ 
من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد ( متفق علیہ) 
ترجمہ: جس کسی نے بھی ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز گھڑی جو اس میں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے۔ 
(صحیح بخاری حدیث نمبر 2697) 

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں "جس کسی نے بھی کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر نہیں تو وہ مردود ہے۔ 
(صحیح مسلم حدیث نمبر 1718) 


اور روزے رکھنے کی من گھڑت نیت پر نہ تو رسول اللہ کا امر ہے نہ خلفاء راشدین کا ۔۔۔ 
اور چونکہ یہ عبادات کے قبیل سے ہے بلکہ تمام عبادات کے مبنی علیہ کے قبیل سے ہے اس لئے جب تک اس نیت پر اللہ اور اس کے رسول کے امر کی مہر نہ لگ جاۓ، اپنی طرف سے کوئی قیاس آرائی نہیں کی جا سکتی۔

 نیت صرف دل کے ارادے کا نام ہے۔ کسی بھی نماز ( فرض ، سنت، نفل، نماز تراویح، نماز جنازہ،عیدین ) یا روزے کی زبان سے نیت کرنا جہالت اور بدعت ہے۔ دین اسلام میں اس کے جواز کی کوئی گنجاش نہیں ہے۔ قرآن و حدیث، صحابہ کرام تابعین تبع تابعین سے  اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ 
اکابر علمائے احناف نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے بدعت لکھا ہے۔

 امام ابن ہمام حنفی فرماتے ہیں:
بعض حفاظ نے کہا ہے کہ کسی صحیح یا ضعیف سند سے بھی ثابت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی ابتدا کرتے وقت یہ فرماتے کہ میں فلاں نماز ادا کر رہا ہوں اور نہ ہی صحابہ یا تابعین میں سے کسی سے یہ منقول ہے۔ بلکہ جو منقول ہے وہ یہ کہ آپ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ’اللہ اکبر‘ کہتے، اور یہ (زبان سے نیت کرنا) بدعت ہے۔ (فتح القدیر شرح الہدایہ‘‘ (۱/۲۶۶،۲۶۷)

علامہ حموی حنفی رقم طراز ہیں:

’ابن امیر حاج ’’حلیہ شرح منیہ‘‘ میں ’’فتح القدیر‘‘ کی عبارت پر اضافہ کرتے ہیں کہ یہ فعل ائمۂ اربعہ سے بھی مروی نہیں۔ ’’شرح الأشباہ والنظائر‘‘ (ص۴۵) میں (۵۔۶)
علامہ ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں:
ظاہر ہےفتح القدیر سے اس کا بدعت ہونا ہی ثابت ہوتا ہے۔‘‘’(بحر الرائق‘‘ (ص۲۱۰)
علامہ حسن شرنبلالی حنفی نے ’’مجمع الروایات‘‘ سے نقل کیا ہے :
کہ زبان سے نیت بولنے کو بعض علماء نے حرام کہا ہے، اس لیے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے کرنے والے کو سزا دی ہے۔‘‘ (شرح نور الایضاح:۵۶)
فتاویٰ غربیۃ، کتاب الصلوۃ کے دسویں باب میں ہے:
’’کہا گیا ہے کہ زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔‘‘(فتاوی غربیہ:ج۳،ص۲۳۴)
امام ابن عابدین حنفی اپنی کتاب ) میں فرماتے ہیں:
زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔(رد المحتار‘‘ ۱/۲۷۹

 ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں:
’’الفاظ کے ساتھ نیت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بدعت ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع جس طرح آپ کے کاموں میں کرنا لازم ہے، اسی طرح اتباع کام کے نہ کرنے میں بھی لازم ہے، جو شخص آپ کے نہ کیے ہوئے پر اڑا رہےگا وہ بدعتی ہے... نیز فرماتے ہیں: تم جان چکے ہو کہ نہ بولنا ہی افضل ہے۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘ (۱/۴۱)

مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نقشبندی حنفی لکھتے ہیں:
’’زبان سے نیت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سند صحیح بلکہ سند ضعیف سے بھی ثابت نہیں اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم زبان سے نیت نہیں کرتے تھے بلکہ جب اقامت کہتے تو صرف ’اللہ اکبر‘ کہتے تھے، زبان سے نیت بدعت ہے۔‘‘ (مکتوبات دفتر اول حصہ سوم، مکتوب نمبر ۱۸۶ ص۷۳)

طحطاوی حنفی ’’میں لکھتے ہیں:
’’صاحب در مختار‘‘ کے قول: ’’یعنی سلف نے اس کو پسند کیا ہے‘‘، اس میں اشارہ ہے اس امر کا کہ حقیقت میں نیت کے ثابت ہو نے کے بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے اس لیے کہ زبان سے بولنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور نہ صحابہ وائمہ اربعہ سے، یہ تو محض بدعت ہے۔‘(‘شرح در مختار‘‘ (۱/۱۹۴)

علامہ انور شاہ کاشمیری دیوبندی حنفی فرماتے ہیں:
’’نیت صرف دل کا معاملہ ہے۔‘‘ 
(فیض الباری شرح صحیح البخاری :۱/۸)

علامہ عبد الحی لکھنوی حنفی فرماتے ہیں:
نماز کی ابتداء میں زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔(عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح الوقایہ‘‘(۱/۱۵۹)

مولانا اشرف علی تھانوی اپنی لکھتے ہیں:
زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ دل میں جب اتنا سوچ لیوے کہ آج کی ظہر کے فرض پڑھتی ہوں اور اگر سنت نماز پڑھتی ہو تو یہ سوچ لے کہ ظہر کی سنت پڑھتی ہوں، بس اتنا خیال کر کے ’اللہ اکبر‘ کہہ کے ہاتھ باندھ لیوے تو نماز ہو جاوےگی اور جو لمبی چوڑی نیت لوگوں میں مشہور ہے اس کا کہنا کچھ ضروری نہیں( ’’بہشتی زیور‘‘ (۲/۲۸)

جب اس بابت آج کے حنفی علماؤں سے مسئلہ دریافت کیا جاتا ہے اور جب ان سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ نیت کے یہ الفاظ کس حدیث میں ہے۔ تو وہ بھی یہی جواب دیتے ہیں کہ یہ کسی حدیث میں نہیں ہے لیکن ساتھ میں یہ شوشہ اکثر چھوڑ دیا کرتے ہیں کہ زبان سے نیت کرنا بہتر ہے۔ 
معلوم ہونا چاہیئے کہ کسی شرعی مسئلے کے بارے میں یہ حکم لگانا کہ "یہ بہتر ہے" یہ بھی تو ایک شرعی حکم ہے۔ اور کوئی بھی شرعی حکم بغیر دلیل کے ثابت نہیں ہوتا۔ 

ہمیں آج یہ لکھتے ہوے خوشی ہو رہی ہے کہ مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا ، ضلع گیا جو سالوں سے روزہ رکھنے کی اس خود ساختہ  نیت کو شائع کرتا چلا آرہا تھا ، اس نے اس سال  اپنے رمضان اشتہار ھیں اسے شائع نہ کر کے ایک قابل تعریف اقدام کیا ہے ۔ 

جزاکم اللہ احسن الجزاء 

اللهم اني اسئلك علما نافعا و رزقا طبيبا و عملا متقبلا!!

Monday, September 27, 2021

فرض ‏نماز ‏کے ‏بعد ‏سر ‏پر ‏ہاتھ ‏رکھ ‏کر ‏"ياقوي"پڑھنا تھانوی ایجاد ‏! ‏

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مولانا اقبال قاسمی سلفی

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں اور ضعیف و موضوع روایتوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی عوام، علماء اور مفتیوں کو بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ امام کے فرض نماز کے سلام سے فارغ ہوتے ہی لوگ اپنا ماتھا پکڑلیتے ہیں اور  مختلف وظیفے ادا کرتے ہیں۔ کوئی ياقوي اور یا نور کا ورد کرتا ہےاور کوئی يارحمان اور يا رحيم کا۔ اور پھر انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرتے ہیں۔ 
  
لیکن ان کا یہ عمل بالکل نادرست اور من گھڑت ہے۔ فرض نماز کے نماز کے بعد ماتھا پکڑ کر "ياقوي" اور "يا نور" پڑھنااور انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں میں پھیرنا۔۔۔۔ 

نہ رسول اللہﷺ سے ثابت ہے
نہ صحابہ کرام سے۔ ۔  ۔۔ 
نہ امام ابوحنیفہ سے 
نہ امام شافعی سے 
نہ امام مالک سے
نہ امام احمد بن حنبل سے۔۔ نہ شیخ عبدالقادر جیلانی سے۔۔ 

یہ عمل صحیح تو کیا کسی ضعیف، موضوع اور من گھڑت روایت میں بھی موجود نہیں ہے۔ یہ کتاب وسنت میں نہیں بلکہ سراسر آج کے تھانویوں اور رضاخانیوں کے دماغ کی اپج ہے، جس کا اعتراف دیوبند کے مشہور مفتی، مفتی شبیر قاسمی نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ وہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :
"اور ’’ یاقوي‘‘یا  ’’یا نور‘‘ وغیرہ پڑھنا کسی حدیث میں نہیں ملا؛ البتہ حضرت تھانویؒ نے بہشتی زیور میں بطور علاج اس عمل کو لکھا ہے کہ سلام کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر ’’ یاقوی‘‘ گیارہ مرتبہ پڑھنے سے دماغ میں قوت آتی ہے اور گیارہ مرتبہ ’’یانور‘‘ پڑھ کر انگلیوں پر پھونک مار کر آنکھوں پر پھیر لینے سے آنکھوں کی روشنی بڑھتی ہے، یہ طب اور تجربہ کے اعتبار سے اچھا عمل ہے" 
(فتویٰ نمبر9478/38)

معلوم ہوا کہ یہ عمل سراسر تھانوی ایجاد ہے۔ 
 فرض نماز کے بعد صحیح اور مسنون عمل کیا ہیں؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھا کرتے تھے؟  صحیح احادیث میں مذکور ہیں۔ مثلاً نبیﷺسے  فرض نماز کے بعد مندرجہ ذیل اذکار ثابت ہیں:

1) اللَّهُ أَكْبَرُ
(صحیح البخاری:842) 

2)أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
(مسلم: 591) 

3) سُبْحَانَ اللَّهِ (33دفعہ)۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ(33دفعہ)۔ اللَّهُ أَكْبَرُ (34دفعہ)
(مسلم:596) 

4) لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ
[بخاری:ـکتاب 844) 


5) لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كره الكافرون
(مسلم:594) 

6) اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ
(بخاری :2822) 

7) اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
(أبوداؤد:1522) 
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:  اے معاذ! قسم اللہ کی، میں تم سے محبت کرتا ہوں، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں ، پھر فرمایا:  اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك
( اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما)۔  
 معاذ رضی اللہ عنہ نے صنابحی کو اور صنابحی نے ابوعبدالرحمٰن کو اس کی وصیت کی۔ (ابوداؤد:1522) 

8) رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
(مسلم:709 ) 
 
9) سورۃ الفلق

10)سورۃ الناس
(ترمذی:2903) 

اس طرح اور بھی مسنون اذکار ہیں جو نبی کریم ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت شدہ ہیں جنہیں پڑھنے سے واقعی دل ودماغ تروتازہ اور روشن رہتے ہیں۔ کیونکہ نبیﷺ نے خود یہ دعا فرمائی ہے۔ ”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے(اس پر عمل کرے) اور دوسروں تک پہنچائے" (ابوداؤد:2658)

اب آئیے ان روایتوں کا جائزہ لیتے جن میں نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھنے کا ذکر ہے۔ سلام الطّويل المدائني عن زيد العمي عن معاويه بن قرة عن انس بن مالك رضي الله تعالىٰ عنه سے روایت ہے کہ
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله تعالىٰ عليه وسلم إذا قضي صلاته مسح جبهته بيده اليمني ثم قال : أشهد أن لاإله إلا الله الرحمن الرحيم، اللهم اذهب عني الهم و الحزن

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز پوری کرتے (تو) اپنی پیشانی کو دائیں ہاتھ سے چھوتے پھر فرماتے : ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ رحمٰن و رحیم ہے۔ اے اللہ ! غم اور مصیبت مجھ سے دور کر دے۔ “

[ عمل اليوم الليلة لابن السني : ح 112 واللفظ له، الطبراني فى الاوسط 243/3 ح 2520 دوسرا نسخه : 2499، كتاب الدعاء للطبراني 1096/2 ح 659، الأمالي لابن سمعون : ح 121، نتائج الافكار لابن حجر 301/2، حلية الاولياء لابي نعيم الاصبهاني 301، 302/2 ]
↰ اس روایت کی سند سخت ضعیف ہے۔
➊ سلام الطّویل المدائنی : متروک ہے
◈ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا : تركوه [كتاب الضعفاء مع تحقيقي : تحفة الاقوياء ص 51 ت : 155 ]
◈ حاکم نیشاپوری نے کہا:
”اس نے حمید الطّویل، ابوعمرو بن العلاء اور ثور بن یزید سے موضوع احادیث بیان کی ہیں۔“ [المدخل الي الصحيح ص 144 ت : 73 ]
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے کہا:
وقد أجمعوا على ضعفه ”اور اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔ “ [مجمع الزوائد ج 1 ص 212 ]
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رحمہ الله فرماتے ہیں :
والحديث ضعيف جداً بسببه
”اور (یہ) حدیث سلام الطویل کے سبب کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔“ [نتائج الافكار 301/2 ]

➋ اس سند کا دوسرا راوی زید العمی : ضعیف ہے۔ [تقریب التہذیب : 2131]
اسے جمہور (محدثین) نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزوائد 110/10، 260 ]
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وبقية رجال أحد إسنادي الطبراني ثقات وفي بعضهم خلاف
اور طبرانی کی دو سندوں میں سے ایک سند کے بقیہ راوی ثقہ ہیں اور ان میں سے بعض میں اختلاف ہے۔ [مجمع الزوائد : 110/10 ]
طبرانی والی دوسری سند تو کہیں نہیں ملی، غالباً حافظ ہیثمی رحمہ اللہ کا اشارہ البزار کی حدثنا الحارث بن الخضر العطار : ثنا عثمان ب ن فرقد عن زيد العمي عن معاوية بن قرة عن أنس بن مالك رضي الله تعالىٰ عنه… . . إلخ والی سند کی طرف ہے۔ [ديكهئے كشف الاستار 22/4 ح 3100 ]

عرض ہے کہ الحارث بن الخضر العطار کے حالات کسی کتاب میں نہیں ملے اور یہ عین ممکن ہے کہ اس نے عثمان بن فرقد اور زید العمی کے درمیان سلام الطویل المدائنی کے واسطے کو گرا دیا ہو۔ اگر نہ بھی گرایا ہو تو یہ سند اس کے مجہول ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

دوسری روایت :

كثير بن سليم عن انس بن مالك رضي الله تعالىٰ عنه سے سند مروی ہے کہ :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله تعالىٰ عليه وسلم إذا قضي صلاته مسح جبهته بيمينه ثم يقول : باسم الله الذى لا إله غيره، اللهم اذهب عني الهم و الحزن، ثلاثاً

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز پوری کرتے تو دائیں ہاتھ سے اپنی پیشانی کا مسح کر کے تین دفعہ فرماتے : ”اس اللہ کے نام کے ساتھ (شروع) جس کے علاوہ کوئی [برحق] الٰہ نہیں ہے، اے اللہ ! میرے غم اور مصیبت کو دور کر دے۔“ 

[الكامل لابن عدي 199/7 ترجمة كثير بن سليم، واللفظ له، الاوسط للطبراني 126/4 ح 3202 وكتاب الدعاء للطبراني 1095/2 ح 658، الأمالي للشجري 249/1 وتاريخ بغداد 480/12 و نتائج الافكار 302، 301/2 ]
 
کثیر بن سلیم کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : منكر الحديث [كتاب الضعفاء بتحقيقي تحفة الاقوياء : 316]
جسے امام بخاری رحمہ اللہ منکر الحدیث کہہ دیں، ان کے نزدیک اس راوی سے روایت حلال نہیں ہے۔ [ديكهئے لسان الميزان ج1 ص20]
کثیر بن سلیم کے بارے میں امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : متروك الحديث [كتاب الضعفاء و المتروكين : 506 ]
متروک راوی کی روایت شواہد و متابعات میں بھی معتبر نہیں ہے۔ دیکھئے اختصار علوم الحدیث للابن کثیر رحمہ اللہ [ص38، النوع الثاني، تعريفات اخري للحسن ]

خلاصہ التحقیق :
یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ سخت ضعیف ہے۔
شیخ البانی رحمہ الله نے بھی اسے ضعيف جداً ”سخت ضعیف قرار دیا ہے۔“ [السلسة الضعيفة 114/2 ح 660 ]

تنبیہ : سیوطی رحمہ الله نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [الجامع الصغير : 6741 ]
(بتحقیق غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ)

اس تحقیق سے یہ بخوبی واضح ہو گیا کہ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر ذکر کرنے کی جتنی روایتیں آئی ہیں، ان میں کوئی بھی روایت نبیﷺ سے صحیح ثابت نہیں ہے۔ کیونکہ ان روایتوں میں سلام الطویل المدائنی، زید العمی اور کثیر بن سلیم جیسے روات موجود ہیں جن پر محدثین نے متروک الحدیث، منکر الحدیث اور شدید ضعیف ہونے کا حکم لگایا ہے۔ ان جیسے روایوں کی روایت پر عمل کرنا باتفاق امت ناجائز اور حرام ہے۔ 

رہا نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر گیارہ گیارہ مرتبہ یا قوی پڑھنا اور انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرنا،  یہ صحیح تو کیا کوئی موضوع روایت بھی ایسی موجود نہیں ہے۔ بیسویں صدی میں مولانااشرف علی تھانوی نے سب سے پہلے اس وظیفہ کو دماغی قوت بڑھانے کا نسخہ بتایا لوگوں میں ایجاد کیا تھا۔ جسے آج تک لوگ گیارہ گیارہ مرتبہ ہر فرض نماز کےبعد  "دماغین ٹانک" سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں۔ 
لیکن اس ٹانک سے آج تک تقلیدی دیوبندیوں اور رضاخانیوں کا نہ دماغ بڑھا اور نہ ہی عقل بڑھی۔ اور بڑھتی بھی کیسے کیونکہ رہبر انسانیت، حکیم الامت جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے 14 سو سال پہلے ہی اس کو رجکٹ قرار دے دیا تھا 
حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں:: من عمل عملا ليس عليه امرنا فهو رد ".
‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم(حدیث، سنت یا طریقہ موجود نہیں ہے) تو وہ مردود (rejected) ہے۔“
(صحیح مسلم:4493)

اس حقیقت کے باوجود دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے کا فتویٰ ملاحظہ کریں۔ 
چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے اس عمل کے بارے میں پوچھا گیا:
سوال:
کچھ لوگ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ سات مرتبہ یا قوی پڑھتے ہیں ، کیا اس کا ذکر کسی حدیث میں ہے؟

جو جواب ملا وہ ملاحظہ کریں:
 قويٌّ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسمائے حسنیٰ کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیتِ دعاء احادیث سے ثابت ہے۔ أسماء اللہ الحسنیٰ التي أمرنا بالدعاء بھا (بخاری ومسلم) وفي لفظ ابن مردویة وأبي نعیم: من دعا بھا استجاب اللہ دعاءہ۔ اور بوقت دعا و ذکر سر پر ہاتھ رکھنا بھی حدیث سے ثابت ہے اور نماز کے بعد بھی وروینا في کتاب ابن السني عن أنس -رضي اللہ عنہ- قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قضی صلاتہ مسح جبھتہ بیدہ الیُمنی ثم قال: أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن (کتاب الأذکار للنووي:ص63) اور جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے اور یاقوي کا وظیفہ وہ شخص پڑھتا ہے جس کا ذہن کمزور ہوتا ہے لہٰذا جب اس کی نظیر احادیث سے ثابت ہے تو اس کو بدعت کہنا درست نہیں۔

دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند۔
 جواب نمبر:  1052

ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پوچھے گئے سوال کے مطابق :
"کچھ لوگ نماز کے بعد سر پر ہاتھ رکھ سات مرتبہ یا قوی پڑھتے ہیں ، کیا اس کا ذکر کسی حدیث میں ہے؟"
 
جواب دیتے کہ سر پر ہاتھ رکھ کر سات مرتبہ یا قوی پڑھنا فلاں حدیث میں ہے۔ یہ عمل فلاں صحابی، تابعی یا تبع تابعی کا ہے۔ یا کم از کم فقہ حنفی کی فلاں کتاب میں یہ عمل مذکور ہے۔
اور دراصل سوال کے طریقےسے  سائل کا منشاء بھی یہی ظاہر ہورہا ہے۔ کیونکہ سوال میں واضح طور پر اس عمل کے متعلق حدیث کا مطالبہ کیا گیا۔

لیکن سائل کے اس مطالبے کو پورا کرنے کے بجائے اس بے دلیل عمل کو کس طرح سند جوازعطا کیا گیا۔ 

آئیے اس فتویٰ کا جائزہ لیں۔

 مفتی صاحب فرماتے ہیں:
قويٌّ اسمائے حسنیٰ میں سے ہے اور اسمائے حسنیٰ کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیتِ دعاء احادیث سے ثابت ہے۔ أسماء اللہ الحسنیٰ التي أمرنا بالدعاء بھا (بخاری ومسلم) وفي لفظ ابن مردویة وأبي نعیم: من دعا بھا استجاب اللہ دعاءہ۔ 

جواب: یقیناً "قوي"اسماۓ حسنی میں سے ہے اور اسماۓ حسنی کی تاثیر اور ان کے ذریعہ قبولیت دعا قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ اسماء الحسنیٰ کے وسیلے سے دعا کرنا دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا:
وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا (اعراف:180)
" اور اللہ تعالٰی کے سب نام اچھے ہیں، اسے انہی ناموں سے پکارو"۔
 سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ان للہ تسعۃ وتسعین اسما مائۃ الا واحد من احصاھا دخل الجنۃ"(مشکوٰۃ ص199)
" بے شک اللہ کے ننانوے ایک کم سو نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا"
پتہ چلا کہ اسماۓ حسنی کے ذریعے اللہ سے دعا کرنی چاہئے۔ دعاؤں میں اللہ کے اسماۓ حسنی کا وسیلہ اختیار کرنا چاہیئے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: 
أَلِظُّوا بياذا الجلالِ و الإكرامِ.(صحيح الجامع:1250) 
ذوالجلال والا کرام کے نام کا حوالہ دیکر اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کیا کرو۔
 معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے لوگوں کو اسماۓ حسنی کے ذریعہ دعا کرنے کی تعلیم دی ہے، اپنی طرف سے اسے دماغی قوت بڑھانے کا نسخہ بنانے کی تعلیم نہیں دی ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان تقلیدیوں کا عمل اگر 
کتاب و سنت کے مطابق ہوتا تو دماغی قوت میں از خود اضافہ ہوجاتا۔ 
 
آگے مفتی صاحب فرماتے ہیں:
" اور بوقت دعا و ذکر سر پر ہاتھ رکھنا بھی حدیث سے ثابت ہے". 
جواب : یہ سراسر جھوٹ ہے۔ بوقت دعا اور ذکر سر پر ہاتھ رکھنا کہیں بھی ثابت نہیں ہے۔

 آگے فرماتے ہیں:
"اور نماز کے بعد بھی۔ (سر پر ہاتھ رکھنا ثابت ہے۔) وروینا في کتاب ابن السني عن أنس -رضي اللہ عنہ- قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا قضی صلاتہ مسح جبھتہ بیدہ الیُمنی ثم قال: أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن" (کتاب الأذکار للنووي:ص63)
جواب:
اس روایت کی تحقیق اوپر گذر چکی کہ  باعتبار سند یہ روایت انتہائی ضعیف ہے۔ نیز اس روایت میں "ياقوي" نہیں بلکہ أشھد أن لا إلٰہ إلا اللہ الرحمن الرحیم اللھم أذھب عني الھمّ والحزن پڑھنا مذکور ہے۔ 
 اور انگلیوں میں پھونک مار کر آنکھوں پر پھیرنے کا بھی  کہیں ذکر نہیں ہے۔ 

اس کے بعد فرماتے ہیں:
 "اور جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے." 

جواب:یقیناً جس عضو میں تکلیف ہو اس ہر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے.  سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ایک درد کی شکایت کی ،  جو ان کے بدن میں پیدا ہو گیا تھا جب سے وہ مسلمان ہوئے تھے ۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اور تین بار  ( بسم اللہ ) کہو ،  اس کے بعد سات بار یہ کہو (اَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ )” میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جس کو پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں“ ۔ (صحیح مسلم:5737) 
لیکن اس حدیث میں کہیں بھی سر پر ہاتھ رکھ کر "یا قوی" پڑھنے کا ثبوت نہیں ہے۔ نیز بمطابق فتویٰ "جس عضو میں تکلیف ہو اس پر ہاتھ رکھ کر دعا پڑھنا متعدد احادیث میں وارد ہے." لیکن یہاں تو کسی کے سر میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ اور اگر ہے تو کیا تکلیف بھی ان تقلیدیوں کی اجتماعی ہوتی ہے ؟؟فیا للعجب! 

اس کے بعد مفتی دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں:
"اور "یاقوي" کا وظیفہ وہ شخص پڑھتا ہے جس کا ذہن کمزور ہوتا ہے۔"
جواب: صحیح فرمایا آپ نے! قوی ذہن کا آدمی ایسا من گھڑت عمل کر بھی کیسے سکتا ہے؟ 
 
اور اخیر میں مفتی صاحب فرماتے ہیں:
"لہٰذا جب اس کی نظیر احادیث سے ثابت ہے تو اس کو بدعت کہنا درست نہیں"

جواب: آپ کا فتویٰ ہی بے نظیر ہے جناب!  آپ کے اس فتوے کے بعد دنیا میں کسی بھی بدعت کو بدعت کہنا درست نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہر بدعت کی نظیر یا کم از کم اس نظیر کی نظیر تو موجود ہی ہے۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!

Thursday, June 17, 2021

قبر ‏پر ‏مٹی ‏ڈالتے ‏ہوۓ ‏منھا ‏خلقناکم ‏و فیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم پڑھنا؟ ‏؟ ‏؟ ‏؟ ‏

            بسم الله الرحمن الرحیم
       السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا اقبال قاسمی سلفی

کیا قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے "منها خلقنا كم و فيها نعيد كم و منها نخرجكم تارة أخرى " پڑھنا صحیح ہے؟؟؟ 

جیسا کہ احناف قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے سورہ طہ کی مذکورہ بالا آیت:55 پڑھا کرتے ہیں۔  

 جواب:  میت کو مٹی دیتے وقت پہلی لپ پر (مِنْھَا خَلَقْنَکُمْ) اور دوسری لپ پر (وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ) اور تیسری لپ پر (وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ) پڑھا جاتا ہے۔ یہ رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے بالکل ثابت نہیں ہے۔ 

آئیے سب سے پہلے اس آیت کی مختصر تفسیر ملاحظہ کرتے ہیں۔ 
ترجمہ:اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گےاور اسی سے پھر دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے۔ 
یہ سورہ طہ کی آیت نمبر 55 ہے۔ یہ آیت کریمہ موسی علیہ السلام اور فرعون کے درمیان گفتگو کے سیاق وسباق میں آئی ہے۔ موسى علیہ السلام فرعون کے دربار میں جا کر جب اپنی رسالت کا اعلان کرتے ہیں تو فرعون پوچھتا ہے "فمن ربكما يموسى":(49) اے موسی تم دونوں کا رب کون ہے؟؟؟ 
اب موسی علیہ السلام  رب کائنات کا ایک زبردست اور تفصیلی تعارف  فرعون کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ : ہمارا رب تو وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی صورت عطا کی پھر اسے رستہ دکھایا، وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا، اور اس میں تمہارے لئے راستے بنا دیئے، اور آسمان سے بارش برسایااور پھر اس کے ذریعے سے مختلف نباتات کی  کئی قسمیں نکالیں۔ تو خود بھی کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو بھی کھلاؤ۔ یقیناً اس میں عقلمندوں کے لئے بہت ساری نشانیاں ہیں۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے، اس طرح ہم نے فرعون کے سامنے اپنی قدرت و حکمت کی ساری نشانیاں پیش کر دیں مگر وہ جھٹلاۓ چلا گیا اور نہ مانا۔ (سورہ طہ :51، 53، 54، 55،56) 

اس طرح موسی علیہ السلام نے فرعون کے سامنے الله وحده لاشريك کی وحدانیت اور اس کی ربوبیت کو دوٹوک انداز میں بیان کر دیا کہ میں کسے اپنا رب مانتا ہوں اور کیوں مانتا ہوں۔ جس وجہ سے میں اسے رب مانتا ہوں، کسی اور کو رب ماننے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ کیونکہ جس نے مجھے پیدا کیا، جسکا دیا ہوا رزق کھا رہا ہوں، جس کی بنائی ہوئی زمین پر رہ رہا ہوں، میری موت اور زندگی جس کے قبضہ قدرت میں ہے۔جس نے اسی مٹی سے وجود بخشا، اور اسی مٹی سے دوبارہ پھر اٹھا کھڑا کرےگا۔۔ اسے اپنا رب نہ مانوں تو اور کسے مانوں؟؟ اسے اپنا رب،  حاجت روا، مشکل کشا ، فریاد رس، غریب نواز، غوث اعظم اور مختار کل نہ تسلیم کروں تو کسے کروں؟؟؟ وہی تو ہے جس نے مجھے اس مٹی سے وجود بخشا پھر اسی میں لوٹاۓ گا اور اسی مٹی سے دوبارہ زندہ کرے گا۔ 

اب اسی آیت کو کچھ لوگ قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے پڑھتے ہیں۔ 

اور اس سلسلے میں جو روایات پیش کی جاتی ہیں وہ پیش خدمت ہے۔ 
حدیث:1: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِى ابْنَ الْمُبَارَكِ - أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِىِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِى أُمَامَةَ قَالَ لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْقَبْرِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « ( مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى) ». قَالَ ثُمَّ لاَ أَدْرِى أَقَالَ « بِسْمِ اللَّهِ وَفِى سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ». أَمْ لاَ فَلَمَّا بَنَى عَلَيْهَا لَحَدَهَا طَفِقَ يَطْرَحُ لَهُمُ الْجَبُوبَ وَيَقُولُ « سُدُّوا خِلاَلَ اللَّبِنِ ». ثُمَّ قَالَ « أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَىْءٍ وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَىِّ »​

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کوقبر میں اتاراجانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ہم نے تمہیں اس مٹی سے پیدا کیا ، اسی میں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے " اب یہ مجھے یاد نہیں رہاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " کہایا نہیں پھر جب لحد بن گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف ٹہنیاں پھینکیں اور فرمایا کہ اینٹوں کے درمیان کی خالی جگہیں اس سے پر کردو پھر فرمایا اس سے ہوتاکچھ نہیں ہے لیکن زندے خوش ہوجاتے ہیں ۔
(مسند احمد:22540) 
یہ روایت  السنن الکبری للبیہقی:6973، مستدرک حاکم:3390، معرفۃ الصحابة لابی نعیم اصبھانی:6729 میں بھی انہی الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ 

لیکن یہ تمام روایتیں  سخت ضعیف اور ناقابل عمل ہیں۔بلکہ موضوع درجے کی روایتیں ہیں۔ کیونکہ ان تمام روایات کے سلسلہ سند میں  "عبيد الله بن زحر الافريقي عن على بن يزيد عن القاسم"  واقع ہے۔ جس کے متعلق ابن حبان رح نے فرمایا ہے کہ جس سند میں یہ تینوں حضرات اکٹھے ہو جائیں تو غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ وہ روایت موضوع (من گھڑت)ہوتی ہے۔ 

وہ فرماتے ہیں:
"عبيد الله بن زحر الضمرِي الإفْرِيقِي الْكِنَانِي يروي عَن عَليّ بن بذيمة وَلَيْث بن أبي سليم وَعلي بن يزِيد روى عَنهُ يحيى بن سعيد الْأنْصَارِيّ وَأهل الشَّام مُنكر الحَدِيث جدا يروي الموضوعات عَن الْأَثْبَات وَإِذا روى
عَن عَليّ بن يزِيد أَتَى بالطامات وَإِذا اجْتمع فِي إِسْنَاد خبر عبيد الله بن زحر وَعلي بن يزِيد وَالقَاسِم أَبُو عبد الرَّحْمَن لَا يكون متن ذَلِك الْخَبَر إِلَّا مِمَّا عملت أَيْديهم فَلَا يحل الِاحْتِجَاج بِهَذِهِ الصَّحِيفَة بل التنكب عَن رِوَايَة عبيد الله بن زحر على الْأَحْوَال أولى سَمِعت الْحَنْبَلِيّ يَقُول سَمِعت أَحْمَد بْن زُهَيْر يَقُول سُئِلَ يَحْيَى بْن معِين عَن عبيد الله بن زحر فَقَالَ لَيْسَ بِشَيْء وَسمعت مُحَمَّد بن مَحْمُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ قلت ليحيى بن معِين عبيد الله بن زحر كَيفَ حَدِيثه فَقَالَ كل حَدِيثه عِنْدِي ضَعِيف"
 ( ابن حبان :المجروحين) 
ترجمہ:عبیداللہ بن زحرضمری افریقی کتانی یہ علی بن بذیمہ، لیث بن ابی سلیم اور علی بن یزید سے روایت کرتے ہیں۔ اور اس سے یحییٰ بن سعید اور اہل شام روایت کرتے ہیں۔ یہ (عبیداللہ بن زحرضمری افریقی کتانی)انتہائی منکر الحدیث ہے۔ ثقہ راویوں سے موضوع روایتیں بیان کرتاہے، علی بن یزید سے روایت کرتے ہوئے کوڑا کرکٹ ہی لاتا ہے۔ اور جب کسی خبر کی سند میں عبداللہ بن زحرضمری افریقی، علی بن یزید اور قاسم ابو عبدالرحمن، یہ تینوں ہی جمع ہو جائیں تو اس روایت کا متن ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا ہی نتیجہ ہوا کرتا ہے۔ پس اس کی پوتھی سے دلیل پکڑنا جائز نہیں ہے۔ بلکہ ہر حال میں عبیداللہ بن زحرضمری افریقی کی روایت سے بچنا ضروری ہے۔  امام دارمی کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا کہ عبیداللہ بن زحرضمری کی حدیث کیسی ہوا کرتی ہے؟ توانہوں نے کہا:میرے نزدیک اس کی تمام حدیثیں ضعیف ہوتی ہیں۔ 
(ابن حبان:المجروحین) 

عبیداللہ بن زحر اور علی بن یزید کو جمہور محدثین نے  ضعیف قرار دیا ہے۔ 

 امام بیہقی نے اس روایت کے بعد اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔(:سنن بیہقی:ح.6973)

 علامہ ہیثمی  مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کر نے کے بعد کہتےہیں: رواه أحمد وإسناده ضعيف(اسے ا حمد نے روایت کیا ہے اور یہ سند اً ضعیف ہے۔) ( مجمع الزوائد:ح.4239)

 حافظ الذهبي نے مستدرک کی تلخیص پر اس حدیث کی سند پر جرح کیا ہے۔(تلخيص:ح.335)

دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے ایک فتوے میں اسے ضعیف قرار دیا ہے والحمد لله۔ 
فرماتے ہیں:

"مذکورہ دعا ایک ضعیف حدیث سے ثابت ہے۔

قال العثمانی التھانوی: فی التلخیص الحبیر(۱۶۴/۱) وعن أبی أمامة رضی اللہ عنہ رواہ الحاکم أیضا، والبیھقی، و سندہ ضعیف، ولفظہ: لما وضعت أم کلثوم بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی القبر قال رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم منہا خلقناکم وفیہا نعیدکم ومنہا نخرجکم تارة أخری بسم اللہ وفی سبیل اللہ، وعلی ملة رسول اللہ۔( اعلاء السنن: ۳۰۷/۸) ۔" 
(فتوے نمبر :170858) 
عثمانی تھانوی تلخیص الحبیر میں لکھتے ہیں: ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت جسے امام حاکم اور امام بیہقی رحمہمااللہ نے روایت کیا ہے  اس کی سند بھی ضعیف ہے۔۔۔۔۔۔۔ 

اور عوام میں مروجہ طریقہ کہ تین لپ مٹی ڈالتے ہوئے اس آیت کو بھی تین حصوں میں تقسیم کر کے پڑھتے ہیں۔ پہلی لپ پر "منھا خلقناکم" دوسری لپ پر "وفیھا نعیدکم" اور تیسری لپ پر "ومنھا نخرجکم تارة اخریٰ۔" مٹی ڈالتے ہوئے مذکورہ آیت کو تین حصوں میں تقسیم کر کے پڑھنے کی یہ کیفیت  صحیح تو کیا  کسی ضعیف اور موضوع روایت میں بھی موجود نہیں ہے۔

واضح رہے کہ میت کے سر کی طرف سے تین لپ مٹی ڈالنا مسنون ہے۔ 

حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ:
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھی، پھر میت کی قبر کے پاس تشریف لا کر اس پر سرہانے سے تین مٹھی مٹی ڈالی۔ 
(سنن ابن ماجہ:1565،صحیح)

لیکن مٹی ڈالتے ہوئے کوئی دعا یا آیت پڑھنا کسی صحیح مرفوع حدیث میں مذکور نہیں ہے۔ 

کتب تفاسیر کی طرف منسوب مندرجہ ذیل  جو روایت پیش کی جاتی ہے:

وَفِي الْحَدِيثِ الَّذِي فِي السُّنَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَضَرَ جِنَازَةً، فَلَمَّا دُفِنَ الْمَيِّتُ أَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ فَأَلْقَاهَا فِي الْقَبْرِ ثُمَّ قَالَ(٦) ﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ﴾ ثُمَّ [أَخَذَ](٧) أُخْرَى وَقَالَ: ﴿وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ﴾ . ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى وَقَالَ: ﴿وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾
ترجمہ:اور سنن کی حدیث میں وارد ہے کہ رسول ﷺ ایک جنازے میں تشریف لائے۔ جب میت کو دفن کردیا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لپ مٹی لیا اور قبر پر ڈالتے ہوئے یہ آیت پڑھی منها خلقناكم پھر دوسری بار آپ نے مٹی ڈالی اور "وفيهانعيدكم" پڑھا اور تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "ومنها نخرجكم تارة أخرى پڑھی۔"
یہ روایت بلکل بے سند ہے۔ مفسرین نے بس "سنن کی حدیث میں ہے" کہ دیا، لیکن یہ روایت کسی سنن کی حدیث کی کتاب میں موجود نہیں ہے۔ 
نہ سنن ترمذی میں ہے۔
نہ سنن ابوداؤد میں یے۔ 
نہ سن نسائی میں ہے۔ 
نہ سنن ابن ماجہ میں ہے۔ 
نہ سن دارمی میں ہے۔ 
نہ سنن بیہقی میں ہے۔
نہ سنن دار قطنی میں ہے۔ 
مذکورہ بالا تفصیل کے ساتھ، صحیح تو کیا،کسی ضعیف اور موضوع سند  کا بھی کہیں کوئی پتہ نہیں ہے۔کسی محدث نے اس روایت کو بالسند ذکر نہیں کیا ہے۔ اسے سب سے پہلے امام نووی نے اپنی کتاب "اذکار" میں ذکر کیا۔ لکھتے ہیں:
"قال جماعۃ من اصحابنا یستحب ان یقول فی الحثیثۃ الاولیٰ مِنْھَا خَلَقْنَکُمْ وفی الثانیۃ فِیْھَا نُعِیْدُکُم وِفی الثالثۃ وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی))(باب ما یقولہ عند الدفن)

یعنی ایک جماعت نے تینوں لپوں پر مذکورہ آیت کے تینوں ٹکڑوں کو علی الترتیب پڑھنا مستحب بتایا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ کے بعد جو بھی تشریف لائے بس تقلید در تقلید کرتے چلے گئے، کسی نے اس سلسلہ حدیث کا حوالہ نہ دیا۔ ہمارے مفسر و محقق حافظ ابن کثیر تشریف لائے اور آپ نے اپنی تفسیر میں لکھ دیا کہ:
وَفِي الْحَدِيثِ الَّذِي فِي السُّنَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حَضَرَ جِنَازَةً، فَلَمَّا دُفِنَ الْمَيِّتُ أَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ فَأَلْقَاهَا فِي الْقَبْرِ ثُمَّ قَالَ(٦) ﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ﴾ ثُمَّ [أَخَذَ](٧) أُخْرَى وَقَالَ: ﴿وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ﴾ . ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى وَقَالَ: ﴿وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾
ترجمہ:اور سنن کی حدیث میں وارد ہے کہ رسول ﷺ ایک جنازے میں تشریف لائے۔ جب میت کو دفن کردیا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لپ مٹی لیا اور قبر پر ڈالتے ہوئے یہ آیت پڑھی منها خلقناكم پھر دوسری بار آپ نے مٹی ڈالی اور "وفيهانعيدكم" پڑھا اور تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "ومنها نخرجكم تارة أخرى پڑھی۔"
ابن کثیر کے بعد علامہ شوکانی آۓ انہوں نے اسے ابن کثیر کی طرف منسوب کردیا۔اور اس کے بعد تقریباً سارے لوگ ابن کثیر کی اس عبارت کو دہراتے چلے گئے۔
ستم بالاۓ ستم یہ کہ ام کلثوم بنت رسول ﷺ کے حوالے سے جو ضعیف روایت ہے، اس میں بھی اس آیت کو مٹی دیتے وقت پڑھنا کہیں نہیں ہے بلکہ میت کو قبر میں اتارتے اسے وقت پڑھنے کا ذکر ہے۔ جیسا کہ اس روایت کے الفاظ ہیں:لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْقَبْرِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « ( مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى) » نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کوجب قبر میں اتاراجانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ہم نے تمہیں اس مٹی سے پیدا کیا ، اسی میں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے "
اس سے بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ مٹی دیتے وقت منھا خلقناکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری پڑھنا کسی ضعیف روایت سے بھی ثابت نہیں ہے۔ 
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اس آیت میں "اللہ رب العزت نے انسان کو مئی سے پیدا کرنے  اور مرنے کے بعد پھر اسی میں لوٹانے" کا تذکرہ کیا ہے، یہ زمانی اور وقتی مناسبت اس آیت کو مٹی دیتےوقت پڑھنے کا مقتضی ہے۔ لیکن اس طرح قرآن کی کسی آیت کو ایک متعین موقع سے پڑھنے کا زمانی اور وقتی اقتضاء نکال لینا درست نہیں ہے۔جب تک اس آیت کو اس موقع سے پڑھنے کا حکم اللہ رب العزت یا رسول ﷺ نے نہ دیا ہو۔ 
مثلاً اللہ رب العزت  قرآن میں فرماتا ہے۔ كل نفس ذائقة الموت. کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ تو کیا اس آیت کو ہر انسان کی موت کی خبر سن کر پڑھنا درست ہو گا۔؟ نہیں! کیونکہ گرچہ اس آیت میں اس واقعہ موت کی حقیقت کا تذکرہ ہے اور انسان کی موت اور اس آیت کے درمیان ہر طرح کی مناسبت ہے، لیکن چونکہ اس آیت کو اس موقع سے پڑھنا کسی صحیح دلیل سے ثابت نہیں ہے، اس لئے نہیں پڑھ سکتے۔ بلکہ کسی کی موت کی خبر سن کر مندرجہ ذیل دعا پڑھنی چاہئیے۔ 
  إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا.بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ اے اللہ!مجھے میری مصیبت کا اجردے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ۔ جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ان سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی تھی۔ 
صحیح مسلم میں ہے: 
أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ام سلمہ، نبیﷺ کی بیوی، سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے : بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔ اے اللہ!مجھے میری مصیبت کا اجردے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ، مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتاہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتاہے ۔
 ( حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے )  : تو جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوگئے ، میں نے اس طرح کہا جس طرح نبی اکرم ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرمادیا ۔ 
(صحیح مسلم:2127) اسی طرح قرآن کی کسی آیت میں وضو، غسل،اذان، نماز ، روزہ، حج، زکوۃ، وغیرہ کا اگر تذکرہ ہے تو اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ان اعمال کی ادائیگی کے وقت ان آیات کو پڑھا جائے گا۔ جب تک اس آیت کو اس موقع سے پڑھنے کی تعلیم اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے نہ دیا ہو۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!! 
 




 

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...