Wednesday, June 21, 2023

قربانی کا جانور اور جنت کی سواری! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله 
وبركاته 

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: قربانی کا جانور اور جنت کی سواری! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

قربانی کے فضائل بیان کرتے ہوئے اکثر یہ روایت بیان کی جاتی ہے : عظموا ضحاياكم فانها مطاياكم في الجنة. 
ترجمہ: اپنی قربانی کے جانوروں کو خوب موٹا تازہ کرو کیونکہ یہ جنت کی سواری ہے۔ 

یہ بالکل بے اصل اور موضوع روایت ہے۔ 
قربانی کے جانور کا جنت کی سواری ہونے کے متعلق کوئی بھی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔ 

ایسی روایت بیان کرنا نبی کریم ﷺ پر بہتان لگانا ہے اور نبی کریم ﷺ پر بہتان تراشی کرنا جہنم کو اپنا ٹھکانا بنانے کے مترادف ہے۔ 

سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے:  

قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 

ترجمہ: جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) (بحوالہ شرح نخبہ) 

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے:  

قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . 
 
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291) 

علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں: موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔ (در مختار: ص 87) 

خطیبوں کو چاہئے کہ امت کے سامنے ایسی موضوع روایتیں پیش کرنے سے اجتناب کریں۔ ایسے جھوٹے فضائل بیان کرنے کے بجائے قرآن و حدیث کی روشنی میں قربانی کے صحیح مسائل سے لوگوں کو روشناس کرائیں۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين.

No comments:

Post a Comment

Recent posts

تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: تلاوت قرآن کے بعد صدق الله العظيم پڑھنا !  محمد اقبال قاسمی صاحب  مصادر: مخ...