بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
موضوع : مولانا احمد رضا خان بریلوی اور ذات پات
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
مولانا اقبال قاسمی سلفی
مولانا احمد رضا خان (1856-1921) ہندوستان میں رضا خانی جماعت کے بانی اور مرشد اعلیٰ ہیں۔ مولانا جب تک زندہ رہے مسلمانوں کو بدعات و خرافات کے تحفے لٹاتے رہے۔ مولانا کا تعلق ہندوستانی خان برادری سے تھا۔یہ وہی احمد رضاخان بریلوی ہیں جس نے انگریزوں کی جی بھر کر چاپلوسی کی تھی۔ جہاد کے خلاف فتوی دیتے ہوئے انگریزی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے"اعلام الاعلام بان هندوستان دار الاسلام "جیسی کتاب لکھی تھی۔
یہ برصغیر کے ان منووادی علماء میں سے ایک تھے جنہوں نے مروجہ ذات پات کی بنیاد پر مسلمانوں کو تفریق کا شکار بناکر امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا۔
مولانا کی نظر میں سید کا اتنا عظیم مقام تھا کہ چوری، زنا اور قتل جیسے جرم بھی ثابت ہوجاۓ تو قاضی حد لگاتے ہوئے حد کی نیت نہ کرے گا۔ چنانچہ جب ان سے پوچھا گیا:
عرض:سید لڑکے کو اس کا استاد تادیبا مار سکتاہے یا نہیں؟
ارشاد: قاضی جو حدودالہیہ قائم کرنے پر مجبور ہے ، اس کے سامنے اگر کسی سید پر حد ثابت ہوئی تو باوجودیکہ اس پر حد لگانا فرض ہے اور وہ حد لگاۓ گا لیکن اس کو حکم ہے کہ سزا دینے کی نیت نہ کرے ، بلکہ دل میں یہ نیت رکھے کہ شہزادے کے پیر میں کیچڑ لگ گئی ہے ، اسے صاف کر رہا ہوں۔
(الملفوظ 3/55)
یہ ہے احمد رضا خان حنفی کی سادات نوازی!!
حالانکہ اس طرح کے منوازم کی گنجائش نہ قرآن کی کسی آیت میں ہے نہ اللہ کے رسول ﷺ کی صحیح حدیث میں۔ بلکہ اس محسن انسانیت، عدل و انصاف کے پیکر اسلامی مساوات کے علمبردار کے الفاظ آج بھی سنہرے الفاظ میں موجود ہیں جو آپ نے اپنی بیٹی فاطمہ کے سلسلے میں کہے تھے "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔"
چنانچہ سنن نسائی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی ، کی وجہ سے قریش بڑے فکرمند ہوئے ۔ وہ کہنے لگے : اس کی سفارش رسول اللہ ﷺ سے کون کرے گا ؟ پھر ( خود ہی ) کہنے لگے : اس کی جرأت رسول اللہ ﷺ کے محبوب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا کون کر سکتا ہے ! حضرت اسامہ نے آپ سے اس کی سفارش کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود میں سے ایک حد ( کو نافذ نہ کرنے ) کی بابت سفارش کر رہا ہے ؟ ‘‘ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطاب کرتے ہوئے فرمایا :’’ تم لوگوں سے پہلے لوگ اسی بنا پر ہلاک ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی بلند مرتبہ شخص چوری کر لیتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور شخص چوری کر لیتا تو اس کو حد لگا دیتے ۔ اللہ کی قسم ! اگر ( بالفرض ) محمد ( ﷺ ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔‘‘
(سنن نسائی:4903)
خان صاحب اس ذات پات اونچ نیچ کو نکاح میں اس قدر معتبر مانتے ہیں کہ برہمن ازم بھی شرم سے اپنا منہ ڈھانپ لے لیکن ان منووادیوں کو ذرا بھی شرم نہ آۓ۔ نہ جانے کس منہ سے یہ لوگ مسلمانوں میں بھائی چارگی، اتحاد، مساوات اور "واعتصموا بحبل اللہ جمیعا"کا راگ الاپتے رہے۔
جبکہ یہ خود تفریق کا بیج بوتے رہے۔
چنانچہ جب ان سے پوچھا گیا کہ:
"ایک شخص کا فرمان ہے کہ سید کی دختر ہر ایک کو پہنچ سکتی ہے یعنی ہر ایک سے عقد جائز ہے ، دوسرے نے جواب دیا کہ اگر جاروب کش (بھنگی، مہتر) مسلمان ہو جائے تو بھی جائز ہے تو اس کا جواب دیا کہ کچھ مضائقہ نہیں"
مولانا احمد رضا خان حنفی بریلوی صاحب اس سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
شخص مذکور جھوٹا کذاب اور بے ادب گستاخ ہے۔سادات کرام کی صاحبزادیاں کسی مغل، پٹھان یا غیر قریشی شیخ مثلا انصاری شیخ کو بھی نہیں پہہنچتیں۔ جب تک وہ عالم دین نہ ہوں کہ اگرچہ یہ قومیں شریف گنی جاتی ہیں مگر سادات کا شرف اعظم و اعلیٰ ہے اور غیر قریشی قریش کا کفو نہیں ہو سکتا تو رذیل قوم والے معاذاللہ کیوں کر سادات کے کفو ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر بالغہ سیدانی خود اپنا نکاح خود اپنی خوشی و مرضی سے کسی مغل پٹھان یا انصاری شیخ غیر عالم دین سے کرے گی تو نکاح سرے سے ہوگا ہی نہیں۔
(ملفوظات اعلحضرت:3/118)
مولانا سادات پرستی میں سر سے پیر تک اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ نام نہاد سیدوں کے سوا باقی لوگ انہیں رذیل دکھائی پڑتے تھے۔ کاش مولانا سیداں پرستی سے باہر آکر کبھی اسلام کی بے نظیر مساوات کو جھانکا ہوتا تو اس طرح کی برہمنیت اور منوازم کی غلاظت نہ پھرتے۔
رسول ﷺ نے تو اونچ نیچ کو مٹانے کے لئے اپنی سگی پھوپھی زاد بہن زینب بنت جحش کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے ساتھ کر دیا اور اپنی خاص چچازاد بہن ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب کا نکاح مقداد کندی (جن کا قبیلہ کپڑے بننے کا کام کیا کرتا تھا) کے ساتھ کر دیا تھا۔ اور یہ فرمایا تھا کہ " میں نے زید بن حارثہ کی زینب بنت جحش سے اور مقداد بن اسود کندی کی ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب سے شادی اس لئے کرائی تاکہ لوگو ں کو معلوم ہو جائے کہ سب سے بڑا شرف اسلام کا شرف ہے"۔ (سنن سعید بن منصور:585)
کچھ منووادی اور برہمنوادی سوچ کے حامل علماء یہ کہتے ہیں کہ برادری میں فرق کی وجہ سے کچھ دنوں بعد حضرت زید اور زینب کے درمیان طلاق ہو گئی تھی،لہذا برادری اور کفو میں ہی شادی کرنی چاہئیے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت زید اور زینب کی طلاق غیر برادری میں شادی کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی بلکہ ان کی طلاق ایک غلط رسم کو مٹانے کے لئے ہوئی تھی۔ اور وہ غلط رسم تھی منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کو حرام سمجھنا۔ حضرت زید کو اللہ کے رسول ﷺ نے اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا تھا ۔اور منہ بولے بیٹے کو لوگ اپنے بیٹے کی طرح تصور کرتے تھے اور اس کی بیوی سے نکاح کو حرام سمجھتے تھے۔ اللہ رب العزت نے اسی رسم جاہلیت کو ختم کرنے کے لئے حضرت زید سے طلاق دلوا کر زینب رضی اللہ عنہا کو نبی ﷺ کی زوجیت میں دے دیا۔
تاکہ اپنے نبی ﷺ کے ذریعہ اس جاہلیت کی رسم کا خاتمہ کراۓ۔ اللہ رب العزت نے بھی اس طلاق کی وجہ برادری کی نابرابری نہیں بلکہ اسی جاہلیت کی رسم کو ختم کرنا بتایا ہے۔
فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَٰكَهَا لِكَىْ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِىٓ أَزْوَٰجِ أَدْعِيَآئِهِمْ إِذَا قَضَوْاْ مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ مَفْعُولًا
پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالکوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے، جبکہ وہ اپنی غرض اس سے پوری کر لیں۔ اللہ کا یہ حکم تو ہو کر ہی رہنے والا تھا۔
(سورة الاحزاب:37)
حضرت زینب کو طلاق دینے کے بعد رسول ﷺ نے ان کی شادی اپنی پھوپھی کی نواسی ام کلثوم بنت عقبہ سے کرا دی تھی لیکن زید نے ان کو بھی طلاق دے دی اور حضور ﷺ کی چچا زاد بہن درہ بنت ابی لہب سے نکاح کر لیا تھا ۔ پھر ان کو بھی طلاق دے دی اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن ہند بنت العوام سے نکاح کیا۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابة، ابن حجر :ج:2، ص:496)
(ان روایتوں کا راوی ابن کلبی ہے جو
محدثین کے نزدیک متروک ہے۔ لیکن اس سے منووادیوں کو کوئی فرق نہیں پڑنا چائیے)
اگر حضرت زید اور زینب کی طلاق کی وجہ غیر برادری میں شادی ہوتی تو حضرت زید کو اللہ کے رسول ﷺ قریش اور ہاشمی خاندانوں میں مزید شادیاں کرنے سے منع فرما دیتے۔
لیکن حضرت زید رضی اللہ عنہ کا(جو اللہ کے رسول ﷺ کے ایک آزاد کردہ غلام تھے) قریش خاندان میں ایک کے بعد ایک نکاح کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ نکاح میں حسب ونسب اور من گھڑت سید شیخ (ہندوستان میں کسی کا نسب محفوظ نہیں ہے)کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
اسی واقعہ میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا قول مذکور ہے(مجھے اس کی صحیح سند نہی ملی ) کہ جب رسول ﷺ نے اونچ نیچ کو مٹانے کے لئے زینب بنت جحش کا نکاح حضرت زید سے کرنا چاہا تو اولا زینب نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ میں اپنے لئے ان کو پسند نہیں کرتی کیونکہ میں ان سے نسب میں بہتر ہوں "انا خير منه نسبا"و انا ايم قريش"میں قریش کی شہزادی ہوں، ایک غلام سے کیسے نکاح کرلوں۔
لیکن اللہ رب العزت کو ان کی یہ بات ہر گز منظور نہ ہوئی اور سورہ احزاب کی آیت:36 نازل ہوگئی۔
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍۢ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًا مُّبِينًا
اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کو کوئی اختیار باقی نہیں رہتا اور و اللہ تعالی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرےگا تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا، کھلا ہوا گمراہ۔
(سورہ الاحزاب:36)
اور پھر اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت زینب اور ان کے گھر والوں نے حضرت زید سے نکاح کے لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے پہ سر تسلیم خم کر دیا۔ آپ کو بتا دیں کہ گرچہ تمام مفسرین (تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی، تفہیم القرآن، احسن البیان، معارف القرآن وغیرہ) نے اس آیت کا سبب نزول اسی طرح کے واقعے کو بیان کیا ہے لیکن یہ شان نزول سنداً صحیح نہیں ہے۔
تاہم اتنی بات تو طے شدہ ہے کہ حضرت زید کا نکاح حضرت زینب کے ساتھ ہوا تھا (سورہ الاحزاب:37) اور حضرت زید آزادکردہ غلام تھے جبکہ زینب قریش خاندان سے تھیں۔ دور نبوت کا یہ مثالی نکاح منووادی علماؤں کے منوازم اور من گھڑت مروجہ کفاءت (برابری)کا بھرم توڑنے کے لئے کافی ہے۔ اگلے پوسٹ میں ہم بتائیں گے کہ اسلامی کفاءت کیا ہے اور مذہب اسلام کو نکاح کے لئے کن چیزوں میں کفاءت(برابری) مطلوب ہے۔
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!
Share it as sadaqe jariya
ReplyDelete