Showing posts with label ضعیف اور موضوع روایات!!. Show all posts
Showing posts with label ضعیف اور موضوع روایات!!. Show all posts

Friday, September 17, 2021

"میں اور علی ایک نور تھے"وائرل روایت کی تحقیق!!! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مولانا اقبال قاسمی سلفی

غلو کرنے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں اس حد تک غلو کرجاتے ہیں کہ انہیں انبیاء کرام علیھم السلام پر بھی برتری اور فوقیت دینی شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی شان میں حدیثیں وضع کر جاتےہیں۔ ان ہی موضوع احادیث میں سے ایک حدیث کی تحقیق آپ کے پیش خدمت ہے۔ جس میں یہ کہا گیا ہے کہ "میں اور علی ایک نور تھے۔ 

حدثنا الحسن قثنا أحمد بن المقدام العجلي قثنا الفضيل بن عياض قثنا ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن زاذان عن سلمان قال سمعت حبيبي رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ((كنت انا وعلي نورا بين يدي الله عز وجل قبل ان يخلق آدم بأربعة عشر ألف عام فلما خلق الله آدم قسم ذلك النور جزءين فجزء أنا وجزء علي عليه السلام))

ترجمہ:حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے چودہ ہزار سال پہلے میں اور آدم ایک نور تھے۔پھر جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو اس نور کو دو حصوں میں تقسیم کیا، اس نور کا ایک حصہ میں ہوں اور ایک حصہ علی ہے۔
(فضائل صحابہ؛ امام احمد بن حنبل:1130) 
ابن عساکر؛ تاریخ دمشق 42/67
امام مغازلی؛ مناقب علی:130
اخطب خوارزم؛ مناقب:ص145
یہ روایت موضوع ہے۔
اس کی سند میں  حسن بن علي بن صالح بن زكريا أبو سعيد العدوي ہے۔

اس کے بارے میں محدثین کے جرح و تعدیل کے اقوال:
 قال ابن عدي رحمه الله في الكامل : (3/195) ط دار الكتب العلمية
يضع الحديث ويسرق الحديث ويلزقه على قوم آخرين ، ويحدث عن قوم لا يعرفون

اس راوی کے بارے میں ابن عدی "الکامل" میں فرماتے ہیں: یہ راوی حدیث وضع بھی کرتا تھا اور چوری بھی۔  الزام دوسروں پر ڈال دیتا تھا اور نامعلوم لوگوں سے حدیثیں بیان کرتا تھا۔ 

وقال ابن حبان في المجروحين (1/292 ) 
من أهل البصرة سكن بغداد يروي عن شيوخ لم يرهم ويضع على من رآهم الحديث
ابن حبان "المجروحین" میں فرماتے ہیں۔ 
بصری تھا لیکن بغداد میں سکونت اختیار کر کیا تھا ۔ ایسے شیوخ سے حدیثیں بیان کرتا تھا جنہیں اس نے دیکھا نہیں ہے، اور جن لوگوں کو دیکھا تھا ان کے نام پر حدیثیں وضع کرتا تھا۔ 

وقال الدار قطني: متروک يضع اسانيد و متونا، كذاب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول على رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يقل. 
امام دار قطنی فرماتے ہیں:
متروک ہےاور وہ سند اور متن دونوں گھڑتاتھا۔ اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ باندھا کرتا تھا اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا تھا جو آپ نے نہیں کہی ہیں۔ 
حمزہ بن یوسف کہتے ہیں میں نے امام دار قطنی سے حسن بن علی ابوسعید بصری راوی کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: وہ متروک ہے، میں نے پوچھا لوگ اسے بھیڑیا کہتے ہیں۔ دارقطنی نے کہا:ہاں۔ 
(تاریخ بغداد:الخطیب بغدادی)

اس روایت کو سبط ابن جوزی  رافضی نے امام احمد بن حنبل کی کتاب فضائل صحابہ کے حوالے سے "تذکرہ خواص الامہ" میں روایت کیا ہے اور کہا: و رجاله رجال الصحيح. 
اس کے رجا ل صحیح کے رجال ہیں۔  

قال سبط ابن الجوزي:
قال أحمد في الفضائل: حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن خالد بن معدان، عن زاذان عن سلمان، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:۔۔۔۔۔۔ 

لیکن اس کی سند منقطع ہے کیونکہ امام احمد بن حنبل کی وفات 241ھ یے جبکہ عبد الرزاق کی وفات 211ھ ہے۔لہذا یہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ نیز یہ روایت مصنف عبد الرزاق میں  موجود بھی نہیں ہے۔
نیز اس سند سے یہ روایت "فضائل صحابہ" میں کہیں موجود نہیں ہے۔ 

"فضائل صحابہ" میں اس کی سند اس طرح ہے:
حدثنا الحسن قثنا أحمد بن المقدام العجلي قثنا الفضيل بن عياض قثنا ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن زاذان عن سلمان قال سمعت حبيبي رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 


اور اس سند سمیت دوسری تمام سندوں میں حسن بن علی بن صالح بن زکریا موجود یے جو کذاب یے۔ لہذا اس روایت کی کوئی سند صحیح نہیں ہے۔ 
بعض لوگوں نے اس حدیث کو یہ کہہ کر صحیح قرار دینے کی کوشش کی ہے کہ  اس روایت میں جو "حسن" ہے وہ حسن بن علی نہیں بلکہ حسن بن موسى الاشيب ہے۔

لیکن دوسری روایتوں میں اس کی صراحت ہے کہ اس روایت میں موجود راوی  حسن بن موسی نہیں بلکہ حسن بن علی بن صالح بن زکریا ابوسعید العدوی یی یے جو کذاب، وضاع اور سارق الحدیث ہے۔

ابن عساكر کی روایت:

أخبرنا أبو غالب بن البنا أنا أبو محمد الجوهري أنا أبو علي محمد بن أحمد بن يحيى العطشي نا أبو سعيد العدوي الحسن بن علي أنا أحمد بن المقدام العجلي أبو الأشعث أنا الفضيل بن عياض عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن زاذان عن سلمان قال سمعت حبيبي  رسول الله ...
(تاریخ دمشق:ابن عساکر:42/67) 
 عساکر نے اس میں اس راوی کا پورا نام اور کنیت دونوں کی صراحت کر دی ہے۔ 
امام مغازلی نے بھی "مناقب"ص87 میں اس کے نام کی  پوری صراحت کردی ہے:

أخبرنا أبو غالب محمد بن أحمد سهل النحوي رحمه الله أخبرنا أبو الحسن علي بن منصور الحلبي الاخباري أخبرنا علي بن محمد العدوي الشمشاطي حدثنا الحسن بن علي بن زكريا حدثنا أحمد بن المقدام العجلي حدثنا الفضيل بن عياض عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان ، عن زاذان ، عن سلمان قال : ...

اس سے یہ واضح ہو گیا کہ "فضائلِ صحابہ:امام احمد بن حنبل " والی روایت میں صرف"حسن" سے مراد حسن بن علی بن صالح بن زکریا ابو سعید العدوی ہی ہے۔ جو جمہور محدثین کے نزدیک کذاب اور وضاع ہے۔

اللهم انا نسئلك علما نافعا ورزقا طيبا و عملا متقبلا!! 

Sunday, July 18, 2021

کیا ‏رمضان میں ‏فوت ‏ہونے ‏والے ‏جنتی ‏ہیں۔ ‏؟ ‏؟ ‏؟ ‏؟ ‏؟ ‏

مولانا اقبال قاسمی سلفی

جیسا کہ عوام مشہور ہے کہ رمضان میں فوت ہونا باعث فضیلت ہے اور رمضان المبارک میں فوت ہونے والا بغیر کسی سوال جواب کے جنت میں چلا جاتا ہے۔ گرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے ایک فتوے (فتویٰ نمبر: 54438) میں یہ بات کہی گئی ہے۔ 

" اگر کسی فاسق مسلمان کی موت رمضان المبارک یا جمعہ میں ہوجائے تو اس کو ہلکا عذاب ہوگا اس کے بعد قیامت تک مرتفع ہوجاتا ہے اور وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا، اور اگر کسی کافر کی موت ان ایام میں ہوجائے تو اس سے صرف رمضان المبارک اور جمعہ میں عذاب مرتفع ہوگا، رمضان وجمعہ گزرنے کے بعد پھر اس پر عذاب ہوگا اور اگلا رمضان وجمعہ آنے پر پھر اس سے عذاب اٹھالیا جائے گا، اور یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ یہی تمام اہل السنة والجماعة کا عقیدہ ہے"-
(دارالافتاء دارالعلوم دیوبند) 

علامہ یوسف بنوری حنفی پاکستانی اپنے فتوے میں رقمطراز ہیں:

 "مولانا اشرف علی تھانوی  کے ملفوظات میں ہے:

 رمضان میں اگر انتقال ہو تو ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے دن حساب نہیں ہوتا ۔ یہی جی کو لگتا ہے اور  أنا عند ظن عبدي بيپر عمل کرے۔ “(26/405)

  اور اگر کوئی غیر مسلم  رمضان المبارک میں مر جائے تو صرف ماہ مبارک کے احترام میں رمضان المبارک تک عذاب قبر سے محفوظ رہے گا،اور رمضان کے بعد پھر اسے عذاب ہوگا۔

علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی پاکستانی  
فتوی نمبر : 143909200282

لیکن نہ تو یہ تمام اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے اور نہ ہی یہ کسی صحیح حدیث میں مذکور ہے بلکہ یہ حنفی حضرات کے خود ساختہ مسائل میں سے ہے۔

ان تمام مفروضے کے لئے علامہ جلال الدین سیوطی (المتوفی 911ھ) کی کتاب شرح الصدور کے حوالے سے حضرت انس رضی الله عنہ کی ایک روایت پیش کی جاتی ہے۔ لیکن علامہ نے اس 
روایت کو ابن رجب (م 795ھ) کی طرف منسوب کرکے  خود ہی اس کے ضعف کی طرف اشارہ کردیا ہے۔۔

ابن رجب نے اسے اپنی کتاب اهوال القبور میں صفحہ نمبر 187 (مکتبہ دار الزمان مدینہ منورہ تحقیق و تخریج محمد نظام الدین الفتیح) پر 
وقد يرفع عذاب القبر او بعضه في بعض الاوقات الشريفه
کے عنوان کے تحت اس روایت کو بایں الفاظ ذکر کیاہے۔ 
"فقد روي باسناد ضعيف عن انس بن مالك :ان عذاب القبر يرفع عن الموتى في شهر رمضان " (اهوال القبور ص187) 
ترجمہ : انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف سند سے روایت کی گئی کہ رمضان کے مہینے میں مردوں سے عذاب قبر ہٹالیا جاتاہے"۔ 
لیکن ابن رجب حنبلی نے اسے صیغۂ تمریض کے ساتھ ذکر کر کے اس کے ضعف کو واضح کردیا نیز اس روایت کی کوئی سند ذکر نہیں کی۔ 
 یہ ہے وہ بے سند روایت جس کی بنیاد پر رمضان میں مرنے والے مسمان ہی نہیں بلکہ کافروں تک سے عذاب الہی کے ہٹا لئے جانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...