Sunday, July 18, 2021

کیا ‏رمضان میں ‏فوت ‏ہونے ‏والے ‏جنتی ‏ہیں۔ ‏؟ ‏؟ ‏؟ ‏؟ ‏؟ ‏

مولانا اقبال قاسمی سلفی

جیسا کہ عوام مشہور ہے کہ رمضان میں فوت ہونا باعث فضیلت ہے اور رمضان المبارک میں فوت ہونے والا بغیر کسی سوال جواب کے جنت میں چلا جاتا ہے۔ گرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے ایک فتوے (فتویٰ نمبر: 54438) میں یہ بات کہی گئی ہے۔ 

" اگر کسی فاسق مسلمان کی موت رمضان المبارک یا جمعہ میں ہوجائے تو اس کو ہلکا عذاب ہوگا اس کے بعد قیامت تک مرتفع ہوجاتا ہے اور وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا، اور اگر کسی کافر کی موت ان ایام میں ہوجائے تو اس سے صرف رمضان المبارک اور جمعہ میں عذاب مرتفع ہوگا، رمضان وجمعہ گزرنے کے بعد پھر اس پر عذاب ہوگا اور اگلا رمضان وجمعہ آنے پر پھر اس سے عذاب اٹھالیا جائے گا، اور یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ یہی تمام اہل السنة والجماعة کا عقیدہ ہے"-
(دارالافتاء دارالعلوم دیوبند) 

علامہ یوسف بنوری حنفی پاکستانی اپنے فتوے میں رقمطراز ہیں:

 "مولانا اشرف علی تھانوی  کے ملفوظات میں ہے:

 رمضان میں اگر انتقال ہو تو ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے دن حساب نہیں ہوتا ۔ یہی جی کو لگتا ہے اور  أنا عند ظن عبدي بيپر عمل کرے۔ “(26/405)

  اور اگر کوئی غیر مسلم  رمضان المبارک میں مر جائے تو صرف ماہ مبارک کے احترام میں رمضان المبارک تک عذاب قبر سے محفوظ رہے گا،اور رمضان کے بعد پھر اسے عذاب ہوگا۔

علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی پاکستانی  
فتوی نمبر : 143909200282

لیکن نہ تو یہ تمام اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے اور نہ ہی یہ کسی صحیح حدیث میں مذکور ہے بلکہ یہ حنفی حضرات کے خود ساختہ مسائل میں سے ہے۔

ان تمام مفروضے کے لئے علامہ جلال الدین سیوطی (المتوفی 911ھ) کی کتاب شرح الصدور کے حوالے سے حضرت انس رضی الله عنہ کی ایک روایت پیش کی جاتی ہے۔ لیکن علامہ نے اس 
روایت کو ابن رجب (م 795ھ) کی طرف منسوب کرکے  خود ہی اس کے ضعف کی طرف اشارہ کردیا ہے۔۔

ابن رجب نے اسے اپنی کتاب اهوال القبور میں صفحہ نمبر 187 (مکتبہ دار الزمان مدینہ منورہ تحقیق و تخریج محمد نظام الدین الفتیح) پر 
وقد يرفع عذاب القبر او بعضه في بعض الاوقات الشريفه
کے عنوان کے تحت اس روایت کو بایں الفاظ ذکر کیاہے۔ 
"فقد روي باسناد ضعيف عن انس بن مالك :ان عذاب القبر يرفع عن الموتى في شهر رمضان " (اهوال القبور ص187) 
ترجمہ : انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک ضعیف سند سے روایت کی گئی کہ رمضان کے مہینے میں مردوں سے عذاب قبر ہٹالیا جاتاہے"۔ 
لیکن ابن رجب حنبلی نے اسے صیغۂ تمریض کے ساتھ ذکر کر کے اس کے ضعف کو واضح کردیا نیز اس روایت کی کوئی سند ذکر نہیں کی۔ 
 یہ ہے وہ بے سند روایت جس کی بنیاد پر رمضان میں مرنے والے مسمان ہی نہیں بلکہ کافروں تک سے عذاب الہی کے ہٹا لئے جانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...