Friday, July 16, 2021

اسلامی ‏برابری ‏اور ‏مسلمانوں میں مروجہ ذات و ‏برادری؟ ‏؟ ‏ ‏



مولانا اقبال قاسمی سلفی

اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جو انسانوں کے درمیان حسب و نسب اور رنگ ونسل کی بنیاد پر فرق نہیں کرتا بلکہ تمام انسانیت کو ایک ماں باپ کی اولاد کہہ کر خوبصورت خطاب کرتا ہے، جیساکہ سورة النساء میں ارشاد باری ہے:

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ بَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّ نِسَآءً ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَ الۡاَرۡحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیۡکُمۡ  رَقِیۡبًا ﴿۱﴾

 اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو  ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا  اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں  ، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو  بیشک اللہ تعالٰی تم پر نگہبان ہے۔ 
(سورۃ النساء:1) 

ا
 انسانیت کے غمخوار جناب محمد ﷺ نے بھی انسانوں کو یہی پیغام دیا۔ 

لا فضلَ لعربيٍّ على عجميٍّ ، ولا لعجميٍّ على عربيٍّ ، ولا لأبيضَ على أسودَ ، ولا لأسودَ على أبيضَ - : إلَّا بالتَّقوَى ، النَّاسُ من آدمُ ، وآدمُ من ترابٍ : 
(شرح الطحاوية: 361 ، صحيح) 
 نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت ہے۔ نہ کسی عجمی کو عربی پر، نہ کالے کو گورے پر اور نہ گورے کو کالے پر مگر تقوی کے ذریعے۔ 
سارے لوگ آدم کی اولاد ہے اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ 
و عَنْ أَنَسِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :   اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ، وَإِنِ اسْتُعْمِلَ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبة 
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  ( اپنے حاکم کی )  سنو اور اطاعت کرو، خواہ ایک ایسا حبشی  ( غلام تم پر )  کیوں نہ حاکم بنا دیا جائے جس کا سر سوکھے ہوئے انگور(گنجا)کے برابر ہو۔
(صحیح بخاری:693) 

اسلام کی اسی بے نظیر خوبی نے اسے عرب کے دلوں کا دھڑکن بنادیا تھا۔ 

حضرت بلال حبشی، سلمان فارسی اور صہیب رومی جیسے غلاموں کو مذہب اسلام نے گلے سے لگایا اور وہ مقام عطا کیا جس پر آج بھی دنیا نازاں ہے۔

اسلام نے دنیا کو مساوات کا درس دیا۔ سماجی اونچ نیچ اور بھید بھاؤ کا خاتمہ کیا، برتری اور فضیلت کا معیار صرف اور صرف تقوی کو قرار دیا۔ کون کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے؟ ، کس کا بیٹا ہے؟ ، کس کی بیوی ہے؟ کس کا باپ ہے؟ یہ چیزیں اسلام کی نظر میں بے حیثیت اور بے وقعت ہے۔ یہاں دنیا اور آخرت میں کامیابی کا معیار صرف اور صرف عمل صالح ہے۔

اللہ نے by birth(پیدائشی) کسی کو فضیلت والا نہیں قرار دیا کہ کوئی صرف اس لئے فضیلت کا حامل ہے کیونکہ وہ فضیلت والے کے گھر پیدا ہوا ہے۔ 

اسلام نے انسانوں کو سید شیخ اور انصاری بناکر ذاتوں میں تقسیم نہیں کیا تھا۔ forward اور backward میں نہیں بانٹا تھا، اشراف اور ارذال کی کیٹگری (category) نہیں بنائی تھی۔ 
یہ لعنت خود لوگوں کے ذریعے لوگوں پر مسلط کی گئی یے جس میں آج مسلم سماج پوری طرح لت پت ہے ۔ عوام ہی نہیں خواص بھی پوری طرح اس میں گرفتار ہیں۔

جس طرح ہندووں میں ذاتیں ہوتی ہیں اور پھر ان کے گوتر ہوتے ہیں اسی طرح مسلمانوں نے بھی ذاتیں اور گوتر بنا لی ہیں۔ پہلے تو اپنے آپ کو سید شیخ کی ذاتیں بنائی پھر ان کے گوتر بناۓ۔ جیسے صدیقی شیخ، فاروقی شیخ، عثمانی شیخ، علوی شیخ اور انصاری شیخ(انصار مدینہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے.
اور اس ذات پات کا پالن اتنی سختی سے کیا جاتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کے یہاں شادی بیاہ تک نہیں کرتے۔ بیٹیوں کا زندگی بھر کنواری رکھ لینا، کافروں کے ساتھ راہ فرار اختیار کروا دینا، ولد الزنا کا دادا اور نانا بن جانا گوارہ ہے لیکن ایک صدیقی شیخ کو انصاری شیخ کے یہاں رشتہ کرنا گوارہ نہیں ہے۔

 جمعیت اہلحدیث کے سابق صدر مولانا مختار احمد ندوی نے"البلاغ" اکتوبر 2000ء میں بہتے آنسو کے تحت "ذات برادری کی ماری کنواری بوڑھیاں" کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ہے اس میں انہوں نے اپنے انتہائی قریبی اور اعلی پایہ کے اہلحدیث دوست کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کی پہاڑ جیسی شخصیت تھی، ان کا گھرانا معزز تھا، خاندانی وجاہت کچھ کم نہ تھی ، لیکن ان کی دو صاحبزادیاں ایک 75 سالہ اور دوسری 68 سالہ باوجود شکل وصورت انتہائی پرکشش، تعلیم یافتہ ، خوشحال اور عزت و شہرت کے کنواری بوڑھی ہوگئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صاحب رحمہ اللہ تڑپ کر رہ گئے لیکن ان کو اپنی برادری میں مناسب رشتہ نہ مل سکا۔ انہوں نے مروجہ ذات برادری کے واسطے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے صریح احکاماحکامات کو ٹھکرا دیا۔
)(بحوالہ ہندوستان  میں ذات پات اور مسلمان: مسعود عالم فلاحی)

. ایک مشہور اہل حدیث عالم دین نے راقم الحروف(مسعود عالم فلاحی) کو بتایا کہ ایک  اہل حدیث صاحب نے اپنی بچی کی شادی ایک قبر پجوا(قبر کے پجاری) سے کی ہے کیونکہ وہ ان کی ذات کا تھا۔ ایک دن وہ صاحب میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ مولانا جو شخص امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے۔ تو میں نے کیا ہمارے اہلِ حدیث علماء نے آپ کو یہی بتایا ہو گا لیکن یہ نہیں بتایا کہ قبر پجوا سے بیاہنا حرام ہے۔ اگر نہیں بتایا تو میں بتاتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کا نکاح نہیں ہوا کیونکہ آپ کا داماد قبوری(قبر کا پجاری) ہے جا کر آپ نکاح فسخ کرائیں۔ اس کے بعد وہ صاحب کبھی اس طرح کی باتیں نہیں کرتے۔ 
(ہندوستان میں ذات پات اور مسلمان:مسعود عالم فلاحی۔ باب نہم) 

ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ، ولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۖ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ 
(سورۃ البقرہ:،86،85) 
کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو اور تم میں سے جو بھی ایسا کرے گا اس کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں سخت عذاب کی مار، اور اللہ تعالی تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔ (85) 
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا ہے، ان کے نہ تو عذاب ہلکے ہونگے اور نہ ان کی مدد کی جاۓ گی ۔ 

یہ تصویر اس جماعت کی ہے جو صرف اور صرف قرآن وحدیث پر چلنے کی دعویدار ہے تو بقیہ غیر اہل حدیث جماعتوں کاا حال کیا ہوگا جن کا منہج ہی منواسمرتیاں(ہدایہ، درمختار اور فتاویٰ عالمگیری)جیسی کتابیں ہیں۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...