السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع : وضو میں ہر ہر عضو کے دھونے کی دعائیں اور حنفی فتوے !
مصادر : مختلف مراجع و مصادر!
صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی علماء اور مفتیوں نے دین کے مختلف حصوں میں اختراع سازی کی ہے۔ ان ہی میں سے دوران وضو ہر عضو کے دھونے کی الگ الگ مختلف دعائیں ہیں جیسا کہ کلی کرنے کی دعا، ناک میں پانی ڈالنے کی دعا، چہرہ دھوتے وقت کی دعا، دونوں ہاتھ دھونے کی الگ الگ دعا، گردن مسح کرنے کی دعا الخ
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس کے متعلق فتوی طلب کیا گیا کہ کیا:
" ہر عضو کے دھوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا ثابت ہے ۔ اگر ہے تو وہ ہر عضو کی دعا کیا ہے ؟"
تو دارالعلوم دیوبند نے درج ذیل فتوی دیا۔
"وضوء کے دوران پڑھنے کی یہ دعائیں منقول ہیں:
کلی کرتے وقت : اللَّہُمَّ أَعِنِّی عَلَی تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِکْرِک وَشُکْرِک وَحُسْنِ عِبَادَتِک، ناک میں پانی ڈالتے وقت: اللَّہُمَّ أَرِحْنِی رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَلَا تُرِحْنِی رَائِحَةَ النَّارِ،چہرہ دھوتے وقت : اللَّہُمَّ بَیِّضْ وَجْہِی یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ،دایاں ہاتھ دھوتے وقت : اللَّہُمَّ أَعْطِنِی کِتَابِی بِیَمِینِی وَحَاسِبْنِی حِسَابًا یَسِیرًا، بایاں ہاتھ دھوتے وقت: الّلَہُمَّ لَا تُعْطِنِی کِتَابِی بِشِمَالِی وَلَا مِنْ وَرَاءِ ظَہْرِی، سر کا مسح کرتے وقت : اللَّہُمَّ أَظِلَّنِی تَحْتَ عَرْشِک یَوْمَ لَا ظِلَّ إلَّا ظِلُّ عَرْشِک، دونوں کانوں کے مسح کے وقت : اللَّہُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ الَّذِینَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ أَحْسَنَہُ، گردن کے مسح کے وقت : اللَّہُمَّ أَعْتِقْ رَقَبَتِی مِنْ النَّارِ، دایاں پاوٴں دھوتے وقت : اللَّہُمَّ ثَبِّتْ قَدَمِی عَلَی الصِّرَاطِ یَوْمَ تَزِلُّ الْأَقْدَامُ، بایاں پاوٴں دھوتے وقت: اللَّہُمَّ اجْعَلْ ذَنْبِی مَغْفُورًا وَسَعْیِ مَشْکُورًا، وَتِجَارَتِی لَنْ تَبُورَ۔ "
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 159128
لیکن دوران وضو ہر ہر عضو کے دھونے سے پہلے مذکورہ دعاؤں کو پڑھنا اور اس کے پڑھنے کا فتوی دینا بے سند اور بے بنیاد ہے۔ یہ دعائیں کہیں بھی منقول نہیں ہے۔
نہ نبی کریم ﷺ سے یہ دعائیں منقول ہیں۔
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے۔۔۔۔
نہ اتباع تابعین سے۔۔۔۔۔۔
نہ ائمہ محدثین سے۔۔۔۔۔
نہ حدیث کی کسی کتاب میں۔۔۔۔۔
صحیح تو کیا ؛ کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی کسی روایت میں یہ دعائیں منقول نہیں ہیں۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ اپنی کتاب "زاد المعاد" میں لکھتے ہیں:
ولم يحفظ عنه أنه كان يقول على وضوئه شيئا غير التسمية، وكل حديث في أذكار الوضوء الذي يقال عليه فكذب مختلق، لم يقل رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا منه، ولا علمه لأمته، ولا ثبت عنه غير التسمية في أوله، وقوله: أشْهَدُ أنْ لا إله إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيك لَهُ، وأشْهَدُ أنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَوَّابِينَ، واجْعَلْني مِنَ المُتَطَهِّرِينَ في آخره، وفي حديث آخر في سنن النسائي مما يقال بعد الوضوء أيضاً : سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ وبِحَمْدِكَ، أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إِلاَّ أنْتَ، أسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إِلَيْكَ. انتهى .
(وضو کے شروع میں بسم اللہ کے علاوہ نبی کریم ﷺ سے کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ اذکار وضو کے سلسلے میں جو روایات بیان کی جاتی ہیں وہ سب جھوٹ اور گھڑی ہوئی ہیں، وہ ہر گز نبی ﷺ کی حدیث نہیں ہیں۔ نہ امت کو نبی ﷺ نے اس کی تعلیم دی ہے اور نہ بسم اللہ کے علاوہ وضو کے شروع میں کوئی چیز ثابت ہے۔ آپ ﷺ سے وضو کے اخیر میں اشْهَدُ أنْ لا إله إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيك لَهُ، وأشْهَدُ أنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَوَّابِينَ، واجْعَلْني مِنَ المُتَطَهِّرِينَ اور ایک روایت میں : سُبْحانَكَ اللَّهُمَّ وبِحَمْدِكَ، أشْهَدُ أنْ لا إلهَ إِلاَّ أنْتَ، أسْتَغْفِرُكَ وأتُوبُ إِلَيْكَ۔ کہنا ثابت ہے۔)
(زاد المعاد : حافظ ابن قیم)
علامہ نووی الاذکار میں لکھتے ہیں:
"وأما الدعاء على أعضاء الوضوء فلم يجئ فيه شيء عن النبي صلى الله عليه وسلم. "
(الأذكار : ص 30)
(اعضاء وضو کو دھونے کی دعاؤں میں سے نبی کریم ﷺ سے کچھ بھی منقول نہیں ہے۔)
چونکہ کتاب و سنت میں یہ عمل کہیں بھی مذکور نہیں ہے، اسی لیے فتاویٰ لجنہ دائمہ میں اس کو بدعت قرار دیا ہے :
لم يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم دعاء أثناء الوضوء ، وما يدعو به العامة عند غسل كل عضو بدعة ، مثل قولهم عند غسل الوجه : (اللهم بيض وجهي يوم تسود الوجوه) وقولهم : عند غسل اليدين : (اللهم أعطني كتابي بيميني ، ولا تعطني كتابي بشمالي ) إلى غير ذلك من الأدعية عند سائر أعضاء الوضوء".
(فتاوى اللجنةالدائمة :5/221)
(دوران وضو نبی کریم ﷺ سے کوئی دعا ثابت نہیں ہے، اور (حنفی تقلیدی )عوام الناس کے ذریعہ ہر عضو کے دھونے کے وقت جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ بدعت ہے۔ مثلاً چہرہ دھونے کی دعا جسے ان لوگوں نے ایجاد کیا ہے : اللهم بيض وجهي يوم تسود الوجوه، اسی طرح دونوں ہاتھوں کو دھونے وقت کی دعا : اللهم أعطني كتابي بيميني ، ولا تعطني كتابي بشمالي۔)
(فتاوى اللجنةالدائمة :5/221)
ان حقائق کے باوجود وضو میں اعضاء وضو کو دھونے کی الگ الگ دعائیں پڑھنے کا دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے کے ذریعہ فتوی دیا جانا اور اس پر مستزاد یہ کہ ان من گھڑت دعاؤں کو منقول بتانا انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔
دارالعلوم دیوبند سے سائل نے اپنے سوال میں واضح طور سے یہ پوچھا تھا کہ کیا ہر عضو کے دھوتے وقت رسول اللہ ﷺ سے دعا ثابت ہے ؟
اس سوال کے جواب میں دارالعلوم دیوبند کو صرف وہ دعائیں بتانی چاہیے تھی جو نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ ہیں، بصورت دیگر سائل کی صحیح رہنمائی کرتے ہوے یہ واضح کردینا چاہیے تھا کہ اس سلسلے میں نبی ﷺ سے کوئی دعا ثابت نہیں ہے۔
سائل نے اپنے سوال میں امداد، درر اور درمختار جیسی فقہی کتابوں کے بے سند حوالے ہرگز طلب نہیں کیے تھے، شاید ان حوالوں کی حقیقت سائل کو پہلے سے پتہ تھیں، جس چیز کا پتہ پوچھا وہ تو آپ نے لا پتہ کر دیا اور جو چیز پہلے سے ہی سائل کو پتہ تھی اس پر آپ نے لمباچوڑا مضمون نگاری کردیا۔
الامان والحفيظ!
اس فتوے کا جواب ملنے پر سائل نے یہ ضرور کہا ہوگا:
سوال کرکے میں خود ہی بہت پشیماں ہوں
جواب دے کے مجھے اور شرمسار نہ کر!
وضو کے شروع میں تسمیہ ( بسم اللہ) اور وضو کے بعد درج ذیل دعا کے علاوہ کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ وضو کے بعد کی دعائیں:
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الْإِبِلِ فَجَاءَتْ نَوْبَتِي فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، مُقْبِلٌ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» قَالَ فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدَيَّ يَقُولُ: الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ قَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا، قَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُبْلِغُ - أَوْ فَيُسْبِغُ - الْوَضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں : ہمارے ذمے اونٹ چرانے کا کام تھا ، میری باری آئی ، تو میں شام کے وقت ان کو چرا کر واپس لایا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ کھڑے ہو کر لوگوں کو کچھ ارشاد فرما رہے تھے ، مجھے آپ کی یہ بات ( سننے کو ) ملی :’’ جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ میں نے کہا : کیا خوب بات ہے یہ ! تو میرے سامنے ایک کہنے والا کہنے لگا : اس سے پہلے والی بات اس سے بھی زیادہ عمدہ ہے ۔ میں نے دیکھا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے کہا : میں نے دیکھا ہے تم ابھی آئے ہو ، آپ ﷺ نے ( اس سے پہلے ) فرمایا تھا :’’ تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے ( یا خوب اچھی طرح وضو کرے ) پھر یہ کہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، جس سے چاہے داخل ہو جائے ۔‘‘
(صحیح مسلم: حدیث نمبر : 234)
سنن ترمذی میں ہے:
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر یوں کہے: :
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ۔
تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے وہ جس سے بھی چاہے جنت میں داخل ہو“۔
(سنن ترمذی: حدیث نمبر : 55)
وضو کے بعد کی ایک اور دعا ہے جسے نسائی نے عمل الیوم والیلہ میں اور امام حاکم نے مستدرک میں ذکر کیا ہے اور جس کو محدثین نے موقوفا صحیح قرار دیا ہے گرچہ علاقہ البانی نے اس کے مرفوع ہونے کو بھی صحیح قرار دیا ہے جو کہ راجح معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس طرح کی باتیں صحابہ کرام اپنی رائے اور قیاس سے نہیں کر سکتے۔
من توضأ فقال: سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك كتب في رقٍ ثم طبع بطابع فلم يكسر إلى يوم القيامة.
جس نے وضو کے بعد یہ کہا:
سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك۔ تو اسے ایک پرچے میں لکھا دیا جاتا ہے، پھر اسے مہر بند کر دیا جاتا ہے اور اب سے قیامت تک نہیں توڑا جاۓ گا۔
(عمل الیوم والیل للنسائی)
خلاصہ: ۱) وضو کے شروع میں تسمیہ مشروع ہے۔
۲) ہر عضو کو الگ الگ دھونے کی کوئی دعا ثابت نہیں بلکہ یہ من گھڑت اور بدعت ہے۔
۳) وضو کے بعد درج ذیل دعائیں مسنون ہیں:
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ۔ سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!
No comments:
Post a Comment