السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع : قد قامت الصلوۃ کے جواب میں أقامَها اللهُ وأدامَها کہنا!
احناف کے یہاں اقامت کے الفاظ " قد قامت الصلوة " کا جواب " اقامھا الله و ادامها " کے ذریعہ دینے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
جیسا ان کے نزدیک معتبر اور مفتی بہ سمجھی جانے والی کتاب "در مختار" اور "کنز الدقائق" وغیرہ میں یہ عبارت موجود ہے:
(ویجیب الإقامۃ) ندباً إجماعاً (کالأذان) ویقول عند قد قامت الصلاۃ: أقامہا اللہ وأدامہا‘‘۔
( الدر المختار شرح تنویر الأبصار فی فقہ مذہب الامام أبی حنیفۃ 1؍ 400)
(اور اذان کی طرح اقامت کا بھی جواب دے اور " قد قامت الصلوۃ" کے وقت "اقامھا الله و ادامھا " کہے.)
مذکورہ بالا عبارت سے یہ واضح ہے کہ احناف کے نزدیک قد قامت الصلوۃ کے وقت اقامھا الله و ادامھا کے الفاظ دہراۓ جائیں گے۔
لیکن "قد قامت الصلوۃ" کے جواب میں "اقامھا الله و ادامھا" کہنا کسی بھی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے۔
اور سنن ابوداؤد کی جس روایت سے استدلال کیا جاتا ہے وہ کئی وجوہات کی بناء پر ناقابل استدلال ہے۔
چنانچہ وہ روایت مع سند درج ذیل ہے:
امام ابوداؤد فرماتے ہیں :
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَوْ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ بِلَالًا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ، فَلَمَّا أَنْ، قَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا ، وقَالَ فِي سَائِرِ الْإِقَامَةِ كَنَحْوِ حَدِيثِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْأَذَانِ.
( اہل شام کے ایک فرد نے شہر بن حوشب سے روایت کیا انہوں نے ابوامامہ یا نبی ﷺ کے کسی دوسرے صحابی سے روایت کیا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا شروع کی تو جب ( قد قامت الصلاة ) کہا تو نبی ﷺ نے کہا : ( أقامها الله وأدامها ) ’’ اللہ اسے قائم و دائم رکھے ۔‘‘ اور دیگر کلمات کے جواب میں اسی طرح کہا جیسے کہ مذکورہ بالا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزرا ہے۔)
(سنن ابوداؤد: حدیث نمبر : 528)
اس حدیث کے راوی محمد بن ثابت العبدی پر محدثین نے سخت کلام کیا ہے اور جمہور محدثین کے نزدیک یہ راوی ضعیف ہے۔
علامہ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
«وليس هو بالقوي عند اكثر المحدثين»
”اکثر محدثین کرام کے نزدیک یہ مضبوط راوی نہیں.“
(خلاصه الاحكام: ح: 559، نصب الرايه للزيلعي: 5/1،6)
"رجل من اهل الشام" نامعلوم اور ”مبہم“ ہے۔
اور مبہم راوی کی روایت جمہور محدثین کے نزدیک مردود و مطروح سمجھی جاتی ہے۔
یاد رکھیں! دین قرآن اور صحیح و ثقہ راویوں کے ذریعہ بیان کردہ احادیث کا نام ہے، نہ کہ مبہم اور نا معلوم راویوں کی روایت کا نام ہے۔
علامہ بن باز رحمہ اللہ نے قد قامت الصلوۃ کے جواب میں اقامھا الله و ادامها کہنے کے متعلق جو فتوی دیا ہے، وہ درج ذیل ہے۔
"أما (أقامها الله وأدامها) جاء فيه حديث ضعيف، والأفضل أن يقول: قد قامت الصلاة مثل المؤذن، يقول: قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة، بدلا من (أقامها الله وأدامها) لأن لفظة أقامها الله وأدامها جاء فيه خبر ضعيف، لا يصح عن النبي ﷺ وإنما يقال مثل ما قال النبي ﷺ: إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثلما يقول يعني يقول: قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة، في أذان الفجر إذا قال: الصلاة خير من النوم، يقول: الصلاة خير من النوم مثلها."
(اور جو ایک حدیث میں اقامھا الله و ادامها کہنے کے متعلق وارد ہوا ہے ، وہ روایت ضعیف ہے۔ بہتر یہی ہے کہ قد قامت الصلوۃ کے جواب میں قد قامت الصلوۃ ہی کہے جس طرح مؤذن کہتا ہے کیونکہ اقامھا الله و ادامها کے الفاظ جس روایت میں وارد ہے، وہ ضعیف ہے اور نبی کریم ﷺ سے صحیح سند سے ثابت ہی نہی ہے۔ اور جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :
اذا سمعتم المؤذن فقولوا مثلها (جب تم مؤذن سے سنو تو تم بھی اسی طرح دہراؤ).
یعنی قد قامت الصلاة کے جواب میں قد قامت الصلاة ہی کہے جیسا کہ اذان فجر میں الصلوۃ خیر من النوم کے جواب میں الصلوۃ خیر من النوم ہی کہے گا۔) (مجموع الفتاوی)
اس کے برعکس حنفی مفتیان اقامھا الله و ادامھا کہنے کو درست قرار دیتے ہیں اور مذکورہ کلمات کو نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ ہونے کا بے دلیل فتویٰ بھی جاری کرتے ہیں۔
چنانچہ علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی کا فتوی ملاحظہ کریں، جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ " قدقامت الصلاة" اور" الصلاة خیر من النوم" کے جواب میں جو کلمات ہم پڑھتے ہیں، اس کا ثبوت کہاں سے ہے؟ کیوں کہ بعض تحریرات سے اندازہ ہوا کہ یہ دونوں کلمات صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہیں. براہِ کرم تفصیل سے راہ نمائی فرمادیں!
جواب:
"قد قامت الصلاة" کے جواب میں "أقامها الله و أدامها" کہنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے البتہ "الصلاة خير من النوم" کے جواب میں "صدقت و بررت" کہنے کا ثبوت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے ثابت نہیں ہے۔ امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے:
" حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَوْ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بِلَالًا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ، فَلَمَّا أَنْ قَالَ: قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا، و قَالَ فِي سَائِرِ الْإِقَامَةِ كَنَحْوِ حَدِيثِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْأَذَانِ."
مذکورہ روایت کی سند پر اگرچہ محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم مذکورہ روایت جمہور فقہاءِ کرام کے نزدیک مقبول ہے، اور جس روایت کو جمہور اہلِ علم قبول کرلیں اس سے استدلال درست ہے، اس وجہ سے مذکورہ الفاظ سے جواب دینے کو مستحب قرار دیا ہے؛ لہذا مذکورہ الفاظ سے جواب دینے کو بے اصل قرار دینا درست نہیں۔
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری
فتوی نمبر: 143909201320
مذکورہ فتوے سے ظاہر ہے کہ سوال میں اقامھا الله و ادامھا کہنے کے متعلق صحیح احادیث کا مطالبہ کیا گیا تھا تو فتوے میں اپنے موقف کے متعلق کسی صحیح حدیث کا حوالہ دیا جاتا۔ لیکن کسی صحیح حدیث کا حوالہ دیے بغیر جس طرح تلبیس و تدلیس کا سہارا لیا گیا وہ قابل تعجب ہے۔
مفتی صاحب لکھتے ہیں:
"مذکورہ روایت کی سند پر اگرچہ محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم مذکورہ روایت جمہور فقہاءِ کرام کے نزدیک مقبول ہے، اور جس روایت کو جمہور اہلِ علم قبول کرلیں اس سے استدلال درست ہے۔"
لیکن۔۔۔۔۔۔
جمہور فقہاء کے نزدیک اس روایت کے مقبول ہونے کا دعویٰ بلا دلیل ہے۔
جس روایت کو اصول حدیث اور معیار محدثین پر ضعیف قرار دیا گیا ہو اسے کس دنیا کے جمہور اہل علم نے صحیح قرار دیا ہے؟
کیا مفتی صاحب کے جمہور اہل علم نے مل کر سند میں موجود مبہم اور نامعلوم شخص کا پتہ لگا لیا ہے؟
کیا اس جمہور اہل علم میں سے کسی نے مفتی صاحب کو اس نامعلوم شخص کا پتہ دے دیا ہے؟
کیا مفتی صاحب اس نامعلوم راوی کا پتہ اب امت کو دے سکتے ہیں؟
آپ کے جمہور فقہاء میں سے کس فقیہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا یے؟
اس کتاب کا نام کیا ہے جس میں اس روایت کو اس فقیہ نے صحیح قرار دیا ہے۔
محدثین اور اصول محدثین کے خلاف فقہاء کا راگ الاپنے والے احناف ذرا اپنے اکابر کا فتویٰ بھی ملاحظہ کرلیں۔
چنانچہ ملا علی قاری حنفی تذکرۃ الموضوعات میں فرماتے ہیں:
"صاحب ہدایہ یا دوسرے شارحین ہدایہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ فقہاء ہیں ، محدثین نہیں ہیں "
اس بات کو نقل کرنے کے بعد مولانا عبدالحئ حنفی فرماتے ہیں:
ملا علی قاری کی تحریر سے ایک بہت مفید بات معلوم ہوئی وہ یہ کہ فقہ کی کتابیں اگرچہ اپنی جگہ مسائل فقہی میں معتبر ہیں اور اگرچہ ان کے مصنفین بھی قابل اعتماد ہیں اور فقہاء کاملین میں سے ہیں لیکن ان سب کے باوجود ان سے جو حدیثیں نقل کی گئی ہیں ، ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ محض ان کتابوں میں ہونے کی وجہ سے ان کے ثبوت کا یقین کیا جا سکتا ہے۔
مقدمہ عمد ۃ الرعایہ: 13
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!
No comments:
Post a Comment