Tuesday, October 10, 2023

الصلوة خير من النوم کے جواب میں " صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ " کے الفاظ ‏اور ‏دارالعلوم ‏دیوبند ‏کے ‏مفتی ‏لفاظ ‏! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع:فجر کی اذان میں "الصلوة خير من النوم"  کے جواب میں " صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ " کے الفاظ اور دارالعلوم دیوبند کے مفتی لفاظ! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر! 

احناف کے یہاں عام طور سے اذان فجر کے الفاظ " الصلوة خير من النوم " کے جواب میں " صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ " کے الفاظ سکھاۓ اور پڑھاۓ جاتے ہیں۔ جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں بھی اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ 

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب پوچھا گیا : 
سوال: الصلاة خیر من النوم کا جواب حدیث کی روشنی میں تفصیل سے بتادیں۔

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
جواب: ”الصلاة خیر من النوم” کے جواب میں ”صدقت وبررت“ یا ”ماشاء اللہ کان ومالم یشأ لم یکن“ کہنا چاہیے۔ قال في المراقي:: وفي أذان الفجر قال المجیب صدقت وبررت ․․․ أو یقول ماشاء اللہ کان وما لم یشأ لم یکن عند قول الموٴذن في أذان الفجر ”الصلاة خیر من النوم“ تحاشیًا عما یشبہ الاستہزاء (ص: ۲۰۴)

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 50760

لیکن " الصلوۃ خیر من النوم" کے جواب میں صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ کے الفاظ کہنا کسی بھی مستند اور معتبر حوالے میں موجود نہیں ہے۔ 

صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ الفاظ مذکور ہو۔ 

نہ رسول ﷺ سے ثابت شدہ ہے۔(نہ قولاً نہ عملاً، نہ تقریرا) ۔۔۔۔ 
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے۔۔۔ 
نہ اتباع تابعین اور ائمہ محدثین رحمھم اللہ سے۔۔۔ 

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: 
لا أصل لما ذكروه في الصلاة خير من النوم.

(ان الفاظ کی کوئی اصل نہیں جس کو (گھڑنتو مفتیوں) نے الصلوۃ خیر من النوم کے جواب میں لکھا ہے۔ 

 التلخيص الحبير (1/222) 

ملا علی قاری حنفی کہتے ہیں: 
ليس له أصل، وكذا قولهم عند قول المؤذن: (الصلاة خير من النوم): صدقت وبررت وبالحق نطقت.

الصلوۃ خیر من النوم کے جواب میں صدقت و بررت و بالحق نطقت کہنے کی کوئی اصل نہی ہے۔ 

ابن ملقن کہتے ہیں: لم أقف عليه في كتب الحديث۔

الصلوۃ خیر من النوم کے جواب میں صدقت و بررت کے الفاظ مجھے کسی بھی کتب حدیث میں نہیں ملے۔ 

علامہ دمیری لکھتے ہیں 
وادعى ابن الرفعة أن خبرا ورد فيه لا يعرف قائله.

جو روایت اس قول کے ثبوت میں وارد ہے اس کی کوئی اصل نہیں

( ابن الملقن في تخريج أحاديث الرافعي) 

جناب مولوی عاشق الٰہی بلند شہری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: 
الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ کے جواب میں کوئی خاص کلمات کہنا ثابت نہیں ہے۔ قُولْوا مِثْلَ مَا یَقُولْ (اسی طرح کہو جیسے مؤذن کہے) کا تقاضہ یہ ہے کہ جواب دینے والا بھی ‏‏‏‏‏‏الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ کہے اور اس سے اپنے نفس کو خطاب کرے اور حنفیہ شافعیہ کی کتابوں میں جو یہ لکھا ہے کہ اس کے جواب میں صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ کہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔ “ ( حاشیہ حصن حصین از عاشق الٰھی دیوبندی : 255 )

علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی پاکستانی نے بھی اپنے فتوے میں اس کے ثبوت سے انکار کیا ہے: 

چنانچہ لکھتے ہیں: "الصلاة خير من النوم" کے جواب میں "صدقت و بررت" کہنے کا ثبوت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے ثابت نہیں ہے۔ 

دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر:143909201320

لیکن افسو ! آج صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر آمنا و صدقنا کہنے والے دیوبندی اور رضاخانی مفتیوں کا ٹولہ اپنے گھر کے فتوے سے بے خبر، عوام کو بدعت و ضلالت کی دعوت دینے پر تلا ہوا ہے۔ 
حد تو یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے سے جب الصلوۃ خیر من النوم کا جواب حدیث کی روشنی میں دریافت کیا جاتا ہے تو حدیث کی روشنی میں جواب دینے کے بجائے جس تقلیدی کلا بازی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ہر متبع سنت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ 

وہ سوال و جواب ملاحظہ کریں۔ 

سوال: الصلاة خیر من النوم کا جواب حدیث کی روشنی میں تفصیل سے بتادیں۔

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
جواب: ”الصلاة خیر من النوم” کے جواب میں ”صدقت وبررت“ یا ”ماشاء اللہ کان ومالم یشأ لم یکن“ کہنا چاہیے۔ قال في المراقي:: وفي أذان الفجر قال المجیب صدقت وبررت ․․․ أو یقول ماشاء اللہ کان وما لم یشأ لم یکن عند قول الموٴذن في أذان الفجر ”الصلاة خیر من النوم“ تحاشیًا عما یشبہ الاستہزاء (ص: ۲۰۴)

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 50760

جیساکہ آپ نے بخوبی اس فتوے کو ملاحظہ کرلیا ۔ 

کیا سائل کے سوال اور منشاء کو مد نظر رکھتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کو اپنے فتوے میں کسی حدیث کا حوالہ نہیں دینا چاہیے یا سائل کو یہ نہیں بتانا چاہیے تھا کہ اس سلسلے میں رسول ﷺ سے کوئی حدیث وارد ہے کہ نہیں ؟؟
اور در اصل سوال کے طریقے سے سائل کا منشا بھی یہی ظاہر ہوتا کہ وہ اس عمل کے متعلق حدیث رسول ﷺ سے دلیل کا طالب ہے۔
یہ کیسا فتوی ہے جس میں نہ قرآن ہے نہ حدیث ہے نہ اجماع ہے نہ قیاس ہے۔ 
یہ سراسر دین میں اختراع نہیں تو کیا ہے؟ 
ایسے ہی شریعت ساز مفتیوں کے متعلق اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : 
اَمْ لَـهُـمْ شُرَكَآءُ شَرَعُوْا لَـهُـمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْ بِهِ اللّـٰهُ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِىَ بَيْنَـهُـمْ ۗ وَاِنَّ الظَّالِمِيْنَ لَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ (21)

کیا ان کے اور شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کا وہ طریقہ نکالا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی، اور اگر فیصلہ کا وعدہ نہ ہوا ہوتا تو ان کا دنیا ہی میں فیصلہ ہوگیا ہوتا، اور بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے
(سورہ شوری : آیت نمبر : 21) 
 اور ایسے شریعت ساز رہبانیوں کو اپنا مفتی ماننے والے تقلیدی عوام الناس کے متعلق اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: 

اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَانَهُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَالۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ‌ ۚ وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَـعۡبُدُوۡۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا‌ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ ؕ سُبۡحٰنَهٗ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‏ ۞
ترجمہ:

انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور پیروں کو خدا بنا لیا ہے اور مسیح ابن مریم کو (بھی) حالانکہ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ یہ صرف ایک خدا کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ ان کے خود ساختہ شرکاء سے پاک ہے۔ 
(سورہ توبہ آیت نمبر: 31)

اب ایسے من گھڑت عمل کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کا فتوی بھی ملاحظہ کریں: 

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.
جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا طریقہ نہیں تھا تو وہ عمل مردود ہے۔ 
(صحیح مسلم : حدیث نمبر : 4493)

واضح ہو کہ الصلوۃ خیر من النوم کے جواب میں الصلوۃ خیر من النوم کے الفاظ ہی دہراۓ جائیں گے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے۔ إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ المُؤَذِّنُ۔ 
جب تم اذان سنو تو وہی دہراؤ جو مؤذن کہ رہا ہے۔ 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر : 611) 

ان الفاظ کے عموم سے پتہ چلتا ہے کہ اذان سننے والا بعینہ وہی الفاظ دہراۓ جو مؤذن کہ رہا ہے۔ صرف دو کلمات اذان صحیح احادیث سے مستثنیٰ ہیں۔ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، اور حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، ان کے جواب میں ‏‏‏‏ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہا جائے گا۔
 
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مؤذن اللہ اکبر ، اللہ اکبر کہے تو تم میں سے ( ہر ) ایک اللہ اکبر اللہ اکبر كہے ، پھر وہ ( مؤذن ) کہے أشهد أن لا الہ إلا الله تو وہ بھی کہے : أشهد أن لا إله إلا الله پھر ( مؤذن ) أشهد أن محمد رسول الله کہے تو وہ بھی أشهد أن محمدا رسول الله کہے ، پھر وہ ( مؤذن ) حي على الصلاة کہے تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر مؤذن حي على الفلاح کہے ، تو وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کہے ، پھر ( مؤذن ) اللہ اکبر اللہ اکبر کہے ، تو وہ بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کہے ، پھر ( مؤذن ) لا إله إلا الله کہے تو وہ بھی اپنے دل سے لا إله إلا الله کہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ 
(صحیح مسلم : حدیث نمبر: 385) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه آمين!!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...