السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!!
مولانا اقبال قاسمی سلفی
عیدین کی نماز میں تکبیرات زائدہ کتنی ہیں، 12 یا 6؟؟
احناف عیدین کی نماز 6 زائد تکبیروں کے ساتھ ادا کرتے ہیں، جبکہ اہل حدیث، سارے محدثین ،امام شافعی،امام مالک، امام حنبل اور حرمین شریفین میں لوگ 12 زائد تکبیروں(پہلی رکعت میں قرات سے پہلے سات اور دوسی رکعت میں قرات سے پہلے پانج تکبیریں)کے ساتھ عیدین کی نماز ادا کرتے ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم بتائیں گے کہ
(1) عیدین کی نماز میں مسنون زائد تکبیرات 12 ہی ہیں۔ یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےیہی ثابت شدہ ہے۔ ۔ 2) اصول حدیث کی روشنی میں بھی 12 تکبیرات کی مرفوع روایت صحیح ہے۔
3) جمہور محدثین کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے۔
4) اس حدیث کے ایک راوی عبداللہ بن عبدالرحمن الطائفی کے متعلق محدثین کے جرح و تعدیل کے اقوال۔
5) حنفیوں کے علاوہ ساری دنیا شروع سے آج تک عیدین کی نماز 12 تکبیروں کے ساتھ ہی ادا کرتی رہی ہے۔
6) امام ابوحنیفہ کے دو مشہور شاگرد امام محمد اور ابویوسف کا عمل بھی 12 تکبیروں پر رہا ہے۔
اب دلیل ملاحظہ کریں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّكْبِيرُ فِي الْفِطْرِ سَبْعٌ فِي الْأُولَى، وَخَمْسٌ فِي الْآخِرَةِ، وَالْقِرَاءَةُ بَعْدَهُمَا كِلْتَيْهِمَا۔
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں، اور دونوں میں قرأت تکبیر ( زوائد ) کے بعد ہے ۔
(ابوداؤد:1151 صحیح)
اس کے علاوہ یہ حدیث ابن ماجہ:1278،مسند احمد:2852، مصنف عبد الرزاق:5677، شرح معانی الآثار، دار قطنی اور بیہقی میں بھی موجود ہے۔
حافظ ابن حجر اس حدیث کے متعلق تلخیص الحبیر میں فرماتے ہیں:
"وصححه احمد و على والبخاري فيما حكاه الترمذي".(اس حدیث کو امام احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور امام بخاری نے صحیح قرار دیا ہے، جسے ترمذی نے حکایت کیا ہے۔)
ا
(لتلخيص الحبير:ج5 ص47)
امام شوکانی (م) نیل الاوطار میں لکھتے ہیں:" حديث عمرو بن شعيب قال العراقي:اسناده صالح، و نقل الترمذي في العلل المفردة عن البخاري انه قال:انه حديث صحيح ".( عمرو بن شعیب کی حدیث کے متعلق امام عراقی کہتے ہیں:اس کی سند صالح ہے۔ اور امام ترمذی علل مفردہ میں امام بخاری سے نقل کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔)
(نیل الاوطار:ج3 ص 354،
ترتیب العلل الکبیر:154)
وحسنه النووي في "الخلاصة" (2/831) ، وصححه الألباني في "صحيح أبي داود"۔
حافظ زیلعی حنفی رحمۃ اللہ علیہ تخریج ہدایہ میں لکھتے ہیں:
قال النووی فی الخلاصہ قال الترمذی فی العلل سألت البخاري عنه فقال:هو
صحيح.
نووی نے خلاصہ میں لکھا ہے کہ ترمذی نے کہا میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تو امام بخاری نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔
اس حدیث کے ایک راوی عبداللہ بن عبدالرحمن الطائفی پر محدثین کے جرح و تعدیل کے اقوال :
أبو أحمد بن عدي الجرجاني : أحاديثه مستقيمة، وهو ممن يكتب حديثه
(ابن عدی:الکامل)
ابن عدی نے کہا:اس کی احادیث درست ہیں
امام عجلی نے کہا ثقۃ۔ (التاریخ المشہور بالثقات)
أبو جعفر العقيلي : نقل قول ابن معين: صويلح
ابو جعفر عقیلی نے ابن معین کا قول نقل کرتے ہوئے صویلح کہا ہے۔
أحمد بن شعيب النسائي : ويكتب حديثه، ومرة: ليس به بأس
امام نسائی کہتے ہیں: اس کی حدیثیں لکھی جائیں گی، اور کبھی یہ بھی کہا کہ اس راوی میں کوئی حرج نہیں ہے۔
امام نسائی سے اس راوی کے بارے میں جرح بھی منقول ہے۔
مغلطائی حنفی نے اس کی ایک حدیث کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔
شرح سنن ابن ماجہ:111
ابن کثیر نے حسن الاسناد قرار دیا ہے۔ مقدمہ ابن کثیر۔ 1/50
الدارقطني : يعتبر به
امام دار قطنی کہتے ہیں اس کا اعتبار کیا جائے گا۔
علي بن المديني : ثقة
علی بن مدینی نے کہا یہ ثقہ ہے۔
محمد بن إسماعيل البخاري : مقارب الحديث
امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ مقارب الحديث ہے۔
يحيى بن معين : صالح
ومرة: ليس به بأس، ومرة قال: صويلح، ومرة: ضعيف
یحییٰ بن معین کبھی صالح، کبھی صویلح کبھی کہتے ہیں "کوئی حرج نہیں ہے" اور کبھی ضعیف بھی۔
اور ابن معین سے جس راوی کے بارے میں توثیق و تضعیف دونوں منقول ہو تو وہ راوی ضعیف نہیں ہوا کرتا کیونکہ ابن معین اس سے زیادہ ثقہ راوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے اسے کبھی ضعیف کہ دیتے ہیں جیسا کہ حافظ ابن حجر نے بذل الماعون میں اس کی صراحت کی ہے۔
ابن حبان نے اس راوی کی توثیق کی ہے۔
روى له مسلم.
صحیح مسلم میں اس کی روایت ہے۔
۔ حدیث نمبر:2255
امام ترمذی نے اس کی روایت کو حسن قرار دیا یے۔ (سنن ترمذی:باب ما جاء فی الشفعہ)
ابن خزیمہ نے صحیح ابن خزیمہ میں اس کی روایت کو ذکر کیا ہے۔ 1778
علامہ ہیثمی نے اس کی توثیق کی ہے۔ مجمع الزوائد 3/9، السلسۃ الصحیحہ 2918
امام بغوی نے اس کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
شرح السنہ:باب الشعر والرجز۔
بوصیری (صحح له) زوائد ابن ماجةماجة:702)
(مقالات زبیر علی زئی ج5 ص233)
ابو حاتم نے ليس هو بالقوي هو لين الحديث اور امام نسائی نے ليس هو بالقوي کہا ہے۔ لیکن ان کی جرح معتبر نہیں ہے۔
1) کیونکہ جمہور محدثین نے اس کی توثیق کی ہے۔
2)یہ جرحیں مبہم ہیں اور اصول حدیث میں یہ ثابت شدہ ہے کہ جب کسی راوی میں جرح مبہم اور تعدیل دونوں جمع ہو تو جرح مبہم قادح نہیں ہوتی۔
3)ابو حاتم، نسائی اور یحییٰ بن معین متعنتین فی الرجال میں سے ہیں اور متعنتین کی تعدیل معتبر ہوتی ہے جرح نہیں مگر جبکہ کوئی غیر متشدد فی الرجال ان کے موافق ہو۔ مگر یہاں ایسا کوئی نہیں بلکہ اکثریت نے ان کی تعدیل ہی کی ہے۔
4) امام بخاری سے اس راوی کے بارے میں منقول جرح فيه نظر طائفی پر جرح نہیں ہے بلکہ ان کی بیان کردہ ایک ضعیف السند روایت پر جرح ہے۔ یعنی فی حديثه نظر.
(مقالات زبیر علی زئی ج5 ص233)
اہل مدینہ کا عمل بارہ تکبیروں پر تھا
مؤطا امام مالک
کتاب: کتاب العیدین
حدیث نمبر: 388
عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ شَهِدْتُ الْأَضْحَی وَالْفِطْرَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَکَبَّرَ فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی سَبْعَ تَکْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَائَةِ وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسَ تَکْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَائَةِ
رواه مالكٌ في الموطأ (619) وصحح إسناده الألباني في (إرواء الغليل) (3/110).
نافع سے روایت ہے کہ میں نے نماز پڑھی عید الضحی اور عید الفطر کی ساتھ ابوہریرہ (رض) کے تو پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہیں قبل قرأت کے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قبل قرأت ۔
اس کے بعد امام مالک کہتے ہیں:
وهو الامر عندنا. ہمارے نزدیک بھی معاملہ ایسا ہی ہے یعنی بارہ تکبیرات ہی کہی جاتی ہیں۔
قال الشافعيُّ: (فِعْل أبي هريرة بين ظهراني المهاجرين والأنصار أَوْلى؛ لأنَّه لو خالَف ما عرَفوه وورثوه أَنكروه عليه وعلَّموه، وليس ذلك كفِعل رجلٍ في بلدٍ كلُّهم يتعلَّم منه) (التمهيد) (16/39) وقال ابنُ عبد البر: (مثل هذا لا يكون رأيًا، ولا يكون إلا توقيفًا.(التمهيد) (16/37).
ابن عبد البر کہتے ہیں:و جرا عليه عمل اهل المدينة (بارہ تکبیروں پر اہل مدینہ کا عمل جاری ہوگیا۔) (الاتدستذكار:8/53)
عبداللہ بن احمد کہتے ہیں: میرے والد امام احمد بن حنبل نے کہا :و انا اذهب الى هذا. اور میرا مسلک بھی یہی ہے (کہ بارہ تکبیرات کہی جائیں۔ مسند احمد:2852)
قال النووي رحمه الله :
"مذهبنا أن في الأولى سبعا , وفي الثانية خمسا ، وحكاه الخطابي في " معالم السنن " عن أكثر العلماء , وحكاه صاحب الحاوي عن أكثر الصحابة والتابعين , وحكاه عن ابن عمر ، وابن عباس ، وأبي هريرة ، وأبي سعيد الخدري ، ويحيى الأنصاري ، والزهري ، ومالك ، والأوزاعي ، وأحمد ، وإسحق , وحكاه المحاملي عن أبي بكر الصديق ، وعمر ، وعلي ، وزيد بن ثابت ، وعائشة رضي الله عنهم , وحكاه العبدري أيضا عن الليث ، وأبي يوسف ، وداود" انتهى .
"المجموع" (5/24-25)
امام نووی کہتے ہیں:
ہمارا مذہب بھی پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں سات تکبیروں کا ہے۔خطابی نے معالم السنن میں اکثر علماء کا یہی موقف بیان کیا ہے۔ صاحب حاوی نے اکثر صحابہ اور تابعین سے یہی بیان کیا ہے۔ ابن عمر، ابن عباس، ابو ہریرەؓ، ابو سعید خدری، یحییٰ انصاری، امام زہری امام مالک، امام اوزاعی، امام احمد، امام اسحاق سے انہوں نے یہی روایت ہے کیا ہے۔ محاملی نے ابوبکر صدیق، عمر فاروق، حضرت علی ، زیدبن ثابت اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے اسے ہی روایت کیا ہے۔ اور امام عبدی نے بھی لیث، امام ابویوسف اور داود سے بھی بارہ تکبیرات ہی بیان کیا ہے۔
امام ترمذی بارہ تکبیروں کے متعلق کہتے ہیں:
اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے مدینے میں اسی طرح یہ نماز پڑھی،
۵- اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے، اور یہی مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ (سنن ترمذی:536)
امام بیہقی فرماتے ہیں:
"والحديث المسند ، مع ما عليه من عمل المسلمين أولى أن يتبع" انتهى .
السنن الكبرى" (3/291)
"عیدین میں بارہ تکبیرات کہنے کی حدیث مسند آئی ہے۔ اسی پر تمام مسلمانوں کا عمل ہے، پس اس حدیث مسند کے مطابق عمل کرنا اولی ہے"۔
مزید لکھتے ہیں:
نخالفه في عدد التكببرات و تقديمهن على القراءة في الركعتين لحديث رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم فعل اهل الحرمين و عمل المسلمين الى يومنا هذا.
چونکہ بارہ تکبیروں کا ثبوت رسول ﷺ کی حدیث سے ہے۔ اور ہمارے زمانے تک اہل حرمین شریفین اور عامۃ المسلمین کا عمل بارہ تکبیروں پر ہے۔ اس لئے ہم لوگوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کی مخالفت کی ہے اور 12 تکبیروں پر عمل کیا ہے۔
(بحوالہ مقالات مبارکپوری ص 205)
ائمہ احناف میں سے امام ابو ابویوسف اور امام محمد کا عمل بارہ تکبیروں پر رہا ہے۔
چنانچہ رد مختار میں ہے:
روي عن أبي يوسف ومحمد، فإنهما فعلا ذلك لان هارون أمرهما أن يكبرا بتكبير جده، ففعلا ذلك امتثالا له، لا مذهبا واعتقادا. قال في المعراج: لان طاعة الامام فيما ليس بمعصية واجبة اه. ومنهم من جزم بأن ذلك رواية عنهما، بل في المجتبى وعن أبي يوسف أنه رجع إلى هذا، ثم ذكر غير واحد من المشايخ أن المختار العمل برواية الزيادة: أي زيادة تكبيرة في عيد الفطر، وبرواية النقصان في عيد الأضحى عملا بالروايتين وتخفيفا في الأضحى لاشتغال الناس بالأضاحي.
امام ابو یوسف اور امام محمد سے مروی ہے، دونوں بارہ تکبیرات ہی کہا کرتے تھے کیونکہ خلیفہ ہارون رشید نے ان دونوں کو یہ حکم دے رکھا تھا کہ یہ دونوں ان کے جد امجد عبداللہ بن عباس کی طرح بارہ تکبیریں ہی کہا کریں۔ لہذا ان دونوں اماموں نے ہارون رشید کے حکم کی تعمیل(نہ کہ سنت رسول کی پیروی) کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔ اپنا مذہب اور عقیدہ جان کر نہیں۔ فیاللعجب!! پھر بعض لوگوں نے جو یقین کے ساتھ یہ بات کہی ہے تو ان دونوں سے بارہ تکبیرات کی روایت بھی ہے۔ بلکہ "مجتبیٰ" میں امام ابویوسف سے یہ مروی ہے کہ انہوں نے بارہ تکبیرات ہی کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ اس کے بعد بھی بہت سارے مشائخ حنیفہ سے مذکور ہے کہ زیادہ یعنی بارہ تکبیرات پر عمل کرنا ہی پسندیدہ یے۔۔۔۔۔
بہت ڈرامہ خیز انداز ہے۔ چنانچہ آگے بھی ملاحظہ کریں۔ فرماتے ہیں:
والمذهب عندنا قول ابن مسعود. وما ذكروا من عمل العامة بقول ابن عباس لأمر أولاده من الخلفاء به كان في زمنهم، أما فزماننا فقد زال، فالعمل الآن بما هو المذهب عندنا، كذا في شرح المنية وذكر في البحر أن الخلاف في الأولوية، ونحوه في الحلية.والمذهب عندنا قول ابن مسعود. وما ذكروا من عمل العامة بقول ابن عباس لأمر أولاده من الخلفاء به كان في زمنهم، أما فزماننا فقد زال، فالعمل الآن بما هو المذهب عندنا، كذا في شرح المنية وذكر في البحر أن الخلاف في الأولوية، ونحوه في الحلية.
ہمارا مذہب ابن مسعود رضی اللہ کا قول ہے۔
اور عامۃ المسلمین کا جو بارہ تکبیرات کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے قول کی وجہ سے ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے بعد آنے والے خلفاء کو اسی بات کی وصیت کر دی تھی۔ رہا ہمارا زمانہ تو اب 12 تکبیرات کا عمل زائل(منسوخ) ہو گیا۔ اب تو ہم اپنے مسلک پر ہی عمل کریں گے۔ (حاشیہ رد مختارمختار، ابن عابدین:ج:2، ص:186، 187)
How many takbeers are there in Eid prayers, 12 or 6 ?? The Hanafis offer Eid prayers with 6 takbeers, while Ahlul-Hadeeth, all the muhaddithin, Imam Shafi'i, Imam Malik, Imam Hanbal and people in the two holy shrines offer Eid prayers 12 takbeers. In this post, we will explain that there are only 12 takbeers in Eid prayers. That is, the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) performed the Eid prayers with 12 more takbeers. Evidence: The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: There are seven takbeers in the first rak'ah of Eid al-Fitr and five takbeers in the second rak'ah, and the recitation in both is after the takbeer. (Abu Dawud: 1151 Sahih) In addition, this hadith is also found in Ibn Majah: 1278, Musnad Ahmad: 2852, author Abdul Razzaq: 5677, Sharh Ma'ani Al-Athar, Dar Qatani and Bayhaqi. Al-Haafiz Ibn Hajar says in a summary of this hadeeth in al-Hubayr: Imam Shoukani (may Allah be pleased with him) writes in Nil al-Awtar: Regarding the hadeeth of Amr ibn Shuayb, Imam al-Iraqi says: Its chain of transmission is Saleh. Al-Nawawi in Al-Khalasah (2/831), and Al-Albani in Sahih Abi Dawood. Hafiz Zailai Hanafi (may Allah have mercy on him) writes in Takhrij Hidayah: Al-Nawawi said in summary: Nawawi has written in the summary that Tirmidhi said that he asked Imam Bukhari about this hadith and Imam Bukhari said that this hadith is saheeh. One of the narrators of this hadith, Abdullah ibn Abdul Rahman al-Taifi, has been quoted by the narrators as follows: Abu Ja'far Aqeeli, quoting Ibn Mu'in, said: Ahmad ibn Shoaib al-Nisa'i: He wrote the hadeeth, and he said: It is not enough. The narration of this narrator is also narrated from Imam Nisa'i. The Mughal Hanafi has declared one of his hadiths as Sahih al-Isnad. Sharh Sunan Ibn Majah: 111 Ibn Katheer has declared Hasan al-Isnad. Case of Ibn Kathir. 1/50 Al-Dar Qatani: Imam Dar Qatani says it will be trusted. Ali ibn al-Madini: Trust Ali ibn al-Madini said that it is trustworthy. Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari: Muqarib al-Hadith Imam Bukhari says that it is Muqarib al-Hadith. Yahya ibn Mu'in: Saleh and Ma'rat: Not enough, and Ma'rat Qal: Sawil, and Ma'r: Da'eef And the narrator who is narrated from Ibn Mu'in about both confirmation and weakness is not weak, because Ibn Mu'in sometimes attributes it to a more trustworthy narrator and calls him weak, as Hafiz Ibn Hajar said in Bazl al-Ma'un. It is explicit.
Ibn Habban has confirmed this narrator. From the Muslim. It is narrated in Sahih Muslim. ۔ Hadith No. 2255. Imam Tirmidhi called his narration beautiful. Ibn Khuzaymah has narrated it in Sahih Ibn Khuzaymah. 1778 Allama Haitham has confirmed it. Majma 'al-Zawaid 3/9, Al-Silsa al-Sahiha 2918 Imam Baghawi has declared his hadith to be saheeh. Sharh al-Sunnah: The chapter on poetry and rhymes. Al-Busayri (Sahih) Zawaid Ibn Majmajah: 702) (Articles of Zubair Ali Zai vol. 5 p. 233) But their argument is not credible. 1) Because the majority of narrators have confirmed it. 2) These arguments are ambiguous and it has been proved in the principles of hadith that when a narrator has both ambiguous arguments and modifications, the ambiguous arguments are not valid. 3) Abu Hatim, Nisa'i and Yahya ibn Mu'in are among the mut'atin per al-rijal, and the modification of the mut'atin is valid. But there is no such thing here and the majority has modified them. 4) The narration narrated from Imam Bukhari about this narrator is not a narration on the view of Taifi, but a narration on a weak chain of narrators narrated by him. That is, in a hadith commentary. (Articles of Zubair Ali Zai vol. 5 p. 233) The people of Madinah acted on twelve takbeers. Seven takbeers before recitation in rak'ah and five takbeers before recitation in the second rak'ah. Then Imam Malik says: This is also the case with us, that is, only twelve takbeers are said. Ibn 'Abd al-Barr says: Abdullah ibn Ahmad said: My father Imam Ahmad ibn Hanbal said: And this is also my view (to say twelve takbeers. Musnad Ahmad: 2852) Qal Al-Nawawi (may God have mercy on him): This is the position of most of the scholars in Ma'alim al-Sunan. This is what Sahib Hawi has said to most of his companions and followers. This is the narration from Ibn Umar, Ibn Abbas, Abu Huraira, Abu Saeed Al-Khudri, Yahya Ansari, Imam Zuhri, Imam Malik, Imam Ozai, Imam Ahmad and Imam Ishaq. Mahamali has narrated it from Abu Bakr Siddiq, Umar Farooq, Hazrat Ali, Zaid bin Thabit and Ayesha. And Imam Abdi has also narrated twelve takbeers from Laith, Imam Abu Yusuf and Dawood. Imam al-Tirmidhi says about the twelve takbeers: And it is narrated from Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) that he offered this prayer in Madinah in the same way. Ahmed and Ishaq ibn Rahawiyah also say. (Sunan al-Tirmidhi: 536) Imam Bayhaqi says: “Sunan al-Kubra” (3/291). This is the practice of all Muslims, so it is better to act according to this hadith.
He further writes: Since the proof of the twelve takbeers is from the hadith of the Prophet (peace be upon him). And until our time, the practice of the Ahl al-Haramain and the general Muslims is based on the twelve takbeers. Therefore, we have opposed the saying of Ibn Mas'ud and have followed the 12 takbeers. (Refer to Mubarakpuri Articles, p. 205) Among the Hanafi Imams, Imam Abu Abu Yusuf and Imam Muhammad have acted on twelve takbeers. Therefore, it is narrated in Mukhtar: It is narrated from Imam Abu Yusuf and Imam Muhammad, both of them used to say twelve takbeers because Caliph Harun Rashid had ordered them both to recite twelve takbeers like their ancestor Abdullah bin Abbas. Just say Therefore, these two Imams did so in obedience to the order of Haroon Rashid (not following the Sunnah of the Prophet). Wonderful !! Then there is the tradition of twelve takbeers from both of them who have said this with certainty. On the contrary, it is narrated from Imam Abu Yusuf in Mujtaba that he had referred to only twelve takbeers. Even after this, it is mentioned by many Hanafi scholars that it is better to follow twelve takbeers. So look no further! Our religion is the saying of Ibn Mas'ud. And the twelve takbeers mentioned by the general Muslims are due to the saying of Abdullah ibn Abbas, may Allah bless him and grant him peace, because he bequeathed this to his successors. As for our time, now the practice of 12 takbeers has been abolished. Now we will follow our profession. Hashiya Radde Mukhtar, Ibn Abedin: vol. 2, pp. 186, 187)