بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
نماز میں اگر امام کو سہو ہو جاۓ تو مقتدی الله اكبر کے ذریعے لقمہ دے یا سبحان الله کہہ کر امام کو متنبہ کرے۔!!
نماز میں امام سے بھول چوک سرزد ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ بحیثیت انسان امام الانبیاء امام اعظم اللہ کے رسول ﷺ سے غلطیاں ہوئی ہیں اور ان غلطیوں میں بھی امت کے لئے بہت ساری تعلیمات پوشیدہ تھیں۔
نماز میں امام اگر بھول کا شکار ہوجاۓ تو مقتدی امام کو کن الفاظ کے ساتھ متنبہ کریں گے ، عموماً حنفی مساجد میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ نماز میں امام سے اگر کوئی سہو یا نسیان ہوجاۓ تو اسے متنبہ کرنے کے لئے تکبیر یعنی" الله اكبر" کہا کرتے ہیں۔
لیکن یہ سنت سے ثابت نہیں ہے۔ صحیح تو کیا کسی ضعیف حدیث میں بھی موجود نہیں ہے۔
صحیح اور مسنون طریقہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں مرد مقتدیوں کو الله اكبر کے بجائے سبحان الله کہنا چاہئیے۔
دلیل!!
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ .
(صحيح البخاري:1203)
حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں امام کو متنبہ کرنے کا طریقہ مردوں کے لئے سبحان الله کہنا ہے اور عورتوں کے لئے تالی بجانا ہے۔
سھل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے صحیح بخاری میں اس حدیث کا پورا سیاق موجود ہے :
حضرت سھل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خبر پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں باہم کوئی جھگڑا پیدا ہو گیا ہے تو آپ چند صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ ملاپ کرانے کے لیے وہاں تشریف لے گئے ۔ رسول اللہ ﷺ ابھی مشغول ہی تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا ۔ اس لیے بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ابھی تک تشریف نہیں لائے ۔ ادھر نماز کا وقت ہو گیا ہے ۔ کیا آپ لوگوں کی امامت کریں گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اگر تم چاہو ۔ چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر تکبیر ( تحریمہ ) کہی ۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ بھی صفوں سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے ۔ لوگوں نے ( حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگاہ کرنے کے لیے ) ہاتھ پر ہاتھ بجانے شروع کر دیئے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف دھیان نہیں دیا کرتے تھے ۔ جب لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں تو آپ متوجہ ہوئے اور کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہیں ۔ آنحضور ﷺ نے اشارہ سے انہیں نماز پڑھاتے رہنے کے لیے کہا ، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور الٹے پاؤں پیچھے کی طرف آ کر صف میں کھڑے ہو گئے پھر رسول اللہ ﷺ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی ۔ نماز کے بعد آپ نے فرمایا ۔ لوگو ! نماز میں ایک امر پیش آیا تو تم لوگ ہاتھ پر ہاتھ کیوں مارنے لگے تھے ، یہ دستک دینا تو صرف عورتوں کے لیے ہے ۔ جس کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو سبحان الله کہے کیونکہ جب بھی کوئی سبحان الله سنے گا وہ ادھر خیال کرے گا اور اے ابوبکر ! میرے اشارے کے باوجود تم لوگوں کو نماز کیوں نہیں پڑھاتے رہے ؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کی کیا مجال تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھائے
(صحيح البخاري:1234)
صحیح بخاری کے علاوہ یہ حدیث صحیح مسلم، سنن ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد،سنن دارمی، سنن نسائی صغریٰ، مسند الحمیدی، صحیفہ ھمام بن منبہ اور دوسری کتب حدیث میں بھی موجود ہے۔
علامہ یوسف بنوری حنفی دیوبندی پاکستانی نے بھی مسئلہ ہذا کے متعلق ایک سوال کے جواب میں یہ لکھا ہے کہ حدیث سے ایسا ہی ثابت ہے۔
سوال :
اگر امام قیام کی جگہ قعدہ کے لیے بیٹھ جائے تو مقتدی کس طرح لقمہ دے گا؟ اور اگر قعدہ کی جگہ قیام کے لیے کھڑا ہو جائے تو کس طرح لقمہ دینا ہوگا؟ مطلب یہ کہ لقمہ کس قسم الفاظ کہنا ہوگا؟
جواب:
اگر اپنے امام کی کسی بھی غلطی کی بنا پر مرد مقتدیوں کو لقمہ دینے کی ضرورت پیش آئے تو مقتدی کو ’’سبحان اللہ ‘‘ کہنا چاہیے، حدیث سے ایسا ہی ثابت ہے۔
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر : 144109201718
دارالعلوم دیوبند نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:
سوال:
امام کو لقمہ اللہ اکبر یا سبحان اللہ کہ کر دیا جائے ؟
جواب :
دونوں طرح لقمہ دے سکتے ہیں؛ البتہ بہتر یہ ہے کہ سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دیا جائے؛ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: التسبیحُ للرجال والتصفیقُ للنساء.
ترجمہ : نماز میں امام کو متنبہ کرنے کا طریقہ مردوں کے لئے سبحان الله کہنا ہے اور عورتوں کے لئے تالی بجانا ہے۔
(صحیح مسلم ۱/ ۱۸۰)
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر:61667
نوٹ:دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں درج یہ بات کہ "دونوں طرح لقمہ دے سکتے ہیں" بے دلیل اور بے بنیاد ہونے کی وجہ سے مردود اور ناقابل عمل ہے۔
رضاخانی مکتب فکر نے بھی مسئلہ ہذا میں " سبحان الله" کے ذریعے لقمہ دینے کو بہتر قرار دیا ہے، ملاحظہ کریں!
سوال :
ظہر یا عصر کی نماز میں اگر امام صاحب دوسری رکعت میں بھول کر سلام پھیرنے لگیں یا تیسری رکعت پر بیٹھیں تو لقمہ کیسے دیا جائے الله اکبر کہنا صحیح ہے یا سبحان الله کہنا چاہئیے مدلل جواب عنایت فرمائیں
الجواب :
امام نماز میں قرأت کے علاوہ کہیں بھی بھولے تو تسبیح یعنی سبحان الله کہہ کر لقمہ دینا افضل ہے ۔
جیسا کہ نبی رحمت صلی الله تعالی علیہ وسلم کی حدیث ہے "من نابه شيئ في صلاته فليسبح فانه اذا سبح التفت اليه”
تـــــــرجــــمہ: جس شخص کی نماز میں کوئی معاملہ(کمی، زیادتی) پیش آجائے تو سبحان الله کہے جب سبحان الله کہاجائےگا تو امام متوجہ ہوجائےگا ۔
(صحيح البخاري : كتاب الاذان)
تکبیر یعنی الله اکبر کہہ کر بھی لقمہ دینا جائز ہے ۔
جیسا کہ صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی تحریر فرماتےہیں کہ "مقتدی کو ایسے موقعہ پر جبکہ امام کو متوجہ کرنا ہو سبحان الله یا الله اکبر کہنا جائز ہے جس سے امام کو خیال ہوجائے اور نمازکو درست کرلے” (فتاوی امجدیہ )
لیکن سبحان الله کہہ کر لقمہ دینا بہتر ہے لقوله صلي الله عليه وسلم" التسبيح للرجال والتصفيق للنساء "ترجمہ:سبحان الله مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔
واللہ تعالي اعلم .
محمد مسعود رضا اسماعیلی مرکزی خادم میرانی دارالافتاء
رضاخانی مفتی امجد علی کا نماز میں بھول جانے کی صورت میں" الله اكبر "کہنے کو بھی جائز قرار دینا دارالعلوم دیوبند کے فتوے کی طرح بے دلیل اور بے بنیاد ہونے کی وجہ سے مردود اور ناقابل عمل ہے۔
عورتیں کس طرح تالی بجائیں گی، اس ضمن میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شارح بخاری فرماتے ہیں:
نماز کے دوران میں اگر امام کو کسی امر کے لئے متنبہ کرنا ہو تو مسنون یہ ہے کہ مرد «سبحان الله» کہیں مگر عورت تالی بجائے اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر مارے، نہ کہ معروف تالی کی طرح کیونکہ یہ لہوولعب ہے اور نماز میں لہوولعب جائز نہیں۔ عورتوں کو تسبیح کہنے سے اس لئے روکا گیا ہے کہ ان کی آواز کسی فتنے کا باعث نہ بنے اور مردوں کو تالی سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ یہ عورتوں کا کام ہے۔ (فتح الباری)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
No comments:
Post a Comment