بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
شب قدر کی تلاش!!!
رمضان المبارک کا اخیر عشرہ الوداعی عشرہ ہے، لہذا اس عشرے میں ہر مسلمان کو بقیہ عشروں کی بہ نسبت زیادہ عبادت کرنی چاہئیے۔
نبی کریم ﷺ اس عشرے میں عبادت کے لئے اپنی کمر کس لیا کرتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے روایت ہے کہ
جب ( رمضان کا ) آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ اپنا تہبند مضبوط باندھتے ( یعنی اپنی کمر پوری طرح کس لیتے ) اور ان راتوں میں آپ خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے.
(صحيح البخاري:2024)
صحیح مسلم کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ ( رمضان کے ) آخری دس دن ( عبادت ) میں اس قدر محنت کرتے جتنی عام دنوں میں نہیں کرتے تھے ۔ ( اور عام دنوں میں بھی آپ ﷺ بہت زیادہ محنت کرتے تھے
(صحيح مسلم:2788)
یہ اخیر عشرہ اس وجہ سے بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی عشرے میں ایک رات ایسی آتی ہے
جس میں عبادت ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ہزار رات یعنی تراسی سال چار مہینے کی عبادت سے اس ایک رات کی عبادت بہتر ہے۔
اسی لئے نبی کریم ﷺ نے اخیر عشرے میں اسے تلاش و جستجو کی کثرت سے ترغیب دی ہے۔
اسے کب تلاش کریں؟ آیا صرف ستائیس کی شب کو جیسا کہ اکثر احناف کیا کرتے ہیں یا صرف طاق راتوں کو!! احادیث میں تو متعدد راتوں کا ذکر آیا ہے۔
1) بعض روایتوں میں اسے اخیر عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ۔
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو ۔ (صحيح البخاري:2017)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو ، جب نو راتیں باقی رہ جائیں یا پانچ راتیں باقی رہ جائیں ۔ ( یعنی اکیسوئیں یا تئیسوئیں یا پچیسوئیں راتوں میں شب قدر کو تلاش کرو ) ۔
(صحيح البخاري:2021)
2) درج ذیل روایتوں میں مطلقاً اخیر عشرے میں تلاش کرنے کوکہا گیا:
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا سے روایت ہے کہ:
نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے اور فرماتے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر کو تلاش کرو ۔
(صحيح البخاري:2020)
3) شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کیا جائے :
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ:
نبی کریم ﷺ کے چند اصحاب کو شب قدر خواب میں ( رمضان کی ) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی تھی ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سب کے خواب سات آخری تاریخوں پر متفق ہو گئے ہیں ۔ اس لیے جسے اس کی تلاش ہو وہ اسی ہفتہ کی آخری ( طاق ) راتوں میں تلاش کرے ۔
(صحيح البخاري:2015)
4) درج ذیل روایت سے پتہ چلتا ہے کہ شب قدر ستائیسویں شب ہے:
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :’’ ستائیسویں کی رات شب قدر ہے ۔‘‘
(سنن ابوداؤد:1386)
5) درج ذیل روایت میں طاق راتوں(21، 23،25،27،29)کے علاوہ آخری رات یعنی تیس کو بھی (رمضان تیس ہونے کی صورت میں) تلاش کرنے کو کہا گیا:
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ﷺ! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:یہ رات ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں یا رمضان کی آخری رات ہوتی ہے۔جو بندہ اس میں ایمان و ثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔
(مسند احمد:22815)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ قدر کی راتیں رمضان المبارک کے اخیر عشرے میں تو آتی ہیں مگر کسی متعین طاق یا جفت راتوں میں نہیں آتی ہیں ۔
احادیث کے مجموعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ متعدد راتیں 21، 23، 25، 27، 29 بھی ہوسکتی ہیں اور 20، 22، 24، 28، 30 کی جفت راتیں بھی ۔
صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اسے رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو ، تم اسے نویں ، ساتویں اور پانچویں ( رات ) میں تلاش کرو ۔ ( ابونضرہ نے ) کہا : میں نے کہا : ابوسعید ! ہماری نسبت آپ اس گنتی کو زیادہ جانتے ہیں ۔ انھوں نے کہا : ہاں ، ہم اسے جاننے کے تم سے زیادہ حقدار ہیں ۔ میں نے پوچھا : نویں ، ساتویں اور پانچویں سے کیا مراد ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : جب اکیس راتیں گزر جائیں تو اب جو اس کے بعد آئے گی وہ بائیسویں رات ہے یہی نویں رات ہے، پھر جب تئیس راتیں گزر جائیں اب اس کے بعد جو آئے گی وہ ساتویں رات ہے، پھر جب پچیس راتیں گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے۔
(صحيح مسلم:1167)
اس سے معلوم ہوا کہ شب قدر رمضان المبارک کے اخیر عشرے کی جفت راتوں یعنی 22، 24 ، 26، 28 ، 30 میں بھی ہوسکتی ہیں کیونکہ یہی جفت راتیں مہینے کے تیس دن ہونے کی صورت میں باعتبار اختتام طاق راتیں بن جاتی ہیں اور مہینے کا شمار نبی کریم ﷺ نے آغاز اور اختتام دونوں اعتبار سے کیا ہے
جیسا کہ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، شب قدر رمضان کے ( آخری ) عشرہ میں پڑتی ہے ۔ جب نو راتیں گزر جائیں یا سات باقی رہ جائیں ۔ آپ کی مراد شب قدر سے تھی ۔
عبدالوہاب نے ایوب اور خالد سے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ شب قدر کو چوبیس تاریخ ( کی رات ) میں تلاش کرو ۔
(صحيح البخاري:2022)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہی بات صحیح ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے) لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں آتی ہے لیکن یہ طاق راتیں گزشتہ ایام کے اعتبار سے 21، 23، 25، 27، اور 29 بنتی ہیں جبکہ باقی راتوں کے اعتبار سے طاق راتیں الگ بنیں گے، جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے کہ: "شب قدر تلاش کرو ، جب 9 راتیں باقی رہ جائیں، 7 راتیں باقی رہ جائیں، 5 راتیں باقی رہ جائیں اور 3 راتیں باقی رہ جائیں"۔
اس بنا پر: اگر مہینہ 30 دنوں کا ہو تو مذکورہ حدیث کے مطابق جفت راتوں کو طاق راتیں بنیں گی لہذا بائیسویں رات نویں باقی رہ جانے والی رات ہو گی، چوبیسویں رات ساتویں باقی رہ جانے والی رات ہو گی، یہی وضاحت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی صحیح حدیث میں کی ہے، اور اسی کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرمایا، اور اگر مہینہ 29 دنوں کا ہو تو پھر مہینے کے آغاز اور اختتام دونوں اعتبار سے طاق راتیں ایک ہی ہوں گی۔
تو اگر معاملہ ایسا ہے تو پھر اہل ایمان کو شب قدر پورے آخری عشرے میں تلاش کرنی چاہیے، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان بھی ہے کہ: "اس رات کو آخری عشرے میں تلاش کرو۔" ختم شد
"مجموع الفتاوى"(25/ 284)
ابن عطیہ رحمہ اللہ اپنی تفسیر: (5/ 505) میں لکھتے ہیں:
"لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں گھومتی ہے، یہی موقف صحیح اور قابل اعتماد ہے، چنانچہ طاق رات کا اعتبار مہینے کے 30 یا 29 دونوں اعتبار سے دیکھنا ہو گا، لہذا شب قدر کے متلاشی کو چاہیے کہ 20 ویں رات سے ہی آخری عشرے کی ہر رات میں مہینے کے آخر تک شب قدر تلاش کرے۔
اس لئے اگر کوئی یقینی طور پر شب قدر کو پانا چاہتا ہے تو اسے پورے اخیر عشرے میں تلاش کرنی چاہئے۔
اور نبی کریم ﷺ کا یہی فرمان بھی ہے۔ اس لئے شب قدر کو صرف طاق راتوں میں یا اخیر عشرے کی کسی ایک رات میں تلاش کرنے کے بجائے اسے پورے عشرے میں تلاش کی جانی چاہئیے۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
No comments:
Post a Comment