بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
سحری میں لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے مسجد کے مالک سے اعلان کرنا!!
اکثر ایسا دیکھا جاتا ہے کہ سحری کے وقت لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے مسجد کے مائک سے اعلان کیا جاتا ہے، وقفے وقفے سے لوگوں کو یہ اطلاع دی جاتی کہ اتنے بج کر اتنے منٹ ہو گئے ہیں اور ختم سحری میں اتنے منٹ رہ گئے ہیں لہذا جلد سے جلد سحری سے فارغ ہولیں۔
اور کتنی مسجدیں تو ایسی بھی ہیں جہاں آدھی رات گذرتے ہی مسجد کے مناروں سے قوالوں کی قوالیاں سنائی دینے لگتی ہیں۔
لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا کرکے بہت بڑا کارثواب کررہے ہیں اور بہت بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں جبکہ یہ خدمت نہیں بلکہ بدعت پر عمل کرہے ہیں اور ایسا عمل کرکے یہ کار ثواب نہیں بلکہ اپنے کار عذاب میں اضافہ فرما رہے ہیں۔
کیونکہ رمضان المبارک کے روزے تو سنہ دو ھجری میں ہی فرض کیے گئے تھے،
اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگي میں نوبرس رمضان المبارک کے روزے رکھے ۔
ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھن اجمعین نے روزے رکھے۔
خلفاء راشدین نے روزے رکھے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے روزے رکھے
محدثین فقہائے عظام نے روزے رکھے
لیکن کیا ان میں سے کسی نے ایسا کیا یا ایسا کرنے کو کہا؟؟
آج تو الحمد للہ ہم میں سے ہر کسی کے پاس گھڑی ہے، موبائل میں الارم ہے، لیکن آج سے چودہ سو سال پہلے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے زمانے میں آج کی موڈلائزڈ گھڑیاں تھیں اور نہ ہی الارم والے موبائل تھے، انہیں آج کی بہ نسبت اعلان کی کہیں زیادہ ضرورت تھی , اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر تھوڑی دیر کے وقفے سے لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے کسی صحابی کی ڈیوٹی لگا دیتے جو مدینے کی گلیوں میں گھوم گھوم کر "اٹھو!!سحری کھا لو! سحر قریب ہے! " کی صدا لگاتا پھرتا۔
لیکن اس سنہرے دور کی سنہری سنت کیا ہے، آئیے ذرا دیکھتے ہیں:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلال رضی اللہ عنہ رات میں اذان دیتے ہیں۔ اس لیے تم لوگ سحری کھا پی سکتے ہو یہاں تک کہ ( فجر کے لیے ) دوسری اذان پکاری جائے۔“ یا ( یہ فرمایا ) یہاں تک کہ ”عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان سن لو۔“ عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور جب تک ان سے کہا نہ جاتا صبح ہو گئی ہے، وہ اذان نہیں دیتے تھے۔
(صحیح بخاری:2565)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ:
نبیﷺ کے دور مبارک میں صلاۃ فجر کے لیے دو اذانیں ہوا کرتی تھیں۔ ایک فجرکے طلوع سے پہلے ( تاکہ لوگ جاگ جائیں اور حوائج ضروریہ سے فارغ ہولیں کیونکہ قدرتی طور پر اس وقت باقی نمازوں کے اوقات کے مقابل میں زیادہ مصروفیت ہوتی ہے۔ اگر ایک اذان پر اکتفا کرتے تو لوگ جماعت سے رہ جاتے ) اور دوسری اذان طلوع فجر کے بعد , نماز فجر کا قرب ظاہر کرنے کے لیے تاکہ لوگ گھروں سے چل پڑیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان اور اقامت میں زیادہ فاصلہ نہیں فرماتے تھے بلکہ اندھیرے میں نماز شروع فرماتے تھے۔ پہلی اذان بلال رضی اللہ عنہ کہتے اور دوسری ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ۔
واضح ہوکہ یہ پہلی اذان نہ تو تہجد کے لیے ہوا کرتی تتھی اور نہ ہی سحری کے لیے، کیونکہ تہجد نفل ہیں اور نفل نماز کے لیے اذان نہیں، جیسے صلاۃ عید، صلاۃ کسوف، صلاۃ استسقا اور تراویح وغیرہ، لہٰذا تہجد کے لیے بھی اذان نہیں ہو تی تھی ۔ سحری ویسے ہی اذان غیر متعلق ہے۔ کیونکہ کھانے پینے کا اذان سے کیا تعلق ہے، اذان تو اسلام میں نماز کے لیے ہے مشروع ہوئی ہے نہ کہ کھانے پینے کی اطلاع دینے کے لئے۔ ہاں! ان دو اذانوں سے کوئی سحری کا فائدہ اٹھانا چاہے تو اٹھا لے، منع نہیں جیسا کہ حدیث کے اندر اشارہ موجود ہے۔
آج سحری میں قوالی سنانے کی ضرورت اس لئے پڑتی ہے کیونکہ ہمیں سحری میں گھنٹوں وقت ضائع کرنے کی عادت پڑ چکی ہے۔
سحری کب کرنی چاہئیے، نبی کریم ﷺ سحری کب کھایا کرتے تھے آئیے ملاحظہ کرتے ہیں:
صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، قُلْتُ : كَمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالسَّحُورِ ؟ قَالَ : قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً ۔
نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہم نے سحری کھائی ، پھر آپ ﷺ صبح کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے ۔ میں نے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں ( پڑھنے ) کے موافق فاصلہ ہوتا تھا ۔
(صحیح بخاری:1925)
یعنی اذان سے بیس بائیس منٹ پہلے سحری کھانا مسنون ہے۔
سحری میں اذان سے گھنٹوں قبل مائک پر قوالیوں کا لطف لینا نہ یہ صرف شرعی رو سے ایک امر قبیح ہے بلکہ ہم برادران وطن کے ساتھ جس مخلوط سماج میں رہتے ہیں ، انہیں ایذارسانی کا سبب بنتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ اسی ایذارسانی کا نام اسلام ہے، اسلام نے ہی ہمیں سکھایا ہے کہ ہم مسجد کے مناروں سے لاؤڈ اسپیکر کے فل ساؤنڈ پر جوف لیل میں لوگوں کو اس قدر پریشان کریں کہ لوگ ماہ رمضان سے ہی نہیں بلکہ مذہب اسلام سے پناہ مانگتے لگیں۔ غیر اسلامی ایجادات اور بدعات کو ہم اسلامی شعار بتاکر لوگوں کو دین سے دور کرنے کے بجائے کاش صحیح سنت نبوی ﷺ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے۔
اس بابت دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظہ کریں۔
سوال نمبر: 42068
سوال: آج کل رمضان المبارک کے مہینے میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ سحری کے وقت لاوڈاسپیکر پر قوالی یا کوئی واعظ وغیرہ بلند اواز میں لگا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے عبادت و تلاوت میں پریشانی ہوتی ہے اسکے علاوہ برادران وطن کی نیند خراب ہوتی ہیتو کیا یہ یہ فعل ایذا رسانی کے فعل میں داخل ہے، اگر ہے تو اسکی نکیر کی جانی ضروری ہے، اسکے علاوہ ہر ۰ منٹ کے بعد وقت بتلانے کا فعل کیسا ہے، کیا اسکی اجازت دی جا سکتی ہے۔ براہ کرم، وضاحت فرمائیں۔
جواب :
لوگوں کو جگانے کی خاطر لاوٴڈ اسپیکر پر قوالی یا تقریر وغیرہ کی کیسٹس چلانا حرام ہے، اس پر نکیر کرنا بلکہ بند کرنا ضروری اور واجب ہے، البتہ اگر ماہ مبارک میں سحری کا وقت ختم ہونے سے مثلاً ایک گھنٹہ قبل صرف ایک مرتبہ وقت بتلاکر اور اسی طرح سحری سے دس منٹ قبل وقت بتلاکر صرف اعلان کردیا جائے تاکہ سحری کھانے والے تیار کرنے والوں کو سہولت ہوجائے اگر اتنے سے اعلان سے بھی نمازیوں یا غیرمکلف لوگوں کو تکلیف ہو تو اس کو بھی نہ کیا جائے، دس دس منٹ کے وقفہ سے وقت بتانا بھی جائز نہیں۔
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
اسی طرح ایک دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ دیا ہے۔
سوال:
کیا مسجد کے مائک کا استعمال اس قسم کے اعلان کے لیے جائز ہے؟ فلانی پارٹی / تنظیم کی طرف سے روزہ افطار کی دعوت ہے، یا فری آنکھوں کی جانچ کیجئے۔ براہ کرم، اس پر روشنی ڈالیں۔
جواب :
مسجد کے مائک سے مذکورہ اعلان درست نہیں۔
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر: 21275
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
No comments:
Post a Comment