بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مولانا اقبال قاسمي سلفي
موضوع : سورة الحج کا سجدہ ثانی!
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
سورہ حج آیت نمبر 77میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (77)
اے ایمان والو! رکوع سجدہ کرتے رہو، اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ (پارہ :17)
صلاة التراويح میں حنفی حفاظ کرام جب سورہ حج کے اس دوسری آیت سجدہ پر پہنچتے ہیں تو سجدہ کرنے کے بجائے اسکپ skip کرجاتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سجدہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ہیں، نہ کہ ابوحنیفہ رحمہ الله کے یہاں۔
اور آپ کو یہ جان کر بڑی حیرت ہوگی کہ سورہ حج کے اس سجدہ ثانی کے حاشیے پر "السجدة عند الشافعي"(یہ سجدہ امام شافعی کے نزدیک ہے) لکھا ہوا ہوتا ہے، تقلید و تعصب کا ایسا منظر شاید ہی کہیں دیکھنے کو ملے گا کہ جس نے قرآن کو بھی الگ الگ سجدے یعنی حنفی سجدے اور شافعی سجدے کے لئے فرقہ وارانہ کھیل کا میدان بنادیا۔
آہ محکومی و تقلید و زوال تحقیق!
خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق!
اور افسوس تو یہ ہے کہ فرقوں والی یہ عبارت (جس میں فرقے والا سجدہ لکھا ہوا ہوتا ہے)اب بھی فرقہ پرستی کے علمبردار مکتبوں سے شائع ہو رہی ہے۔
حالانکہ فرقہ پرستوں کو شاید معلوم نہیں کہ یہ سجدے امام شافعی سے بہت پہلے امام الانبیاء امام اعظم حضرت محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین عظام رحمھم اللہ سے ثابت ہیں
اس لئے اگر لکھنا ہی تھا تو "السجدۃ عند الشافعي" لکھنے کے بجائے
"السجدة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وعند عمر و عند عبدالله بن عمر وعند أبى الدرداء و غيرهم من الصحابة رضي الله عنهم أجمعين" لکھنا چاہئیے تھا۔
یعنی یہ سجدے رسولِ اللہﷺ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی عنہما جیسے صحابہ کرام اور تابعین عظام کے نزدیک یہ سجدہ ہے۔
1) خاتم الانبیاءﷺ اور سورہ حج کے دونوں سجدے!
امام ابوداؤد فرماتے ہیں:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَبَا الْمُصْعَبِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں ؟ آپ نے فرمایا :’’ ہاں ! اور جو یہ نہ کرنا چاہے وہ ان کی تلاوت ہی نہ کرے ۔‘‘
)سنن ابو داؤد:1402)
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے سورہ حج کے دونوں سجدہ تلاوت پر سجدہ نہ کرنے والے کو زجر کرتے ہوئے یہ کہا کہ ایسا شخص اس سورہ کی تلاوت ہی نہ کرے جب وہ دونوں سجدے نہیں کرنا چاہتا۔
(اس حدیث کی سند پر بعض لوگوں نے کلام کیا ہے پہلا:ابن لہیعہ ہر۔
مگر ابن لہیعہ نے اس روایت کو اختلاط سے پہلے بیان کیا ہے نیز دوسرے مقام پر انہوں نے سماع کی تصریح بھی کر دی ہے۔
دوسرا : اس حدیث کی سند میں مشرح بن ھاعان راوی ہیں۔
جس کے بارے میں محدثین فرماتے ہیں:
علامه الذهبي فرماتے ہیں: ثقة، ومرة: صدوق۔
احمد بن حنبل فرماتے ہیں : معروف۔
أبو أحمد بن عدي الجرجاني فرماتے ہیں : أرجو أنه لا بأس به۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس راوی میں کوئی حرج نہیں۔
مصنفوا تحرير تقريب التهذيب : صدوق حسن الحديث، فقد روى عنه جمع، والصواب في أمره: ترك ما انفرد من الروايات، والاعتبار بما وافق الثقات۔
تحریر تقریب التہذیب کے مصنفین فرماتے ہیں:مشرح بن ھاعان راوی صدوق ہے، حسن الحدیث ہے، اس سے پوری ایک جماعت نے روایت کیا ہے، اور اس راوی کے معاملے میں درست بات یہ ہے کہ اس کی منفرد روایات کو ترک کردیا جائے گا اور جو روایت ثقہ راویوں کی روایت کے موافق ہوں گی انہیں معتبر سمجھا جائے گا۔
اس تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ یہ راوی حسن الحدیث ہیں اور یہ راویت حسن درجے کی ہے۔ نیز مشرح بن ھامان کی اس روایت میں متابعت بھی موجود ہے۔)
2) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ الْعُتَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ كُلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ، مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ، وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ.
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے ، ان میں سے تین جز ء مفصل ( آخری منزل ) میں ( سورۃ النجم ، سورۃ الانشقاق ، اور سورۃ العلق میں ) اور دو سورہ حج میں ہیں. (سنن ابوداؤد:1402)
اس حدیث کو امام نووی اور علامہ منذری نے حسن قرار دیا ہے جبکہ دوسرے لوگوں نے اس پر کلام کیا ہے کیونکہ اس میں ایک راوی عبداللہ بن منین مجہول الحال ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔احناف کے یہاں ضعیف حدیثوں پر دھڑلے سے عمل کیا جاتاہے اس لئے انہیں چنداں مضر نہیں۔
3) صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن عمر رضی عنھما اور سورہ حج کے دونوں سجدے!
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سورہ حج میں دو سجدے کرتے تھے۔ (مؤطا امام مالک: 483 و سندہ صحیح)
4) صحابی رسول سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ اور سورہ حج کے دونوں سجدے!
سیدنا عمر (بن الخطاب) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی تو سورہ حج میں دو سجدے کئے۔
(ابن ابي شيبه: 4288)
5) صحابی رسول سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ تعالی عنہ اور سورہ حج کے دونوں سجدے!
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورہ حج میں دو سجدے کرتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی و سندہ صحیح)
6) ابو اسحاق السبیعی تابعی کہتے ہیں: أدركت الناس منذ سبعين سنة يسجدون فى الحج سجدتين ”میں نے ستر (70) سال سے لوگوں کو سورہ حج میں دو سجدے (ہی) کرتے پایا ہے۔“ (ابن ابی شیبہ: 4295 و سندہ صحیح)
اس کے علاوہ ابوالعالیہ تابعی، زر بن جیش تابعی رحمھم اللہ بھی سورہ حج میں دو سجدے کیا کرتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ)
عبداللہ بن مبارک، امام شافعی،امام احمد بن حبنل اور اسحاق بن راہویہ رحمھم اللہ جیسے بلند پایہ محدثین بھی سورہ حج کے دونوں سجدوں کے قاعل وفاعل تھے۔ (سنن ترمذی:578)
ان دلائل کے ہوتے ہوئے فرقہ پرستوں کا یہ کہنا کہ اس میں نماز کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں سجدہ کے ساتھ ساتھ رکوع کا بھی حکم دیا گیا ہے، محض فرقہ پرستی اور قیاس آرائی ہے۔
اور اگر بالفرض نماز پڑھنے کا ہی حکم دیا گیا ہے تو اس سے سجدہ تلاوت کی نفی نہ جانے کیسے نکل آئی؟ قیاس کا تو تقاضا یہ تھا کہ اس مقام پر سجدہ کرنا اور مؤکد ہوجاتا۔
اگر اس مقام پر سجدے کے علاوہ رکوع کا حکم دیا گیا ہے تو سورہ الاعراف وغیرہ میں سجدے کے ساتھ اللہ کی عبادت کا بھی تذکرہ آیا ہے تو کیا وہاں بھی اس نکتہ سنجی کی زحمت گوارہ ہوگا کہ سورہ اعراف میں سجدہ تلاوت نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی مطلق عبادت کا حکم دیا گیا ہے۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
No comments:
Post a Comment