بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
نماز تراویح میں سر اور کندھے کو ہلانا!
صلاۃ التراویح میں تلاوت کرتے ہوئے بعض حفاظ کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جب وہ تلاوت کرتے ہیں تو سر اور کندھے کو کثرت کے ساتھ ہلاتے ہیں، جبکہ بعض حفاظ دوران تلاوت شدت کے ساتھ اپنے سروں کو گھماتے ہیں لیکن نماز میں ایسا کرنایعنی نماز میں سر،کندھے یا پاؤں وغیرہ کو کثرت کے ساتھ ہلانا نماز کے خشوع خضوع کے منافی ہے نیز تسلسل کے ساتھ ایسا کرنا عمل کثیرکہلاۓ گا جو کہ مفسد نماز بھی ہو سکتا ہے۔
نماز میں پورے اطمینان اور وقار کے ساتھ کھڑے رہنا ہی مطلوب ہے گویا ہم اپنے رب کو دیکھ رہے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
صَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّع، فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ
(سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 1914۔ حسن لغیرہ)
نماز اس طرح پڑھو گویا یہ تمہاری آخری نماز ہے۔ اور یہ تصور کرو کہ تم اپنے رب کو دیکھ رہے ہو اگر یہ نہ کرسکو تو اتنا ضرور خیال پیدا کرو کہ وہ تمہیں یقیناً دیکھ رہا ہے۔
صحابہ کرام سلام پھیرنے سے پہلے اپنے ہاتھوں سے بھی اشارے کر دیا کرتے تھے تو نبی ﷺ نے انہیں منع فرماتے ہوۓ ارشاد فرمایا کہ سرکش گھوڑوں کی طرح نہ ہلاؤ۔
جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے ہم السَّلَامُ عَلَيْکُمْ ور السَّلَامُ عَلَيْکُمْاورمسعر نے اپنے ہاتھ کودائیں بائیں اشارہ کرکے بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ لوگ اپنے ہاتھوں کواس طرح کیوں اٹھاتے ہیں جیسا کہ سرکش گھوڑے کی دم تم میں سے ہر ایک کے لئے کافی ہے کہ وہ اپنی ران پر ہاتھ رکھے پھر اپنے بھائی پر اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف سلام کرے۔
(المعجم الكبير للطبرانی رقم 1836 واسنادہ صحیح)
نماز میں نبی کریم ﷺ نے کنکریوں کو بھی ہٹانے اور صاف کرنے سے منع فرمایا ہے جبکہ اس کے لئے معمولی حرکت کی ضرورت ہے:
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں :’’ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو ( اللہ کی ) رحمت اس کے روبرو ہوتی ہے لہذا کنکریاں نہ چھوا کرے ۔
(سنن ابوداؤد:945)
اسی طرح صحیح مسلم میں روایت ہے:
حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں ہاتھ سے کنکریاں صاف کرنے کا تذکرہ کیا اور فرمایا :’’ اگر تمھارے لیے اسے کیے بغیر چارہ نہ ہو تو ایک بار ( کر لو . (صحیح مسلم:1219)
اس بابت دارالعلوم دیوبند نے اپنے فتوے میں لکھا ہے:
سوال:
مسجد کے امام صاحب نماز کے دوران قیام میں جب قرات کرتے ہیں تو وہ منڈی/گردن ہلاتے ہیں بجاے سجدے کی جگہ دیکھنے کے ۔کیا یہ صیح ہے ؟
جواب :
دورانِ نماز سکون اور وقار کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ قال تعالیٰ: وقوموا للہ قانتین۔ قرأت کے دوران امام صاحب کا گردن ہلانا خلافِ اولیٰ اور مکروہ ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر:146542
اسی طرح دارالعلوم دیوبند نے ایک دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:
سوال: (۱) کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام نماز میں عمل کثیرکیا ہے ؟ کب لازم آتا ہے ؟ اور عمل کثیر کی کیا کیا صورتیں ہیں؟ اور مندرجہ ذیل صورت حال میں نماز باقی رہے گی یا کہ لوٹانی پڑے گی؟ (۲) امام صاحب نماز کے کسی بھی رکن میں ایک بار خارش کریں تو نماز کی صحت پر کیا اثر پڑے گا، اگر دو بار کریں پھر کیا اثر پڑے گا اور اگر تین بار کریں پھر کیا اثر پڑے گا؟ (۳) امام صاحب رکوع سے اٹھتے وقت اپنی قمیض کو پیچھے یا آگے کی طرف سے ایک ہاتھ سے سیدھا کریں تو نماز کی صحت پر کیا اثر پڑے گا اور اگر دونوں ہاتھوں کا استعمال کریں تو نماز پر کیا اثر پڑے گا۔ اور کیا ایک ہاتھ سے قمیض کو سیدھا کر سکتے ہیں؟ (۴) امام صاحب سجدے میں جاتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں سے شلوار کو اوپر کی طرف کھینچیں اور پھر سجدے میں جائیں تو نماز کی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔ (۵) امام صاحب جب دونوں سجدوں کے درمیا ن جلسے میں بیٹھتے ہیں تو دونوں ہاتھوں سے اپنی قمیض کو سیدھا کرتے ہیں اس صورتحال میں نماز پر کیا اثر پڑے گا اور کیا ایک ہاتھ سے قمیض کو سیدھا کر سکتے ہیں؟ (۵) ہماری مسجد کے امام صاحب مندرجہ بالا تمام کام نماز میں کرتے ہیں کیا آیا اس صورت میں ہماری نماز ہو جاتی ہے یا نہیں اگر نہیں ہوتی تو ہم نے پچھلے چھ سال ان کے پیچھے نماز پڑھی ان نمازوں کا کیا حکم ہے اور مسجدکے امام کو بتایا جائے کہ وہ نماز میں عمل کثیر نہ کرے اگر پھر بھی کرے تو ہمارے لئے اس مسجد میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب نمبر: 146179
(۱) نماز پڑھتے ہوئے کو ئی ایسی حرکت کرنا کہ دیکھنے والا سمجھے کہ یہ شخص نماز میں نہیں ہے مثلاً ٹوپی اتار کر دونوں ہاتھوں سے کھجلانا یہ عمل کثیر ہے ۔
(۲) ایک مرتبہ کھجلانے سے نماز کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن بلا ضرورت ایسا کرنا اچھا نہیں، اسی طرح ایک مرتبہ ہاتھ اٹھا کر کھجلانے سے نماز کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
(۳، ۴، ۵) نماز میں رکوع سے اٹھتے ہوئے یا سجدہ میں جاتے ہوئے یا دونوں سجدوں کے درمیان جلسے میں بیٹھتے وقت دامن یا شلوار ٹھیک کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی ہے بشرطیکہ عمل کثیر نہ ہو، اور عمل قلیل کی عادت بنا لینا مکروہ ہے اس سے احتراز کرنا چاہئے۔ وکرہ عبثہ بثوبہ (شامی: ۲/۴۰۶۔ مکروہات الصلوة، ط: زکریا دیوبند)
(۶) امام صاحب کو ایسے امور سے جن سے نماز میں کراہت آتی ہو خاص طور سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
No comments:
Post a Comment