السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
تراویح میں سجدہ تلاوت سے کھڑے ہونے کے بعد سہوا سورہ فاتحہ پڑھ دینا!
دوران تراویح سجدہ تلاوت سے کھڑے ہوکر بسا اوقات حفاظ کرام سہوا سورہ فاتحہ کی تلاوت کردیا کرتے ہیں، جس سے حالت نماز میں ایک کشمکش پیدا ہوجاتی ہے، لوگ بعد نماز چہ مگوئیاں شروع کردیتے ہیں، بعض حفاظ سجدہ سہو کرتے ہیں تو بعض لاعلمی کے باعث پوری نماز اور اس رکعت میں پڑھی گئی پوری تلاوت کا اعادہ کر ڈالتے ہیں، ایک ہنگامہ آرائی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، لیکن ایسی صورت میں کسی ہنگامے کی ضرورت ہے، نہ سجدہ سہو کی اور نہ ہی پوری تلاوت کے اعادے کی۔ بلکہ ایسی صورت میں سورہ فاتحہ کی تکمیل کرتے ہوئے آگے کی تلاوت جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ سورہ فاتحہ بھی قرآن کریم کی سورتوں میں سے ایک سورۃ ہے بلکہ عظیم سورۃ ہے اور کسی سورہ کو نماز میں مکرر پڑھنا نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ ہے۔
معاذ بن عبداللہ جہنی کا بیان ہے کہ بنو جہینہ کے ایک شخص نے نبی ﷺ کو سنا کہ آپ فجر کی نماز میں دونوں رکعات میں ( إذا زلزلت الأرض ) پڑھ رہے تھے (سنن ابوداؤد:816)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو ایک مہم پر روانہ کیا۔ وہ صاحب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں ختم قل ھو اللہ احد پر کرتے تھے۔ جب لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ وہ یہ طرز عمل کیوں اختیار کئے ہوئے تھے۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ یہ اللہ کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا عزیز رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بتا دو کہ اللہ بھی انہیں عزیز رکھتا ہے۔
(صحيح البخاري:7375)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : نبی ﷺ نے صبح تک ایک ہی آیت بار بار پڑھتے ہوئے قیام فرمایا ۔ آیت یہ ہے : ﴿ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴾ ’’ اگر تو ان کو سزا دے تو بے شک وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو بے شک تو ہی غالب ہے ، بڑی حکمت والا ہے ۔‘‘
(سنن ابن ماجه:1350)
علامہ یوسف بنوری حنفی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
سوال:
ایک شخص نے آیتِ سجدہ پڑھی اور سجدہ کرکے جب تلاوت کے لیے کھڑا ہوا تب دوبارہ غلطی سے سورہ فاتحہ تلاوت کرنا شروع کر دیا۔ پوچھنا ہے کیا سورہ فاتحہ پوری یا دو چار آیت پڑھنے سے سجدہ سہو واجب ہوگا ؟
جواب:
اگر فرض کی پہلی دو رکعات یا تراویح کی کسی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد بقدرِ واجب قراءت کرنے کے بعد سورہ فاتحہ مکرر پڑھ لی تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ آیتِ سجدہ پر سجدہ کرنے کے بعد کھڑے ہوکر دوبارہ سورتِ فاتحہ پڑھنے کی وجہ سے سجدہ سہو واجب نہ ہوگا،
فتوی نمبر : 144008201476
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
دارالعلوم دیوبند اس بابت اپنے فتوے میں رقمطراز ہے:
سوال: اگر نمازتراویح میں امام آیت سجدہ کے بعد سورہ فاتحہ پڑھ لیتا ہے تو اس پر کیا حکم ہے مفتیانے کرم کا؟ نماز ہو جائیگی؟یا لوٹانی پڑیگی؟یا سہو سے نماز ہو جائیگی؟ اور کیا تمام آیتیں جو اس نماز میں پڑھی جا چکی دہرانی پڑے گی یا نہیں؟
جواب:
امام نے نماز تراویح میں آیت سجدہ تلاوت کرنے کے بعد سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوکر بجائے اس کے کہ جہاں سے قرآن پڑھنا تھا اس کو نہیں پڑھا بلکہ سورہٴ فاتحہ پڑھ لیا تو بھی اس کی نماز ہوجائے گی، سجدہٴ سہو واجب نہیں ہوگا۔ (۲) نہیں دہرانی پڑے گی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
سوال نمبر: 42382
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
No comments:
Post a Comment