بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
تراویح میں حفاظ کرام کا بحالت رکوع وسجود قرآن کریم کی تلاوت کرنا!
تراویح پڑھاتے ہوئے حفاظ کرام جب نسیان یا متشابہات کے شکار ہو تے ہیں تو اکثر رکوع کر لیا کرتے ہیں اور اس متشابہات یا نسیان سے نکلنے کی کوشش اور جدو جہد دوسری رکعت سے پہلے رکوع یا سجدے میں ہی شروع کر دیتے ہیں ۔
لیکن حفاظ کرام کی یہ کوشش اور جدوجہد یعنی رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنااور قرآن کی آیتیں دہرانا ایسا عمل ہے جس کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے،
جیساکہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ، أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ( دروازے کا ) پردہ اٹھایا ( اس وقت ) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے ۔ آپ نے فرمایا :’’ لوگو ! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے ( کسی دوسرے کو ) دکھایا جائے گا ۔ خبردار رہو ! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت و کبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو ، ( یہ دعا اس ) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے ۔(صحیح مسلم:1074)
علامہ یوسف بنوری حنفی اپنے فتوے میں لکھتے ہیں:
اگر حافظ صاحب تراویح کے دوران رکوع اور سجدے میں تسبیحات کی جگہ دل دل میں اگلی آیات پڑھتے رہتے ہیں یا زبان سے بھی آہستہ آہستہ دہرالیتے ہیں تو یہ درست نہیں ہے کیوں کہ رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن کریم پڑھنا منع ہے، باقی رکوع اور سجدے کی تسبیحات سنت ہیں ان کے ترک کرنے سے نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی، اور اگر حافظ صاحب رکوع اور سجدہ میں زبان سے اگلی آیت نہیں دہراتے، تسبیحات بھی پڑھتے رہتے ہیں، مگر دل ودماغ کو اگلی آیت سوچنے کی طرف متوجہ رکھتے ہیں، اس صورت میں نماز ہوجائے گی، لیکن ایسا کرنا بھی بہتر نہیں ہے
فتوی نمبر : 144109201505
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
مولانا احمد رضا خان حنفی بریلوی لکھتے ہیں:”قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اﷲ پڑھنابھی جائز نہیں کہ وہ آیۂ قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوااورجگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے۔“
(فتاوی رضویہ،جلد 6،صفحہ35)
واضح ہوکہ دعاء پر مشتمل جو قرانی آیتیں ہیں انہیں بطور دعا سجدے میں پڑھی جا سکتی ہیں اور پڑھنی چاہیے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:" جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو ، ( یہ دعا اس ) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے "۔(صحیح مسلم:1074)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
No comments:
Post a Comment