بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
نماز میں موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر کیا کریں!
آج کی زندگی میں موبائل فون ہماری زندگی کا جزو لاینفک بن گیا ہے، ہمارے ساتھ کچھ رہے یا نہ رہے موبائل ضرور ہوتا ہے، ہمہ وقت موبائل کی گھنٹی کانوں میں سنائی دیتی رہتی ہے، یہاں تک کہ لوگ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے سے پہلے بھی اسے خاموش (silent) کرنا بھول جاتے ہیں اور دوران نماز ہی اس کی دلخراش گھنٹیاں کانوں کے پردے سے ٹکراتے ہوے دل و دماغ میں اتر کر نماز کی روح کو فنا کر دیتی ہے۔
لیکن اس سے پہلے کہ یہ نمازیوں کی نماز کے خشوع و خضوع کو فنا کرے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم دوران نماز موبائل فون کی گھنٹی کو سائلنٹ یا بند کر سکتے ہیں؟؟
اکثر لوگ دوران نماز موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر اسے یونہی بجتے ہوۓ چھوڑ دیتے ہیں یہ سمجھ کر کہ نماز میں موبائل کو جیب سے نکال کر سائلنٹ یا بند کردینے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، جبکہ نماز میں فساد موبائل فون کی گھنٹی بند کردینے سے نہیں بلکہ اسے یونہی بجتے ہوۓ چھوڑ دینے سے پیدا ہوتا ہے ۔
دوران نماز موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر اسے سائلنٹ یا بند کردینے سے اس لئے بھی نماز فاسد نہیں ہوتی کیونکہ دوران نماز بوقت ضرورت معمولی نقل و حرکت کئے جا سکتے ہیں۔
امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں باضابطہ ایک عنوان ہی باندھا ہے "كتاب العمل في الصلاة"
یعنی "دوران نماز در پیش امور کے بارے میں"
اس عنوان کے تحت امام بخاری رحمہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوران نماز افعال کا تتبع کرتے ہوئے تقریباً32احادیث بیان کی ہیں، پھر ان پر اٹھارہ کے قریب چھوٹے چھوٹے عنوان قائم کرتے ہوئےمسائل کا استنباط اخراج کر کے اپنی فقہی بصیرت کا اعلی ترین نمونہ پیش کیا ہے۔
ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
1) نماز میں اگر کسی کو تھوکنے کی ضرورت پڑے تو بائیں جانب تھوک لے اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے ، اس لیے اس کو سامنے نہ تھوکنا چاہیے اور نہ دائیں طرف البتہ بائیں طرف اپنے قدم کے نیچے تھوک لے .
(صحيح البخاري:1214)
آج مسجدیں پکی ہونے کی صورت میں دوران نماز تھوکنے کی ضرورت پڑے تو نمازی اپنے کپڑے کا کنارہ ، دستی یا رومال وغیرہ کا استعمال کرے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قبلہ کی طرف ( دیوار پر ) بلغم دیکھا تو آپ نے خود اسے کھرچ ڈالا اور آپ کی ناخوشی کو محسوس کیا گیا یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا کہ ) اس کی وجہ سے آپ کی شدید ناگواری کو محسوس کیا گیا ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے ، یا یہ کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے ۔ اس لیے قبلہ کی طرف نہ تھوکا کرو ، البتہ بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لیا کرو ۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا ایک کونا ( کنارہ ) لیا ، اس میں تھوکا اور چادر کی ایک تہہ کو دوسری تہہ پر پھیر لیا اور فرمایا ، یا اس طرح کر لیا کرے۔
(صحيح البخاري:417)
2) سجدے کی جگہ سے صرف ایک بار کنکریوں کو صاف کرنا
معیقیب بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے جو ہر مرتبہ سجدہ کرتے ہوئے کنکریاں برابر کرتا تھا فرمایا اگر ایسا کرنا ہے تو صرف ایک ہی بار کر ۔
(صحيح البخاري:1207)
3)گھوڑے کی لگام ہاتھ میں لے کر صحابی رسول ﷺ کا نماز پڑھنا!
ارزق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ ہم اہواز میں ( جو کئی بستیاں ہیں بصرہ اور ایران کے بیچ میں ) خارجیوں سے جنگ کر رہے تھے ۔ ایک بار میں نہر کے کنارے بیٹھا تھا ۔ اتنے میں ایک شخص ( ابوبرزہ صحابی رضی اللہ عنہ ) آیا اور نماز پڑھنے لگا ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے گھوڑے کی لگام ان کے ہاتھ میں ہے ۔ اچانک گھوڑا ان سے چھوٹ کر بھاگنے لگا ۔ تو وہ بھی اس کا پیچھا کرنے لگے ۔ شعبہ نے کہا یہ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ دیکھ کر خوارج میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ اے اللہ ! اس شیخ کا ناس کر ۔ جب وہ شیخ واپس لوٹے تو فرمایا کہ میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں ۔ اور ( تم کیا چیز ہو ؟ ) میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ جہادوں میں شرکت کی ہے اور میں نے آپ ﷺ کی آسانیوں کو دیکھا ہے ۔ اس لیے مجھے یہ اچھا معلوم ہوا کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں نہ کہ اس کو چھوڑ دوں وہ جہاں چاہے چل دے اور میں تکلیف اٹھاؤں ۔
(صحيح البخاري:1211)
4) حالت نماز میں نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنھما کو پکڑ کر دائیں جانب کھڑا کیا!
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت ہے کہ میں نے ایک دفعہ اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گذاری ۔ نبی کریم ﷺ رات میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا ۔ میں ( غلطی سے ) آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تھا ۔ پھر آپ نے میرا سر پکڑ کے دائیں طرف کر دیا ۔ ( تاکہ صحیح طور پر کھڑا ہو جاؤں )
(صحيح البخاري:699)
5)نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو روکے، اگر نہ رکے تو اسے دوران نماز ہی زبردستی روکے!
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” اگر تم میں سے نماز پڑھنے میں کسی شخص کے سامنے سے کوئی گزرے تو اسے گزرنے سے روکے ، اگر وہ نہ رکے تو پھر روکے اور اگر اب بھی نہ رکے تو اس سے لڑے وہ شیطان ہے ۔“
(صحيح البخاري:3274)
6) دوران نماز نبی کریم ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا کا پاؤں دبا دیا کرتے تھے!
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا بیان فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سو جاتی اور میرے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ میں ہوتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے، تو میرے پاؤں کو آہستہ سے دبا دیتے۔ میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور آپ جب کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھر پھیلا دیتی۔ ان دنوں گھروں میں چراغ بھی نہیں ہوا کرتے تھے۔
(صحيح البخاري:382)
دارالعلوم دیوبند نے اس مسئلے کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:
سوال: اگر نماز کے درمیان موبائل کی گھنٹی بج جاے تو جیب سے موبائل نکال کر اسکوبند کرنا کیسا ہے اور موبائل کی اسکرین پر نظر پڑ جاے اور یہ معلوم ہوجاے فون کس کا ہے تو کیا اس صورت میں نماز ہو جائیگی یا نہیں مفصل جواب مرحمت فرمائیں۔
جواب :
اگر جیب سے صرف ایک ہاتھ سے موبائل نکال کر بند کیا اور نکالنے کے بعد اسکرین پر نظر پڑگئی جس سے معلوم ہوگیا کہ کس کا فون آرہا ہے تو چونکہ یہ عمل کثیر نہیں ہے؛ لہٰذا اس وجہ سے نماز فاسد نہ ہوگی، البتہ اگر ایسے موقعہ پر جیب ہی میں ہاتھ ڈال کر موبائل بند کردے یا فون کاٹ دے تو اچھا ہے؛ بلکہ نماز سے پہلے نمازی کو موبائل بند کرلینا چاہیے یا سائلنٹ کرلینا چاہیے، تاکہ نماز میں فون آنے سے اپنے کو یا آس پاس کے کسی نمازی کو کوئی تشویش نہ ہو۔
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر:56205
رضاخانی علماء نے بھی اس مسئلے میں اسی موقف کا اظہار کیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
نماز کے وقت میں اولا تو موبائل آف کر دینے کے عادت ڈالنی چاہیے ۔ سائلنٹ میں کبھی کبھی تھرتھراہٹ کی وجہ سے نمازی خود ہی خلل میں پڑ جاتا ہے اور اس کا خشوع و خضوع درہم برہم ہو جاتا ہے، لیکن اگر بند کرنا بھول گیا اور دوران نماز موبائل بجنا شروع ہوگیا اور موبائل ایسا ہے کہ ایک ہی مرتبہ کوئی بٹن دبانے سے آواز بند ہو جائے گی تو بند کر دیں کیونکہ نماز میں عمل قلیل کی رخصت ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
” ان کنت لا بد فاعلا فواحدۃ ”
اگر کرنا ضروری ہو تو ایک بار کر سکتے ہیں ۔
مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور۔
ان دلائل سے یہ اس مسئلے کا بخوبی اثبات ہوجاتا ہے کہ دوران نماز موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر اسے بند یا سائلنٹ کیا جاسکتا ہے، اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی بلکہ اپنی نماز کے ساتھ ساتھ دوسرے نمازیوں کی نماز اور ان کے خشوع و خضوع کی حفاظت بھی ہوتی ہے ۔
ائمہ حضرات کو چاہئیے کہ ان جیسے مسائل سے عوام کو روشناس کراکر قوم وملت کی صحیح رہنمائی کریں!
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
ترجمہ:اے اللہ ہمارے سامنے حق کو واضح کردے اور اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما دے اور باطل کو بھی ظاہر کردے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما!
No comments:
Post a Comment