Saturday, May 6, 2023

جنازہ لے جاتے ہوئے بآواز بلند کلمہ شہادت پڑھنا! ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    محمد اقبال قاسمي سلفي

جنازہ لے جاتے ہوئے بآواز بلند کلمہ شہادت پڑھنا! 

احناف کے یہاں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ جنازہ لے جاتے ہوئے لوگ بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھتے  ہیں دوسروں کو بھی اس کے اہتمام کی تلقین کرتے ہیں اور اس عمل کو کار ثواب اور اہمیت و فضیلت کا حامل سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ 

لیکن ان کا یہ عمل کار ثواب نہیں بلکہ عذاب کا باعث ہے کیونکہ یہ بدعت ہے، سنت نہیں۔ 
نہ یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے 
نہ خلفاء راشدین کی سنت ہے
 نہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا طریقہ ہے۔ 

نہ محدثین عظام کا منہج ہے۔ 
نہ امام ابوحنیفہ، شافعی، مالک اور احمد بن حنبل رحمھم اللہ کا قول ہے۔ 

 صحیح حدیث تو کیا، کسی ضعیف حدیث میں بھی یہ مذکور نہیں ہے۔ 

ایک روایت میں تو اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُتْبَعُ الْجَنَازَةُ بِصَوْتٍ وَلَا نَارٍ . 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ‘ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جنازے کے ساتھ کوئی آواز یا آگ نہ جائے۔ 

(سنن ابو داؤد:3171)

اس کی سند میں "رجل من اهل المدينة" راوی کے مجہول ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ 

لیکن حنفیوں کے یہاں ضعیف اور موضوع روایات پر دھڑلے سے عمل کیا جاتا ہے اس لئے انہیں چنداں مضر نہیں۔ ان کے اصولوں کے مطابق یہ روایت کم از کم حسن لغیرہ ہے۔ 
نیز موقوفا اس معنی کی بہت ساری روایات ہیں۔ 

علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ "الاستذکار" میں لکھتے ہیں: قد روي عن حديث أبي هريرة مرفوعا عن النبي صلى الله عليه وسلم ‌مرفوعاأنه قال: "لا تتبع الجنازة بصوت ولا نار"، ولا أعلم بين العلماء خلافا في كراهة ذلك۔

نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ " جنازے کے ساتھ نہ کوئی آواز ہو اور نہ کوئی آگ لے جائی جاۓ، اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کی کراہت کے سلسلے میں علماء نے کوئی اختلاف کیا ہے (اس عمل کے مکروہ ہونے ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے۔) 
اس کے بعد  علامہ ابن عبد البر لکھتے ہیں :یہ جو ہم نے اس مسئلے پر علماء کےاجماع کا ذکر کیا ہے، اسی میں (امت کے لئے) شفاء ہے ان شاءاللہ۔ 
(الاستذكار:8/225) 

قیس بن عباد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں؛:

عن قيس بن عباد قال: كان أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يكرهون رفع الصوت عند ثلاث: عند
 القتال، وعند الجنائز، وعند الذكر.
قیس بن عباد سے روایت ہے  کہ اصحاب رسول ﷺ تین موقعوں پر آواز بلند کرنے کو ناپسند فرمایا کرتے تھے (1) قتال  (2) جنازہ (3)ذکر 

اسے امام بیہقی نے "البیہقی" میں، ابن ابی شیبہ نے"مصنف ابن ابی شیبہ" میں اور ابن منذر ننے"الاوسط" میں ذکر کیا ہے اور اس کی سند بھی صحیح ہے۔

علماء احناف نے بھی متفقہ طور سے جنازے کے ساتھ چلنے والوں کے لئے بلند آواز سے ذکر کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، چنانچہ:
علامہ ابن ہمام حنفی فرماتے ہیں: ""جنازے کے ساتھ چلنے والے کے لیے بلند آواز سے ذکر اور قرآءت کرنا مکروہ ہے اسے دل میں کرنا چاہیے۔"
(فتح القدیر)

علامہ ابن نجیم حنفی اسے مکروہ تحریمی قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
"جنازے کے پیچھے آنے والے کو چاہیے کہ لمبی خاموشی اختیار کرے ذکر اور تلاوت قرآن وغیرہما کے ساتھ آواز بلند کرنا مکرو ہ ہے اور یہ مکروہ تحریمی ہے۔"
(البحر الرائق)

علامہ طحطاوی حنفی فرماتے ہیں:
"جنازے کے ساتھ بلند آواز سے ذکر کرنا مکروہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مکروہ تحریمی ہے۔ "
(حاشیہ طحطاوی)

فتاویٰ عالمگیری میں اس ضمن میں صاف لکھا ہوا ہے :

"جنازے کے ساتھ چلنے والوں پر خاموشی لازم ہے اور ان کے لیے بلند آواز سے ذکر کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا مکروہ ہے جیسا کہ طحاوی کی شرح میں ہے۔"
(فتاویٰ عالمگیری) 

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں:

"جنازے کے پیچھے آنے والے کو چاہیے کہ وہ لمبی خاموشی اختیار کرے۔"
(فتاویٰ شامی)

دارالعلوم دیوبند نے اس سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے: 

"جنازہ کے ہمراہ راستہ میں کلمہٴ شہادت یا کوئی اور ذکر بلند آواز سے کرنا مکروہ و بدعت ہے، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ تین موقعوں پر خاموش رہنے کو پسند فرماتے ہیں: قرآن شریف کی تلاوت کے وقت، دشمن سے مقابلہ (قتال) کے وقت اور جنازے کے پاس (تفسیر ابن کثیر: 2/417 )  اور صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تین موقعوں پر بولنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ جنازے، قتال اور ذکر اللہ کے وقت ۔" 

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر:147

ان سب کے باوجود رضاخانی نام نہاد حنفی  علماؤں کا جنازے کے ساتھ چلنے والوں کے لئے بآواز بلند کلمہ شہادت، ذکر و اذکار اور نعت گوئی کو نہ صرف جائز قرار دینا بلکہ اسے فروغ دینا مسلک صحابہ،  منہج محدثین یہاں تک کہ اپنے ہی مذہب، مذہب حنفیت سے بغاوت کی دلیل ہے۔ 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه! 

اے اللہ! ہمارے سامنے حق کو واضح کردے اور اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما !اور باطل کو بھی ظاہر کردے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

786 کی بدعت

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: 786 کی بدعت   اقبال قاسمی سلفی  مصادر: مختلف مراجع و مصادر  ہمارے یہاں دیوب...