Sunday, May 24, 2026

قوالی کی حرمت اور احمد رضاخان

بعد نمازِ مغرب کے ایک میرے دوست نے کہا چلو ایک جگہ عرس ہے میں چلا گیا۔ وہاں جا کر کیا دیکھتا ہوں بہت سے لوگ جمع ہیں اور قوالی اس طریقے سے ہو رہی ہے کہ ایک ڈھول دو سارنگی بج رہی ہیں اور چند قوال پیران پیر دستگیر کی شان میں اشعار کہہ رہے ہیں اور رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نعت کے اشعار اور اولیاء اللہ کی شان میں اشعار گا رہے ہیں اور ڈھول سارنگیاں بج رہی ہیں۔ یہ باجے شریعت میں قطعی حرام ہیں کیا اس فعل سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اولیاء اللہ خوش ہوتے ہوں گے اور یہ حاضرین جلسہ گناہگار ہوئے یا نہیں اور ایسی قوالی جائز ہے یا نہیں اور اگر جائز ہے تو کس طرح کی؟

الجواب:
ایسی قوالی حرام ہے۔ حاضرین سب گناہگار ہیں۔ اور ان سب کا گناہ ایسا عرس کرنے والوں اور قوالوں پر ہے اور قوالوں کا بھی گناہ اس عرس کرنے والے پر بغیر اس کے کہ عرس کرنے والے کے ماتھے قوالوں کا گناہ جانے سے قوالوں پر سے گناہ کی کچھ کمی آئے یا اس کے اور قوالوں کے ذمہ حاضرین کا وبال پڑنے سے حاضرین کے گناہ میں کچھ تخفیف ہو۔ نہیں بلکہ حاضرین میں ہر ایک پر اپنا پورا گناہ اور قوالوں پر اپنا گناہ الگ، اور سب حاضرین کے برابر جدا اور ایسا عرس کرنے والے پر اپنا گناہ الگ اور قوالوں کے برابر جدا، اور سب حاضرین کے برابر علیحدہ۔وجہ یہ کہ حاضرین کو عرس کرنے والے نے بلایا، یا اسی کے لئے اس گناہ کا سامان پھیلایا اور قوالوں نے انہیں سنایا اگر وہ سامان نہ کرتا، یہ ڈھول اور سارنگی نہ سناتے تو حاضرین اس گناہ میں کیوں پڑتے۔ اس لئے ان سب کا گناہ ان دونوں پر ہوا۔ پھر قوالوں کے اس گناہ کا باعث وہ عرس کرنے والا ہوا۔ وہ نہ کرتا نہ بلاتا تو یہ کیوں کر آتے بجاتے ۔ لہٰذا قوالوں کا گناہ بھی اس بلانے والے پر ہوا۔کَمَا قَالُوا فِی سَائِلِ قَوِيٍّ ذِيْ مِرَّةٍ سَوِيٍّ اِنَّ الْاٰخِذَ وَ الْمُعْطِيَ اٰثِمَانِ لِاَنَّھُمْ لَوْ لَمْ یُعْطُوْا لَمَا فَعَلُوْا فَکَانَ الْعَطَاءُ ھُوَ الْبَاعِثَ لَھُمْ عَلَی الْاِسْتِرسَالِ فِي التَّکَدِّی وَالسُّؤالِ وَھٰذَا کَالظَّاھِرِ عَلٰی مَنْ عَرَفَ الْقَوَاعِدَ الْکَرِیْمَةَ الشَّرْعِیَّةَ وَ بِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مَنْ دَعَا اِلىٰ هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا اِلىٰ ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا۔جو کسی امرِ ہدایت کی طرف بلائے جتنے اس کا اتباع کریں ان سب کے برابر ثواب پائے اور اس سے ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ آئے۔ اور جو کسی امرِ ضلالت کی طرف بلائے جتنے اس کے بلانے پر چلیں ان سب کے برابر اس پر گناہ ہو اور اس سے ان کے گناہوں میں کچھ تخفیف راہ نہ پائے۔ (رواہ الائمہ احمد ومسلم والاربعہ عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔باجوں کی حرمت میں احادیث کثیرہ وارد ہیں ازان جملہ اجل واعلیٰ حدیث صحیح بخاری شریف ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ۔ ضرور میری امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں جو حلال ٹھہرائیں گے عورتوں کی شرمگاہ یعنی زنا اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو۔ (حدیث صحیح جلیل متصل وقد اخرجہ ایضا احمد وابوداؤد)
بعض جاہل بد مست یا نیم مُلا شہوت پرست یا جھوٹے صوفی باطل پرست کہ احادیثِ صحاحِ مرفوعہ محکمہ کے مقابل بعض ضعیف قصے یا مختلق واقعے یا متشابہ پیش کرتے ہیں انہیں اتنی عقل نہیں یا قصداً بے عقل بنتے ہیں کہ صحیح کے سامنے ضعیف متعیّن کے آگے محتمل، محکم کے حضور متشابہ واجب الترک ہے۔ پھر کہاں قول کہاں حکایتِ فعل، پھر کجا محرم کجا جمیع ہر طرح، وہی واجب العمل اسی کو ترجیح مگر ہوس پرستی کا علاج کس کے پاس ہے؟ کاش وہ گناہ کرتے اور گناہ جانتے۔ استمرار لاتے یہ ڈھٹائی اور بھی سخت ہے کہ ہوس بھی پالیں اور الزام بھی ٹالیں اپنے لئے حرام کو حلال بنالیں۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ معاذ اللہ اس کی تہمت محبوبانِ خدا اکابرِ سلسلہ عالیہ چشت قدست اسرارہم کے سر دھرتے ہیں۔ نہ خدا سے خوف نہ بندوں سے شرم کرتے ہیں۔حالانکہ خود حضور محبوبِ الہی سیدی و مولائی نظام الحق والدین سلطان الاولیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عنہم فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں۔ مزامیر حرام است۔مولانا فخر الدین زادی خلیفہ حضور سیدنا محبوبِ الہی رضی اللہ عنہا نے حضور کے زمانہ مبارک میں خود حضور کے حکمِ احکم سے مسئلہ سماع میں رسالہ "کشف القناع عن اصول السماع" تحریر فرمایا اس میں صاف ارشاد فرمایا کہ "اَنَّ سَمَاعَ مَشَائِحِنَا رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنھُم بَرِیٌ عَنْ ھٰذِہِ التُّھَمَۃِ وَ ھُوَ مُجَرَّدُ صَوتِ الْقَوَّالِ مَعَ الْاَشْعَارِ الْمُشِیْرَۃِ بِکَمَالِ صَنْعَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی"۔ ہمارے مشائخ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا سماع، اس مزامیر کے بہتان سے بری ہے۔ وہ صرف قوال کی آواز ہے ان اشعار کے ساتھ جو کمالِ صنعتِ الہی سے خبر دیتے ہیں۔لِلّٰہِ انصاف اس امامِ جلیل خاندانِ عالی چشت کا یہ ارشاد مقبول ہو گیا یا آج کے مدعیانِ خامہ کار کی تہمتِ بے بنیاد و ظاهرة الفساد۔ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ۔سیدی مولانا محمد بن مبارک بن محمد علوی کرمانی مرید حضور شیخ العالم فرید الحق والدین سیر الاولیاء میں فرماتے ہیں، حضرت سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز می فرمود کہ چند چیز می باید تا سماع مباح شود۔ مسمع و مستمع و مسموع و آلہ سماع۔ مسمع یعنی گویندہ مرد تمام باشد کودک نہ باشد و عورت نہ باشد و مستمع آنکہ می شنود از یادِ حق خالی نباشد و مسموع آنچه بگویند فحش و مسخرگی نباشد و آلہ سماع مزامیر است چون چنگ و رباب و مثل آں می باید کہ در میان نہ باشد ایں چنیں سماع حلال است۔مسلمانو! یہ فتویٰ ہے سرور و سردارِ سلسلہ عالیہ چشت حضرت سلطان الاولیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا۔ کیا اس کے بعد بھی مفتریوں کو منھ دکھانے کی گنجائش ہے؟نیز سیر الاولیاء شریف میں ہے:۔یکے بخدمتِ حضرت سلطان المشائخ عرض داشت کہ دریں روز ہا بعضے از درویشان آستانہ دار در مجمعے کہ چنگ و رباب و مزامیر بود رقص کردند۔ فرمود نیکو نہ کردہ اند آنچہ نامشروع است ناپسندیدہ است بعد ازاں یکے گفت چوں ایں طائفہ ازاں مقام بیرون آمدند بایشان گفتند کہ شما چہ کردہ ید دراں جمع مزامیر بود سماع چگونہ شنیدید و رقص کردید۔ ایشاں جواب دادند کہ ما چناں مستغرقِ سماع بودیم کہ ندانستیم کہ اینجا مزامیر است یا نہ۔ حضرت سلطان المشائخ فرمود ایں جواب ہم چیزے نیست۔ ایں سخن در ہمہ معصیتہا بباید۔
مسلمانو! امامِ ارشاد سے مزامیر ناجائز ہے اور اس عذر کو کہ ہمیں استغراق کے باعث خبر نہ تھی، رد فرمایا کہ یہ تو ہر گناہ میں کہہ سکتے ہیں۔
مسلمانو! کیسا صاف ارشاد ہے کہ مزا میر نا جائز ہے اور اس عذر کا کہ ہمیں استغراق کے باعث مزامیر کی خبر نہ ہوئی کیا مسکت جواب عطا فرمایا کہ ایسا حیلہ ہر گناہ میں چل سکتا ہے شراب پئے اور کہ دے شدت استغراق کے باعث ہمیں خبر نہ ہوئی کہ شراب ہے یا پانی ۔ زنا کرے اور کہہ دے غلبہ حال کے سبب ہمیں تمیز نہ ہوئی کہ جورو ہے یا بیگانی -

رد بدعات و منکرات احمد رضا خان ص نمبر 266

Wednesday, May 20, 2026

حکم طعام میت مولانا احمد رضا خان کے فتوے کی روشنی میں

طعامِ میت (میت کا کھانا)

اکثر بلادِ ہند میں رسم ہے کہ میت کے روزِ وفات سے اس کے اعزہ و اقارب و احباب کی عورتیں اس کے یہاں جمع ہوتی ہیں، اس اہتمام کے ساتھ جو شادیوں میں کیا جاتا ہے۔ پھر کچھ دوسرے دن، اکثر تیسرے دن واپس آتی ہیں، بعض چالیسویں تک بیٹھی رہتی ہیں۔ اس مدتِ اقامت میں عورتوں کے کھانے پینے کا اہتمام اسی طرح ہوتا ہے جس کے باعث ایک قرض کثیر کے زیر بار ہوتے ہیں اگر اس وقت ان کا ہاتھ خالی ہو تو قرض لیتے ہیں۔یوں نہ ملے تو سودی نکلواتے ہیں اگر نہ کریں تو مطعون و بدنام ہوتے ہیں۔ یہ شرعا جائز ہے یا کیا؟
الجواب: سبحان اللہ! اے مسلمان! یہ پوچھنا ہے کہ جائز ہے یا کیا ہے؟ یوں پوچھ کہ یہ ناپاک رسم کتنے قبیح اور شدید گناہوں، سخت و شنیع خرابیوں پر مشتمل ہے۔اولاً: یہ دعوت خود ناجائز و بدعتِ شنیعہ و قبیحہ ہے۔ امام احمد اپنے مسند اور ابن ماجہ سنن میں بسندِ صحیح حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راویت ہے : 
"کُنَّا نَعُدُّ الْاِجْتِمَاعَ اِلٰی اَہْلِ الْمَیِّتِ وَ صَنْعَہُمُ الطَّعَامَ مِنَ النِّیَاحَۃِ"(ترجمہ: ہم گروہِ صحابہ اہل میت کے یہاں جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرنے کو مُردے کی نیاحت (ماتم) سے شمار کرتے تھے جس کی حرمت پر متواتر حدیثیں ناطق ہیں۔)
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:"یُکْرَہُ اِتِّخَاذُ الضِّیَافَۃِ مِنَ الطَّعَامِ مِنْ اَہْلِ الْمَیِّتِ لِاَنَّہٗ شُرِعَ فِی السُّـرُوْرِ لَا فِی الشُّـرُوْرِ وَہِیَ بِدْعَۃٌ مُّسْتَقْبَحَۃٌ"(ترجمہ: اہل میت کی طرف سے کھانے کی ضیافت تیار کرنی منع ہے کہ شرع نے ضیافت خوشی میں رکھی ہے نہ کہ غمی میں، اور یہ بدعتِ شنیعہ ہے۔)
فتاویٰ خلاصہ، فتاویٰ سراجیہ، فتاویٰ ظہیریہ، فتاویٰ تاتارخانیہ اور ظہیر یہ سے خزانہ المفتیین، کتاب الکراہتہ اور تاتارخانیہ سے فتاویٰ ہندیہ میں بالفاظ متقارب ہے:"لَا یُبَاحُ اِتِّخَاذُ الضِّیَافَۃِ عِنْدَ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْمُصِیْبَۃِ"(ترجمہ: مصیبت کے ایام یعنی تیسرے دن کی دعوت جائز نہیں کہ دعوت تو خوشی میں ہوتی ہے۔)
تبیین الحقائق امام زیلعی میں ہے:"لَا بَاْسَ بِالْجُلُوْسِ لِلْمُصِیْبَۃِ اِلٰی ثَلٰثٍ مِنْ غَیْرِ اِرْتِکَابِ مَحْظُوْرٍ مِّنْ فَرْشِ الْبُسُطِ وَالْاَطْعِمَۃِ مِنْ اَہْلِ الْمَیِّتِ"(ترجمہ: مصیبت کے لیے تین دن بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں جب کسی امر ممنوع کا ارتکاب نہ ہو، جیسے تکلف سے فرش بچھانا اور میت والوں کی طرف سے کھانے کا اہتمام۔)

امام بزازی وجیز میں فرماتے ہیں:"یُکْرَہُ اِتِّخَاذُ الطَّعَامِ فِی الْیَوْمِ الْاَوَّلِ وَالثَّالِثِ وَ بَعْدَ الْاُسْبُوْعِ"(ترجمہ: یعنی میت کے پہلے یا تیسرے دن یا ہفتے کے بعد جو کھانے تیار کرائے جاتے ہیں سب مکروہ ہیں۔)


علامہ شامی رد المحتار میں فرماتے ہیں۔ الطمال ذالك في المعراج وقال : هذه الافعال كلها للسمعة والرياء فيتحسون عنها يعنى معراج الدراية شرح ہدایہ نے اس مسئلہ میں بہت کلام طویل کیا اور فرمایا کہ یہ سب ناموری اور دکھاوے کے کام ہیں ان سے احتراز کیا جائے ۔

ثانيا : غالباً ورثہ میں کوئی یتیم یا اور بچہ نا بالغ ہوتا ہے یا اور ورثہ موجود نہیں ہوتے نہ ان سے اس کا اذن لیا جاتا ہے جب تو یہ امر سخت حرام شدید پر متضمن ہوتا ہے ۔ اللہ عز وجل فرماتا ہے ۔ ان الذين يأْكُلُونَ أَموال اليتیم ظُلُمَا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَاراً وَ سَيَصْلَوْنَ سَعِيراً 
بے شک جو لوگ یتیموں کے مال ناحق کھاتے ہیں وہ بلاشبہ اپنے پیٹ میں انگارے بھرتے ہیں اور قریب ہے کہ جہنم کے گہراؤ میں جائیں گے ۔

مال غیر میں ہے اذن غیر تصرف خود نا جائز ہے ۔ قال الله تعالى لا تَأْكُلُوا أَمْوَائِكُم بَيْنَكُم بِالباطل . خصوصاً نا بالغ کا مال ضائع کرنا جس کا اختیار نہ خود اسے ہے نہ اس کے باپ نہ اس کے وصی کو لأن الولاية للنظر لا للضرر على الخصوص۔
 اور اگر ان میں کوئی یتیم ہوا تو آفت سخت تر ہے۔ والعياذ بالله رب العالمين .

ہاں اگر محتاجوں کے دینے کو کھانا پکوائیں تو حرج نہیں بلکہ خوب ہے۔ بشرطیکہ یہ کوئی عاقل بالغ اپنے مال خاص سے کرے یا ترکہ سے کریں تو سب وارث موجود و بالغ و راضی ہوں ۔

ثالثا:۔ یہ عورتیں کہ جمع ہوتی ہیں افعال منکرہ کرتی ہیں۔ مثلاً چلا کر رونا پیٹنا، بناوٹ سے منھ ڈھانکنا الی غیر ذالک۔ اور یہ سب نیاحت ہے اور نیاحت حرام ہے ۔ ایسے مجمع کے لئے میت کے عزیزوں اور دوستوں کو بھی جائز نہیں کہ کھانا بھیجیں کہ گناہ کی امداد ہوگی ۔ قال تعالى وَلَا تَعَاوَنُو عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدوان -

نہ کہ اہل میت کا اہتمام طعام کرنا کہ سرے سے نا جائز ہے تو اس نا جائز مجمع کے لئے ناجائز ترہوگا ۔
کشف الفطار میں ہے . ساختن طعام در روز ثانی و ثالث برائے اہل میت اگر نوحہ گراں جمع باشند مکروه است زیرا که اعانت است ایشان را بر گناه -

رابعا : اکثر لوگوں کو اس رسم شنیع کے باعث اپنی طاقت سے زیادہ ضیافت کرنی پڑتی ہے۔

یہاں تک کہ میت والے بیچارے اپنے غم کو بھول کر اس آفت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اس میلے کے لئے کھا نا پان چھالیاں کہاں سے لائیں اور بارہا ضرورت قرض لینے کی پڑتی ہے۔ ایسا تکلف شرع کو کسی امر مباح کے لئے زینہار پسند نہیں نہ کہ ایک رسم ممنوع کے لئے ۔پھر اس کے باعث جو دقتیں پڑتی ہیں خود ظاہر ہیں پھر اگر قرض سودی مال ک ملا تو حرام خالص ہو گیا اور معاذ الله لعنت انہی سے پورا حصہ ملا کہ بے ضرورت شرعیہ سود دینا بھی سود لینے کے مثل باعث لعنت ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا ۔

غرض اس رسم کی شناعت و ممانعت میں شک نہیں۔ اللہ عز وجل مسلمانوں کو توفیق بخشے کو قطعاً ایسی رسوم شنیعہ جن سے ان کے دین و دنیا کا ضرر ہے ترک کر دیں اور طعن بیہودہ کا لحاظ نہ کریں

 تنبیه :- اگر چہ صرف ایک دن یعنی پہلے ہی روز عزیزوں ، ہمسایوں کو مسنون ہے کہ اہل میت کے لیے اتنا کھانا پکوا کر بھیجیں جیسے وہ دو وقت کھا سکیں اور باصرار انہیں کھلائیں۔ مگر یہ کھانا صرف اس میت ہی کے قابل ہونا سنت ہے اس میلے کے لئے بھیجنے کا ہرگز حکم نہیں اور ان کے لئے بھی فقط روز اول کا حکم ہے آگے کا نہیں۔

مسئلہ :۔ مردہ کے نام کا کھانا جو امیر و غریب کو کھلاتے ہیں کس کو کھانا چاہئے اور کس کو نہیں اور یوں بھی کہتے ہیں کہ مردہ کے نام کا کھانا مصلی امیر غریب سب کو کھلاتے ہیں جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب:۔ مردہ کا کھانا صرف فقراء کے لئے ہے عام دعوت کے طور پر جو کرتے ہیں یہ منع ہے غنی نہ کھائے۔ کمافی فتح القدیر و مجمع البركات .

میت کے یہاں جو لوگ جمع ہوتے ہیں اور ان کی دعوت کی جاتی ہے اس کھانے کی تو ہر طرح ممانعت ہے اور بغیر دعوت کے جمعراتوں، چالیسویں ، چھ ماہی ، برسی میں جو بھاجی کی طرح اغنیاء کو بانٹا جاتا ہے وہ بھی اگر چہ بے معنی ہے مگر اس کا کھانا منع نہیں بہتری ہے کہ غنی نہ کھائے اور فقیر کو تو کچھ مضائقہ نہیں کہ وہی اس کے مستحق ہیں۔ الخ 

موت میں دعوت بے معنی ہے۔ فتح القدیر میں اسے بدعت مستقبحہ فرمایا : لان الدعوة شرعت في السرور لا في الشرور۔
 اغنیاء کا اس میں کچھ حق نہیں اور اگر بنظر :المعهود عرفا کا المشروط لفظا۔ 

وہ اجرت قرآن خوانی کی حد تک پہونچ گیا ہو۔ کھلانے والا جانتا ہو ان کی تلاوت کے عوض میں مجھے کھانا دینا ہے۔ یہ جانتے ہوں کہ ہمیں قرآن پڑھ کر کھانا لینا ہے تو آپ ہی حرام ہے۔ کھانا بھی حرام۔ اور کھلانا بھی حرام . لا تشتروا بایاتی ثمنا قلیلا۔

اہل میت کے گھر کھانا بھیجنا

..... بروز وفات جو کھانا اہل میت کے یہاں بطریق بھائی بھیجا جاتا ہے اس کو اہل میت کے اعزہ وغیرہ کھا سکتے ہیں یا نہیں۔ بروز سوم - دہم جہلم ششماہی وغیرہ جو کھانا بغرض ایصال ثواب پکا کر مسکین کو تقسیم کیا جاتا ہے اس میں بقدر ضرورت اضافہ کر کے علاوہ مساکین کے دیگر اعزہ واقرباء کو کھلایا اور برادری میں تقسیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں ۔

الجواب: پہلے دن صرف اتنا کھانا کہ میت کے گھر والوں کو کافی ہو بھیجنا سنت ہے۔ اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ نہ دوسرے دن بھیجنے کی اجازت نہ اوروں کے واسطے بھیجا جائے۔ نہ اور اس میں کھائیں ۔ 

ایصال ثواب سنت ہے اور موت میں ضیافت ممنوع - فتح القدیر وغیرہ میں ہے۔ ٹکرہ اتخاذ الضيافةِ مِنَ الطَّعَامِ مِنْ أَهْلِ المَيِّتِ لانہ شُرِعَ فِي السُّرُورِلا في الشرور و هي بدعة مستقبحة - روى الامام احمد وابن ماجة باسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال كُنَّا نَعُد الاجتماع الى أَهْلِ المَيِّتِ وَصَنْعَهُم ! الطَّعَامَ مِنَ النياحة . جب علماء نے اسے غیر مشروع و بدعت قبیحہ کہا تو اس کا کھانا بھی غیر مشروع بدعت قبیحہ ہوا کہ معصیت پر اعانت ہے اور معصیت پر اعانت گناہ ۔ قال تعالى. ولا تعاونوا على الإثم والعدوان . والله تعانی اعلم
فتاوی رضویہ جلد چہارم بحوالہ رد بدعات و منکرات مولانا احمد رضا خان صفحہ نمبر : 321

Sunday, May 3, 2026

لا سلام و ولا کلام علی الطعام اور حنفی عوام!

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
 
موضوع: لا سلام  ولا کلام علی الطعام اور حنفی عوام! 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

اقبال قاسمی سلفی 

لوگوں میں یہ مقولہ مشہور ہے: 
لاسلام ولا کلام علی الطعام ۔
یعنی کھاتے ہوئے نہ کوئی سلام ہے اور نہ کوئی کلام ہے۔
اسی لیے ہمارے یہاں دیوبندی اور بریلوی عوام میں یہ بات رائج ہے کہ کھانا کھانے والے کو سلام نہیں کیا جاتا ہے اور اگر کوئی سلام کردے تو سلام کا جواب دینے کے بجائے وہ یہ کہتے ہیں کہ کھانا کھا رہے ہیں ۔ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں بھی یہ بات موجود ہے کہ کھانا کھانے والے کو سلام نہیں کرنا چاہیے ۔

 لیکن " لا سلام ولا کلام علی المعام "یعنی کھاتے وقت کوئی سلام اور کلام نہیں" محض ایک مقولہ ہے جس کی کوئی استنادی حیثیت موجود نہیں ہے ۔صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے ۔

اس عوامی مقولے کے بر عکس کھانے کے دوران گفتگو کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ 
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَعْوَةٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ، وَقَالَ : أَنَا سَيِّدُ الْقَوْمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَلْ تَدْرُونَ بِمَنْ يَجْمَعُ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُبْصِرُهُمُ النَّاظِرُ وَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَتَدْنُو مِنْهُمُ الشَّمْسُ ، فَيَقُولُ : بَعْضُ النَّاسِ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا أَنْتُمْ فِيهِ إِلَى مَا بَلَغَكُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ ، فَيَقُولُ : بَعْضُ النَّاسِ أَبُوكُمْ آدَمُ فَيَأْتُونَهُ ، فَيَقُولُونَ : يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ وَأَسْكَنَكَ الْجَنَّةَ أَلَا تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ وَمَا بَلَغَنَا ، فَيَقُولُ : رَبِّي غَضِبَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَنَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا ، فَيَقُولُونَ : يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا أَمَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى إِلَى مَا بَلَغَنَا أَلَا تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، فَيَقُولُ : رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَا يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ نَفْسِي نَفْسِي ائْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَأَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ وَسَلْ تُعْطَهْ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ : لَا أَحْفَظُ سَائِرَهُ .
 ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے ۔ آپ ﷺ کی خدمت میں دست کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ کو بہت مرغوب تھا ۔ آپ نے اس دست کی ہڈی کا گوشت دانتوں سے نکال کر کھایا ۔ پھر فرمایا کہ میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا ۔ تمہیں معلوم ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) تمام مخلوق کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا ؟ اس طرح کہ دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا ۔ آواز دینے والے کی آواز ہر جگہ سنی جا سکے گی اور سورج بالکل قریب ہو جائے گا ۔ ایک شخص اپنے قریب کے دوسرے شخص سے کہے گا ، دیکھتے نہیں کہ سب لوگ کیسی پریشانی میں مبتلا ہیں ؟ اور مصیبت کس حد تک پہنچ چکی ہے ؟ کیوں نہ کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو اللہ پاک کی بارگاہ میں ہم سب کی شفاعت کے لیے جائے ۔ کچھ لوگوں کا مشورہ ہو گا کہ دادا آدم علیہ السلام اس کے لیے مناسب ہیں ۔ چنانچہ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے ، اے باوا آدم ! آپ انسانوں کے دادا ہیں ۔ اللہ پاک نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا ، اپنی روح آپ کے اندر پھونکی تھی ، ملائکہ کو حکم دیا تھا اور انہوں نے آپ کو سجدہ کیا تھا اور جنت میں آپ کو ( پیدا کرنے کے بعد ) ٹھہرایا تھا ۔ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیں ۔ آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کس درجہ الجھن اور پریشانی میں مبتلا ہیں ۔ وہ فرمائیں گے کہ ( گناہ گاروں پر ) اللہ تعالیٰ آج اس درجہ غضبناک ہے کہ کبھی اتنا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی ہو گا اور مجھے پہلے ہی درخت ( جنت ) کے کھانے سے منع کر چکا تھا لیکن میں اس فرمان کو بجا لانے میں کوتاہی کر گیا ۔ آج تو مجھے اپنی ہی پڑی ہے ( نفسی نفسی ) تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ ۔ ہاں ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ چنانچہ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے ، اے نوح علیہ السلام ! آپ ( آدم علیہ السلام کے بعد ) روئے زمین پر سب سے پہلے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ” عبد شکور “ کہہ کر پکارا ہے ۔ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ آج ہم کیسی مصیبت و پریشانی میں مبتلا ہیں ؟ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیجیے ۔ وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میرا رب آج اس درجہ غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ کبھی اس کے بعد اتنا غضبناک ہو گا ۔ آج تو مجھے خود اپنی ہی فکر ہے ۔ ( نفسی نفسی ) تم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جاؤ ۔ چنانچہ وہ لوگ میرے پاس آئیں گے ۔ میں ( ان کی شفاعت کے لیے ) عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑوں گا ۔ پھر آواز آئے گی ، اے محمد ! سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو ، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی ۔ مانگو تمہیں دیا جائے گا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر: 3340
آپ نے دیکھا کہ کھانا کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو فرماتے ہوے طویل حدیث صحابہ کو بیان فرمائی جو شفاعت سے متعلق ہے‌۔ 

اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: 
 عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدُمَ فَقَالُوا مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ نِعْمَ الْأُدُمُ الْخَلُّ۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے گھر والوں سے سالن کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے ، آپ نے سرکہ منگایا اور اسی کے ساتھ روٹی کھانا شروع کر دی ۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ سرکہ عمدہ سالن ہے ، سرکہ عمدہ سالن ہے ۔‘‘ 
صحیح مسلم حدیث نمبر: 2052
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھاتے ہوئے بات بھی کر لیا کرتے تھے، جیسے کہ پہلے سرکہ والی حدیث میں اس بات کا تذکرہ ہے، اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سوتیلے بیٹے عمرو بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو کھانا کھلاتے ہوئے فرمایا: (بسم اللہ پڑھو، اور اپنے سامنے سے کھاؤ)" انتہی
"زاد المعاد " (2/366)

اسی طرح حنفی دیوبندی دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
سے پوچھا گیا کہ کیا کھانا کھانے کے دوران باتیں کرنا چاہیے یا نہیں؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ باتیں نہ کرنا کافروں سے مشابہت ہے.
تو اس دارالافتاء نے جواب دیا :
 
کھانے کے دوران گفتگو جائز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا کھانے کے دوران گفتگو کرنا ثابت ہے۔
 نیز کھانا کھاتے ہوئے خاموش رہنا غیر قوموں کا طریقہ ہے، فتاویٰ ہندیہ اور فتاویٰ شامی میں اسے مجوسیوں کا طریقہ لکھا گیا ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے، کھانے کھاتے ہوئے اچھی باتوں کے تذکرے، مثلاً: نیک لوگوں کی حکایات وغیرہ بہتر ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 340):
"ويكره السكوت حالة الأكل؛ لأنه تشبه بالمجوس، و يتكلم بالمعروف".

الفتاوى الهندية (5 / 345):
"يكره السكوت حالة الأكل؛ لأنه تشبه بالمجوس، كذا في السراجية. ولايسكت على الطعام ولكن يتكلم بالمعروف وحكايات الصالحين، كذا في الغرائب". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر : 144107200416

اس تفصیل سے ہمیں بخوبی معلوم ہو گیا ہوگا کہ کھانے کے دوران گفتگو کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث سے ثابت ہے ۔
اور جب دوران طعام گفتگو کرنا ثابت شدہ ہے تو سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا بدرجہ اولی جائز ہوگا۔
نیز قرآن و سنت نے ہمیں سلام کو عام کرنے اور اس میں پہل کرنے کی تعلیم دی ہے۔

سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا (86)
 اور جب تمھیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے ، تو تم اس سے اچھی سلامتی کی دعا دو، یا جواب میں وہی کہہ دو ۔ بےشک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کا پورا حساب کرنے والا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو سلام عام کرنے کا حکم دیا ہے ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ»
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم مومن ہو جاؤ ، اور تم مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو ۔ کیا تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگو ، آپس میں سلام عام کرو ۔‘‘ 
صحیح مسلم حدیث نمبر:54

 عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلَانِ يَلْتَقِيَانِ أَيُّهُمَا يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَوْلَاهُمَا بِاللَّهِ ،‏‏‏‏

پوچھا گیا: اللہ کے رسول! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے؟ آپ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے“ ( وہ پہل کرے گا ) .
سنن ترمذی حدیث نمبر 2694

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ ".
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے پیچھے (جنازے میں) جاؤ۔“ 
[صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5651]

عن ابی هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار پیادہ کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5646]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ"

 عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کھانا کھلائے اور ہر شخص کو سلام کرے خواہ اس کو تو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 28]

یہ احادیث عام ہیں اور ان احادیث میں بلا استثناء سلام کو عام کرنے ،عند اللقاء سلام میں پہل کرنے اور معروف غیر معروف ہر طرح کے لوگوں کو سلام کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ کھانے کے دوران سلام کرنے یا سلام کا جواب دینے کی ممانعت کسی بھی صحیح حدیث میں موجود نہیں ہے ، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ سلام علی الطعام ممنوع یا مکروہ ہے۔

ان حقائق کے برخلاف حنفی اداروں کے فتوے بڑا مضحکہ خیز ہیں جنہوں نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ اگر لقمہ منہ میں ہو تو اس وقت سلام کرنا ممنوع ہے ۔
چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے اس بابت جب دریافت کیا گیا کہ کیا کھانا کھاتے وقت سلام کرنا اور جواب دینا منع ہے یا جائز ہے؟ 
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
لقمہ اگر منھ میں نہ ہو تو اس وقت سلام کرنا اور جواب دینا دونوں جائز ہے، لقمہ منھ میں ہونے کی حالت میں سلام نہ کرنا چاہیے، اسی طرح اگر کوئی سلام کرے تو اس کا جواب دینا بھی واجب نہیں۔ قال في الشامي: رَدُّ السَّلام واجبٌ إلا علی مَن في الصلاة أو بأکل شغلا۔
دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 20663

جواباً عرض ہے کہ: 
یہ فتویٰ قرآن و حدیث کے دلائل سے بالکل خالی اور عاری ہے۔ یہ محض ایک تقلیدی فتویٰ ہے‌ ۔ جس علامہ شامی کے حوالے سے یہ فتویٰ دیا گیا ہے اس شامی نے اس تخصیص کی کتاب و سنت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے کوئی دلیل نہیں دی۔ 

یہ بات عقل و مشاہدے ک بھی خلاف ہے کیونکہ جو لوگ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں تب وہ سلام کا جواب دینے کے بجائے جواباً اتنا ضرور عرض کرتے ہیں کہ " کھانا کھا رہاہوں ، ائیے کھانا کھائیے ۔ جب اتنا کہنے میں لقمہ حلق میں نہیں اٹکتا نہ کوئی عجز پایا جاتاہے  تو سلام کا جواب دینے میں کیسے اٹک سکتا ہے جس اندیشے کی بنیاد پر علماء احناف نے سلام کا جواب دینے سے مکروہ لکھا ہے۔ 
آج لوگوں کو عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ کھانے کے دوران لمبی لمبی گفتگو کرتے ہیں یا فون کالز پر لگے رہتے ہیں لیکن جب انہیں سلام کر دیا جائے تو وہ سلام کا جواب دینے کے بجائے فوراً یہ کہ دیتے ہیں کہ ابھی کھانا کھا رہا ہوں ۔ گویا کہ سلام سنتے ہی لقمہ ان کے حلق میں اٹکنے لگتا ہے یا وہ عاجز و اپاہج ہو جاتے ہیں۔
اور اگر بالفرض کسی نے اسی لمحہ سلام کر دیا جب لقمہ بالکل درمیان حلق میں تھا تب زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ سلام کا جواب دینے میں اتنی تاخیر ہو جتنی کہ لقمہ حلق سے نیچے اتر جائے ۔جو کہ ایسی معمولی تاخیر ہے جس کی پیمائش یہ مفتیان ہی کر سکتے ہیں ، تب بھی سلام کرنے کو ممنوع نہیں قرار دیا جا سکتا۔ بلکہ سلام کا جواب اس معمولی لمحے تک کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے جتنی دیر میں ان کا لقمہ حلق سے نہ اتر جاۓ۔
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے سلام کا جواب تاخیر سے دیا کیونکہ اس وقت آپ پیشاب کر رہے تھے: 
عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلا عَلَى طُهْرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ عَلَى طَهَارَةٍ . 
  حضرت مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی ﷺ کے پاس سے گزرے اور آپ پیشاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے سلام کیا تو آپ نے جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ نے وضو کیا ( اور جواب دیا ) اور معذرت کرتے ہوئے فرمایا :’’ مجھے یہ بات ناپسند آئی کہ طہارت کے بغیر اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں ۔

سنن ابوداؤد حدیث نمبر: 17
 
واضح ہو کہ حنفی علماء نے کھانے والے کو سلام کرنا اس وقت مکروہ لکھا تھا جب لقمہ بالکل منہ میں ہو اور مبادا وہ لقمہ جواب دینے سے حلق میں نہ اٹک جاۓ ۔لیکن آج صورت حال یہ ہو گئ ہے کہ لوگ کھانے کے دوران سلام کرنے کو مطلقاً مکروہ اور ناجائز سمجھتے ہیں ۔اور ان میں یہ تصور قائم ہو گیا ہے کہ جوٹھا منہ ہونے کی وجہ سے سلام کا جواب نہیں دینا چاہیے ۔ اور یہ غلط تصورات اس غلط اور من گھڑت تکلفات کا نتیجہ ہے جو علماء احناف نے اس مسئلے میں اختیار کیا ہے ۔
موشگافی پر مبنی یہ  تخصیص و تفصیل کتاب و سنت میں کہیں موجود نہیں ہے ۔
علماء احناف نے تو وضو ، اذان ، ذکر و اذکار اور تلاوت میں مشغول شخص کو بھی سلام کرنے کو مکروہ لکھا ہے ۔ 
جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں شامی کے حوالے سے موجود ہے : 
وضو کرنے والا اگر وضو کی دعاؤں میں مشغول ہو،یادورانِ اکل کھانا منھ میں ہو،یا کوئی شخص اذان کا جواب دینے میں لگا ہو توایسے لوگوں پر سلام کا جواب دینا واجب نہیں۔ یکرہ السلام علی العاجر عن الجواب حقیقة کالمشغول بالأکل أو الاستفراغ، أو شرعًا کالمشغول بالصلاة وقراء ة القرآن، لو سلّم لا یستحق الجواب … یأثم بالسلام علی المشغولین بالخطبة أو الأذان والإقامة ویردون في الباقي لإمکان الجمع بین فضیلتي الرد․(شامي:۲/۳۷۵کتاب الصلاة / باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیہا، مطلب: المواضع التي یکرہ فیہا السلام ،ط: زکریا)
دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 154606

لیکن یہ مسائل احناف کے ان ہفوات میں سے ہیں جو بے دلیل اور بے سند ہونے کی وجہ سے یکسر مردود ہے۔ جسے ان شاء اللہ ہم دوسرے پوسٹ میں ملاحظہ کریں گے۔
علامہ بن باز رحمہ اللہ سے جب اس بابت پوچھا گیا کہ:  
إذا مر رجل على قوم يأكلون، هل يسلم عليهم، لأنا سمعنا أن ذلك لا يجوز؟
جب کوئی شخص کھانا کھانے والے لوگوں ک پاس سے گزرے تو کیا وہ انہیں سلام کرے ،کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ یہ جائز نہیں ہے۔؟

تو علامہ بن باز نے جواب دیا: 

نعم يسلم عليهم، والذي قال: لا يسلم غلط، يسلم عليهم، إذا جاء لقوم وهم يأكلون، أو يقرؤون، أو يتحدثون؛ يسلم عليهم، يقول: السلام عليكم، أو السلام عليكم ورحمة الله، أو ورحمة الله وبركاته، ولا يكره ذلك، بل يشرع، وهم يردون عليه. نعم..

Recent posts

تقریری لطیفے۔

ایک آدمی کی شادی نہیں ہو رہی تھی  وہ روزانہ دو رکعت صلاۃ الحاجات “ پڑھتا تھا 🤲🏻 آخر اسکی شادی ہو گئی  اب وہ روزانہ صلاۃ التوبہ “ پڑھتا ہے ...