بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لیکر جاۓ گی!
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
صوفی سنتوں کے موضوع و من گھڑت قصے کہانیاں سنانے والے دیوبندی اور رضاخانی علماء، خطباء اور مفتیان حضرات منبر و محراب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب اکثر یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ عورت جب جہنم میں داخل ہوگی تو اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم میں لے کر جائے گی۔
روایت کے الفاظ:
إذا دخلت امرأة إلى النار أدخلت معها أربعة، أباها وأخاها وزوجها وولدها.
ترجمہ: جب عورت جہنم میں داخل ہوگی تو اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم میں لے کر جائے گی؛
(۱) اپنے باپ کو، (۲) اپنے بھائی کو، (۳) اپنے شوہر کو (۴) اور اپنے بیٹے کو۔
بہت سارے حنفی علماء اور مفتیان اس روایت کو پردے کی وعید کے ضمن میں بیان فرماتے ہوے نظر آتے ہیں:
أربعة يُسألون عن حجاب المرأة : أبوها، وأخوها، وزوجها، وابنها
ترجمہ: چار لوگوں سے عورت حجاب کے متعلق سوال کیا جائے گا:
اس کے باپ سے، اس کے بھائی سے، اس کے شوہر سے
اور اس کے بیٹے سے۔
لیکن بہر صورت یہ روایت بے اصل اور بے سند ہے۔ اس کی صحیح تو کیا، کوئی ضعیف سند بھی حدیث کی کتابوں میں موجود نہیں ہے۔
فتوی دارالعلوم دیوبند:
چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے اس بابت سوال کیا گیا:
کیا ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی؟
جواب:
اس طرح کے عذاب پر مشتمل روایت کو علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے ”الکبائر“ میں الکبیرة السابعة والأربعون، نشوز المرأة علی زوجہا کے تحت بغیر سند کے ذکر کیا ہے، لیکن ایک عورت کے چار جنتی مردوں (باپ، بیٹا، شوہر، بھائی) کو جہنم میں لے جانے کی صراحت کسی روایت میں نہیں مل سکی.
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر :605065
فتوی علامہ محمد یوسف بنوری دیوبندی پاکستانی
سوال
ایک عورت اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم لے کر جائے گی۔۔۔۔إلى آخره. کیا یہ حدیث ہے؟
جواب:
یہ روایت ہمیں تلاش کے باوجود نہیں مل سکی، اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے سے گریز کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر : 144106200833
ضعیف اور موضوع روایات پر بے دھڑک عمل کرنے والے حنفی رضاخانی علماء نے بھی ایسی کسی روایت کی رویت وسماعت سے انکار کیا ہے
فتوی صدام حسین برکاتی فیضی میرانی
"السلام علیکم و رحمة اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
عرض خدمت یہ ہے کہ ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لیکر جائیگی کیا یہ حدیث صحیح ہے ، کس کتاب میں ہے یہ حدیث جواب عنایت فر مائیں۔
المستفتی محمد الطاف رضا رضوی احمدآباد , گجرات انڈیا ۔
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
ایسی کوئی حدیث فقیر نے نہ پڑھی نہ معتمد علماء و مشائخ اہل سنت سے کبھی سنی نہ ہی تلاش بسیار پر کہیں ملی ،
حضرت مفتی حبیب اللہ نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ سے ایسا ہی سوال ہوا جواباً تحریر فرمایا : آج تک میری نظر سے اس مضمون کی کوئی حدیث نہیں گذری اور تلاش کرنے پر بھی کہیں نہیں ملی لہذا زید کی بات پر ہرگز کوئی دھیان نہ کرے اگر زید سچا ہے تو حدیث معتبر دکھائے اور بتائے تاکہ اس کی تحقیق کی جاسکے ” اھ ( حبیب الفتاوی جلد 4 صفحہ 300 ، مسائل شتی مطبوعہ السید محمود اشرف دار التحقیق والتصنیف کچھوچھہ شریف )
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا"
لیکن افسوس! باوجود اس کے حنفی تقلیدی علماء خطباء اور مفتیان اس روایت کو دھڑلے سے بیان کرکے جہنم کے مستحق بنتے ہیں ۔
، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔
عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291)
علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں: موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔ (در مختار: ص 87)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!
No comments:
Post a Comment