Monday, June 5, 2023

میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں؟؟ ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں؟؟ 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر

صوفی سنتوں اور اپنے نام نہاد ولیوں کے من گھڑت قصے کہانیاں اور کرامتیں سنانے والے دیوبندی اور رخانی علماء و مفتیان کرام منبرو محراب سے اکثر یہ روایت نقل کیا کرتے ہیں کہ " میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں".

لیکن علماء کے فضائل پر مبنی یہ روایت بے اصل، بے سند اور موضوع ہے۔ 
صحیح تو کیا ، کتب حدیث میں اس کی کوئی ضعیف سند بھی موجود نہیں ہے۔ 

علامہ البانی فرماتے ہیں: 
لا أصل له.
باتفاق العلماء، وهو مما يستدل به القاديانية الضالة على بقاء النبوة بعده صلى الله عليه وسلم، ولوصح لكان حجة عليهم كما يظهر بقليل من التأمل۔ 
(سلسلة الاحاديث الضعيفة والموضوعة ) 
باتفاق علماء اس حدیث کی کوئی اصل موجود نہیں ہے، اور یہ ان موضوع روایات میں سے جس سے گمراہ آل قادیانی نبی کریم ﷺ کے بعد بھی نبوت کا استدلال کرتے ہیں۔ اور اگر یہ حدیث صحیح بھی ہوتی تب بھی یہ ان کے خلاف حجت بنتی جیسا کہ ادنی غوروفکر سےہی یہ واضح ہوجاتا ہے۔ 

ملا علی قاری حنفی الاسرار المرفوعہ میں لکھتے ہیں: 
 لا أصل له أو بأصله موضوع. 
اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے یا یہ اپنی بنیاد سے ہی من گھڑت ہے۔ 

فتوی دارالعلوم دیوبند

"یہ روایت بے اصل ہے، کسی معتبر کتاب میں یہ روایت موجود نہیں ہے۔ ”علماء أمتی کأنبیاء بنی اسرائیل“ ”قال السیوطی فی الدرر: لا أصل لہ، وقال فی المقاصد: قال شیخنا یعنی ابن حجر: لا أصل لہ، وقبلہ الدمیری والزرکشی ، وزاد بعضہم: ولا یعرف فی کتاب معتبر الخ (کشف الخفاء ومزیل الإ لباس: ۲/۷۴، رقم: ۱۷۴۴)۔"

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 164652

علماء کی فضیلت کے بارے میں صحیح حدیث! 

قیس بن کثیر کہتے ہیں کہ ایک شخص مدینہ سے ابو الدرداء رضی الله عنہ کے پاس دمشق آیا، ابوالدرداء رضی الله عنہ نے اس سے کہا: میرے بھائی! تمہیں یہاں کیا چیز لے کر آئی ہے، اس نے کہا: مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں، ابو الدرداء نے کہا: کیا تم کسی اور ضرورت سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا تم تجارت کی غرض سے تو نہیں آئے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ میں تو صرف اس حدیث کی طلب و تلاش میں آیا ہوں، ابو الدرداء نے کہا: ( اچھا تو سنو ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص علم دین کی تلاش میں کسی راستہ پر چلے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اسے جنت کے راستہ پر لگا دیتا ہے۔ بیشک فرشتے طالب ( علم ) کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اور عالم کے لیے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا، اس نے ( علم نبوی اور وراثت نبوی سے ) پورا پورا حصہ لیا“

(سنن ترمذی: 2682)

حنفی علماء و مفتیان حضرات کو چاہئیے کہ بے سند اور موضوع روایات کو ترک و تحقیق کرکے صحیح احادیث لوگوں کے سامنے بیان کریں کیونکہ موضوع روایت بیان کرنا نبی کریم ﷺ پر بہتان لگانا ہے اور نبی کریم ﷺ پر بہتان لگانا جہنم میں اپنا ٹھکانا بنانا لینا ہے۔ 

عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔ 
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔ 
 عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . 
 
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291) 

علامہ علاءالدین حصکفی صاحب در مختار فرماتے ہیں: موضوع روایات پر تو بہر صورت عمل جائز نہیں ہے، نیز اسے بیان کرنا بھی جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ ساتھ ساتھ اس کے موضوع ہونے کو بتا دیا جائے۔ (در مختار: ص 87) 

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...