Wednesday, June 24, 2026

تعزیہ، عاشورہ کا میلہ اور فتوی احمد رضا خان




 احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں۔ اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے ۔ (عرفان شریعت حصہ اول صفحہ 15)
احمد رضا خان تحریر فرماتے ہیں : غرض عشرۂ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت محل عبادت ٹھہرا تھا، ان بے ہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کر دیا ۔ یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا خودساختہ تصویریں بعینہٖ حضرات شہداء رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جنازے ہیں ۔
کچھ اتارا باقی توڑا اور دفن کر دیے ۔ یہ ہر سال اضاعت مال کے جرم دو وبال جداگانہ ہیں ۔ اب تعزیہ داری اس طریقۂ نامرضیہ کا نام ہے ۔ قطعاً بدعت و ناجائز حرام ہے ۔ تعزیہ پر چڑھایا ہوا کھانا نہ کھانا چاہیے ۔ اگر نیاز دے کر چڑھائیں ، یا چڑھا کر نیاز دیں تو بھی اس کے کھانے سے احتراز کریں ۔
 (رسالہ تعزیہ داری)
تعزیہ بنانا کیسا ؟
احمد رضا خان  فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 24 صفحہ 501 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا 
 احمد رضا خان  فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے (ملفوظات صفحہ 286)
تعزیہ پر منت ماننا کیسا ؟
 احمد رضا خان  فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 24 صفحہ 501 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور،چشتی)
تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا ؟
 احمد رضا خان فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 21 صفحہ 246 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
محرم الحرام میں ناجائز رسومات
 احمد رضا خان  فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا ، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جدید صفحہ 488 جلد 24 رضا فاؤنڈیشن لاہور،چشتی)
محرم الحرام میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں
 احمد رضا خان  فرماتے ہیں کہ محرم الحرام میں (خصوصاً یکم تا دس محرم الحرام) میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں، سبز رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ تعزیہ داروں کا طریقہ ہے ۔ لال رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ اہلبیت رضی اللہ عنہم سے عداوت رکھنے والوں کا طریقہ ہے اور کالے کپڑے نہ پہنے جائیں کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے ، لہٰذا مسلمانوںکو اس سے بچنا چاہیے ۔ (احکامِ شریعت)
عاشورہ کا میلہ
 احمد رضا خان  فرماتے ہیں : عاشورہ کا میلہ لغو و لہو و ممنوع ہے ۔ یونہی تعزیوں کا دفن جس طور پر ہوتا ہے ، نیت باطلہ پر مبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پر جہل و حمق و بے معنیٰ ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جدید جلد 24 صفحہ 501 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور،چشتی)

Sunday, June 21, 2026

موضوع: مصنوعی کربلا ، امام باڑہ اور فتویٰ احمد رضاخان

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 اقبال قاسمي سلفي

موضوع: مصنوعی کربلا ،جعلی امام باڑے اور فتویٰ احمد رضاخان! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

سب سے پہلے  مصنوعی کربلا کے متعلق مولانا احمد رضا خان  کا فتوی ملاحظہ کریں ۔
 احمد رضا خان  مصنوعی کربلا کے متعلق فتوی دیتے ہوئے لکھتے ہیں: 

مصنوعی کربلا جانا حرام و ناجائز و گناہ ہے۔ 

(فتاوٰی رضویہ، 24، ص 496، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔

قرآن و حدیث کے واضح شاہراہ کو چھوڑ کر صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے  رضاخانیوں نے شرک و بدعات کے ذریعے اسلام کو مضحکہ خیز بنادیا ہے۔

ان ہی میں سے فرضی اور مصنوعی کربلا بھی ہیں، جو آج ہند وپاک میں بکثرت پاۓ جاتے ہیں۔
 اس فرضی اور مصنوعی امام بارہ کو روضہ حسین کا مقام و مرتبہ دیا جاتاہے ۔
جبکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اصل قبر کے متعلق کسی کو علم نہیں ہے، اور کسی بھی مستند ماخذ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر اور جسم کے مدفن کے بارے میں مذکور نہیں ہے ۔ اسی لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مدفن کے متعلق دعوے کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ کہاں ہے۔ 

علامہ بن باز رحمہ اللہ سے جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ کہاں ہے تو انہوں نے جواب دیا: 

 بالواقع قد اختلف الناس في ذلك، فقيل: إنه دفن في الشام، وقيل: في العراق، والله أعلم بالواقع.
أما رأسه فاختلف فيه؛ فقيل: في الشام، وقيل في العراق، وقيل: في مصر، والصواب أن الذي في مصر ليس قبرًا له، بل هو غلط وليس به رأس الحسين، وقد ألف في ذلك بعض أهل العلم، وبينوا أنه لا أصل لوجود رأسه في مصر ولا وجه لذلك، وإنما الأغلب أنه في الشام؛ لأنه نقل إلى يزيد بن معاوية وهو في الشام، فلا وجه للقول بأنه نقل إلى مصر، فهو إما حفظ في الشام في مخازن الشام، وإما أعيد إلى جسده في العراق، وبكل حال فليس للناس حاجة في أن يعرفوا أين دفن؟ وأين كان؟
وإنما المشروع الدعاء له بالمغفرة والرحمة، غفر الله له ورضي عنه، فقد قتل مظلومًا فيدعى له بالمغفرة والرحمة، ويرجى له خير كثير، وهو وأخوه الحسن سيدًا شباب أهل الجنة، كما قال ذلك النبی صلى الله عليه وسلم. 

(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز (6/ 461).

(در اصل اس بارے میں اختلاف ہے۔ کہاجاتا ہے کہ وہ شام دفن کیے گئے اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ عراق میں دفن کیے گئے ہیں والله اعلم بالواقع. 

سر  حسین کے متعلق بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ شام عراق اور بعض نے مصر کو بھی سر حسین کا مدفن قرار دیا ہے۔ اور درست یہ ہے کہ مصر میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر نہی ہے جس کے متعلق باور کرایا جاتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔ اور اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مصر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر کے پاۓ جانے کی کوئی اصل نہیں ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ وہ شام میں ہے۔ اس لیے کہ اسے شام میں یزید بن معاویہ کی طرف منتقل کر دیا گیا تھا۔ پس یوں تو وہ شام کے مخازن میں ہی محفوظ کردیا گیا یا اسے عراق میں جسد حسین کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ بہر صورت لوگوں کو یہ جاننے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ انہیں کہاں دفن کیا گیا؟ اب ان کے لیے دعاء مغفرت اور رحمت کی ضرورت ہے کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان پر رحم فرماۓ! کیونکہ انہیں ظالمانہ طور پر قتل کیا گیا تو ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جاۓ اور ان کے لیے ڈھیر ساری بھلائیوں کی امید رکھی جائے۔ 
یقیناً حضرت حسین اور انکے بھائی حسن جنتی جوانوں کے سردار ہیں جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے). 
(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز (6/ 461)

اور نہ ہی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد محترم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مدفن کا کسی کو یقینی علم ہے۔ 

اسی لیے مدفن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق سنیوں اور شیعوں کی مختلف آراء ہیں۔ 
اہلسنت کے نزدیک قصرالامارہ، کوفہ ؛ اہل تشیع کے یہاں روضہ حیدریہ،نجف، عراق جبکہ ممکنہ طور پر مسجد ازرق ، افغانستان کو مدفن علی تصور کیا جاتا ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت دریافت کیا گیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار کہاں ہے۔ حوالے کے ساتھ جواب درکار ہے۔ 

دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا : 

"تحقیق نہیں۔"

دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 41513

اس سے معلوم ہوا کہ نواسہ رسول سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کے متعلق کسی کو بھی یقینی علم نہیں ہے اور نہ ہی ان کے والد محترم حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر کے متعلق یقین کے ساتھ یہ کہا جاسکتا کہ ان کا مدفن کہاں ہے۔

مصنوعی کربلا اور جعلی  امام باڑوں کے متعلق خود بریلوی علماء کے فتوے ملاحظہ کریں:

1) دور حاضر میں امام باڑا بنانا جائز نہیں ہے جیسا کہ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں بے امام باڑا بنانا اور اس کو ماننا اسی طرح مصنوعی کربلا اور فرضی قبر بنا کر اسے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا روضہ سمجھنا پھر اس کے ساتھ امام پاک کے روضہ مبارک کی طرح برتاؤ کرنا حرام و گناہ ہے صاحب عقل یہ بخوبی جانتا ہے کہ فرضی روضه برگزبرگز حضرت امام پاک کا روضہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کربلا ہے نہ وہ امام پاک کی بارگاه یا آرام گاہ ہے پھر اس کے ساتھ اصل روضہ کی طرح برتاؤ کرنا کیوں کر جائز ہو سکتا ہے اسلام فرضی مصنوعی چیز کو حقیقی اور سچی ماننے کی تعلیم نہیں دیتا عوام کا یہ طریقہ بالکل غلط ہے اور اسے امام پاک کا روضہ سمجھ کر وہاں فاتحہ پڑھنے والے اور اسی طرح دوسرے امور انجام دینے والے گناہ گار ہیں 
(فتاوی مرکز تربیت افتاء ج دوم )

2) فتاوی رضویہ میں ہے 
چوک پر تعزیہ کے سامنے کچھ رکھ کر نیاز فاتحہ دلانا تعزیہ کو گاوں و گلی کوچوں میں میں گھمانا ماتم کرنا تاشے اور طرح طرح کے ڈھول بجانا کھیل تماشہ کرنا مصنوعی کربلا کو جانا جلوس میں مرد عورت کا باہم خلط ملط ہونا عورتوں کا مرثیہ گانا کسی مرد پر یا عورت پر بابا کی سواری آنا یہ سب باتیں خرافات وبدعات اور سخت ناجائز وحرام ہیں شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ایسا کرنے والے سخت گنہگار و مستحق عذاب نار ہیں
(فتاویٰ رضویہ ج نہم نصف آخر ص44)

3) فرضی کربلا جو آج کل محرمات و خرافات کی آماجگاہ ہے‘ یہ حرام در حرام‘ بدکام بدانجام ہے۔ 
(فتاویٰ تاج الشریعہ جلد 4)

4) چامعہ اشرفیہ سے اس بابت جب سوال پوچھا گیا کہ کیا امام باڑے پر تعزیہ کے ساتھ شیرینی رکھ کر یا بغیر تعزیہ کے فاتحہ پڑھنے والے امام کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟
تو جامعہ اشرفیہ نے جواب دیا: 

الجواب:---- تعزیہ کے چبوترے پر شیرینی رکھ کر نیاز دینا ، دلانا رافضیوں کا طریقہ ہے اس لیے اس میں تشبہ بالروافض ہے اور ناجائز وگناہ، نیاز گھر دلائیں ۔ تعزیہ کے چبوترے پر ہر گز ہرگز نہ دلائيں ایسا امام جو تعزیہ کے چبوترے پر شیرینی رکھ کر نیاز دیتا ہے ، امامت کے لائق نہیں۔ ہاں اگر توبہ کرے تو اسے امام بنانے میں کوئی حرج نہیں اور یہی حکم امام باڑے کا بھی ہے۔ واللہ تعالی اعلم---
(فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد:۵(فتاوی شارح بخاری)

5) احمد رضا خان لکھتے ہیں : 
یوہیں تعزیہ، چڑھاوا، امام باڑے کا مکان، اس کی نوبت، روشنی، آرائش سب بشرح صدر ہیں، غم والم کا نام اور لہو و لعب کی یہ دھوم دھام اور اس پر امید خوشنودی حضرت امام (العیاذ باللہ) یہ سب بیہودہ، بدعت و ممنوع ہیں،
(فتاویٰ رضویہ کتاب الحظر ،ج ٢٤ ،ص ٤٩٦) 

ان فتووں سے بخوبی معلوم ہوا کہ مسلک بریلویت میں بھی امام باڑا بنانا اور اس کو ماننا اسی طرح مصنوعی کربلا اور فرضی قبر بنا کر اسے سیدنا  حسین رضی اللہ عنہ کا روضہ سمجھنا پھر اس کے ساتھ  روضہ حسین کی طرح برتاؤ کرنا حرام و گناہ ہے اور ایسا امام جو تعزیہ کے چبوترے پر شیرینی رکھ کر نیاز دیتا ہے ، امامت کے لائق نہیں۔ 

رضاخانی علماء کو چاہیے کہ کم از کم  اپنے گھر کے فتووں کا چراغ عوام الناس میں روشن کریں۔ 
حقائق سے آگاہ کریں۔ بدعات و خرافات سے بچاکر کتاب و سنت کی شاہراہ دکائیں۔
قابل غور یہ ہے کہ آج جبکہ حضرت علی اور ابن علی رضوی اللہ تعالی عنہما کی قبریں محفوظ نہیں ہے تب لوگوں نے غلو کرتے ہوئے مصنوعی قبریں بنا کر شرک و بدعت کی حدیں پارکر  رکھی ہیں جس قبر پرستی سے نبی کریم ﷺ نے سختی کے ساتھ منع فرمایا تھا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ ان لوگوں ( یہود و نصاری ) پر لعنت فرمائے جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنایا ۔‘‘ 
(سنن نسائی : 2048) 


 عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ : لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : لَوْلَا ذَلِكَ لَأُبْرِزَ قَبْرُهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا .

 نبی کریم ﷺ نے اپنے مرض الموت میں فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ کی قبر بھی کھلی رکھی جاتی لیکن آپ کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں آپ کی قبر کو بھی سجدہ نہ کیا جانے لگے ۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4441) 

 حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی ﷺ کو آپ کی وفات سے پانچ دن پہلے یہ کہتے ہوئے سنا :’’ میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے ، جس طرح اس نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا تھا ، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا ، خبردار ! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا کرتے تھے ، خبردار ! تم قبروں کو سجدہ گاہیں نہ بنانا ، میں تم کو اس سے روکتا ہوں ۔‘‘ 

 عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ۔
ابوالہیاج اسدی سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : کیا میں تمھیں اس ( مہم ) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے روانہ کیا تھا ؟ ( وہ یہ ہے ) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے ( زمین کے ) برابر کر دینا ۔ 

صحیح مسلم حدیث نمبر : 2243

 ایک بار پھر  مصنوعی کربلا کے متعلق احمد رضا خان صاحب کا  فتوی ۔لاحظہ فرمالیں۔

 احمد رضا خان  اس مصنوعی کربلا کے متعلق فتوی دیتے ہوئے لکھتے ہیں: 

مصنوعی کربلا جانا حرام و ناجائز و گناہ ہے۔ 

(فتاوٰی رضویہ، 24، ص 496، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔

اخیر میں، میں رضاخانی علماء سے گزارش کروں گا کہ چونکہ ان خرافات و بدعات میں ملوث آپ ہی کی عوام کی اکثریت ہے اور وہ ان خرافات کو سنیت و رضاخانیت سمجھتی ہے جبکہ مولانا احمد رضاخان کی تعلیمات اس کے برعکس ہے۔ اس عوامی غلط فہمی کو دور کر کے  عوام الناس کو اسلام کی صحیح تعلیمات سے روشناس کرائیں۔ 
جزاکم اللہ خیر الجزاء و احسن الجزاء عنا !

Saturday, June 20, 2026

امامت کے متعلق فتاویوہابیوں سے متعلق فتاویوہابی سے تعلقات اور رشتے داری کا حکم4482


امامت کے متعلق فتاویوہابیوں سے متعلق فتاوی
وہابی سے تعلقات اور رشتے داری کا حکم
4482



عنوان:وہابی سے تعلقات کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ایک حافظ قرآن ہے اور اس کا سگا بہنوئی وہابی مولوی ہے۔زید کے گھر اس وہابی مولوی کا آنا جانا ہے اور زید کے گھر والے اس وہابی مولوی سے تعلقات بھی رکھتے ہیں۔اور زید جس گھر میں رہتا ہے اسی گھر میں وہ وہابی مولوی بھی آتا ہے اور زید ہی اپنے گھر کے اخراجات بھی پورے کرتا ہے،ضرورت پڑنے پر ایک مسجد میں امامت بھی کرائی جاتی ہے۔زید ایک سنی مسجد کا ٹرسٹی بھی ہے اور ایک سنی مدرسے میں بھی پڑھاتا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید سے تعلقات رکھنا اور سنی مسجد میں امام بنانا نیز سنی مدرسے میں مدرس رکھنا اور کسی سنی مسجد کا ٹرسٹی بنانا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟
نیز جن لوگوں نے امام بنایا یا سنی مدرسے میں بحیثیت مدرس رکھا جو ان تمام معاملات کو جانتے ہوئے زید سے تعلقات رکھتے ہیں ان سب پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟

المستفتیان:عمران رضا وعوام اہل سنت، میٹھی کھاری، لمبایت، سورت

 
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:’’وہابیہ وغیر مقلدین و دیوبندی و مرزائی آج کل سب کفار و مرتدین ہیں،ان کے پاس نشست و برخاست حرام ہے،ان سے میل جول حرام ہے اگر چہ اپنا باپ یا بھائی یا بیٹے ہوں اور ان لوگوں سے کسی دنیاوی معاملت کی بھی اجازت نہیں كما بيناه في المحجة المؤتمنة ان کے پاس بیٹھنے والا اگر ان کے پاس بیٹھتا ہے یا ان کے کفر میں شک رکھتا ہے اور وہ ان کے اقوال سے مطلع ہے تو بلا شبہ کافر ہے‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم، ج:٢١،ص:٢٧٨،رضا فاؤنڈیشن)
تاج دارِ اہلِ سنت حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’جو مرتدین ہیں نیچڑی وہابی دیوبندی قادیانی رافضی ان سے میل جول رسم و راہ کیسی،نری معاملت بھی حرام ہے‘‘۔(فتاویٰ مفتی اعظم ہند،ج٥،ص٣٣٧،امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف)
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’وہابیوں سے سلام و کلام کرنا سخت ناجائز و حرام ہے‘‘۔(فتاویٰ فقیہ ملت،ج:١،ص:١٨،مطبوعہ مکتبہ فقیہ ملت)
لہذا صورت مسئولہ میں بر تقدیر صدق سوال زید اور اس کے گھر والوں کا اس دیوبندی سے میل جول رکھنا،اپنے یہاں مہمان بنانا،اس کے یہاں شادی بیاہ کرنا،اس کو عزت دینا،اس کی صحبت اختیار کرنا،سلام وکلام کرنا ناجائز و حرام،بد کام،بد انجام ہے۔زید سچی توبہ کے بعد امامت و تدریس وغیرہ کا فریضہ انجام دے سکتا ہے جب کہ دوسری شرعی ممانعت نہ پائی جائے، اور جب تک توبہ نہ کرے اس کو امام و مدرس وغیرہ بنانا منع ہے۔
ہاں اس وہابی کے کفریہ عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے جو بھی تعلقات رکھے اسے مسلمان جانے تو یہ کفر ہےاور ایسی صورت میں توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح کریں لازم ہے۔والله تعالى أعلم

 دار الافتاء فیضان تاج الشریعہ


 *دیوبندی وہابی وغیرہ کسی بھی بد مزہب کی نماز جنازہ یہ جانتے ہوئے پڑھی کہ مذہبا دیوبندی ہے توبر بنائے مزہب اصح وہ اسلام سے خارج ہے اس پر توبہ و تجدید ایمان لازم ہے بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے*

 *📚فتاوی رضویہ میں ہے👇* 
 *جسے یہ معلوم ہو کہ دیوبندیوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی توہین کی ہے پھر ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اسے مسلمان نہ کہا جائے گا کہ پیچھے نماز پڑھنا اس کی ظاہر دلیل ہے کہ ان کو مسلمان سمجھا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو مسلمان سمجھنا کفر ہے - اس لئیے علماء حرمین شریفین نے بالاتفاق دیوبندیوں کو کافر ومرتد لکھا اور صاف فرمایا ــــ من شک فی کفرہ وعذابه فقد كفر جو ان کے عقائد پر مطلع ہو کر مسلمان جاننا اور کناران کے کفر میں. شک ہی کرے وہ بھی کافر اورجن کو اس کی خبر نہیں اجمالا اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بد عقیدہ بد مزہب ہیں. وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے سخت اشد گنہگار ہوتے ہیں اور ان کی وہ نمازیں سب باطل و بیکار ہیں "٬ اھ (ص ۷۶'۷۷ ج ۶)*

Saturday, June 13, 2026

تقریری لطیفے۔

1)ایک آدمی کی شادی نہیں ہو رہی تھی
 وہ روزانہ دو رکعت صلاۃ الحاجات “ پڑھتا تھا 
آخر اسکی شادی ہو گئی
 اب وہ روزانہ صلاۃ التوبہ “ پڑھتا ہے 

2)شیر نے مرغے سے کہا: جب بھی کوئی مسئلہ ہو تو اذان دے دینا میں آجاؤں گا۔۔۔
ایک دن گیدڑ کو اپنی طرف آتا دیکھ کر مرغا درخت پر چڑھ گیا🐓 اور اذان دی📢
گیدڑ بولا: نیچے آجاؤ نماز پڑھتے ہیں🧎🏻‍♂️
مرغا بولا: رک جاؤ امام صاحب آرہے ہیں... اتنے میں شیر کو آتا دیکھ کر گیدڑ بھاگنے لگا 
تو مرغا بولا: رکو امام صاحب آگئے ہیں
 گیدڑ بھاگتے ہوئے بولا :یہ امام ہمارے فرقے کا نہیں ہے

3)اک عورت شاپنگ کرنے گئی
دکاندار نے سب کپڑے دیکھا دیے
آخر میں عورت بولی

بھائی یہ پسند نہیں کوئی اور دکھائی 

دکاندار تھک ہار کر بولے
 
باجی اب کفن باقی ہے دکھاؤں کیا؟

4)ایک خاتون کی انگلی ریل گاڑی کے شیشے میں آ کر ٹوٹ گئی۔۔۔اس نے محکمہ ریلوے پر پچاس لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ کر دیا۔۔۔۔جج (خاتون سے) "آپ نے ایک انگلی کا ہرجانہ پچاس لاکھ روپے کا دعویٰ کیا ہے۔۔۔۔میرا خیال ہے یہ رقم بہت زیادہ ہے۔۔۔۔کم ہونی چاہیے".....خاتون (جج سے)....مائی لارڈ! میری ایک انگلی کے پچاس لاکھ روپے تو بہت کم ہیں۔۔۔۔میں اس انگلی سے اپنے کروڑ پتی شوہر کو نچایا کرتی تھی"

5)ایک آدمی اپنی گھر کی پرشانیوں کے حل کے لیے ایک بابا جی کے پاس گیا...🙂💁‍♂️

بابا جی :

کل اپنے گھر کی مٹّی لانا...!!

اگلے دن بابا جی نے اُس کی لائی ھوئی مٹّی پر کُچھ پڑھ کر پھونکا اور بولے :

سن سکو گے تو بتاؤں...؟؟

آدمی بولا :

بتاؤ بابا میں سن لونگا...!!

بابا جی :

تو سنو تمہاری بیٹی کا اسکول میں چکّر چل رہا ھے اور تمہارے بیٹے غلط راستے پر نکل گئے ھیں اور خاص بات تمہاری بیوی تمہیں دھوکہ دے رھی ھے اور اس کا چکّر تمہارے پڑوسی کے ساتھ چل رہا ھے...!!

آدمی یہ سب سن کر زور زور سے ہنسنے لگا تو بابا جی کو لگا یہ صدمے میں پاگل ھو گیا ھے...!!

بابا جی :

ہنس کیوں رھے ھو...؟؟ 😕🤔

آدمی :

بابا جی اگر ہنسنے کی وجہ بتاؤ تو آپ سن لو گے...؟؟

بابا جی :

ہاں سن لونگا...!! 

آدمی :

میں گھر سے مٹّی لانا بھول گیا تھا تو میں نے آپ کے آنگن سے ھی مٹّی اُٹھا لی تھی...☠️🤓

Recent posts

تعزیہ، عاشورہ کا میلہ اور فتوی احمد رضا خان

 احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں۔ اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے ۔ (عرفان شریعت حص...