بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اقبال قاسمي سلفي
موضوع: مصنوعی کربلا ،جعلی امام باڑے اور فتویٰ احمد رضاخان!
مصادر : مختلف مراجع و مصادر !
سب سے پہلے مصنوعی کربلا کے متعلق مولانا احمد رضا خان کا فتوی ملاحظہ کریں ۔
احمد رضا خان مصنوعی کربلا کے متعلق فتوی دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
مصنوعی کربلا جانا حرام و ناجائز و گناہ ہے۔
(فتاوٰی رضویہ، 24، ص 496، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔
قرآن و حدیث کے واضح شاہراہ کو چھوڑ کر صوفی سنتوں کے من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے رضاخانیوں نے شرک و بدعات کے ذریعے اسلام کو مضحکہ خیز بنادیا ہے۔
ان ہی میں سے فرضی اور مصنوعی کربلا بھی ہیں، جو آج ہند وپاک میں بکثرت پاۓ جاتے ہیں۔
اس فرضی اور مصنوعی امام بارہ کو روضہ حسین کا مقام و مرتبہ دیا جاتاہے ۔
جبکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اصل قبر کے متعلق کسی کو علم نہیں ہے، اور کسی بھی مستند ماخذ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر اور جسم کے مدفن کے بارے میں مذکور نہیں ہے ۔ اسی لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مدفن کے متعلق دعوے کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ کہاں ہے۔
علامہ بن باز رحمہ اللہ سے جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ کہاں ہے تو انہوں نے جواب دیا:
بالواقع قد اختلف الناس في ذلك، فقيل: إنه دفن في الشام، وقيل: في العراق، والله أعلم بالواقع.
أما رأسه فاختلف فيه؛ فقيل: في الشام، وقيل في العراق، وقيل: في مصر، والصواب أن الذي في مصر ليس قبرًا له، بل هو غلط وليس به رأس الحسين، وقد ألف في ذلك بعض أهل العلم، وبينوا أنه لا أصل لوجود رأسه في مصر ولا وجه لذلك، وإنما الأغلب أنه في الشام؛ لأنه نقل إلى يزيد بن معاوية وهو في الشام، فلا وجه للقول بأنه نقل إلى مصر، فهو إما حفظ في الشام في مخازن الشام، وإما أعيد إلى جسده في العراق، وبكل حال فليس للناس حاجة في أن يعرفوا أين دفن؟ وأين كان؟
وإنما المشروع الدعاء له بالمغفرة والرحمة، غفر الله له ورضي عنه، فقد قتل مظلومًا فيدعى له بالمغفرة والرحمة، ويرجى له خير كثير، وهو وأخوه الحسن سيدًا شباب أهل الجنة، كما قال ذلك النبی صلى الله عليه وسلم.
(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز (6/ 461).
(در اصل اس بارے میں اختلاف ہے۔ کہاجاتا ہے کہ وہ شام دفن کیے گئے اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ عراق میں دفن کیے گئے ہیں والله اعلم بالواقع.
سر حسین کے متعلق بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ شام عراق اور بعض نے مصر کو بھی سر حسین کا مدفن قرار دیا ہے۔ اور درست یہ ہے کہ مصر میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر نہی ہے جس کے متعلق باور کرایا جاتا ہے۔ بعض اہل علم نے اس پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔ اور اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مصر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر کے پاۓ جانے کی کوئی اصل نہیں ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ وہ شام میں ہے۔ اس لیے کہ اسے شام میں یزید بن معاویہ کی طرف منتقل کر دیا گیا تھا۔ پس یوں تو وہ شام کے مخازن میں ہی محفوظ کردیا گیا یا اسے عراق میں جسد حسین کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ بہر صورت لوگوں کو یہ جاننے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ انہیں کہاں دفن کیا گیا؟ اب ان کے لیے دعاء مغفرت اور رحمت کی ضرورت ہے کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان پر رحم فرماۓ! کیونکہ انہیں ظالمانہ طور پر قتل کیا گیا تو ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جاۓ اور ان کے لیے ڈھیر ساری بھلائیوں کی امید رکھی جائے۔
یقیناً حضرت حسین اور انکے بھائی حسن جنتی جوانوں کے سردار ہیں جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے).
(مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز (6/ 461)
اور نہ ہی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد محترم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مدفن کا کسی کو یقینی علم ہے۔
اسی لیے مدفن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق سنیوں اور شیعوں کی مختلف آراء ہیں۔
اہلسنت کے نزدیک قصرالامارہ، کوفہ ؛ اہل تشیع کے یہاں روضہ حیدریہ،نجف، عراق جبکہ ممکنہ طور پر مسجد ازرق ، افغانستان کو مدفن علی تصور کیا جاتا ہے۔
دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت دریافت کیا گیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مزار کہاں ہے۔ حوالے کے ساتھ جواب درکار ہے۔
دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا :
"تحقیق نہیں۔"
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر : 41513
اس سے معلوم ہوا کہ نواسہ رسول سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر کے متعلق کسی کو بھی یقینی علم نہیں ہے اور نہ ہی ان کے والد محترم حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی قبر کے متعلق یقین کے ساتھ یہ کہا جاسکتا کہ ان کا مدفن کہاں ہے۔
مصنوعی کربلا اور جعلی امام باڑوں کے متعلق خود بریلوی علماء کے فتوے ملاحظہ کریں:
1) دور حاضر میں امام باڑا بنانا جائز نہیں ہے جیسا کہ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں بے امام باڑا بنانا اور اس کو ماننا اسی طرح مصنوعی کربلا اور فرضی قبر بنا کر اسے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا روضہ سمجھنا پھر اس کے ساتھ امام پاک کے روضہ مبارک کی طرح برتاؤ کرنا حرام و گناہ ہے صاحب عقل یہ بخوبی جانتا ہے کہ فرضی روضه برگزبرگز حضرت امام پاک کا روضہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کربلا ہے نہ وہ امام پاک کی بارگاه یا آرام گاہ ہے پھر اس کے ساتھ اصل روضہ کی طرح برتاؤ کرنا کیوں کر جائز ہو سکتا ہے اسلام فرضی مصنوعی چیز کو حقیقی اور سچی ماننے کی تعلیم نہیں دیتا عوام کا یہ طریقہ بالکل غلط ہے اور اسے امام پاک کا روضہ سمجھ کر وہاں فاتحہ پڑھنے والے اور اسی طرح دوسرے امور انجام دینے والے گناہ گار ہیں
(فتاوی مرکز تربیت افتاء ج دوم )
2) فتاوی رضویہ میں ہے
چوک پر تعزیہ کے سامنے کچھ رکھ کر نیاز فاتحہ دلانا تعزیہ کو گاوں و گلی کوچوں میں میں گھمانا ماتم کرنا تاشے اور طرح طرح کے ڈھول بجانا کھیل تماشہ کرنا مصنوعی کربلا کو جانا جلوس میں مرد عورت کا باہم خلط ملط ہونا عورتوں کا مرثیہ گانا کسی مرد پر یا عورت پر بابا کی سواری آنا یہ سب باتیں خرافات وبدعات اور سخت ناجائز وحرام ہیں شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ایسا کرنے والے سخت گنہگار و مستحق عذاب نار ہیں
(فتاویٰ رضویہ ج نہم نصف آخر ص44)
3) فرضی کربلا جو آج کل محرمات و خرافات کی آماجگاہ ہے‘ یہ حرام در حرام‘ بدکام بدانجام ہے۔
(فتاویٰ تاج الشریعہ جلد 4)
4) چامعہ اشرفیہ سے اس بابت جب سوال پوچھا گیا کہ کیا امام باڑے پر تعزیہ کے ساتھ شیرینی رکھ کر یا بغیر تعزیہ کے فاتحہ پڑھنے والے امام کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟
تو جامعہ اشرفیہ نے جواب دیا:
الجواب:---- تعزیہ کے چبوترے پر شیرینی رکھ کر نیاز دینا ، دلانا رافضیوں کا طریقہ ہے اس لیے اس میں تشبہ بالروافض ہے اور ناجائز وگناہ، نیاز گھر دلائیں ۔ تعزیہ کے چبوترے پر ہر گز ہرگز نہ دلائيں ایسا امام جو تعزیہ کے چبوترے پر شیرینی رکھ کر نیاز دیتا ہے ، امامت کے لائق نہیں۔ ہاں اگر توبہ کرے تو اسے امام بنانے میں کوئی حرج نہیں اور یہی حکم امام باڑے کا بھی ہے۔ واللہ تعالی اعلم---
(فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد:۵(فتاوی شارح بخاری)
5) احمد رضا خان لکھتے ہیں :
یوہیں تعزیہ، چڑھاوا، امام باڑے کا مکان، اس کی نوبت، روشنی، آرائش سب بشرح صدر ہیں، غم والم کا نام اور لہو و لعب کی یہ دھوم دھام اور اس پر امید خوشنودی حضرت امام (العیاذ باللہ) یہ سب بیہودہ، بدعت و ممنوع ہیں،
(فتاویٰ رضویہ کتاب الحظر ،ج ٢٤ ،ص ٤٩٦)
ان فتووں سے بخوبی معلوم ہوا کہ مسلک بریلویت میں بھی امام باڑا بنانا اور اس کو ماننا اسی طرح مصنوعی کربلا اور فرضی قبر بنا کر اسے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا روضہ سمجھنا پھر اس کے ساتھ روضہ حسین کی طرح برتاؤ کرنا حرام و گناہ ہے اور ایسا امام جو تعزیہ کے چبوترے پر شیرینی رکھ کر نیاز دیتا ہے ، امامت کے لائق نہیں۔
رضاخانی علماء کو چاہیے کہ کم از کم اپنے گھر کے فتووں کا چراغ عوام الناس میں روشن کریں۔
حقائق سے آگاہ کریں۔ بدعات و خرافات سے بچاکر کتاب و سنت کی شاہراہ دکائیں۔
قابل غور یہ ہے کہ آج جبکہ حضرت علی اور ابن علی رضوی اللہ تعالی عنہما کی قبریں محفوظ نہیں ہے تب لوگوں نے غلو کرتے ہوئے مصنوعی قبریں بنا کر شرک و بدعت کی حدیں پارکر رکھی ہیں جس قبر پرستی سے نبی کریم ﷺ نے سختی کے ساتھ منع فرمایا تھا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ ان لوگوں ( یہود و نصاری ) پر لعنت فرمائے جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنایا ۔‘‘
(سنن نسائی : 2048)
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ : لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : لَوْلَا ذَلِكَ لَأُبْرِزَ قَبْرُهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا .
نبی کریم ﷺ نے اپنے مرض الموت میں فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ کی قبر بھی کھلی رکھی جاتی لیکن آپ کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں آپ کی قبر کو بھی سجدہ نہ کیا جانے لگے ۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 4441)
حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی ﷺ کو آپ کی وفات سے پانچ دن پہلے یہ کہتے ہوئے سنا :’’ میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس چیز سے براءت کا اظہار کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے ، جس طرح اس نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا تھا ، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا ، خبردار ! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا کرتے تھے ، خبردار ! تم قبروں کو سجدہ گاہیں نہ بنانا ، میں تم کو اس سے روکتا ہوں ۔‘‘
عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ۔
ابوالہیاج اسدی سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : کیا میں تمھیں اس ( مہم ) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے روانہ کیا تھا ؟ ( وہ یہ ہے ) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے ( زمین کے ) برابر کر دینا ۔
صحیح مسلم حدیث نمبر : 2243
ایک بار پھر مصنوعی کربلا کے متعلق احمد رضا خان صاحب کا فتوی ۔لاحظہ فرمالیں۔
احمد رضا خان اس مصنوعی کربلا کے متعلق فتوی دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
مصنوعی کربلا جانا حرام و ناجائز و گناہ ہے۔
(فتاوٰی رضویہ، 24، ص 496، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)۔
اخیر میں، میں رضاخانی علماء سے گزارش کروں گا کہ چونکہ ان خرافات و بدعات میں ملوث آپ ہی کی عوام کی اکثریت ہے اور وہ ان خرافات کو سنیت و رضاخانیت سمجھتی ہے جبکہ مولانا احمد رضاخان کی تعلیمات اس کے برعکس ہے۔ اس عوامی غلط فہمی کو دور کر کے عوام الناس کو اسلام کی صحیح تعلیمات سے روشناس کرائیں۔
جزاکم اللہ خیر الجزاء و احسن الجزاء عنا !