السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
محمد اقباال قاسمي سلفي
موضوع : سلیمان علیہ السلام کی طرف سے تمام حیوانات کی دعوت والے قصہ کی تحقیق
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
علماء ،مفتیان اور مقررین حضرات سلیمان علیہ السلام کے حوالے سے اکٹر یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام نے اللہ سے کہا کہ میں تیری مخلوق کی دعوت کرنا چاہتا ہوں ،اللہ رب العزت نے کہا :تو نہیں کر سکتا، سلیمان علیہ السلام نے کہا: نہیں، میں کرنا چاہتا ہوں، تو اللہ رب العزت نے کہا کہ اچھا کر لے۔ سلیمان علیہ السلام چھ ماہ تک کھانا بناتے رہے اور پہاڑ جیسا کھانا تیار کر لیا، اور اس کے بعد کہا : اللہ اپنی مخلوق کو بھیج، اللہ رب العزت نے ایک مچھلی بھیجی جس نے سارے کھانے کا ایک لقمہ بنا یا اور کھا گئی۔ اور کہا : مجھے میرا رب روزانہ تین ایسے لقمے کھلاتا ہے ،تو نے مجھے بھوکا رکھا ہے، تو سلیمان علیہ السلام سجدے میں گر گئے کہ یا اللہ، واقعی پالنا تیرا ہی کام ہے۔
لیکن یہ روایت سراسر بے سند اور غیر معتبر ہے۔ کسی بھی صحیح حدیث میں یہ واقعہ مذکور نہیں ہے ۔صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے ، جس میں یہ یہ واقعہ مذکور ہو۔
علامه عبد الكريم قشیری (المتوفي: 465ھ) نے درج ذیل الفاظ کے ساتھ اس واقعہ کو نقل فرمایا ہے ۔
چنانچہ فرماتے ہیں :
"وقيل: إن سليمان عليه السلام سأل الله تعالى أن يضيف يوما جميع الحيوانات فأذن له في ذلك، فجمع الطعام مدة طويلة، فأرسل الله حوتا، فأكل جميع ما جمعه، ثم سأله الزيادة، فقال له سليمان: أأنت تأكل كل يوم مثل هذا؟ فقال: كل يوم ثلاثة أضعاف هذا، فليتك لم تضفني، ولا أحالني الله عليك."
(التحبير في شرح التذكير، فصل في معنى العظيم، (ص: 41)، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت)
لیکن جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ، علامہ عبدالکریم قشیری نے اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی بلکہ صیغہ تمریض "قیل" کے ساتھ ہی ذکر کیا ہے ۔
اسی واقعہ کو علامہ قشیری رحمہ اللہ کے حوالہ سےعلامہ دَمِیری رحمہ اللہ (المتوفي:808ھ) نے ’’یقال‘‘کےلفظ کے ساتھ نقل فرمایا ہے ۔
(حياة الحيوان الكبرى، الحوت، (1/ 380)، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت)
بعد ازاں اس واقعہ کو علامہ صفوری رحمہ اللہ (المتوفي: 894ھ) نے بھی ’’حکایۃ‘‘ کے عنوان سے نقل فرمایا ہے۔
(نزهة المجالس، باب الكرم والفتوة ورد السلام، (1/ 213)/ ط/ المطبعه الكاستلية - مصر)
جیسا کہ مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوا کہ کسی نے بھی اس واقعے کی سند ذکر نہیں کی ہے۔
جتنے لوگوں نے بھی اسے نقل کیا ہے ،اسے قیل (کہا گیا) یقال (کہا جاتا ہے) حكاية (نقل کیا جاتا ہے ) جیسے الفاظ سے ہی نقل کیا ہے، جن الفاظ کو وضاعین اور قصہ گو حضرات بے سند، اور من گھڑت قصے کہانیوں کو نقل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: «الْإِسْنَادُ مِنَ الدِّينِ، وَلَوْلَا الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاءَ مَا شَاءَ.
عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اسناد ( سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا ۔
(صحیح مسلم: 32)
امام ابوعبد اللہ الحاکم فرماتے ہیں: اگر اسناد نہ ہوتی، محدثین کرام اس کی طلب اور اس کی حفاظت و صیانت کا مکمل اہتمام نہ فرماتے تو مینارۂ اسلام منہدم ہوچکا ہوتا ، ملحدین اور بدعتیوں کو حدیثیں گڑھنے اور اسانید کو الٹ پلٹ کرنے پر قدرت ہوجاتی؛ کیوں کہ احادیث جب اسانید سے خالی ہوں گی تو وہ بے اعتبار ہوکر رہ جائیں گی ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ،ص : 115)
سفیان ثوری رَحْمَہ اللہ فرماتے ہیں: الَإسْنَادُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ , فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُ سِلَاحٌ , فَبِأَيِّ شَيْءٍ يُقَاتِلُ ؟ یعنی : اسناد، مومن کا ہتھیار ہے، جب اس کے پاس ہتھیار ہی نہیں ہوگا تو وہ کس چیز سے جنگ لڑے گا ۔( کتاب المجروحین، ص:31)
عبد اللہ بن مبارک رحمہ الله فرماتے ہیں : بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْقَوَائِمُ: یَعْنِي الِاسْنَادَ۔ یعنی : ہمارے (محدثین) اور دوسرے لوگوں کے درمیان قابل اعتماد چیز اسناد ہے ۔
(مقدمہ مسلم)
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!
۔
No comments:
Post a Comment