السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
محمد اقباال قاسمي سلفي
موضوع: عوج بن عنق کی لمبائی کا دیومالائی قصہ !
مصادر: مختلف مراجع و مصادر!
عوام الناس حتی کہ علماء اور مفتیان کے درمیان بھی عوج بن عنق جسے عوج بن عناق بھی کہاجاتاہے ،کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ وہ اس قدر قدآور تھا کہ سمندر کی گہرائیوں سے مچھلیاں پکڑا کرتا تھا اور سورچ میں بھون کر اسے کھایا کرتا تھا۔
طوفان نوح میں پہاڑ تو ڈوب گئے مگر پانی اس کے گھٹنے تک بھی نہیں پہنچ سکا ، موسی علیہ السلام کا قد دس ہاتھ تھا ، ان کا عصا دس ہاتھ کا تھا ، موسی ںنے دس ہاتھ بلندی پر اچھل کر اس کو عصا مارا تب جاکر اس کے ٹخنے میں لگ سکا لیکن وہ اسی ایک ڈنڈے میں مر گیا ۔اتفاق سے دریا کے جس کنارے پر وہ مرا ،وہ دریا کی چوڑائی تھی ، ایک کنارے پر اس کا پاؤں تھا تو دوسرے کنارے پر اس کا سر۔ اس طرح وہ اس دریا پر ایک پل بن گیا اور لوگ ایک ہزار سال تک اس پل سے آتے جاتے رہے۔
لیکن عوج بن عنق کا یہ واقعہ سراسر چھوٹا واقعہ ہے۔عقل و نقل ، دونوں اعتبار سے یہ واقعہ غلط ہے ۔
کیونکہ اس سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ عوج بن عنق نے اتنی لمبی عمر پائی ہے کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام سے کے زمانے سے لیکر حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے تک زندہ رہا۔ جبکہ یہ بات قرآن و حدیث کی تصریحات کے صریح خلاف ہے ۔
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں فرمایا :
فَاَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَّعَهٝ فِى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ (119)
پھر ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ بھری کشتی میں تھے بچا لیا۔
ثُـمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِيْنَ (120)
پھر ہم نے اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا۔
سورہ نوح میں اللہ رب العزت نے فرمایا:
وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا (26) إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا
سورہ نوح : 26,27
اور نوح نے کہا اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔
اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور نسل بھی جو ہوگی تو فاجر اور کافر ہی ہوگی۔
ان آیتوں کے مطابق طوفان نوح میں چند ایمان والوں کے علاوہ جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ، کوئی بھی نہ بچ سکا ، یہاں تک کہ پیغمبر کا بیٹا اپنے باپ کی آنکھوں کے سامنے طوفان نوح کی نذر ہوگیا ۔
تو عوج بن عنق نامی کافر و بد بخت کے بارے میں یہ عقیدہ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ وہ عذاب الٰہی کا شکار ہونے سے بچا رہ گیا ہو۔
یہ اس صحیح حدیث کے بھی خلاف ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَطُولُهُ فِي السَّمَاءِ سُتُونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلُ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الآنَ .
ترجمہ: اللہ رب العزت نے آدم کو پیدا کیا اور ان کی لمبائی آسمان میں ساٹھ ہاتھ تھی اس کے بعد اب تک اس میں کمی ہوتی رہی۔
متفق علیہ.
حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :
مفسرین نے قوم جبارین کے سلسلے میں بہت سی اسرائیلی خرافات لکھی ہیں۔انہیں خرافات میں سے عوج بن عنق کی بھی کہانی ہے ۔
( تفسیرابن کثیر: ٥١٢/٢)
"علامہ آلوسی لکھتے ہیں: عوام میں عوج بن عنق کا افسانہ کافی مشہور ہے ا ر اس ک بارے میں عجیب و غریب داستانیں بیان کی جاتی ہیں ۔حافظ ابن حجر نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ حافظ عمادالدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ عوج بن عنق سے متعلق جتنی بھی داستانیں بیان کی جاتی ہیں ,یہ سب بکواس ہے ،اس کی کوئی اصل نہیں ہے ،یہ اہل کتاب کا گھڑا ہوا افسانہ ہے ، یہ قطعاً نوح علیہ السلام کے زمانے میں نہیں تھا، اور طوفان کے بعد کافروں میں سے کوئی بچا نہیں تھا۔ عوج کس طرح بچ گیا۔۔
علامہ ابن قیم کہتے ہیں: حدیث موضوع ہونے کا ایک بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ مشاہدے اور تجربے کے خلاف ہو، جیسے عوج الطویل کا قصہ ہے ، بڑی حیرت ہوتی ہے اس بد بخت کی جرأت پر جس نے یہ جھوٹا افسانہ گھڑ کر اللہ تعالٰیٰ پر افترا کیا ہے اور اس سے بھی زیادہ حیرت و تعجب ان لوگوں پر ہے جو اپنی کتابوں اور تفسیروں میں اس طرح کی لغو اور بیہودہ کہانیوں کو داخل کر دیتے ہیں اور مزید ستم یہ کہ اس روایت کے موضوع ا ور باطل ہونے پر شبہ بھی نہیں کرتے ۔"
(تفسیر روح المعانی: 6/352)
علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: قصہ گو اور افسانہ تراشوں نے قوم عاد و ثمود اور عمالقہ ک سلسلے میں خوب مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے ۔مزید لکھتے ہیں کہ عوج بن عنق کے دور میں دوسرے باشندوں کے قدو قامت بھی اسی تناسب سے ہونا چاہیے اور اس قوم کے سارے آثار بھی اسی تناسب سے ہونا چاہیے ،لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بیت المقدس اگرچہ اس میں بار تبدیلیاں ہوئی ہیں ، اس کے باوجود کچھ چیزیں اس کی قدیم ترین شکل و ہیئت پر ضرور دلالت کرنے والی ہونی چاہئے ،حتی الامکان اس کی بناوٹ ،اس کے دروازے ،اس کی دیواریں، اس کی چھت وغیرہ کو وغیرہ ۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں سے بھی یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ کبھی یہ مقام اتنی طویل القامت قوم کا مسکن رہا ہوگا ۔
(تاریخ ابن خلدون: 1/141)
بحوالہ تفسیروں میں اسرائیلی روایت از اسیر ادروی
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!
No comments:
Post a Comment