السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
محمد اقباال قاسمي سلفي
موضوع : جھوٹ کی قباحت پر ایک دیہاتی صحابی کے متعلق جھوٹا واقعہ!
مصادر : مختلف مراجع و مصادر !
حنفى علماء ، مفتيان اور مقررین جھوٹ کی مذمت پر تقریر و وعظ کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی طرف منسوب اکثر یہ واقعہ بیان کرتے ہیں :
"ایک دیہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت اس شرط پر کی کہ وہ زنا، چوری، اور جھوٹ میں سے صرف ایک عادت چھوڑےگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دو، تو پھر جب بھی وہ زنا یا چوری کا ارادہ کرتا تو سوچتا کیسے یہ کام کر سکتا ہوں؟ اگر میں نےکر لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھ لیا تو اگر سچ بولوں گا تووہ حد جاری کردیں گے، اور اگر جھوٹ بولوں گا تو اس کے چھوڑنے پر تو وہ مجھ سے وعدہ لے چکے ہیں، تو بس اس کی وجہ سے اسے تمام بری عادتوںسے چھٹکارا مل گیا۔"
ليكن یہ روایت سراسر جھوٹ ہے۔صحیح تو کیا ،کوئی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے ۔
حد تو یہ ہے کہ اس واقعے کے ذریعے مقررین و مفتیان جھوٹ کی مذمت پر ایک طرف عوام کو وعظ و نصیحت کر رہے ہوتے ہیں وہیں دوسری جانب اس واقعے کو بیان کر کے خود ہی جھوٹ بولنے کا ارتکاب کر رہے ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہ روایت ہی بے سند اور جھوٹی ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے جھوٹی روایت بیان کرنا عام جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے ۔
بلکہ اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا:
آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے ، جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291)
عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)
اس واقعہ ک علامہ مناوی (1031 ھ) رحمہ اللہ تعالی نے "شرح الأربعين النووية" میں درج ذیل الفاظ میں نقل فرمایا ہے:
"وقد ورَدَ أنَّ أعرابيًّا بايع المصطفى صلى الله عليه وسلم على تركِ خصلةٍ من خصالٍ كالزِّنا والسرقة والكذب، فقال له النبيّ صلى الله عليه وسلم: «دعِ الكذب» فصار كلَّما همَّ بزنا أو سرقة قال: كيف أصنع؟ إن فعلت سألني النبيُّ، فإن صدقته حدَّني، وإن كذبته فقد عاهدني على ترك الكذب، فكان تركه سببًا لترك الفواحش كلها".
(شرح الأربعين النووية للمناوي (ص: ٢١٠)، ط/ المكتبة العربية السعودية، وزارة التعليم)
ترجمہ : ایک دیہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت اسشرط پر کی کہ وہ زنا، چوری، اور جھوٹ میں سے صرف ایک عادت چھوڑےگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دو، تو پھر جب بھی وہ زنا یا چوری کا ارادہ کرتا تو سوچتا کیسے یہ کام کر سکتا ہوں؟ اگر میں نےکر لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھ لیا تو اگر سچ بولوں گا تووہ حد جاری کردیں گے، اور اگر جھوٹ بولوں گا تو اس کے چھوڑنے پر تووہ مجھ سے وعدہ لے چکے ہیں، تو بس اس کی وجہ سے تمام بری عادتوںسے چھٹکارا مل گیا۔
لیکن علامہ مناوی نے اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی ہے۔ اسی طرح واقعات و مواعظ یہاں تک کہ حنفی درسی کتب میں بھی شامل درس ہوکر حنفی مولویوں اور مفتیوں کے ذریعہ بڑے ذوق و شوق سے یہ روایت پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے ۔
واۓ ناکامی ! متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔
جھوٹ کی مذمت پر کتاب و سنت میں بہت سارے مواد موجود ہیں ،مقررین کو چاہیے کہ اس طرح کی جھوٹی اور تقلیدی روایات کے بجائے صحیح احادیث کا مطالعہ کریں ، تاکہ قوم و ملت کو ضلالت و گمراہی کے قعر عمیق سے نکال کر کتاب و سنت کی شاہراہ پر گامزن کر سکیں ۔
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!
No comments:
Post a Comment