Monday, July 1, 2024

موضوع : جھوٹ کی قباحت پر ایک دیہاتی صحابی کے متعلق جھوٹا واقعہ!

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

محمد اقباال قاسمي سلفي

موضوع : جھوٹ نہ بولنے کی ایک چھوٹی روایت 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

جھوٹ کی مذمت پر وعظ و تقریر  کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی طرف منسوب اکثر یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے : 

"ایک دیہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت اس شرط پر کی کہ وہ زنا، چوری، اور جھوٹ میں سے صرف ایک عادت چھوڑےگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دو، تو پھر جب بھی وہ زنا یا چوری کا ارادہ کرتا تو سوچتا کیسے یہ کام کر سکتا ہوں؟ اگر میں نےکر لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھ لیا تو اگر سچ بولوں گا تووہ حد جاری کردیں گے، اور اگر جھوٹ بولوں گا تو اس کے چھوڑنے پر تو وہ مجھ سے وعدہ لے چکے ہیں، تو بس اس کی وجہ سے اسے تمام بری عادتوںسے چھٹکارا مل گیا۔"

ليكن یہ روایت سراسر جھوٹ ہے۔صحیح تو کیا ،کوئی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے ۔
 
حد تو یہ ہے کہ اس واقعے کے ذریعے مقررین و مفتیان جھوٹ کی مذمت پر ایک طرف عوام کو وعظ و نصیحت کر رہے ہوتے ہیں وہیں دوسری جانب اس واقعے کو بیان کر کے خود ہی جھوٹ بولنے کا ارتکاب کر رہے ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہ روایت ہی بے سند اور جھوٹی ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے جھوٹی روایت بیان کرنا عام جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے ۔
بلکہ اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔

عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا: 
 آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے ، جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291)

عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)

اس واقعہ ک علامہ مناوی (1031 ھ) رحمہ اللہ تعالی نے "شرح الأربعين النووية" میں درج ذیل الفاظ میں نقل فرمایا ہے:

"وقد ورَدَ أنَّ أعرابيًّا بايع المصطفى صلى الله عليه وسلم على تركِ خصلةٍ من خصالٍ كالزِّنا والسرقة والكذب، فقال له النبيّ صلى الله عليه وسلم: «دعِ الكذب» فصار كلَّما همَّ بزنا أو سرقة قال: كيف أصنع؟ إن فعلت سألني النبيُّ، فإن صدقته حدَّني، وإن كذبته فقد عاهدني على ترك الكذب، فكان تركه سببًا لترك الفواحش كلها".  

(شرح الأربعين النووية للمناوي (ص: ٢١٠)، ط/ المكتبة العربية السعودية، وزارة التعليم)

ترجمہ : ایک دیہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت اسشرط پر کی کہ وہ زنا، چوری، اور جھوٹ میں سے صرف ایک عادت چھوڑےگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹ چھوڑ دو، تو پھر جب بھی وہ زنا یا چوری کا ارادہ کرتا تو سوچتا کیسے یہ کام کر سکتا ہوں؟ اگر میں نےکر لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھ لیا تو اگر سچ بولوں گا تووہ حد جاری کردیں گے، اور اگر جھوٹ بولوں گا تو اس کے چھوڑنے پر تووہ مجھ سے وعدہ لے چکے ہیں، تو بس اس کی وجہ سے تمام بری عادتوںسے چھٹکارا مل گیا۔

لیکن علامہ مناوی نے بھی  اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی ہے۔
جھوٹ کی مذمت پر کتاب و سنت میں بہت سارے مواد موجود ہیں ،مقررین کو چاہیے کہ اس طرح کی جھوٹی اور تقلیدی روایات کے بجائے صحیح احادیث کا مطالعہ کریں ، تاکہ قوم و ملت کو ضلالت و گمراہی کے قعر عمیق سے نکال کر کتاب و سنت کی شاہراہ پر گامزن کر سکیں ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا”
(صحیح بخاری: 6094، صحیح مسلم: 2607)
ترجمہ: "بے شک سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ فجور (گناہ) کی طرف لے جاتا ہے، اور فجور جہنم کی طرف لے جاتا ہے، اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اسے کذاب (بہت زیادہ جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ”
(صحیح بخاری: 33، صحیح مسلم: 59)
ترجمہ: "منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔”
ہنسنے ہنسانے کے لیے بھی جھوٹ کی ممانعت 
‏‏‏‏‏‏عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ وَيْلٌ لَهُ وَيْلٌ لَهُ۔

جناب بہز بن حکیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد ( حکیم ) نے اپنے والد ( حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ ) سے روایت کیا ۔ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا , آپ فرماتے تھے :’’ ہلاکت ہے اس کے لیے جو اس غرض سے جھوٹ بولے کہ اس سے لوگ ہنسیں ۔ ہلاکت ہے اس کے لیے ! ہلاکت ہے اس کے لیے !‘‘  

چھوٹے بچوں کے جھوٹ بولنے کی ممانعت :

مسند احمد کی صحیح روایت میں ہے کہ:
 «من قال لصبی تعال هناك ثم لم یعطه فهی کذبة» (۹۶۲۵) جس نے کسی بچے سے کہا کہ ادھر آو یہ لے لو اور پھر اسے وہ نہ دیا جس کے لیے اس نے اسے بلایا تھا تو یہ بھی ایک جھوٹ ہے۔
عبداللہ بن عمار سے روایت ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے ، میں کھیلنے کے لئے جانے لگا تو میری ماں نے کہا: عبداللہ !! ادھر آو! میں تمہیں کچھ دوں گی ، رسول اللہ صلی اللہ نے میری ماں سے پوچھا تم کیا دینا چاہ رہی ہو؟ کہتی ہیں : اسے کھجور دینا چاہتی ہوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اگر تم بلا کے اسے کچھ نہ دیتی تو تمہارے خلاف چھوٹ لکھا جاتا ۔ (صحيح الجامع: 1319 علامہ البانی نے حسن قرار دیا ہے)

جھوٹ کا عام ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے: 

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُظْهَرَ الزُّورُ وَيُفْشَى الْكَذِبُ”
(مسند احمد: 3789)
ترجمہ: "بے شک قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ جھوٹ عام ہو جائے گا اور جھوٹی گواہیاں دی جائیں گی۔”
قرب قیامت جھوٹ بولنے والے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا: 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتٌ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ”
(مسند احمد: 7899، سنن ابن ماجہ: 4036)

ترجمہ: "لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جو دھوکہ دینے والا ہوگا، اس میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار سمجھا جائے گا اور امانت دار کو خائن، اور اس میں رذیل لوگ بات کریں گے۔”
یہ وہ چند احادیث بطور مشتے از خروارے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی قرآنی آیات و احادیث جھوٹ کی مذمت و قباحت پر موجود ہے ۔ اس کے باوجود حنفی علماء، مفتیان اور واعظین حضرات موضوع اور بے سند روایات کا سہارا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کا مرتکب ہوتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment

Recent posts

تعزیہ، عاشورہ کا میلہ اور فتوی احمد رضا خان

 احمد رضا خان قادری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں۔ اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے ۔ (عرفان شریعت حص...