السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
موضوع: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کھوئی ہوئی سوئی کا مل جانا !
محمد اقبال قاسمی سلفی
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
آج مجھے بہت دنوں بعد اپنے گاؤں کی مسجد میں بریلوی امام کی اقتداء میں نماز جمعہ ادا کرنے کا اتفاق ہوا تو دوران تقریر یہ روایت سننے کو ملی جسے بریلوی حضرات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو نور ثابت کرنے کے لیے پیش کیا کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی سوئی گم ہو گئی تو آپ رضی اللہ عنہا اس کو ڈھونڈنے لگیں، رات کا وقت تھا سوئی ان کو نہ مل سکی، اسی اثنا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کے نور کی وجہ سے وہ سوئی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو مل گئی ۔
بریلوی حضرات یہ روایت اکٹر منبر و محراب اور جلسہ گاہوں سے پیش کرتے نظر آتے ہیں لیکن یہ روایت محدثین کے یہاں موضوع اور من گھڑت ہے۔
اس واقعے کو باسند 3 آئمہ کرام نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔
امام ابوالقاسم ابنِ عساکرؒ م571ھ
ابوالقاسم اسماعیل اصبہانیؒ م535ھ
ابو العباس احمد المقدسیؒ م623ھ
تینوں اسناد میں علت مشترکہ ہے جس کی بنا پر یہ روایت موضوع ہے۔
اس روایت کے تمام طرق میں "مسعدة بن بكر الفرغانی" متھم بالوضع راوی ہے یعنی اس پر احادیث گھڑنے کا الزام ہے اور ائمہ کرام نے اس کے روایت کردہ اس قصے کو واضح طور پر موضوع اور باطل قرار دیا۔
علامہ ذہبی نے فرمایا:
مسعدة بن بكر الفرغانى عن محمد بن أحمد ابنِ عون بخبر كذب۔
ترجمہ: مسعدۃ بن بکر نے محمد بن احمد ابنِ عون کے واسطے سے جھوٹی روایت بیان کی۔
(كتاب ميزان الاعتدال: صفحہ، 8464)
اسی طرح ابنِ عراق نے بھی اس روایت کو جھوٹ قرار دیا:
مسعدة بن بكر الفرغانی عن محمد بن أحمد بن أبی عون بخبر كذب۔
(كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة: جلد، 1 صفحہ، 117)
اسی طرح امام المزیؒ نے بھی اس روایت کو باطل قرار دیا:
كل حديث فيه الحميراء باطل إلا حديثا فی الصوم فی سنن النسائی.
ترجمہ: ہر وہ حدیث جس میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو حمیرا کہہ کر پکارا گیا ہے جھوٹی ہے سوائے سنن نسائی کی حدیث کے جو روزوں کے بارے میں ہے وہ صحیح ہے۔
امام بدر الدین زرکشیؒ اور حافظ ابنِ کثیرؒ نے امام مزیؒ کی موافقت کی۔
(كتاب الإجابة لإيراد ما استدركته عائشةؓ على الصحابة ط :
المكتب الإسلامی: صفحہ، 58)
علامہ ابنِ قیم نے بھی یہی فرمایا:
(كتاب المنار المنيف فی الصحيح والضعيف: صفحہ، 10)
زیرِ بحث روایت میں بھی سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو حمیرا کہہ کر پکارا گیا ہے اور یہ ان روایات میں سے نہیں جو کہ مقبول ہیں لہٰذا امام مزیؒ٬ امام بدر الدین زرکشیؒ٬ اور حافظ ابنِ کثیرؒ اور علامہ ابنِ قیم جوزیہؒ کے نزدیک بھی یہ روایت باطل ہے۔
مسعدة بن بكر الفرغانى کی ایک اور روایت کو ذکر کرکے امام دارقطنیؒ نے اس روایت کو جھوٹا قرار دیا اور شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ نے موافقت کی۔
(كتاب لسان الميزان: جلد، 6 صفحہ، 22)
(بحوالہ آنلاین دفاع اسلام سید محمد عاقب حسین رضوی )
علامہ البانیؒ نے اس واقعے کی ایک روایت (جس میں سوئی گرنے اور درود نہ پڑھنے والے کو بخیل کہنے کا تذکرہ ہے) پر حکم لگاتے ہوئے لکھا:
"كذب موضوع.. لوائح الوضع عليه ظاهرة عندي"(ترجمہ: یہ جھوٹ اور من گھڑت ہے، اور اس پر بناوٹ (من گھڑت ہونے) کے آثار میرے نزدیک بالکل واضح ہیں۔
سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمةحدیث نمبر: 4144
بریلوی علماء کے دلائل کا جائزہ اور ان کے علمی جوابات !!
مکتبۂ فکرِ بریلی کے خطباء اور عوامی لٹریچر جیسے دعوتِ اسلامی کی کتاب "فیضانِ عائشہ صدیقہ" (صفحہ 483) میں اس واقعے کو حضور ﷺ کے "نورِ حسی" ہونے۔ کے ثبوت کے طور پر بڑے زور و شور سے پیش کیا گیا ہے۔ ان کے دلائل اور ان کے علمی جوابات درج ذیل ہیں:
بریلوی خطباء کا استدلال ہوتا ہے کہ ائمہ حدیث کا اصول ہے کہ مناقب اور فضائلِ اعمال میں ضعیف روایات قابلِ قبول ہوتی ہیں، لہذا نبی ﷺ کی شانِ نورانیت کے لیے اسے بیان کیا جا سکتا ہے۔
جواب:
1)ائمہ حدیث کا یہ اصول "ضعیف" روایات کے لیے ہے، "موضوع" (من گھڑت) روایات کے لیے نہیں ہے۔ محدثین کا اتفاق ہے کہ جو روایت موضوع یا شدید ضعیف (جس میں کذاب راوی ہو) ہو، وہ فضائل میں بھی مردود اور ناقابلِ بیان ہوتی ہے۔ چونکہ اس روایت میں مسعدہ بن بکر جیسا کذاب راوی موجود ہے، اس لیے یہ اصول یہاں لاگو نہیں ہوتا۔
2) یہ روایت صحیح اور صریح روایات کے خلاف ہے ۔
صحیح بخاری اور مسلم کی متفق علیہ روایات میں تفصیلاً مذکور ہے کہ غزوۂ مریسع سے واپسی پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اماں عائشہ صدیقہ کافی پریشان ہوئی تھیں جیساکہ صحیح بخاری حدیث نمبر 334 میں یہ بات موجود ہے، لیکن تلاش بسیار کے باوجود وہ ہار نہ مل سکی ۔
3) اس روایت میں"
شُعَاعِ نُورِ وَجْهِهِ" کے الفاظ ہیں جو آپ کے چہرۂ مبارک کی غیر معمولی روشنی اور ایک معجزانہ کیفیت کو ثابت کرتا ہے، جیسے صحیح احادیث میں آپ ﷺ کے چہرے کو چاند سے تشبیہ دی گئی ہے۔
روایت کے الفاظ “نورِ وجہہ” ہیں، “نورِ ذاتہ” نہیں۔
“کیا ہر چیز جس سے روشنی نکلے، وہ اپنی ذات میں روشنی ہی ہوتی ہے؟”
چاند سے روشنی دکھائی دیتی ہے، مگر چاند سورج نہیں۔
چراغ روشنی دیتا ہے، مگر چراغ روشنی کا مجرد مادہ نہیں۔
اگر کسی ولی کے ہاتھ سے پانی نکل آئے تو ہم کہیں گے:
یہ کرامت ہے۔
یہ نہیں کہیں گے:
چونکہ اس کے ہاتھ سے پانی نکلا، اس لیے اس کی پوری ذات پانی سے بنی ہوئی ہے۔
اسی طرح اگر نبی ﷺ کے چہرے سے حقیقی نور کا ظہور ایک معجزہ مان بھی لیا جائے، تو اس سے آپ ﷺ کی پوری تخلیقی حقیقت نور ثابت نہیں ہوتی۔
ایک خارقِ عادت واقعہ یا چہرے کی روشنی کو پوری ذات کی ماہیت قرار دینا، دلیل سے زائد دعویٰ ہے۔
اس روایت سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک نورانی اور نہایت حسین و جمیل تھا جو کہ دوسری صحیح احادیث سے بھی ثابت شدہ ہیں۔
4) ضعیف اور موضوع روایات سے عقیدہ ثابت نہیں کیا جا سکتا ۔ضعیف روایت سے “عقیدۂ تخلیقِ نورِ محمدی” کا قطعی اثبات کیسے ہوگا؟
5)فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 14، ص 358 پر احمد رضاخان فرماتے ہیں :
اور جو مطلقاً حضور سے بشریت کی نفی کرے وہ کافر ہے۔
احمد رضا خان صاحب بریلوی کو اس بات کا اعتراف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی سے پیدا ہوئے نور سے نہیں چنانچہ مولانا احمد رضا خان صاحب نے ایک حدیث لکھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما ایک ہی مٹی سے پیدا کیے گئے اور اسی میں دفن ہونگے۔ (فتاوی افریقہ ص 83)
احمد رضا خان بریلوی کے نزدیک یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مٹی سے پیدا ہونے پر نص ہے۔
مفتی احمد یار خان نعیمی بریلوی نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے کا اعتراف کیا ہے چنانچہ وہ جاء الحق کی ایک عبارت لکھتے ہیں کہ ہم بھی عقیدے کے ذکر میں کہتے ہیں کہ نبی بشر ہوتے ہیں۔
(جاء الحق صفحہ 16)
مفتی امجد علی بریلوی نے اپنی مشہور کتاب بہار شریعت میں یہ عبارت تحریر کی ہے کہ نبی علیہ السلام اس بشر کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے وحی بھیجی ہو۔ انبیا سب بشر تھے۔
(بہار شریعت جلد 1 ص 7)
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
قَدِمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ، يَقُولُونَ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ، فَقَالَ: «مَا تَصْنَعُونَ؟» قَالُوا: كُنَّا نَصْنَعُهُ، قَالَ: «لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا» فَتَرَكُوهُ، فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ، قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيِي، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ»
رسول اللہ ﷺ جب مدینہ میں تشریف لائے تو ( وہاں کے ) لوگ کھجوروں میں قلم لگاتے تھے ، وہ کہا کرتے تھے ( کہ ) وہ گابھہ لگاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ تم کیا کرتے ہو ؟‘‘ انھوں نے کہا : ہم یہ کام کرتے آئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ اگر تم لوگ یہ کام نہ کرو تو شاید بہتر ہو ۔‘‘ اس پر ان لوگوں نے ( ایسا کرنا ) چھوڑ دیا ، تو ان کا پھل گر گیا یا ( کہا ) کم ہوا ۔ کہا : لوگوں نے یہ بات آپ ﷺ کو بتائی تو آپ نے فرمایا :’’ میں ایک بشر ہی تو ہوں ، جب میں تمھیں دین کی کسی بات کا حکم دوں تو اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور جب میں تمھیں محض اپنی رائے سے کچھ کرنے کو کہوں تو میں بشر ہی تو ہوں ۔‘‘
صحیح مسلم حدیث نمبر : 6127
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صحیح بخاری میں روایت ہے:
صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ إِبْرَاهِيمُ : لَا أَدْرِي زَادَ أَوْ نَقَصَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالُوا : صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا ، فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، قَالَ : إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَنَبَّأْتُكُمْ بِهِ ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي ، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّى الصَّوَابَ ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ، ثُمَّ يُسَلِّمْ ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ .
نبی ﷺ نے نماز پڑھائی ۔ ابراہیم نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ نماز میں زیادتی ہوئی یا کمی ۔ پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آیا ہے ؟ آپ نے فرمایا آخر کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے اپنے دونوں پاؤں پھیرے اور قبلہ کی طرف منہ کر لیا اور ( سہو کے ) دو سجدے کئے اور سلام پھیرا ۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں پہلے ہی ضرور کہہ دیتا لیکن میں تو تمہارے ہی جیسا آدمی ہوں ، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں ۔ اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلایا کرو اور اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اس وقت ٹھیک بات سوچ لے اور اسی کے مطابق نماز پوری کرے پھر سلام پھیر کر دو سجدے ( سہو کے ) کر لے ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر: 401
صحیح مسلم میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً۔اے اللہ ! میں صرف ایک بشر ہوں ، اس لیے میں جس مسلمان کو برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اس کو کوڑے ماروں تو اسے اس کے لیے پاکیزگی ( کا ذریعہ ) اور رحمت بنا دے ۔‘‘
صحیح مسلم حدیث نمبر:2601
مفتی احمد یار خان نعیمی کی تفسیر :
صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مرادآبادیؒ کی خزائن العرفان میں سورۃ المائدہ آیت 15 کے تحت ہے:
"سید عالم ﷺ کو نور فرمایا گیا کیونکہ آپ ﷺ سے تاریکیِ کفر دور ہوئی اور راہِ حق واضح ہوئی۔"
یہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ کہ نبی کی ذات نور حسی نہیں بلکہ نور ہدایت ہے۔
(تفسیر خزائن العرفان،پارہ ۶،المائدۃ:۱۵،ص۲۱۳)