بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
اقبال قاسمي سلفي
موضوع : رمضان کا الوداع خطبہ: بدعت سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں !
مصادر : مختلف مراجع و مصادر!
بر صغیر میں عام طور سے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو الوداع جمعہ کہا جاتا ہے۔ لوگوں میں اس جمعے کا ایک الگ ہی اہتمام پایا جاتا ہے۔عوام الناس میں اس جمعے کی ایک مستقل حیثیت ہے۔ اس جمعے کو مساجد میں ائمہ حضرات عموماً الوداعی خطبہ "الوداع الوداع يا شهر رمضان" کے الفاظ کے ساتھ خطبہ جمعہ پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں ۔
جبکہ کتاب و سنت سے الوداعی جمعہ کا کوئی تصور ہے، نہ اس طرح کا کوئی خطبہ ہی ثابت ہے۔
نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔۔۔
نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے۔۔۔۔
صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں الوداعی جمعہ یا الوداعی خطبے کا تصور موجود ہو۔
لہذا اس تصور کے بدعت ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
یہ "رخصتی خطبہ" کب سے شروع ہوا، کس نے ایجاد کیا؟؟ اس کی بھی کہیں کوئی صراحت موجود نہیں ہے۔
اس سلسلے میں دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے فتوے میں اس الوداعی خطبے کو مکروہ اور بدعت لکھا ہے۔
چنانچہ اس بابت جب دار العلوم دیوبند سے سوال کیا گیا کہ :
سوال:ا لوداع جمعہ کا خطبہ کب سے شروع ہواتھا ، سب سے پہلے کس نے پڑھا تھا؟ اور اس کی اہمیت کیا ہے؟ کیا الوداع جمعہ کے حقوق اور خطبہ الگ ہونے چاہئے؟ یا پھر کوئی بھی خطبہ پڑھا جاسکتاہے؟
سوال نمبر: 48405
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا:
جواب ۔
"الوداع جمعہ کا خطبہ کب سے شروع ہوا، سب سے پہلے اس خطبہ کو کس نے پڑھا اس کی صراحت مجھے نہیں مل سکی، البتہ خطبہ کا وجود قرون مشہود لہا بالخیر میں نہیں تھا، فقہاء نے اس خطبہ کے پڑھنے کا ذکر نہیں کیا۔ اس خطبہ کی کوئی فضیلت ثابت نہیں بلکہ علماء نے اس کو مکروہ وبدعت تک لکھا ہے، اس لیے رمضان کے آخری جمعہ میں بھی عام خطبہ ہی پڑھا جائے۔"
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر : 48405
اسی طرح جماعت دیوبند کے مایۂ ناز مفتی علامہ یوسف بنوری حنفی کا بھی فتویٰ ملاحظہ کریں۔
سوال
شریعت میں ''الوداعی جمعہ'' کی کیا حیثیت ہے؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم اس کی تیاری کرتے تھے؟ نیز جمعۃ الوداع میں جو مخصوص خطبہ پڑھا جاتا ہے صحیح ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں!
جواب
رمضان المبارک کے آخری جمعے کی تیاری اور بطور '' جمعۃ الوداع'' منانانبی کریم ﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور فقہاء کرام سے ثابت نہیں ہے، حضور ﷺ رمضان المبارک کا مکمل آخری عشرہ اعتکاف اور راتوں کو جاگ کر عبادت میں گزارتے تھے، پورے عشرے میں عبادت کا اہتمام تو احادیث میں منقول ہے، لیکن آخری جمعے کے لیے نئے کپڑے سلوانا، تیاری کرنا یا خاص عبادت کرنا احادیث سے ثابت نہیں ہے۔
نیز ’’الوداع والفراق والسلام یا شهر رمضان‘‘ وغیرہ کے الفاظ سے خطبۃ الوداع پڑھنا حضرت سید الکونین علیہ الصلاۃ والسلام، خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ سے ثابت نہیں ہے، اس کو اکابر اہلِ فتاوی نے مکروہ اور بدعت لکھا ہے۔ ابوالحسنات حضرت مولانا عبد الحی لکھنؤی رحمہ اللہ نے ''مجموعۃ الفتاوی'' اور ''خلاصۃ الفتاوی '' (329/4) کے حاشیہ میں اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ نے ''فتاوی رشیدیہ'' (ص: 123) میں، اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ''امداد الفتاوی'' (685/1)میں، اورحضرت مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند، مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمہ اللہ نے ''فتاوی دارالعلوم دیوبند'' (96/5) میں اور فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمہ اللہ نے ''فتاوی محمودیہ'' مطبع ڈابھیل (296/8)، مطبع میرٹھ (416/12) میں، اور مفتی محمدشفیع رحمہ اللہ نے ''امداد المفتیین'' (ص: 404) میں بد عت اور مکروہ لکھا ہے۔ (بحوالہ فتاوی قاسمیہ) فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 143909200815
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
بریلویوں کے امام مولانا أحمد رضا خان نے بھی اپنے فتوے میں اس جمعہ کی کسی خصوصیت کا انکار کیا ہے۔
چنانچہ اپنے فتوے میں لکھتے ہیں:
"الوداع نہ کہہ کر اس کو صرف جمعہ کا نام ہی دیا جائے تو زیادہ اچھا ہے۔ اور اس کے خطبے میں وہی پڑھنا فرض، واجب یا سنت ہے جو دوسرے جمعوں کے خطبوں میں ہے۔ کسی سال ایسا ہوتا ہے کہ رمضان کی 30 تاریخ جمعہ کے دن پڑ رہی ہو تو کافی لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ الوداع کون سا جمعہ ہوگا؟ کیونکہ اگر چاند 29 کو ہو گیا تو رمضان سے آگے ہو جائیں گے۔ اس طرح کا سوال پوچھنے والے سب ان پڑھ اور بے علم لوگ ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جب اس جمعہ کی کوئی خصوصیت اسلام میں ہے ہی نہیں تو اس کے بارے میں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟"
(فتاویٰ رضویہ جدید : جلد 8 : ص 455)
خلاصہ یہ کہ رمضان کا آخری جمعہ بھی بقیہ دوسرے جمعے کی طرح ہے، اس کو کسی بھی طرح کی کوئی فضیلت اور خصوصیت حاصل نہیں ہے۔ یہ جمعہ آخری عشرے میں آتاہے، اور آخری عشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبادت میں زیادہ ہی محنت کرتے تھے، اعتکاف کرتے، اور راتوں میں عبادتوں کا اہتمام کرتے. اور اس اہتمام کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آخری جمعہ کا کوئی خصوصی اہتمام اور کوئی خصوصی عبادت ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی صحابہ کرام، تالعین واتباع تابعین، اور ائمہ مجتہدین سے منقول ہے۔
تعجب ہے ان علماء اور مفتیان پر جو اپنے مذہب کے علماء اور مفتیوں کی صراحت کے باوجود پورے ذوق و شوق سے بدعتوں پر عمل پیرا ہیں ۔
جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نیا عمل ایجاد کیا جو دین میں سے نہیں ہے ، تو وہ مردود ہے۔
صحیح مسلم: 4492
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''إن شرالأمور محدثا تها وکل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة و کل ضلالة في النار'' ۔
''کہ بدترین کام وہ ہیں جو دین میں نئے داخل کیے جائیں۔ ایسا ہر کام بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر بدعت جہنم میں جھونکی جائے گی۔''
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ خالص کتاب و سنت پر عمل کی تو فیق عطا فرمائے!
No comments:
Post a Comment