Saturday, April 25, 2026

نحوست و توہم پرستی اسلام کی نظر میں!

بسم االلہ الرحمٰن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

موضوع: نحوست و توہم پرستی اسلام کی نظر میں!
 
محمد اقبال قاسمی سلفی 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

پر صغیر کے مسلمانوں میں مختلف طرح کی نحوست پرستی اور توہم پرستی دیکھنے کو ملتی ہے۔
آج سے چودہ سو سال پہلے امام الانبیاء خاتم النبیین والمرسلین نے لوگوں کو جس توہم پرستی سے روکا تھا ، پھر سے آج اسی توہم پرستی کی کھائی میں گرچکے ہیں۔
آج بھی لوگ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں ، شادی کی تاریخوں میں عقرب اور نحس نکالا جاتا ہے، آگے سے بلی گزر جانے تو بد عقیدگی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ،  الو کو تو عالمی پیمانے پر منحوس قرار دے دیا گیا ہے۔ علماء اور مفتیان کرام علامہ اقبال کے اس شعر کو اپنی تقریروں و تحریروں میں بیان کرنے کو شان خطابت سمجھتے ہیں: 
برباد گلستان کرنے کو ایک ہی الو کافی ہے 
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا ۔

ہمارے ہاں رائج نحوست پرستی کی ۔ختلف شکلیں
کسی بلی کا آگے سے گزرنے کو کسی مصیبت کا پیش خیمہ سمجھنا 
صفر کے مہنے میں شادی بیاہ نہ کرنا 
نیا مکان بناتے ہوئے جوتا چپل لٹکانا
چھینک آنے کو براسمجھنا 
رات میں جھاڑو نہیں لگانا ورنہ برکت چلی جائے گی 
ٹوٹا ہوا آئینہ دیکھنے سے مصیبت آتی ہے ۔
بائیں آنکھ پھڑکنے سے مصیبتیں آتی ہیں۔
دائیں ہاتھ میں اگر کھجلی ہو تو مطلب دولت آنے والی ہے  
شادی کی تاریخ فال دیکھ کر متعین کرنا۔
پہلے گراہک کو ادھار دینا وغیرہ

جبکہ نحوست پرستی اور توہم پرستی کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔
نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ ۔
 نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” چھوت لگ جانا بدشگونی یا الو یا صفر کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے ۔“
صحیح بخاری حدیث نمبر:5757

 عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شوال میں نکاح فرمایا اور شوال ہی میں آپ کے ہاں میری رخصتی ہوئی ۔ ( بتاؤ ! ) پھر آپ کی بیویوں میں سے کون آپ کے ہاں مجھ سے بڑھ کر محبت سے بہرہ ور ہوئی ؟ 
عروی راوی کہتے ہیں :وَكَانَتْ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ عَلَى النِّسَاءِ فِي شَوَّالٍ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی تھیں کہ ان کی رشتہ دار عورتوں کی شوال میں رخصتی ہو۔
سنن نسائی حدیث نمبر :3379

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بدشگونی کو شرک قرار دیتے ہوے فرمایا: 
الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ . 

  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بدشگونی شرک ہے ، بدشگونی شرک ہے ۔‘‘ تین بار فرمایا ۔ اور ہم میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی وہم ہو ہی جاتا ہے ‘ مگر اللہ عزوجل اسے توکل کی برکت سے زائل کر دیتا ہے ۔
  
سنن ابوداؤد حدیث نمبر : 3910
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ ، أَوْ تُطِيَّرَ لَهُ أَوْ تَكَهَّنَ ، أَوْ تُكِهِّنَ لَهُ أَوْ سَحَرَ ، أَوْ سُحِرَ لَهُ وَمَنْ عَقَدَ عُقْدَةً أَوْ قَالَ : مَنْ عَقَدَ عُقْدَةً ، وَمَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ(المعجم الكبير للطبراني:17/ 355)
’’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشادفرمایا کہ
’’جس شخص نے فال نکالی یافال نکلوائی یاکہانت کاکام کیایااپنے لیے کروایایاجادوکیایاکسی سے جادوکروایا اس کاہم سے کوئی تعلق نہیں اورجوشخص کسی ’عامل ‘کے پاس گیااوراس کی باتوں پریقین کیاتواس نے اس چیز کے ساتھ کفرکیاجومحمدﷺ پرنازل کی گئی ہے۔‘‘

 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ فَقَدْ أَشْرَكَ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ قَالَ « أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ وَلاَ طَيْرَ إِلاَّ طَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ »(مسند أحمد:2/ 220 )
’’حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
’’جس شخص کوبراخیال (بدشگونی)اس کے کام سے روک دے اس نے شرک کیا۔لوگوں نےکہاکہ پھراس کاکفارہ کیاہے؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسی صورت میں یہ دعاپڑھاکرو:
اللہم لاطیر إلاطیرك ولاخیر إلاخیرك ولا إله غیرك‘‘
’’یااللہ !تیرے شگون کےسواکوئی شگون نہیں ،تیری بھلائی کےسواکوئی بھلائی نہیں اورتیرے سواکوئی معبودنہیں‘‘۔
اس سے معلوم ہواکہ اگردل میں کوئی براشگون پیداہوتومذکورہ دعاپڑھ لینی چاہیے ۔
بدفالی وبدشگونی لینا یہ ہردور میں کفارومشرکین کا شیوہ اوروطیرہ رہا ہے جيسا كه سوره يس كے اندر اللہ رب العالمین نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ جب اللہ رب العزت نے انطاکیہ بستی کے اندر اپنے کئی رسول بھیجے تو ان گاؤں والوں نے یہ کہا کہ ’ ’ إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ ‘‘ ہم تو تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔(یس:17)اسي طرح سے قوم ثمود نے بھی بدشگونی لیتے ہوئے حضرت صالح علیہ الصلاۃ والسلام سے کہا کہ ’’ قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَعَكَ ‘‘کہ اے صالح ہم تو تیری اور تیرے ساتھیوں کی بدشگونی لے رہے ہیں۔ (النمل:47)اسی طرح سے قرآن میں یہ بھی بیان موجود ہے کہ بدشگونی لینا اور بدشگونی کا عقیدہ رکھنا یہ فرعونیوں کا کام تھا جیساکہ اللہ رب العزت نے بیان فرمایا کہ ’’ فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَذِهِ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَى وَمَنْ مَعَهُ ‘‘کہ جب فرعونیوں پر خوشحالی آجاتی تو یہ کہتے کہ یہ تو ہمارے لئے ہونا ہی چاہیے اور اگر ان کوکوئی بدحالی پیش آتی تو موسی علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے۔(الاعراف:131)

بدشگونی لینے والوں کے لیے روز قیامت سب سے بڑے خسارے کی بات یہ ہوگی کہ ایسے لوگ ان ستر ہزار لوگوں میں شامل نہیں ہوں گے جو بغیر حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے ۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ .
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میری امت کے ستر ہزار لوگ بے حساب جنت میں جائیں گے ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے نہ شگون لیتے ہیں اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔“

نحوست کہاں پائی جاتی ہے ۔
نحوست کی سب سے بڑی وجہ انسان کے خود کے اعمال اور اس کے کرتوت ہیں جس کے نتیجے میں اس کے دل و دماغ زنگ آلود ہو جاتے ہیں ۔

اللہ رب العزت کا فرمان ہے۔: 
إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ"
(جب اس کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتا ہے، "یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں")۔
كَلَّا بَلْ ۜ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِـهِـمْ مَّا كَانُـوْا يَكْسِبُوْنَ (14)
ہرگز نہیں بلکہ ان کے (برے) کاموں سے ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے۔
یہ گناہوں کی نحوست ہے جس سے انسان کے دل و دماغ سیاہ ہو جاتے ہیں۔
 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيئَةً نُكِتَتْ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، فَإِذَا هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُهُ، وَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ قَلْبَهُ وَهُوَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ: كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ سورة المطففين آية 14
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے (سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے“ (المطففین: ۱۴)، میں کیا ہے“۔
سنن ترمذی حدیث نمبر : 3334
پچھلی قوموں کو ان کے گناہوں کی نحوست نے ہی ہلاک کیا تھا :
 اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿ أَلَمْ یَرَوْا کَمْ أَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنْ لَّکُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَآئَ عَلَیْہِمْ مِدْرَارًا وَّجَعَلْنَا الْأَنْھَارَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمْ فَأَھْلَکْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَأَنْشَأْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ قَرْنًا آخَرِیْنَ ﴾ [ الأنعام : ۶ ]

’’ کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی جماعتوں کو ہلاک کرچکے ہیں ، وہ جن کو ہم نے دنیا میں ایسی قوت دی تھی کہ تم کو وہ قوت نہیں دی ۔ اور ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے نیچے سے نہریں جاری کیں۔ پھر ہم نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کرڈالا اور ان کے بعد دوسری جماعتوں کو پیدا کردیا۔ ‘‘

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے سابقہ اقوام کی ہلاکت وبربادی کا تذکرہ کیا ہے جنھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہی ہلاک وبرباد کیا گیا ۔ اسی طرح اللہ تعالی فرماتاہے : 
 فَکُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْبِہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِ حَاصِبًا وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَخَذَتْہُ الصَّیْحَۃُ وَ مِنْھُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِہِ الْاَرْضَ وَ مِنْھُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَ لٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ﴾ [العنکبوت: 40]

’’ ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے جرم میں دھر لیا ۔ پھر ان میں سے کچھ پر ہم نے پتھراؤ کیا اور کچھ ایسے جنھیں زبردست چیخ نے آلیا اور کچھ ایسے جنھیں ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ ایسے ہیں جنھیں ہم نے غرق کردیا ۔ اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا لیکن یہ لوگ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے ۔ ‘‘
اور آئندہ بھی لوگ گناہوں کی وجہ سے ہی عذاب الٰہی کے مستحق بنیں گے:
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

( سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ خَسْفٌ وَقَذْفٌ وَمَسْخٌ ، قِیْلَ : وَمَتٰی ذَلِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ : إِذَا ظَہَرَتِ الْمَعَازِفُ وَالْقَیْنَاتُ وَاسْتُحِلَّتِ الْخَمْرُ ) [صحیح الجامع للألبانی : 3665 ]

’’ آخری زمانے میں لوگوں کو زمین میں دھنسایا جائے گا ، ان پر پتھروں کی بارش کی جائے گی اور ان کی شکلیں مسخ کی جائیں گی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایسا کب ہو گا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب آلاتِ موسیقی پھیل جائیں گے ، گانے والیاں عام ہو جائیں گی اور شراب کو حلال سمجھ لیا جائے گا ۔ ‘‘

اسی طرح ارشاد باری ہے: 
 اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَکَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰہُ بِھِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَھُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ ٭ اَوْ یَاْخُذَھُمْ فِیْ تَقَلُّبِھِمْ فَمَا ھُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ٭ اَوْ یَاْخُذَھُمْ عَلٰی تَخَوُّفٍ فَاِنَّ رَبَّکُمْ لَرَؤفٌ رَّحِیْمٌ ﴾ [ النحل:۴۵۔ ۴۷]

’’برائیوں کا داؤ پیچ کرنے والے کیا اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالی انھیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر ایسی جگہ سے عذاب آ جائے جہاں کا انھیں وہم وگمان بھی نہ ہو ؟ یا انھیں چلتے پھرتے پکڑ لے ؟ یہ کسی صورت میں اللہ تعالی کو عاجز نہیں کر سکتے ۔ یا انھیں ڈرا دھمکا کر پکڑ لے ؟ یقینا تمھارا رب نہایت مشفق اور بڑا ہی رحم کرنے والا ہے ۔ ‘‘

گناہوں کی نحوست  کی وجہ سے رزق میں تنگی آتی ہے۔
 وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّنَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَعْمٰی٭ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْ أَعْمٰی وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا٭ قَالَ کَذَلِکَ أَتَتْکَ اٰیَاتُنَا فَنَسِیْتَہَا وَکَذَلِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی﴾ [ طٰہ: ۱۲۴۔۱۲۶ ]

  ’’ اور جو شخص میرے ذکر سے روگردانی کرے گا وہ دنیا میں تنگ حال رہے گا اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ وہ پوچھے گا : اے میرے رب ! تو نے مجھے نابینا بنا کر کیوں اٹھایا حالانکہ میں توبینا تھا ؟
تعالیٰ جواب دے گا : اسی طرح ہونا چاہئے تھا کیونکہ تمہارے پاس ہماری آیات آئی تھیں لیکن تم نے انہیں بھلا دیا۔ اسی طرح آج تمہیں بھی بھلا دیا جائے گا ۔‘‘

عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ ، وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِخَطِيئَةٍ يَعْمَلُهَا»
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صرف نیکی ہی عمر میں اضافے کا باعث ہوتی ہے اور تقدیر کو محض دعا ہی ٹالتی ہے ، بلا شبہ انسان کو بعض اوقات ایک گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ 

سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 90
 گناہوں کی نحوست کی وجہ سے انسان کا کام مشکل جبکہ نیکیوں کی برکت سے آسان ہو جاتا ہے: 

للہ تعالی کا فرمان ہے :
﴿ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا﴾ [الطلاق: 4 ]

’’ اور جو اللہ تعالی سے ڈرتا رہے ( یعنی اس سے ڈر کر گناہوں سے بچتا رہے ) تو اللہ اس کے ہر کام کو آسان کردیتاہے ۔ ‘‘
نحوست پرستی اور بد عقیدگی سے کیسے بچیں ، آئیے جانتے ہیں ۔
1)انسان کو یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ نفع نقصان کا مالک اللہ کی ذات ہے ۔ اللہ کی مشیت کے بنا دنیا کی کوئی شیء انسان کو نفع پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان ۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا غُلَامُ،‏‏‏‏ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ:‏‏‏‏ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ ۔
 میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا، آپ نے فرمایا: ”اے لڑکے! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور ( تقدیر کے ) صحیفے خشک ہو گئے ہیں“ ۔

سنن ترمذی حدیث نمبر:2516

سورہ توبہ میں اللہ رب العزت فرماتا ہے۔ 
قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَـآ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّـٰهُ لَنَاۚ هُوَ مَوْلَانَا ۚ وَعَلَى اللّـٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُـوْنَ (51)
کہہ دو ہمیں ہرگز نہ پہنچے گا مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا، وہی ہمارا کارساز ہے، اور اللہ ہی پر چاہیے کہ مومن بھروسہ کریں۔
، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ثَلَاثًا، وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3910]
2) اللہ کی ذات سے ہر حال میں حسن ظن قائم رکھے۔
حدیث قدسی ہے اللہ نے کہا کہ ’’ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي إِنْ ظَنَّ بِي خَيْرًا فَلَهُ وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَلَهُ ‘‘میں اپنے بندوں کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق اس کے معاملات کو انجا م دیتا ہوں وہ اس طرح سے کہ اگر وہ میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے تو اس کے ساتھ اچھا ہی ہوتا ہے اور اگر وہ میرے بارے میں براگمان رکھتا ہے تو اس کے ساتھ برا ہی ہوتا ہے۔ (الصحیحہ:1664،احمد:9076)

3)بدگمانی اور بد عقیدگی پیدا کرنے والی جگہوں سے دوری اختیار کرے۔
 ‏‏‏‏‏‏عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثِيرٌ فِيهَا عَدَدُنَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَثِيرٌ فِيهَا أَمْوَالُنَا، ‏‏‏‏‏‏فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ أُخْرَى فَقَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَقَلَّتْ فِيهَا أَمْوَالُنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ذَرُوهَا ذَمِيمَةً .
  حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم ایک گھر میں تھے ‘ اس میں ہم بہت سے افراد تھے اور وہاں ہمارے اموال بھی بہت تھے ۔ پھر ہم ایک دوسرے گھر میں منتقل ہوئے تو ہمارے افراد کم ہو گئے اور اموال میں بھی قلت ہو گئی ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو ‘ یہ برا گھر ہے ۔‘‘  
سنن ابوداؤد حدیث نمبر:3924

4)مسنون اذکار کو لازم پکڑے 

عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَا مِنْ عَبْدٍ , يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ , وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَضُرَّهُ شَيْءٌ" , قَالَ: وَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفٌ مِنَ الْفَالِجِ , فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ , فَقَالَ لَهُ أَبَانُ: مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ؟ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا قَدْ حَدَّثْتُكَ , وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللَّهُ عَلَيَّ قَدَرَهُ.
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی بندہ ہر دن صبح اور شام تین بار یہ کہے: «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» ”اس اللہ کے نام سے جس کے نام لینے سے زمین اور آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے، وہ سمیع و علیم (یعنی سننے اور جاننے والا ہے) تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی“۔ راوی کہتے ہیں: ابان کچھ فالج سے متاثر ہو گئے تو وہ شخص انہیں دیکھنے لگا، ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو؟ سنو! حدیث ویسے ہی ہے جیسے میں نے تم سے بیان کی، لیکن میں اس دن یہ دعا نہیں پڑھ سکا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر مجھ پر نافذ کر دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3869]

5)گھروں میں قرآن کی تلاوت کا اہتمام کرے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ‘‘ کہ تم اپنے اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ،بیشک کہ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتاہے جس گھر میں سورہ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہو،اور ایک دوسری روایت کے اندر یہ الفاظ ہیں ’’ لَا يَدْخُلُهُ الشَّيْطَانُ ‘‘ایسے گھر میں شیطان داخل بھی نہیں ہوسکتا ہے۔(مسلم:780،احمد:8915)اسی طرح سے یہ بھی آپﷺ نے فرمایا کہ فرض نماز باجماعت ادا کرکے اپنے نفل نماز کا کچھ نہ کچھ حصہ اپنے گھرکے لئے ضروربچالیا کرو اور پھر اپنے گھرمیں جاکرنفل نمازیں اداکیا کرو جیسا کہ ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ اِجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلاَتِكُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ‘‘کہ تم اپنے اپنے گھروں میں نمازیں کچھ نہ کچھ ضروراداکیاکرو اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔(بخاری:432،مسلم:777) 

6)گھروں میں سلام سلام کرکے داخل ہو۔
 اللہ تعالی کا فرمان ہے
(فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً)سورة النور
"جب تم گھروں میں داخل هو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرلیا کروجو اللہ کی جانب سے مبارک اور پاکیزہ سلام ہے "

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”ثَلاَثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ، إِنْ عَاشَ كُفِيَ، وَإِنْ مَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ‏:‏ مَنْ دَخَلَ بَيْتَهُ بِسَلاَمٍ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ، وَمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللهِ‏.‏“
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن کی ضمانت اور ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لی ہے کہ اگر وہ زندہ رہے تو اللہ کی طرف سے ان کی حاجات کی کفایت ہوگی (اور ہر شر سے بھی اللہ کافی ہوگا)، اور اگر فوت ہو گئے تو جنت میں داخل ہوں گے: جو گھر میں «السلام» کہہ کر داخل ہوا تو اللہ عز و جل نے اس کا ذمہ لے لیا، اور جو مسجد کی طرف گیا تو اس کی ضمانت بھی اللہ پر ہے، نیز جو شخص اللہ کے راستے میں نکلے اس کا ضامن بھی اللہ تعالیٰ ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب الاستئذان/حدیث: 1094]
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ أَدْرَكْتُمْ الْمَبِيتَ وَإِذَا لَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمْ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ
 حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی ، انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہو اور گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام لے تو شیطان کہتا ہے : یہاں تمہارے لیے ٹھہرنے کی جگہ ہے نہ کھانا ہے ، اور جب کوئی شخص گھر میں داخل ہو اور داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو شیطان کہتا ہے : تمہیں رات گزارنے کی جگہ مل گئی اور جب وہ کھانے کے وقت اللہ کا نام نہ لے تو شیطان کہتا ہے : تمہیں رات گزارنے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گئے ۔‘‘
صحیح مسلم حدیث نمبر:2018

7)گھروں کو تصویروں اور مجسموں سے پاک رکھے کیوں کہ فرشتے ایسے گھروں میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویریں ہوتی ہیں اور جہاں فرشتے نہیں آئیں گے وہاں شیطان آۓ گا اور جہاں شیطان آۓ گا وہاں نحوست آۓ گی۔ 
8)کسی مصیبت یا پریشانی کے بعد اگر مگر کرنے کے بچو ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے ، جبکہ خیر دونوں میں ( موجود ) ہے ۔ جس چیز سے تمہیں ( حقیقی ) نفع پہنچے اس میں حرص کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور کمزور نہ پڑو ( مایوس ہو کر نہ بیٹھ ) جاؤ ، اگر تمہیں کوئی ( نقصان ) پہنچے تو یہ نہ کہو : کاش ! میں ( اس طرح ) کرتا تو ایسا ایسا ہوتا ، بلکہ یہ کہو : ( یہ ) اللہ کی تقدیر ہے ، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، اس لیے کہ ( حسرت کرتے ہوئے ) کاش ( کہنا ) شیطان کے عمل ( کے دروازے ) کو کھول دیتا ہے ۔‘‘ 

صحیح مسلم حدیث نمبر 2664
میرے محترم اسلامی بھائیو! مذہب اسلام نے جہاں بدشگونی اور توہم پرستی سے منع کیا ہے وہیں نیک فال لینے کو جائز و مباح قرار دیا ہے۔ فال اور بدشگونی میں یہ  فرق ہے کہ بدشگونی انسان کو مایوسی اور شرک کی طرف لے جاتی ہے جبکہ 
فال انسان کو اللہ پر حسنِ ظن اور امید کی طرف لاتی ہے بشگوںی انسان کو منفی سوچ کا حامل بنادیتی ہے جبکہ نیک فال انسان کو مثبت سوچ  ( thinking positive) فراہم کرتی ہے۔ بدشگونی تذبذب اور توہم جیسی لاعلاج بیماریاں پیدا کرتی ہیں جبکہ فال ان کو محکم اور مظبوط بناتی ہے۔ اسی مذہب اسلام نے بدشگونی کو بجائے فال لینے کو جائز قرار دیا ہے۔

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ"، قَالَ: وَمَا الْفَأْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اس میں بہتر فال نیک ہے۔“ لوگوں نے پوچھا کہ نیک فال کیا ہے یا رسول اللہ؟ فرمایا ”کلمہ صالحہ (نیک بات) جو تم میں سے کوئی سنے۔
صحیح البخاری حدیث نمبر: 5755
رضاخانی علماء نے بھی بدشگونی کو غلط قرار دیا ہے۔چنانچہ بہار شریعت میں ہے: 
تیرہ تیزی یعنی صفر المظفر کے ابتدائی تیرہ تاریخوں اور اسی ماہ کے آخری بدھ کے متعلق عوام الناس نے کئی خلاف شرع باتیں گڑھ لی ہیں، جس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "ماہ صفر کو لوگ منحوس جانتے ہیں اس میں شادی بیاہ نہیں کرتے، لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے اور بھی اس قسم کے کام کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں، خصوصاً ماہ صفر کی ابتدائی تیرہ تاریخیں بہت زیادہ نحس مانی جاتی ہیں اور ان کو تیرہ تیزی کہتے ہیں یہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔ 
(بہار شریعت ج٣، ح١٦، مسئلہ٣٨)
مولانا احمد رضاخان سے ماہ صفر ک آخری بدھ ک بار میں سوال کیا گیا کہ ماہ صفر کے آخری چارشنبہ (بدھ)کے متعلق عوام میں مشہور ہے کہ اس روز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض سے صحت پائی تھی بنا بریں اس روزکھانا تقسیم کرتے ہیں اور جنگل کی سیر کوجاتے ہیں۔۔۔۔ مختلف جگہوں پر مختلف معمولات ہیں کہیں اس روز کو نجس و نامبارک جان کرپرانے پرتن گلی میں توڑ ڈالتے ہیں اور تعویز،چھلہ چاندی اس روز کی صحت بخشی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریضوں کو استعمال کراتے ہیں یہ جملہ امور شریعت میں ثابت ہیں کے نہیں ؟
تو مولانا احمد رضا خان نے جواب دیتے ہوے لکھا : 

" آخری چارشنبہ (بدھ) کی کوئی اصل نہیں نہ ہی اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحت پانے کا کوئی ثبوت ہے۔بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارک ہوئی اس کی ابتدا اسی دن سے بتائی جاتی ہے اور اسے نجس سمجھ کرمٹی کے برتنوں کو توڑدینا گناہ اور اضاعت مال ہے ۔ بہرحال یہ سب باتیں بلکل بے اصل اور بے معنی ہیں “

احکام شریعت حصہ دوم صفحہ 193،194

احمد رضاخان بری فال نکالنے والوں کے بارے میں لکھتے ہیں:  حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :بری فال نکالنا اور اس پر کار بندہونا مشرکین کا طریقہ اور دستور ہے۔ "(فتاوی رضویہ ،ج 23، ص 266، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

دعوت اسلامی والوں کے جب پوچھا گیا کہ : 

   کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کی دائیں آنکھ پھڑکے تو کیا ہوتا ہے؟ 
تو جواب دیا گیا : 
  بائیں آنکھ پھڑکنے کو کچھ برا ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے،اور یہ نظریہ رکھنا کہ آنکھ پھڑکنے کی وجہ سے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے تو یہ بدشگونی ہے اور کسی چیز سے بد شگونی لینا مسلمانوں کا طریقہ نہیں بلکہ غیر مسلموں کا شیوہ ہے۔ لہذا ایسے نظریات سے بچنا چاہیے۔اوراللہ تعالی پرتوکل اوربھروسہ رکھناچاہیے ، بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اچھائی برائی، غمی خوشی ،اسی طرح کسی کام کا سنورنابگڑنا، الغرض کوئی کام بھی اللہ رب العالمین کی مشیت کے بغیرممکن نہیں۔ 

   قرآن پاک میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتاہے ﴿ قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ ط-قَالَ طٰٓىٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: بولے ہم نے برا شگون لیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے فرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے بلکہ تم لوگ فتنے میں پڑے ہو۔ (پارہ 19،سورۃ النمل،آیت 47)

    مذکورہ آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے” یاد رہے کہ بندے کو پہنچنے والی مصیبتیں اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہیں ۔۔۔ اورمصیبتیں آنے کا عمومی سبب بندے کے اپنے برے اعمال ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے﴿ وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ ﴾ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔

   اور جب ایسا ہے تو کسی چیز سے بد شگونی لینا اور اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو اس کی نحوست جاننا درست نہیں اور کسی مسلمان کو تو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ کسی چیز سے بد شگونی لے کیونکہ یہ تو مشرکوں کا ساکام ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین بار ارشاد فرمایا کہ بد شگونی شرک (یعنی مشرکوں کا سا کام) ہے اور ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ،اللہ تعالٰی اسےتوکُّلکے ذریعے دور کر دیتا ہے۔ (صراط الجنان،ج 7،ص 211،212،مکتبۃ المدینہ)

   حدیث پاک میں ہے” ثلاث لم تسلم منها هذه الأمة: الحسد والظن والطيرة، ألا أنبئكم بالمخرج منها! إذا ظننت فلا تحقق، وإذا حسدت فلا تتبع، وإذا تطيرت فامض‘‘ ترجمہ: تین خصلتیں اس امت سے نہ چھوٹیں گی، حسد، بدگمانی اور بدشگونی، کیامیں تمہیں ان کا علاج نہ بتادوں، بد گمانی آئے تو اس پر کاربند نہ ہو اور حسد آئے تو محسود پر زیادتی نہ کرواور بدشگونی کے باعث کام سے نہ رکو ۔ (کنز العمال،رقم الحدیث 43789،ج 16،ص 27،28، مؤسسة الرسالة )

   شیخِ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:”(ترجمہ) براشگون لینے کا،فائدہ حاصل کرنے اور نقصان کے دور کرنے میں کچھ دخل نہیں ہے ،اس کا عقیدہ نہیں رکھنا چاہیے اور اس کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے جو کچھ ہونے والا ہے ،ہو کر رہے گا۔شارع علیہ السلام نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور اسے دخل نہیں دیا۔‘‘(اشعۃ اللمعات مترجم،ج5،ص755،مطبوعہ:فرید بک سٹال)

فتوی دعوت اسلامی 
فتوی نمبر : WAT-3076
اللہ ربّ العزت امت مسلمہ کو شرک و بدعت سے بچنے اور قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے!

Sunday, April 5, 2026

786 کی بدعت

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

موضوع: 786 کی بدعت
 
اقبال قاسمی سلفی 

مصادر: مختلف مراجع و مصادر 

ہمارے یہاں دیوبندی اور بریلوی عوام و خواص میں 786 لکھنے کی بدعت عام ہے۔ لوگ اسے بسم اللہ الرحمن الرحیم کا بدل سمجھ کر بے دھڑک استعمال کرتے ہیں، رضاخانیت کے پیروکاوں نے تو اسے رضاخانیت کی شناخت کا ذریعہ اور علامت ہی نہیں بلکہ اسے تبرک کا عدد بنالیا ہے۔ چنانچہ دین مہر کی مقدار متعین کرنے سے لے کر تعزیے کے چندے تک میں اس عدد کو ملحوظ نظر رکھا جاتا ہے۔
جبکہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ 786 کا استعمال کرنا کتاب و سنت کی تعلیمات کےخلاف ہے ۔ نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہ ثابت ہے اور نہ ہی ائمہ اربعہ رحمہم اللہ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے ۔ بلکہ یہ یہودیت کی روش اور ان کے علوم کی تقلید کے نتیجے میں مسلمانوں کے تقلیدی جماعت میں داخل ہو گیا ہے۔ اس کی کڑیاں اسلام سے تو نہیں لیکن ہندومت ،مجوس اور یہودیوں سے جاکرضرور ملتی ہیں۔ 
"جب مسلمانوں نے یہود کے علمِ قبالا سے استفادہ کر کے جی میٹریا کا علم حاصل کیا تو پھر اس کا قرآنِ مجید کی آیاتِ مبارکہ بلکہ سورتوں پر بھی اطلاق ایسا عمل تھا جو ہمارے جسارت کوش نْدرت پسندوں کے لیے مشکل نہ تھا ۔انہوں نے اس کا مصحف پاک پر بے دھڑک استعمال کیا۔مگر بِسمِ اللّٰہ کے لیے 786 کا استعمال ہر قسم کی تحریروں مثلاً کتابوں' مجلّوں اور مقالوں میں بہ شدتِ تمام نظر آتا ہے۔ اور یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ786 واقعی بِسمِ اللّٰہ کا بدل ہے۔

درحقیقت یہ ہر گز بدل یا مترادف نہیں۔ یہ تو محض عدد ہے کیونکہ اس کا اطلاق کسی چیز پر بھی کیا جا سکتا ہے، مثلاً786ظروفِ شراب' جڑی بوٹیاں وغیرہ وغیرہ چاہے وہ وہ اچھی ہوں یا بری' حرام ہوں یا حلال۔ لہٰذا یہ اعداد کسی صورت بِسمِ اللّٰہ شریف کا بدل ہر گز نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو عربی زبان میں نازل کیا تا کہ لوگ اس کو سمجھ سکیں اور ہدایت یاب ہوں۔ اگر اعداد ہی سے مقصد حاصل ہو سکتا تو یہ آسان طریقہ کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ کیا نعوذ باللہ ذاتِ باری تعالیٰ سے غلطی سرزد ہوئی جسے ہمارے علما درست کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں؟" 

بعض لوگ کہتے ہیں ہم اس لیے ایسا لکھتے ہیں کہ کہیں بسم اللہ کی بے ادبی نہ ہو جائے۔
ایسا لگتا ہے کہ ان کے دل میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ادب و احترام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے سے زیادہ ہے۔
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جب غیر مسلموں کو دعوتی خط لکھےتھے تو آپ علیہ السلام نے پوری بسم اللہ ہی لکھی تھی نہ کہ اس کی جگہ کوئی اور الفاظ استعمال کیے تھےتو ہمارے لیے سب سے بہترین طریقہ نبی علیہ السلام کا طریقہ ہے۔
صلح حدیبیہ جو کہ کفار کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک فیصلہ کن صلح کر رہے تھے ، اور کفار کے ساتھ صلح نامہ لکھا جا رہا تھا ، جن کفار کو اللہ کے نام اور اس کی صفات سے دشمنی تھی ، تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب سے پوری بسم اللہ ہی لکھنے کو کہا جب کافروں نے نے اس پر اعتراض کیا تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےایسے الفاظ لکھنے کو کہا جس میں کم از کم اسم اللہ موجود تھا۔
جیسا کہ صحیح بخاری میں درج ہے: 
فجاء سهيل بن عمرو، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ هات اكتب بيننا وبينكم كتابا، ‏‏‏‏‏‏فدعا النبي صلى الله عليه وسلم الكاتب، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏قال سهيل:‏‏‏‏ اما الرحمن، ‏‏‏‏‏‏فوالله ما ادري ما هو، ‏‏‏‏‏‏ولكن اكتب باسمك اللهم كما كنت تكتب، ‏‏‏‏‏‏فقال المسلمون:‏‏‏‏ والله لا نكتبها إلا بسم الله الرحمن الرحيم، ‏‏‏‏‏‏فقال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ اكتب باسمك اللهم۔
صحیح بخاری حدیث نمبر : 2732
جب سہیل بن عمرو آیا تو کہنے لگا کہ ہمارے اور اپنے درمیان ( صلح ) کی ایک تحریر لکھ لو ۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے کاتب کو بلوایا اور فرمایا کہ لکھو بسم الله الرحمن الرحيم سہیل کہنے لگا رحمن کو اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ وہ کیا چیز ہے ۔ البتہ تم یوں لکھ سکتے ہو باسمك اللهم‏ جیسے پہلے لکھا کرتے تھے مسلمانوں نے کہا کہ قسم اللہ کی ہمیں بسم الله الرحمن الرحيم کے سوا اور کوئی دوسرا جملہ نہ لکھنا چاہئے ۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ باسمك اللهم‏ ہی لکھنے دو ۔ 

سلیمان علیہ السلام اللہ کے نبی تھے ، انہوں نے جب ایک کافر عورت کو اپنا خط بھیجا تو اس خط کے شروع میں بھی انہوں نے پورا بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا تھا۔
قرآن پاک نے سلیمان علیہ السلام کے اس خط کے ابتدائی حصے کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے ملکہ بلقیس کو لکھا تھا : 
چنانچہ اس واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا: 

 :قَالَتْ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ 
وہ کہنے لگی اے سردارو! میری طرف ایک باوقعت خط ڈالا گیا ہے۔
اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 
جو سلیمان کی طرف سے ہے اور جو بخشش کرنے والے مہربان اللہ کے نام سے شروع ہے۔
 سورۃ النمل آیت نمبر ۲۹،۳۰
اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَیَّ وَ اۡتُوۡنِیۡ مُسۡلِمِیۡنَ۔
(اس کامضمون یہ ہے) کہ تم لوگ مجھ پر سربلندی (کی کوشش) مت کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ سورہ نمل :٣١
اس آیت سے بھی یہی ہم کو درس ملتا ہے کہ چاہے وہ خط کسی کافر کو بھی کیوں نہ لکھنا ہو پوری بسم اللہ لکھ کر ہی شروع کرنا چاہیے۔جو آجکل بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ لکھا جا رہا ہے یہ غلط ہے۔ بعض لوگ بسم اللہ کی جگہ ۷۸۶ تو لکھتے ہیں تو کیا کبھی انہوں نے اسلام علیکم کی جگہ اس کے اعداد لکھے ہیں؟ جو کہ یہ بنتے ہیں ۳۲۲ یقینا کبھی کسی نے ایسا نہیں لکھا تو بسم اللہ کے ساتھ ہی یہ معاملہ کیوں کیا جاتا ہے؟دوسرا اس کا نقصان بھی بہت ہوتا ہے مثلا اگر ہم بسم اللہ لکھیں تو کیونکہ یہ قرآن کی آیت ہے اس لیے ہر لفظ پر ۱۰ نیکیاں ملتی ہیں ٹوٹل اس میں ۱۹ حروف بنتے ہیں تو نیکیاں ۱۹۰ ملتی ہیں اور اگر ہم ۷۸۶ لکھیں تو ایک تو ہم ۱۹۰ نیکیوں سے محروم ہو گے اور دوسرا ایک ایسا عمل کر کے جو کہ قرآن و سنت کے خلاف ہے بدعت کے مرتکب بھی بن گے۔
اس سے یہ بخوبی واضح ہے کہ 786 کو سند جواز عطا کرنے کے لیے جو دلیلیں پیش کرتے ہیں کہ بسم اللہ کے بجائے 786 لکھ کر وہ اسے موقع اہانت سے بچانے کا کام کر رہے ہیں ، ان کا یہ فتویٰ سرے سے غلط ہے ۔ کیونکہ اگر اس اندیشے کی بنیاد پر بسم اللہ نہ لکھنا ہی بہتر ہوتا تو سلیمان علیہ السلام ایک کافرہ کو خط لکھتے ہوے اس ک شروع میں بسم اللہ ہرگز نہیں لکھٹے۔
اب آپ اس کے بر خلاف دارلعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظ کریں
چنانچہ جب دارالعلوم دیوبند سے اس بابت پوچھا گیا کہ 7860کی کیا حقیقت ہے؟ کیا اسے بسم اللہ کی لکھا جاسکتا ہے؟
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیا: 
  آیت کریمہ بسم اللہ پر دال ہے، اور آیت کریمہ کا واجب الاحترام والتعظیم ہونا اور اس کو موقع اہانت و ذلت سے بچانا شرعاً واجب ہوتا ہے اورخط وغیرہ عام تحریرات عموماً ہرجگہ پڑی رہتی ہیں اگر آیت کریمہ لکھی جائے تو اس کا موقع ذلت واہانت بلکہ مواقع نجاست تک میں پڑجانا ظاہر ہے اس لیے اگر کوئی شخص اس آیت کریمہ کو موقع ذلت واہانت میں پڑنے سے بچانے کی نیت سے بجائے آیت کریمہ کے ۷۸۶ لکھ دے تو الأمور بمقاصدھا کے مطابق بلاشبہ جائز رہے گا۔ (نظام الفتاویٰ: ج۱ ص۳۹۵)
دارالافتاء 
دارالعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر : 2857
دارالعلوم دیوبند کے اس فتوے میں بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ 786 لکھنے کو جائز قرار دیا گیا ہے بلکہ اس فتوے کے مطابق بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ 786 لکھنا بلاشبہ جائز ہے ، اور وجہ جواز یہ قرار دیا کہ اسے موقع اہانت و ذلت سے بچانا ہے۔ لیکن بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ 786 کا استعمال ہی سب سے بڑی ذلت و اہانت اور سوء ادب ہے۔ کیونکہ ہمیں اور آپ کو قطعی یہ گوارہ نہیں ہوگا کہ کوئی ہمیں ہمارے نام کے بجائے عدد سے پکارے یا خطاب کرے ۔ مثلا خالد بھائی کو خالد بھائی نہ کہ کر 635 بھائی کہ کر بلایا جاۓ، مولانا صاحب کو 128 صاحب اور مفتی صاحب کو 530 صاحب کہ کر پکارا چاۓ۔ سوچیے ! تب یہ خالد بھائی ،مولانا صاحب اور مفتی صاحب ملکر اس شخص کا کیا حال کریں گے ، مفتی صاحب اس پر بدسلوک، بد تہذیب اور بدتمیز ہونے کے فتوے لگا دیں گے۔ دل میں اہانت و ذلت کی بھٹی سلگ اٹھے گی، تحمل طاق پر ہوگا ، زباں پر تو صرف سب و شتم ہی ہونگے۔
اب غور کیجئے! جب خالد بھائی ،مولانا صاحب اور مفتی صاحب کو اس کے نام کے بجائے نمبر سے بلانا بدسلوکی ،بدتہذیبی اور بدتمیزی کے زمرے میں آۓ گا تب ہم وہی بدسلوکی اللہ کے نام کے ساتھ کیسے روا رکھ سکتے ہیں ؟ 
یہ تو ایسا ہی ہے گویا کہ کوئی ایک غلطی سے بچنے کے لیے اس سے بڑی غلطی کر بیٹھے، ایک جرم سے بچنے کے لیے اس سے بڑے جرم ارتکاب کر لے۔

اللہ رب العزت کا تو فرمان ہے: 

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا۪-وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖؕ-سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(سورہ اعراف: 180)
ترجمہ: اور اللہ سے تو بس وہ نام مخصوص ہیں جو بہت اچھے ) نہایت عمدہ ) ہیں ( اس لیے ) اس کو تو صرف اچھے ہی ناموں کے ذریعے سے پکارو ( پکارا کرو ) اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے سلسلے میں غلط راستہ اختیار کرتے وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں ۔ انھیں اس کی سزا ضرور مل کر ہی رہے گی۔

اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے ان لوگوں سے علحیدگی کا حکم دیا ہے جو لوگ اللہ کے نام میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے نام کے ساتھ الحاد کی کئی شکلیں ہیں ۔ ایک الحاد تو وہ تھا جو کفار مکہ کیا کرتے تھے اور ایک الحاد یہ بھی ہے کہ اللہ کے لیے ایسے نام منتخب کرے جس سے اس کی شان میں کمی آتی ہو جیسا کہ مفسرین نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھا ہے۔
تقی عثمانی دیوبندی صاحب اس آیت ک ضمن میں لکھتے ہیں: 
.......البتہ اس کو پکارنے کے لیے یہ ضرور قرار دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو اچھے اچھے نام (اسمائے حسنی) خود اللہ تعالیٰ نے یا اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتا دئیے ہیں، انہی ناموں سے اس کو پکارا جائے۔ ان اسمائے حسنی کی طرف قرآن کریم نے کئی مقامات پر اشارہ فرمایا ہے (دیکھئے سورۃ بنی اسرائیل 110:17 و سورۃ طہ 8:20 و سورۃ حشر 24:59) اور صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ یہ ننانوے نام ترمذی اور حاکم نے روایت کیے ہیں خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر انہی اسمائے حسنی میں سے کسی اسم مبارک کے ساتھ کرنا چاہئے اور اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام نہیں گھڑ لینا چاہیے۔ بہت سے کافروں کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کا جو ناقص، ادھورا یا غلط تصور تھا اس کے مطابق انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام یا کوئی صفت بنالی تھی یہ آیت متنبہ کررہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ ان لوگوں کی پیروی میں وہ بھی اللہ تعالیٰ کا وہ نام یا صفت استعمال کرنا شروع کردیں۔
دارالعلوم دیوبند کا وجہ جواز اس لیے بھی مردود و مطروح ہے ، کیونکہ کفار تک کو دیے گیۓ خطوط میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا ثابت ہے، جیساکہ اور اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

اگر یہ موقع ذلت و اہانت ہوتا تو اللہ رب العزت اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کو ضرور اس پر متنبہ فرماتا۔
 ایسا لگتا ہے کہ مفتیان دیوبند اور ان جیسے حضرات کے دل میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ادب و احترام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی زیادہ ہے۔

آگے دارلعلوم دیوبند نے اپنے اس فتوے میں لکھا کہ: اگر کوئی شخص اس آیت کریمہ کو موقع ذلت واہانت میں پڑنے سے بچانے کی نیت سے بجائے آیت کریمہ کے 786 لکھ دے تو الأمور بمقاصدھا کے مطابق بلاشبہ جائز رہے گا۔ (نظام الفتاویٰ: ج۱ ص۳۹۵)

ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص پوری بسم اللہ لکھ دے تو الامور بمقاصدھا کے تحت بلاشبہ یہ جائز رہےگا۔ کیونکہ اس کی نیت اہانت و ذلت کی نہیں بلکہ اجر و ثواب کی ہے۔انسان اپنی نیت و ارادے کا مکلف ہے، نہ کہ دوسروں کے عمل و ارادے کا۔

ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ جو لوگ اپنے کیلنڈرز ،کاڈز اور جنتریوں میں اللہ کی نام کی توہین کے اندیشے سے شروع 786 سے کرتے ہیں ، اسی کیلنڈرز ،کارڈز وغیرہ میں کئی جگہ اللہ کے نام آۓ ہوتے ہیں ۔مثلا کسی مدرسے کا کیلنڈر ہو اور اس کے مہتمم کا نام مفتی عبداللہ ہو ، تو کہیں آۓ یا نہ آۓ اس کیلنڈر کے ترسیل زر کا پتہ یعنی جندے کا اکاؤنٹ نمبر عبد اللہ ضرور لکھا ہوگا۔ 
مفتی صاحب کو تو چاہیے کہ عبد اللہ لکھنے کا بجائے اس کا نمبر 142 استعمال کریں۔
اور یہ نام ہی کیوں بلکہ اس کیلنڈر میں تو قرآن کی آیت بھی ہے ، حدیث رسول بھی لکھی ہوئی ہے۔ تب توہین کا کوئی خطرہ انہیں محسوس ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔
وہی اسم اعظم جب شروع میں آۓ تب توہین سمجھتے ہیں اور درمیان میں آۓ تو  باعث اجر و ثواب!!

ضرورتوں کے مطابق دعا بدلتے رہے یہ لوگ
خود نہیں بدلے خدا بدلتے رہے !
اور اب تو ان کی عوام کی حالت یہ ہے کہ 786  اور بسم اللہ دونوں ایک ساتھ ہی لکھتے ہیں ۔ فیاللعجب ! 

مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ اپنی کتاب احکام و مسائل میں لکھتے ہیں: 
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر اعداد الفاظ کا بدل ہیں تو کیا ہم اپنے معاملات میں ان کا اس لحاظ سے استعمال قبول کر سکتے ہیں؟ ایک شخص آپ سے کوئی واقعہ بیان کرتا ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ آپ اسے کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم کھاؤ، وہ کہتا ہے چھیاسٹھ کی دوسو میں سچ کہہ رہا ہوں تو کیا آپ تسلیم کر لیں گے کہ اس نے اللہ کی قسم کھائی ہے؟ کیا اس کی بات کا اعتبار کر لیا جائے ؟ اسی طرح نکاح کے موقع پر دولہا کے میں نے ۱۳۸ کیا تو کیا یہ تسلیم کیا جائے گا کہ اس نے قبول کر لیا ؟ یا کوئی اپنی بیوی سے کہے جا تجھے ۱۴۰ ہے، تو کیا اسے طلاق سمجھا جا سکتا ہے۔ یقینا کوئی سمجھ ار اس منطق کو قبول نہیں کر سکتا۔

پھر کیا وجہ ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے اسے اللہ تعالی کے مقدس نام کے لیے اور جناب رسول اللہ صل الام کے اسم مبارک کے لیے ہم پسند کریں ۔ ایک مومن کے لیے اس کا تصور بھی نا قابل قبول ہے۔
آگے مزید لکھتے ہیں: 
 عجیب بات یہ ہے کہ 786 کا عدد بسم اللہ کا نعم البدل صرف تحریر میں سمجھا جاتا ہے، زبان سے بولنے میں نہیں ، ورنہ کھانا کھاتے ہوئے بھی سات سو چھیاسی 786 پڑھ کر کھانا شروع کر دیا جائے اور تلاوت کرتے ہوئے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جائے اور اگر نماز کے لیے اذکار کے اعداد نکال لیے جائیں تو بڑی آسانی سے جھٹ پٹ نماز سے فراغت حاصل ہو سکتی ہے۔ لہذا قارئین سے گزارش ہے کہ وہ 786 کا عدد استعمال کرنے کی بجائے اللہ تعالی کا مبارک نام اور مکمل "بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا کریں تا کہ وہ یہود و نصاری کی نقل سے بچتے ہوے اللہ کے نام کی۔ برکتوں سے فیض ہو سکیں۔
(احکام و مسائل : صفحہ نمبر : 666)"

اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو فہم سلیم عطا فرمائے!

Recent posts

لا سلام و ولا کلام علی الطعام اور حنفی عوام!

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ   موضوع: لا سلام  ولا کلام علی الطعام اور حنفی عوام!  مصادر: مختلف مراجع و مصادر  ...