السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
موضوع : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کا ایک یہودی کے پاخانہ والے بستر کی صفائی سے متعلق روایت کی تحقیق !
از : محمد اقبال قاسمي سلفي
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کریمانہ بر گفتگو کرتے ہوے بہت سارے حنفی علماء ، مفتیان اور مقررین کو درج ذیل واقعہ بیان کرتے ہوے سنا جاتا ہے۔
واقعہ درج ذیل ہے :
ایک بار ایک یہودی ہمارے پیارے نبی محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان بنا- حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ اپنے مہمانوں کو اپنے گھر ٹھہراتے تھے اور ان کے کھانے پینے کا انتظام خود کرتے تھے - اس یہودی کو بھی ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں ہی ٹھہرایا، اسے اچھا کھانا کھلایا اور سونے کے لیے صاف ستھرا بستر دیا- اسے رات کا کھانا کھلا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں تشریف لے گئے تو اس نے بستر پر پیشاب کیا، گندگی پھیلائی اور صبح ہونے سے پہلے بھاگ گیا- صبح ہونے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مہمان کا حال پوچھنے تشریف لائے تو یہودی کی شرارت کا حال معلوم ہوا- آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو سوار بھیج کر اس شریر کو گرفتار کروا سکتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کیا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے بستر صاف کرنے لگے - اب خدا کا کرنا کیا ہوا کہ جس وقت یہودی وہاں سے بھاگا تو گھبراہٹ میں اپنی تلوار وہیں بھول گیا- راستے میں تلوار کا خیال آیا تو واپس پلٹا کہ شاید ابھی وہاں کوئی نہ آیا ہو جہاں مجھے ٹھہرایا گیا تھا اور دیوار کے اوپر سے اندر جھانکنے لگا- یہ وہ وقت تھا جب اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مبارک ہاتھوں سے بستر دھو رہے تھے - یہودی کی اپنی قوم کے سرداروں کا یہ حال تھا کہ غرور کی وجہ سے وہ اپنا جوتا بھی خود صاف نہ کرتے تھے ، اپنا معمولی سے معمولی کام بھی غلاموں اور لونڈیوں سے کراتے تھے اور یہاں دونوں جہانوں کے سردار گندے بستر کو اپنے مبارک ہاتھوں سے دھو رہے تھے - یہودی کے دل پر اس بات کا بہت اثر ہوا اور اسے یقین آ گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اللہ کے سچے رسول ہیں- کسی معمولی آدمی کا اخلاق اتنا اچھا نہیں ہو سکتا- وو بے اختیار پکار اٹھا-" یا رسول اللہ! مجھ سے سخت غلطی ہوئی- میں معافی مانگتا ہوں اور کلمہ پڑھ کر سچے دل سے مسلمان ہوتا ہوں-" حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تسلی دی کہ انسان سے غلطی ہو ہی جاتی ہے اور پھر اسے کلمہ پڑھا کر مسلمان کر لیا۔
علماء و مفتیان کرام کے بیانات کے علاوہ یہ واقعہ مختلف کتابوں میں بھی درج ہے جو بچوں کو پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے۔
لیکن در حقیقت یہ واقعہ کسی بھی حدیث میں مذکور نہیں ہے ، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ واقعہ مذکور ہو۔
دارالعلوم دیوبند سے جب اس واقعے کی بابت یہ دریافت کیا گیا کہ برائے مہربانی اس حدیث کی تحقیق اور حوالہ ارسال کریں۔ تاکہ ہم بیان میں بیان کرتے وقت حوالہ طلب کرنے پر حوالہ پیش کر سکیں۔
تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیتے ہوے لکھا :
سوال میں جس تفصیل کے ساتھ واقعہ تحریر ہے اس تفصیل کے ساتھ ہماری نظر سے نہیں گذرا۔ جن بزرگ نے بیان کیا انھیں سے حوالہ معلوم کرلیں۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتویٰ نمبر: 602843
مولانا طارق امین خان صاحب لکھتے ہیں:
تلاش بسیار ک باوجود مذکورہ روایت سنڈا انہی الفاظ ک ساتھ تا حال ہمیں کہیں نہیں مل سکی ۔ اور جب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ ملے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتساب سے بیان کرنا موقوف رکھا جاۓ.
(غیر معتبر روایات کا فنی جائزو : جلد نمبر 2 صفحہ نمبر : 351)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ اور مہمان نوازی کے متعلق کتب احادیث میں صحیح احادیث موجود ہیں ، خطباء اور واعظین حضرات کو چاہیے کہ ان صحیح احادیث کا مطالعہ کریں اور ایسے بے سند واقعات و روایات کو بیان کرنے سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔
کیونکہ سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں: علماء کا اتفاق ہے کہ موضوع حدیث بیان کرنا حرام ہے، سواۓ اس کے, کہ وہ اس کے موضوع ہونے کی تصریح کردے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
من حدث عني بحديث يرى انه كذب فهو احد الكاذبين۔
جو شخص مجھ سے حدیث نقل کرے اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ خود جھوٹا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم) بحوالہ شرح نخبہ۔
عَنْ الْمُغِيرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 1291)
No comments:
Post a Comment