Thursday, February 6, 2025

کھانا کھانے سے پہلے کی دعا : بسم الله وعلى بركة الله میں حرف جر " علی " کا عدم ثبوت !

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته 

موضوع: کھانا کھانے سے پہلے کی دعا : بسم الله وعلى بركة الله میں حرف جر " علی " کا عدم ثبوت !

از : محمد اقبال قاسمي سلفي 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر 

احناف کے یہاں کھانا کھانے سے پہلے " بسم الله وعلى بركة الله" کے الفاظ کے ساتھ دعا پڑھی اور سکھائی جاتی ہے ۔

لیکن ان الفاظ کے ساتھ یہ دعا کہیں مذکور نہیں ہے ، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں بعینہ یہ الفاظ موجود ہوں، یعنی بسم الله وعلى بركة الله میں " حرف جر علی" کی زیاتی کسی بھی روایت میں موجود نہیں ہے ۔

لفظ "علی" ک ساتھ یہ دعا حصن حصین ، سلاح المؤمن اور تفسیر ثعالبی اور تفسیر مظہری جیسی کتابوں میں موجود تو ہے ۔ لیکن جس مستدرک الحاکم کے حوالے سے یہ دعا ان کتابوں میں مذکور ہے ،اس مستدرک الحاکم میں یہ دعا بغیر "علی" یعنی بسم اللہ و برکۃ اللہ کے الفاظ کے ساتھ ہے ۔

 (بسم اللہ وبركة الله )کے بجائے【بسم اللہ و علی برکۃ اللہ】 کے الفاظ کے ساتھ یہ دعا شاید سب سے پہلے ابن الامام نے اپنی کتاب " سلاح المومن "(ص۳۹۴) میں ذکر کیا ہے ، اور اس کی نسبت انہوں نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرف کی ہے اور حوالہ مستدرک حاکم کا دیا ہے ۔اس کے بعد ابن الامام پر اعتماد کرتے ہوئے ابن الجزری نے (حصن حصین)میں (وعلی برکۃ اللہ)کے الفاظ سےیہ دعا ذکر کی ، اور وہاں سے دعاؤں کی کتابوں میں اور زبانوں پر پھیل گئی۔ یعنی اس دعا میں حرف جر کے ساتھ اضافے کا اولین مصدر ابن الامام کی کتاب سلاح المؤمن فی الدعاء والذکر ہے۔
حالانکہ ابن الامام نے سلاح المؤمن میں جس مستدرک الحاکم کا حوالہ دیا ہے ، اس مستدرک الحاکم میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی روایت میں دعا کے یہ الفاظ ہی سرے سے موجود نہیں ہے ۔
بلکہ یہ الفاظ حضرت ابن عباس کی روایت سے وارد ہے، لیکن اس میں دعا کے الفاظ بسم الله وبركة الله ہے ، نہ کہ بسم اللہ وعلی برکۃ اللہ. 
دارلعلوم دیوبند نے بھی فتویٰ دیتے ہوے یہ لکھا کہ اصل ماخذ (مستدرک الحاکم)جس کے حوالے سے یہ دعا مختلف کتب میں درج ہے ، وہاں و علی برکۃ اللہ ک بجائے وبرکۃ اللہ یعنی علی کے بغیر ہی درج ہے۔

چنانچہ دارالعلوم دیوبند سے جب اس بابت سوال کیا گیا کہ کھانا کھانے سے پہلے کی دعا میں بسم اللہ کے بعد و علی برکة اللہ کا ثبوت ہے یا نہیں؟

تو دارالعلوم دیوبند نے جواب دیتے ہوئے لکھا: 
حصن حصین میں ”وعلی برکة اللہ“ یعنی ”علی“ کے ساتھ یہ دعا موجود ہے، اسی طرح مستدرک حاکم میں بھی یہ دعا ہے؛ البتہ اس میں ”وبرکة اللہ“ ہے یعنی ”علی“ کے بغیر صرف ”واو“ عاطفہ کے ساتھ۔ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما، أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم وأبا بکر وعمر رضی اللہ عنہما أتوا بیت أبی أیوب فلما أکلوا وشبعوا قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: خبز ولحم وتمر وبسر ورطب إذا أصبتم مثل ہذا فضربتم بأیدیکم فکلوا بسم اللہ وبرکة اللہ ہذا حدیث صحیح الإسناد ولم یخرجاہ․ (رقم: ۷۰۸۴، مستدرک حاکم) کنزل العمال میں شعب الایمان للبیہقی کے حوالے سے یہ روایت آئی ہے؛ البتہ اس کے اخیر میں یہ الفاظ ہیں ”فقولوا: بسم اللہ وبركة اللہ“ (کنزل العمال، رقم: ۴۰۸۴۵) نیزدیکھیں: حاشیة تحفة الالمعی (۱/۲۴۶)

دارالافتاء 
دارلعلوم دیوبند 
فتویٰ نمبر: 160896

خلاصہ یہ کہ جن معتبر کتابوں میں یہ دعا درج ہے، ان معتبر کتابوں میں بطور ماخذ مستدرک الحاکم کا حوالہ درج کیا گیا ہے ، جبکہ مستدرک الحاکم میں برکۃ اللہ سے پہلے علی موجود ہی نہیں ہے ۔
مستدرک الحاکم میں یہ روایت اس طرح ہے: 
امام حاکم روایت کرتے ہیں: 

 أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ، ثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَتَوْا بَيْتَ أَبِي أَيُّوبَ فَلَمَّا أَكَلُوا وَشَبِعُوا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُبْزٌ وَلَحْمٌ وَتَمْرٌ وَبُسْرٌ وَرُطَبٌ إِذَا أَصَبْتُمْ مِثْلَ هَذَا فَضَرَبْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ فَكُلُوا بِسْمِ اللَّهِ وَبَرَكَةِ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ""
 [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7084 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے ، جب یہ لوگ پیٹ بھر کر کھانا کھا چکے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : "روٹی ، گوشت ، کھجور ، بسر اور رطب کھجوریں جب تمہیں ملیں تو بسم اللہ وبرکۃ اللہ کہہ کر کھانا شروع کیا کرو ۔ "
 
(مستدرک الحاکم: حدیث نمبر: 7084)
اس روایت میں بِسْمِ اللَّهِ وَبَرَكَةِ اللَّهِ کے الفاظ ہیں نہ کہ بِسْمِ اللَّهِ وعلى وَبَرَكَةِ اللَّهِ.

بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ہو سکتا ہے کہ مستدرک الحاکم کے بعض نسخوں میں بِسْمِ اللَّهِ وعلی وَبَرَكَةِ اللَّهِ» کے الفاظ ہوں اور جن لوگوں نے اس دعا کو علی ک ساتھ نقل کیا ہے ، انہوں نے انہی نسخوں کو سامنے رکھا ہو۔ 
تو جواباً عرض ہے کہ یہ باتیں بلا دلیل ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول ہے ۔
مزید یہ کہ یہ احتمال اس لیے بھی مردود ہے کیونکہ امام حاکم سے پہلے امام طبرانی نے نے بھی یہی حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے بغیر علی کے ذکر کیا ہے ۔اور آج مستدرک الحاکم کے جتنے بھی متداول نسخے موجود ہیں ،ان میں سے کسی نسخے میں یہ دعا " علی" کے ساتھ موجود نہیں ہے یعنی سبھی نسخوں میں صرف "بسم اللہ وبرکۃ اللہ" (بغیر علی کے) ہے۔

ان حقائق کے ہوتے ہوے یہ فتویٰ دینا کہ " مذکورہ دعا کا ثبوت حدیث میں ہے، بعض جگہ "علی"کے ساتھ ہے بعض جگہ"علی" کے بغیر، اس لیے دونوں طرح پڑھنا درست ہے۔" فتویٰ تحقیقی نہیں بلکہ تقلیدی ہے۔

کیونکہ کسی بھی سند سے کوئی ایسی حدیث موجود نہیں ہے جس میں یہ دعا " علی" کے ساتھ موجود ہے ۔صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی حدیث موجود نہیں ہے ۔

اسی طرح کا ایک تقلیدی فتویٰ درج ذیل ہے جسے دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن نے اپنے فتوے میں دیا ہے: 

چنانچہ لکھتے ہیں کہ مذکورہ دعا کا ثبوت حدیث میں ہے، بعض جگہ "علی"کے ساتھ ہے بعض جگہ"علی" کے بغیر، اس لیے دونوں طرح پڑھنا درست ہے۔ 

فتویٰ نمبر: 143908200678

مذکورہ دعا کا ثبوت بعض جگہ حدیث میں ہے ، جیساکہ مفتی صاحب اپنے فتوے میں فتویٰ طراز ہیں ، لیکن اس بعض جگہ جہاں یہ دعا " علی " کے ساتھ موجود ہے ، مفتی صاحب نے کوئی حوالہ نہیں دیا اور کبھی نہیں دے سکتے ۔
کم از کم ایک حوالہ پیش فرما دیتےجہاں یہ دعا علی کے ساتھ موجود ہو۔ 

آگے آپ خود فیصلہ فرما لیں ۔

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی !

اللهم انی اسئلك علما نافعا و رزقا طىبا و عملا متقبلا !

No comments:

Post a Comment

Recent posts

معاشرتی عقائد نہ کہ شرعی عقائد

معاشرتی عقائد نہ کہ شرعی عقائد  ۱۔ آذان کے وقت عورتوں کا دوپٹہ اوڑھنا۔ ۲۔ قرآن گر جائے تو اسے چومنا یا اس کے کفارہ میں آٹا صدقہ کرنا۔ ۳۔ ق...

Popular post