السلام عليكم و رحمة الله وبركاته !
موضوع: صحابی کی داڑھی کے ایک ہی بال میں فرشتوں کے جھولنے کی تحقیق!
از : محمد اقبال قاسمي سلفي
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
داڑھی رکھنے کی فضیلت کے متعلق اکثر یہ روایت بیان کردی جاتی ہے کہ ایک صحابیُ رسول تھے جنکی فقط ایک ہی داڑھی تھی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم داڑھی کے اس ایک بال کو دیکھتے تو مسکرا دیتے. پھر صحابیُ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوچ کر کہ ایک ہی داڈھی توہے ۔اکھاڑ دیا ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ جب ان کے چہرے پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار فرماتے ہوےُ ارشاد فرمایا کہ تمہاری داڑھی کے اس ایک بال پر ستر ہزار فرشتے جھولا جھولتے تھے۔
باک و ہند میں زبان زد عوام و خواص یہ روایت بالکل بے سند اور بے اصل ہے، صحیح تو کیا کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ بات موجود ہو۔
کچھ لوگ صحابی کی داڑھی کے دو بال کے حوالے سے اس فضیلت کو بیان کرتے ہیں ۔
اس معنی کی ایک روایت بیان کی جاتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
ولقد كان احد الصحابة لديه شعرتين في لحيته فقط فكان كلما رأه النبي صلى الله عليه وسلم ابتسم فيستغرب ذلك الصحابي رضي الله عنه وعندها ذهب ذلك الصحابي وحلق تلك الشعرتين فلما راه النبي صلى الله عليه وسلم سأله عن سبب حلقها فقال ذلك الصحابي اني اراك يارسول الله كلما رايتني ابتسمت ـ او فيما معنى الحديث ـ فقال صلى الله عليه وسلم ان سبب الابتسام هو انه صلى الله عليه وسلم يرى مع كل شعرة ملك يحرسها۔
لیکن یہ بھی بے سند اور بے اصل روایت ہے ۔صحیح تو کسی ضعیف اور موضوع سند سے بھی ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے جس میں یہ بات موجو ہو۔
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا حدیث میں ایسے کسی صحابی کا تذکرہ ملتا ہے جن کے چہرے پر داڑھی کے دو بال تھے اور ان کو اکھاڑنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ان بالوں سے فرشتے کھیلتے تھے؟
تو انہیں نے جواب دیا :
سوال میں آپ نے جو الفاظ ذکر کیے ہیں،حدیث کی کتابوں میں تلاش کے باوجود ہمیں مذکورہ الفاظ سے کوئی حدیث نہیں مل سکی، لہذا جب تک کسی معتبر سند سے اس کاثبوت نہ مل جائے، اس وقت تک اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنے سے احتراز کیاجائے۔
دارالافتاء
: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 144503101453
،
علماء و مفتیان کرام کو چاہیے کہ اس طرح کی بے سند اور موضوع روایات کو بیان کرنے سے خود بھی بچیں اور قوم و ملت کی بھی حفاظت فرمائیں۔
اللهم اني اسئلک علما نافعا و رزقا طىبا وعملا متقبلا!
No comments:
Post a Comment