السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
*موضوع : تہجد و تراویح اور مولانا طاہر حسین گیاوی*!
مصادر : مختلف مراجع و مصادر !
ضعیف اور من گھڑت روایتوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور بریلوی علماء اور مفتیان نے آٹھ رکعت مسنون تراویح کی تردید میں تہجد اور تراویح کو الگ الگ قرار دینے کی خوب فلسفہ سنجی کی ہے ۔
در اصل صحیح بخاری میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت ہے جس میں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، صحابی رسول ابوسلمہ بن عبدالرحمن کے سوال کے جواب میں فرماتی ہیں :
* عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي
*ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے پوچھا کہ رمضان میں ( رات کو ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی ہوا کرتی تھی ؟ ام المومنین نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ ( رات میں ) گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔ خواہ رمضان کا مہینہ ہوتا یا کوئی اور ۔ پہلے آپ ﷺ چار رکعت پڑھتے ۔ ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا ۔ پھر آپ ﷺ چار رکعت اور پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا ۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں ؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا*۔
صحیح بخاری: حدیث نمبر: 1147
اس حدیث میں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ واضح کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی راتوں میں گیارہ رکعات سے زیادہ ادا نہیں کیا کرتے تھے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح بشمول وتر گیارہ رکعات ہی ہوا کرتی تھی۔
مولانا طاہر حسین گیاوی صاحب اس حدیث پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
" سوال کرنے والے نے خود ہی " كيف كانت صلاة رسول الله " کہا ہے یعنی حضور کی نماز کی کیفیت کیا تھی، كم كانت صلاة رسول الله " نہیں کہا ہے جس سے کمیت کے متعلق سوال سمجھا جا سکے۔ مقدار اور کمیت کے بارے میں سوال کرنا ہوتا ہے تو عربی زبان میں اس کے لیے " کم " کا لفظ موجود و معروف ہے ۔لفظ " کیف" تو صرف کیفیت و حالت ہی دریافت کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔
مولانا طاہر حسین گیاوی صاحب کے علاوہ علماء احناف میں سے متعدد علماء نے اس حدیث کی عبارت میں یہ نکتہ آفرینی کی ہے ۔
حالانکہ مولانا طاہر حسین گیاوی اور ان کے ہم مشربوں نے یہ اعتراض کرکے نہ صرف یہ کہ اپنے تبحر علمی کا تعارف کرایا ہے بلکہ عربی زبان و ادب سے اپنی واقفیت کی نمایش بھی کر دی ہے ۔
کیونکہ اس اعتراض کی ساری عمارت اس بنیاد پر کھڑی ہے کہ سائل نے "کیف" سے سوال کیا ہے نہ کہ حرف "کم" سے ، ۔یعنی سائل کا سوال نماز کی کیفیت کے متعلق تھا نہ کہ رکعات کی تعداد کے بارے میں ۔اور جب تعداد کے بارے میں یہ سوال ہے ہی نہیں تو اس حدیث سے یہ استدلال کیونکر درست ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی رکعتوں کی تعداد رمضان میں گیارہ رکعات ہی ہوا کرتی تھی ۔
اولا: اس اعتراض کی پوری عمارت کو منہدم کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اسی حدیث کے بعض طرق میں یہ سوال " کم" (کتنا) کے ساتھ بھی موجود ہے ۔جیسا کہ سنن نسائی الکبریٰ حدیث نمبر 411 میں یہی سوال " کم " کے ساتھ موجود ہے۔ مولانا طاہر حسین گیاوی صاحب حدیث کا اگر تھوڑا سا بھی تتبع کیے ہوتے تو حدیث میں ایسی نکتہ سنجی کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔
ثانیاً اگر فرض کر لیں کہ صرف کیف سے ہی سوال ہوا تھا یعنی صرف کیفیت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا تو کیا کیفیت میں تعداد شامل نہیں ہے اور کیا تعداد کیفیت کا حصہ نہیں ہے ؟
تعداد تو کیفیت کے لوازمات میں سے ہے۔
علامہ محمود خطاب السبکی اسی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے " کیف" کے بارے میں لکھتے ہیں: و من لوازمه بيان العدد.
کیفیت کے لوازم میں سے ہے کہ تعداد بیان کی جائے ۔شرح سنن ابی داؤد: ٣٦٩/٧
امام ابو الولید سلمان بن خلف الباجی اسی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "و قد تأتي كيف بمعنى كم " اور کیف کم کے معنی میں بھی آتا ہے ۔
بلکہ اسی حدیث کے بعض طرق میں کیف کی جگہ کم کا آجانا اس بات کی دلیل ہے کہ اسی حدیث میں کیف کم کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ یعنی اصل سوال رکعات ہی سے متعلق تھا، لیکن عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں مزید اضافی معلومات فراہم فرما دیں۔
حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ مولانا طاہر حسین گیاوی صاحب کیف اور کم کے بال کی کھال نکالنے کی تقلیدی کوشش میں اتنا مصروف ہو گئے کہ اعتراض کے جس قلعے کو اتنی مضبوطی کے ساتھ تعمیر کیا ، اسے خود ہی منہدم کر دیا ۔
مولانا طاہر حسین گیاوی آگے چل کر خود ہی لکھتے ہیں: اشتباہ یہ ہوا کہ رمضان میں چونکہ آپ کا عبادت میں انہماک بڑھ جاتا تھا اس لیے کہیں ایسا تو نہیں کہ تہجد کی عام دنوں والی رکعت کی تعداد میں آپ رمضان کے اندر اضافہ فرما دیا کرتے تھے ۔
یہی بناۓ سوال ہے ۔"
احسن التنقیح : ص: 274
مولانا طاہر حسین گیاوی صاحب کی اس عبارت کو بار بار ملاحظہ کریں اور یہ شعر گنگناتے جائیں۔
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا ۔
مولانا پہلے تو اس بات پر مصر رہے کہ اس حدیث میں تعداد رکعت کے بارے میں سوال ہی نہیں کیا گیا ، اور پھر خود ہی اقرار کر رہے ہیں کہ اس حدیث میں سوال کی بنیاد ہی تعداد رکعات ہے۔
نیز اس حدیث میں
سائل کا سوال صرف قیام رمضان سے تھا جس کو تراویح کہتے ہیں، تہجد کی نماز کے بارے میں سائل نے سوال ہی نہیں کیا تھا بلکہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں سوال سے زائد نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قیام رمضان و غیر رمضان کی تشریح فرما دی، لہذا اس حدیث سے گیارہ رکعات تراویح کا ثبوت صریحاً ہے۔
ائمہ محدثین نے صدیقہ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث پر قیام رمضان اور تراویح کے ابواب باندھے ہیں مثلاً:
● صحیح بخاری، «كتاب الصوم» (روزے کی کتاب) «كتاب صلوة التراويح» (تراویح کی کتاب) «باب فضل من قام رمضان» (فضیلت قیام رمضان)۔
مؤطا محمد بن الحسن الشیبانی: باب «قيام شهر رمضان و مافيه من الفضل»
علامہ عبدالحئی حنفی لکھنوی نے اس کے حاشیہ پر لکھا ہے:
«قوله، قيام شهررمضان ويسمي التراويح»
یعنی: قیام رمضان اور تراویح ایک ہی چیز ہے۔
السنن الکبری للبیہقی : باب ماروي فى عدد ركعات القيام فى شهر رمضان ۔
مقتدین میں سے کسی محدث یا فقیہ نے نہیں کہا کہ اس حدیث کا تعلق نماز تراویح کے ساتھ نہیں ہے۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کو متعدد علماء نے بیس رکعات والی موضوع و منکر حدیث کے مقابلہ میں بطور معارضہ پیش کیا ہے مثلاً:
علامہ زیلعی حنفی۔ [نصب الرايه: 153/2]
حافظ ابن حجر عسقلانی۔ [الدرايه: 203/1]
علامہ ابن ہمام حنفی۔ [فتح القدير: 467/1، طبع دار الفكر]
علامہ عینی حنفی۔ [عمدة القاري: 128/11]
علامہ سیوطی۔ [الحاوي للفتاوي348/1] وغيرهم
دیوبندی اور بریلوی مقلدین اپنا سارا زور اس بات پر صرف کردیتے ہیں کہ تہجد و تراویح الگ الگ ہے ۔ حالانکہ تہجد، تراویح، قیام اللیل، قیام رمضان، وتر ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان ہو یا غیر رمضان عشاء کی نماز سے فارغ سے فجر تک گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے ۔
No comments:
Post a Comment