امامت کے متعلق فتاویوہابیوں سے متعلق فتاوی
وہابی سے تعلقات اور رشتے داری کا حکم
4482
عنوان:وہابی سے تعلقات کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ایک حافظ قرآن ہے اور اس کا سگا بہنوئی وہابی مولوی ہے۔زید کے گھر اس وہابی مولوی کا آنا جانا ہے اور زید کے گھر والے اس وہابی مولوی سے تعلقات بھی رکھتے ہیں۔اور زید جس گھر میں رہتا ہے اسی گھر میں وہ وہابی مولوی بھی آتا ہے اور زید ہی اپنے گھر کے اخراجات بھی پورے کرتا ہے،ضرورت پڑنے پر ایک مسجد میں امامت بھی کرائی جاتی ہے۔زید ایک سنی مسجد کا ٹرسٹی بھی ہے اور ایک سنی مدرسے میں بھی پڑھاتا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید سے تعلقات رکھنا اور سنی مسجد میں امام بنانا نیز سنی مدرسے میں مدرس رکھنا اور کسی سنی مسجد کا ٹرسٹی بنانا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟
نیز جن لوگوں نے امام بنایا یا سنی مدرسے میں بحیثیت مدرس رکھا جو ان تمام معاملات کو جانتے ہوئے زید سے تعلقات رکھتے ہیں ان سب پر شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟
المستفتیان:عمران رضا وعوام اہل سنت، میٹھی کھاری، لمبایت، سورت
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:’’وہابیہ وغیر مقلدین و دیوبندی و مرزائی آج کل سب کفار و مرتدین ہیں،ان کے پاس نشست و برخاست حرام ہے،ان سے میل جول حرام ہے اگر چہ اپنا باپ یا بھائی یا بیٹے ہوں اور ان لوگوں سے کسی دنیاوی معاملت کی بھی اجازت نہیں كما بيناه في المحجة المؤتمنة ان کے پاس بیٹھنے والا اگر ان کے پاس بیٹھتا ہے یا ان کے کفر میں شک رکھتا ہے اور وہ ان کے اقوال سے مطلع ہے تو بلا شبہ کافر ہے‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ مترجم، ج:٢١،ص:٢٧٨،رضا فاؤنڈیشن)
تاج دارِ اہلِ سنت حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’جو مرتدین ہیں نیچڑی وہابی دیوبندی قادیانی رافضی ان سے میل جول رسم و راہ کیسی،نری معاملت بھی حرام ہے‘‘۔(فتاویٰ مفتی اعظم ہند،ج٥،ص٣٣٧،امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف)
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’وہابیوں سے سلام و کلام کرنا سخت ناجائز و حرام ہے‘‘۔(فتاویٰ فقیہ ملت،ج:١،ص:١٨،مطبوعہ مکتبہ فقیہ ملت)
لہذا صورت مسئولہ میں بر تقدیر صدق سوال زید اور اس کے گھر والوں کا اس دیوبندی سے میل جول رکھنا،اپنے یہاں مہمان بنانا،اس کے یہاں شادی بیاہ کرنا،اس کو عزت دینا،اس کی صحبت اختیار کرنا،سلام وکلام کرنا ناجائز و حرام،بد کام،بد انجام ہے۔زید سچی توبہ کے بعد امامت و تدریس وغیرہ کا فریضہ انجام دے سکتا ہے جب کہ دوسری شرعی ممانعت نہ پائی جائے، اور جب تک توبہ نہ کرے اس کو امام و مدرس وغیرہ بنانا منع ہے۔
ہاں اس وہابی کے کفریہ عقائد پر مطلع ہوتے ہوئے جو بھی تعلقات رکھے اسے مسلمان جانے تو یہ کفر ہےاور ایسی صورت میں توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح کریں لازم ہے۔والله تعالى أعلم
دار الافتاء فیضان تاج الشریعہ
*دیوبندی وہابی وغیرہ کسی بھی بد مزہب کی نماز جنازہ یہ جانتے ہوئے پڑھی کہ مذہبا دیوبندی ہے توبر بنائے مزہب اصح وہ اسلام سے خارج ہے اس پر توبہ و تجدید ایمان لازم ہے بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے*
*📚فتاوی رضویہ میں ہے👇*
*جسے یہ معلوم ہو کہ دیوبندیوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی توہین کی ہے پھر ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے اسے مسلمان نہ کہا جائے گا کہ پیچھے نماز پڑھنا اس کی ظاہر دلیل ہے کہ ان کو مسلمان سمجھا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو مسلمان سمجھنا کفر ہے - اس لئیے علماء حرمین شریفین نے بالاتفاق دیوبندیوں کو کافر ومرتد لکھا اور صاف فرمایا ــــ من شک فی کفرہ وعذابه فقد كفر جو ان کے عقائد پر مطلع ہو کر مسلمان جاننا اور کناران کے کفر میں. شک ہی کرے وہ بھی کافر اورجن کو اس کی خبر نہیں اجمالا اتنا معلوم ہے کہ یہ برے لوگ بد عقیدہ بد مزہب ہیں. وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے سخت اشد گنہگار ہوتے ہیں اور ان کی وہ نمازیں سب باطل و بیکار ہیں "٬ اھ (ص ۷۶'۷۷ ج ۶)*
No comments:
Post a Comment