Thursday, March 14, 2024

تراویح کی خود ساختہ حنفی دعا !

بسم الله الرحمن الرحيم 

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

موضوع: تراویح کی خود ساختہ حنفی دعا ! 

مصادر : مختلف مراجع و مصادر ! 

مولانا اقبال قاسمی سلفی 

قرآن و صحیح احادیث کو چھوڑ کر موضوع اور من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے حنفی علماء اور مفتیان تراویح کے دوران ایک خود ساختہ دعا کا کثرت سے اہتمام کرتے ہیں ، یہی نہیں بلکہ ہر سال اسے دعاۓ تراویح کے نام پر رمضان کیلنڈروں میں بھی بڑے تزک و احتشام کے ساتھ شایع کرتے ہیں ۔
جو درج ذیل ہے : 

”سبحان ذی الملک والملکوت، سبحان ذی العزة والعظمة والقدرة والکبریاء والجبروت، سبحان الملک الحي الذي لا یموت، سبوح قدوس ربنا ورب الملائکة والروح ، اللهم اجرنا من النار، يا مجير، يا مجير، يا مجير". 

  اس تسبیح کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے کہ مساجد میں اس تسبیح کے پمفلٹ چسپاں کیے جاتے ہیں. 
عوام اور علماء دونوں ہی اس دعا کو بڑے اہتمام سے تراویح کی ہر چار رکعات کے بعد اجتماعی طور سے بالجہر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ 

جبکہ تراویح کے دوران پڑھنے کی ایسی کوئی مخصوص دعا ذخیرۂ اسلام میں موجود نہیں ہے۔ 

نہ قرآن میں ہے۔۔۔۔ 
نہ بخاری میں ہے ۔۔۔ 
نہ مسلم میں ہے ۔۔۔۔ 
نہ ترمذی میں ہے ۔۔۔ 
نہ ابو داؤد میں ہے ۔۔۔ 
نہ نسائی میں ہے۔۔۔ 
نہ ابن ماجہ میں ہے ۔۔۔ 

بلکہ حدیث کی کسی کتاب میں موجود نہیں ہے۔ صحیح تو کیا کسی ضعیف سند سے بھی ایسی کوئی دعا موجود نہیں ہے۔ پھر بھی احناف کے دینی ادارے اس دعا کو ہر سال بڑے اہتمام سے(بڑی ڈھٹائی سے) بے حوالہ و بے سند کیلنڈروں کی زینت ایسے بناتے ہیں جیسے یہ دعا مستحب ہی نہیں بلکہ سنت اور واجب ہو۔  

جبکہ خود ان کے اکابر علماء احناف نےبھی اس دعا کے بدعت اور من گھڑت ہونے کی گواہی خود اپنی زبانی ان الفاظ میں دی ہے۔ 

" کسی حدیث شریف میں اس کا حکم یا ترغیب یا آپ صلی اللہ علیہ و سلم و صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا اس پر عمل مذکور نہیں ہے، بلکہ فقہ حنفی کی کتابوں میں سب سے پہلے یہ دعا قہستانی کی شرح وقایہ میں ملتی ہے، اور قہستانی نے اس کا حوالہ "منہج العباد" نامی کتاب کا دیا ہے، پھر قہستانی کی کتاب سے علامہ شامی نے "رد المحتار" میں نقل کیا ہے، پھر ردالمحتار سے یہ دعا کتب فقہ وفتاوی میں رائج ہوگئی
۔( متفقہ علمائے احناف) 

اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ علمائے احناف کو بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ دعا حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے۔ بلکہ اللہ کے رسول ﷺ کے ایک ہزار سال بعد شمس الدین قہستانی حنفی المتوفی 1546ء نے منہج العباد نامی کتاب کا حوالہ دے کرسب سے پہلے یہ بدعت ایجاد کی تھی۔ 

اب کابرین دیوبند کا موقف ملاحظہ کریں: 

مرغوب الفتاوی [ج3ص429 ] پر حاشیہ میں یہ لکھا ہے :

ہمارے اس زمانہ میں تسبیحِ تراویح میں بہت غلو ہونے لگاہے، خصوصا برطانیہ کی اکثر مساجد میں تراویح کی یہ تسبیح (سبحان ذی الملک والملکوت۔۔۔الخ)بڑے بڑے پوسٹر اور اشتہارکی شکل میں قبلہ کی دیوار پربڑی تعداد میں چسپاں کی جاتی ہے،حالانکہ کسی مستحب کے ساتھ زیادہ اہتمام اور واجب کا سا معاملہ ہونے لگے ، تو فقہاء اس کے ترک حکم فرماتے ہیں۔اور یہاں حال یہ ہے کہ عوام تو عوام،علماء تک اسے بڑے اہتمام سے پڑھتے ہیں، اور لطف یہ کہ بالجہر پڑھنے کا رواج عام ہوتا جارہاہے۔

اولا:اس تسبیح کا ثبوت حدیث سے مشکل ہے ، علامہ شامی نے ضرور اسے لکھاہے ،اور ان کی اتباع میں یہ دعا ہماری کتب فقہ وفتاوی میں درج ہوگئی ہے ،حالانکہ جو دعائیں اور اذکار احادیث میں مروی ہیں ان کا پڑھنا زیادہ ثواب رکھتاہے۔

اسی وجہ سے حضرتِ  مولانا رشید احمد  گنگوہی ؒ کا معمول اس کے بجائے (سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر) پڑھنے کا تھا۔

حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں : 
احقر کہتا ہے کہ کلمہ(سبحان اللہ )الخ کی بہت فضیلت احادیث صحیحہ میں وارد ہے ، اس لئے تکرار اس کا افضل ہے ، اور یہی معمول ومختار تھا حضرت محدث وفقیہ گنگوہی ؒ کا ۔[فتاوی دار العلوم دیوبند ص246ج4،سوال نمبر1761]۔

حضرت  مولانا اشرف علی تھانویؒ سے کسی نے پوچھا کہ: آپ ترویحہ میں کیا پڑھتے ہیں؟  تو فرمایا :

 شرعا کوئی ذکر متعین تو ہےنہیں ، باقی میں پچیس مرتبہ درود شریف پڑھ لیتاہوں۔[تحفۂ رمضان ص۱۱۱] ۔

اس سے معلوم ہوا کہ اکابر علمائے دیوبند بھی اس دعا کے پڑھنے سے پرہیز کیا کرتے تھے۔ 

اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی۔ 
میرا نہیں بنتا تو مت بن اپنا تو بن۔ 

اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه !

No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...