السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
موضوع : روزے کی من گھڑت نیت !
مصادر : مختلف مراجع و مصادر
مولانا اقبال قاسمی سلفی
ضلالت و گمراہی کے داعی حنفی علماء اور مفتیان روزہ رکھنے کی خود ساختہ نیت " بصوم غد نويت من شهر رمضان " کی نہ صرف یہ کہ تلقین کرتے ہیں بلکہ ہر سال بڑے اہتمام کے ساتھ اس من گھڑت نیت کو اپنے رمضان کیلنڈروں کی زینت بناتے ہیں ۔
جبکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نیت نہ قرآن مجید کی کسی آیت میں ہے۔
نہ کسی حدیث رسول ﷺ میں ہے۔
نہ خلفاء راشدین سے ثابت ہے۔
نہ عشرہ مبشرہ سے۔۔۔۔۔۔
نہ کسی صحابی رسول نے یہ نیت کی ہے۔
نہ کسی تابعی نے۔۔۔۔
نہ کسی تبع تابعین نے۔۔۔۔
نہ امام ابو حنیفہؒ، امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل نے۔۔۔۔
نہ امام محمد اور ابو یوسف نے۔۔۔۔۔
نہ شیخ عبدالقادر جیلانی نے۔۔۔۔۔۔
دیوبندی اور رضاخانی عوام اور علماء کے یہاں مقبول و معروف یہ دعا اس قدر من گھڑت ہے کہ صحیح تو کیا, کسی ضعیف سے ضعیف ترین روایت میں بھی یہ موجود نہیں ہے ۔آج تک اس کے گھڑنے والے کذاب اور وضاع کا نام و نشان تک موجود نہیں ہے ۔
لہذا اس نیت کے من گھڑت ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
اور رسول اللہﷺ کا فرمان ہے۔
من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد ( متفق علیہ)
ترجمہ۔
جس کسی نے بھی ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز گھڑی جو اس میں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے۔ صحیح بخاری حدیث نمبر (2697)
نیت صرف دل کے ارادے کا
نام ہے۔ کوئی بھی نماز خواہ فرض ہو، سنت ہو ، نماز تراویح ہو ، نماز جنازہ ہو ،عیدین ہو یا روزہ ، زبان سے نیت کے الفاظ قرآن و سنت سے ثابت ہی نہیں ہے ۔
اکابر علمائے احناف نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے بدعت لکھا ہے.
ابن ہمام حنفی فرماتے ہیں:
بعض حفاظ نے کہا ہے کہ کسی صحیح یا ضعیف سند سے بھی ثابت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی ابتدا کرتے وقت یہ فرماتے کہ میں فلاں نماز ادا کر رہا ہوں اور نہ ہی صحابہ یا تابعین میں سے کسی سے یہ منقول ہے۔ بلکہ جو منقول ہے وہ یہ کہ آپ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ’اللہ اکبر‘ کہتے، اور یہ (زبان سے نیت کرنا) بدعت ہے۔ (فتح القدیر شرح الہدایہ‘‘ (۱/۲۶۶،۲۶۷)
ابن عابدین حنفی اپنی کتاب ) میں فرماتے ہیں:
زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔(رد المحتار‘‘ ۱/۲۷۹
ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں:
’’الفاظ کے ساتھ نیت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بدعت ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع جس طرح آپ کے کاموں میں کرنا لازم ہے، اسی طرح اتباع کام کے نہ کرنے میں بھی لازم ہے ۔
علامہ انور شاہ کاشمیری دیوبندی حنفی فرماتے ہیں:
’’نیت صرف دل کا معاملہ ہے۔‘‘ (فیض الباری شرح صحیح البخاری :۱/۸)
علامہ عبد الحی لکھنوی حنفی فرماتے ہیں:
نماز کی ابتداء میں زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔(عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ)
اور دیوبندی جماعت کے مشہور مفتی مفتی طارق مسعود دیوبندی پاکستانی کہتے ہیں۔ " زبان سے نماز روزے کی نیت کرنا پاگل اور وہمی لوگوں کا کام ہے"۔ "تقریر مفتی طارق مسعود)
واضح ہو کہ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے ، صحیح بخاری کی پہلی حدیث ہے: : إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ۔
تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا ۔ پس جس کی ہجرت ( ترک وطن ) دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض سے ہو ۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے ۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر عمل کی صحت کا مدار نیت ہے ۔اور جب نیت ہی من گھڑت ہو ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ نہ ہو تو وہ عمل قابل قبول کیسے ہو سکتا ہے ۔ذ
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!
No comments:
Post a Comment