بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: دعاے افطار اور حنفیوں کی اختراع بازی !
مصادر : مختلف مراجع و مصادر !
قرآن و حدیث کو چھوڑ کر
صوفی سنتوں کے قصے کہانیوں پر عمل کرنے والے دیوبندی اور رضاخانی علماء اور مفتیان افطار کے وقت کی دعا کا کثرت سے اہتمام کرتے ہیں اور ہر سال اپنے رمضان کیلنڈروں میں اس دعا کو بڑے تزک و احتشام کے ساتھ شائع کرتے ہیں ، جو درج ذیل ہے:
اللهم لك صمت و بك آمنت عليك توكلت و على رزقك افطرت!
لیکن یہ دعا کتاب و سنت میں کہیں موجود نہیں ہے ۔صحیح تو کیا، کسی ضعیف ، موضوع اور من گھڑت روایت میں موجود نہیں ہے
آپ کو بتا دیں کہ اس دعا کے کچھ الفاظ سنن ابوداؤد میں ہیں ۔
امام ابو داؤد فرماتے ہیں:
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ .
جناب معاذ بن زہرہ ( تابعی ) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ افطار کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے : اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت ’’ اے اللہ ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق پر کھول رہا ہوں ۔“
سنن ابی داؤد: حدیث نمبر : 2358
أولاً اس روایت میں صرف اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ کے الفاظ ہیں ، "و بك آمنت عليك توكلت " کے الفاظ جو حنفی حضرات کا اختراع ہے ، کہیں ان الفاظ کا نام و نشان نہیں ہے ۔
نیز روایت میں درج اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ کے الفاظ بھی ضعیف ہیں ۔ کیونکہ معاذ بن زہرہ تابعی براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے ہیں ، اور تابعی کی روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بنا صحابی کے واسطے کے اصطلاح محدثین میں مرسل کہلاتی ہے جو کہ ضعیف کے اقسام میں سے ہے۔
اس حدیث کو درج ذیل محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
اللهمَّ لك صمتُ وعلى رزقِك أفطرتُ
الراوي:معاذ بن زهرة
المحدث:صدر الدين المناوي المصدر:كشف المناهج والتناقيح الجزء أو الصفحة:2/169
حكم المحدث: مرسل
المحدث:ا بن حجر العسقلاني المصدر:الفتوحات الربانية
الجزء أو الصفحة:4/341
حكم المحدث:مرسل
الراوي:أنس بن مالك
المحدث:الألباني المصدر:إرواء الغليل الجزء أو الصفحة:4/37
حكم المحدث:فيه إسماعيل بن عمرو ضعيف وشيخه داود شر منه
الراوي:معاذ بن زهرة
المحدث:الألباني المصدر:ضعيف أبي داود
الجزء أو الصفحة:2358
حكم المحدث:ضعيف
اللَّهمَّ لَكَ صُمتُ وعلَى رزقِكَ أفطَرتُ ، فتَقبَّلْ منِّي ، إنَّكَ أنتَ السَّميعُ العليمُ
الراوي:عبدالله بن عباس المحدث:الألباني المصدر:ضعيف الجامع
الجزء أو الصفحة:4350
حكم المحدث:ضعيف
الراوي:معاذ بن زهرة المحدث:الألباني المصدر:إرواء الغليل
الجزء أو الصفحة:4/38
حكم المحدث:إسناده ضعيف
الراوي:- المحدث:ابن عثيمين المصدر:مجموع فتاوى ابن عثيمين الجزء أو الصفحة:363/19 حكم المحدث:فيه ضعف
اللَّهمَّ لكَ صُمتُ، وعلى رِزقِك أفطَرْتُ.
الراوي:- المحدث:ابن عثيمين المصدر:فتاوى نور على الدرب لابن عثيمين
الجزء أو الصفحة:2/550 حكم المحدث:أعل بالإرسال
اللَّهُمَّ لكَ صُمْتُ، وعلى رِزقِكَ أفْطَرْتُ.
الراوي:- المحدث:شعيب الأرناؤوط المصدر:تخريج زاد المعاد الجزء أو الصفحة:2/49
حكم المحدث:مرسل
كان إذا أفطر قال : اللهمَّ لك صمتُ وعلى رِزقِك أفطرتُ
الراوي:معاذ بن زهرة المحدث:أبو داود المصدر:المراسيل لأبي داود الجزء أو الصفحة:203
حكم المحدث:أورده في كتاب المراسيل
كانَ إذا أفطرَ قالَ : اللَّهمَّ لَك صمتُ، وعلى رزقِك أفطرتُ
الراوي:معاذ بن زهرة المحدث:السيوطي المصدر:الجامع الصغير
الجزء أو الصفحة:6570
حكم المحدث:مرسل
اللَّهمَّ لكَ صُمتُ، وعلى رِزقِكَ أفطَرتُ؛ فتَقبَّلْ مِنَّا إنَّكَ أنتَ السَّميعُ العَليمُ.
الراوي:[عبدالله بن عباس] المحدث:ابن القيم المصدر:زاد المعاد الجزء أو الصفحة:2/49
حكم المحدث:لا يثبت
أنَّ النَّبيَّ عليهِ السَّلامُ كانَ إذا أفطرَ قالَ اللَّهمَّ لَك صُمتُ وعلى رزقِك أفطرتُ
الراوي:معاذ بن زهرة المحدث:العيني المصدر:العلم الهيب الجزء أو الصفحة:427
حكم المحدث:مرسل
أن النبيَّ _صلى الله عليه وسلم _كان إذا أفطرَ قال : اللهمَّ لكَ صمتُ، وعلى رِزْقِكَ أفطرتُ.
الراوي:معاذ بن زهرة المحدث:الذهبي المصدر:المهذب في اختصار السنن الجزء أو الصفحة:4/1616 حكم المحدث:مرسل
أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ كان إذا أفطرَ قال اللهمَّ لك صمتُ وعلى رزقك أفطرتُ
الراوي:معاذ بن زهرة المحدث:ابن الملقن المصدر:تحفة المحتاج
الجزء أو الصفحة:2/96 حكم المحدث:مرسل
درج بالا محدثین کی تحقیق و تخریج سے معلوم ہوا کہ افطار کی دعا: اللهم لك صمت و على رزقك افطرت جمہور محدثین کے نزدیک بالاتفاق ضعیف ہے ۔جبکہ اس دعا میں "و بك آمنت و عليك توكلت" کا دیوبندی اور بریلوی اضافہ تو کسی ضعیف اور موضوع روایت میں بھی موجود نہیں ہے ۔
جیسا کہ دارالعلوم دیوبند نے اپنے فتوے میں بھی اس کا اعتراف کیا ہے ۔․
چنانچہ دارالعلوم دیوبند اپنے فتوے میں رقمطراز ہے:
" اور اس دعا میں ”وبک آمنت وعلیک توکلتُ“ کا اضافہ جامع الرموز میں قہستانی نے ذکر کیا ہے۔ (کتاب الصوم قبل فصل الاعتکاف: ص۱۶۴)، لیکن حدیث کی کتابوں میں مجھے اس کا کوئی حوالہ نہیں ملا؛ بلکہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات المفاتیح (۴:۴۲۶، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت) میں اورحضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری رحمہ اللہ نے حصن حصین مترجم (ص۲۱۶) کے حاشیہ میں اس اضافہ کو بے اصل قرار دیا ہے "
دار الافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوے نمبر : 56008
واضح ہو کہ افطار کی ایک صحیح دعا سنن ابی داؤد میں موجود ہے ۔
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ، قَالَ: ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ .
رسول اللہ ﷺ جب روزہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے : ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله ’’ پیاس بجھ گئی ‘ رگیں تر ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر بھی ثابت ہو گیا ۔“
سنن ابی داؤد: حدیث نمبر : 2357
اس حدیث کو امام دارقطنی ، حافظ ابن حجر عسقلانی، علامہ البانی علامہ جلال الدین سیوطی اور علامہ بن باز رحمہم اللہ نے صحیح قرار دیا ہے ۔
اللهم اردنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه!
No comments:
Post a Comment