السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
موضوع: مسنون دعاء قنوت اور احناف
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ: اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں پڑھا کروں، وہ کلمات یہ ہیں:
اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ
(اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ہے، مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے، میری سرپرستی فرما کر، ان لوگوں میں شامل فرما جن کی تو نے سرپرستی کی ہے، اور جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں برکت عطا فرما، اور جس شر کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس سے مجھے محفوظ رکھ، یقیناً فیصلہ تو ہی صادر فرماتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا، اور جس کا تو والی ہو وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو بہت برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔“)
(سنن ترمذی حدیث نمبر :464)
اس کے بعد امام ترمذی فرماتے ہیں:
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ وَاسْمُهُ: رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ، وَلَا نَعْرِفُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا.
یہ حدیث حسن ہے۔ اسے ہم صرف اسی سند سے یعنی ابوالحوراء سعدی کی روایت سے جانتے ہیں، ان کا نام ربیعہ بن شیبان ہے۔ میرے علم میں وتر کے قنوت کے سلسلے میں اس سے بہتر کوئی اور چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں ہے۔
یہ حدیث سنن ترمذی حدیث نمبر 464 کے علاوہ سنن ابوداؤد حدیث نمبر1425، سنن نسائی حدیث نمبر 1746، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1178، مسند احمد حدیث نمبر 220اور سنن دارمی حدیث نمبر 1632 پر بھی موجود ہے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ وتر میں درج ذیل دعاۓ قنوت بھی پڑھا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نفسك.
(اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے بچ کر تیری رضا و خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں تیرے عذاب و سزا سے بچ کر تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے غضب سے، میں تیری ثناء ( تعریف ) کا احاطہٰ و شمار نہیں کر سکتا تو تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنے آپ کی ثناء و تعریف کی ہے“۔ )
(سنن ترمذی حدیث نمبر:3566)
یہ حدیث سنن ترمذی حدیث نمبر 3566 کے علاوہ سن ابی داوُد حدیث نمبر 1427، سنن نسائی حدیث نمبر 1748، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1179 اور مسند احمد حدیث نمبر 150 ہر بھی موجود ہے۔ اور اس کی سند بھی صحیح ہے۔
اس مسنون قنوت وتر کے برخلاف احناف کے یہاں جو دعاۓ قنوت وتر رائج ہے وہ نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ نہیں ہیں بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے فجر کی نماز میں بطور قنوت پڑھا کرتے تھے۔ حضرت عبید بن نمیر روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی تو انہوں نے رکوع کے بعد قنوت نازلہ میں یہ دعا پڑھی۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
حدثنا حفص بن غياث، عن ابن جريج، عن عطاء، عن عبيد بن نمير، قال: سمعت عمر، يقنت في الفجر يقول: «بسم الله الرحمن الرحيم، اللهم إنا نستعينك ونؤمن بك، ونتوكل عليك ونثني عليك الخير كله، ولا نكفر» ثم قرأ: «بسم الله الرحمن الرحيم اللهم إياك نعبد، ولك نصلي ونسجد، وإليك نسعى ونحفد، نرجو رحمتك، ونخشى عذابك، إن عذابك الجد بالكفار ملحق، اللهم عذب كفرة أهل الكتاب الذين يصدون عن سبيلك»
ترجمہ :عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر کو فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھتے سنا۔ انہوں نے پہلے یہ کہا (ترجمہ) بسم اللہ الرحمن الرحیم ، اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ پر ایمان لاتے ہیں، تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں، تیری خیر کی تعریف کرتے ہں ہ، ترمی ناشکری نہیں کرتے۔ پھر انہوں نے یہ پڑھا (ترجمہ) بسم اللہ الرحمن الرحیم، اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں، تیرے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ تیری طرف چلتے ہیں، تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں، تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں اور بیشک تیرا عذاب کافروں تک پہنچنے والا ہے۔ اے اللہ ! ان اہل کتاب کافروں کو عذاب میں مبتلا فرما جو تیرے راستے سے روکتے ہیں۔
اس کی سند میں ابن جریج مدلس ہیں لیکن مصنف عبد الرزاق کی روایت میں تحدیث کی صراحت کے ساتھ یہ روایت موجود ہے۔
سنن الکبری للبیقہی میں یہ روایت کچھ الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ اس طرح موجود ہے۔ (2/211)
اس دعا میں " نتوكل عليك" کے الفاظ کہیں بھی موجود نہیں ہے، یہ سراسر رضاخانیوں اور دیوبندیوں کا ادراج ہے۔
عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزي عن أبيه قال صليت خلف عمر بن الخطاب رضي الله عنه صلاة الصبح فسمعته يقول بعد القراءة قبل الركوع اللهم إياك نعبد ولك نصلى ونسجد وإليك نسعى ونحفد نرجو رحمتك ونخشى عذابك إن عذابك بالكافرين ملحق اللهم إنا نستعينك ونستغفرك ونثني عليك الخير ولا نكفرك ونؤمن بك ونخضع لك ونخلع من يكفرك
سعید بن عبد الرحمن بن ابزی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :
میں نے صبح کی نماز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پیچھے پڑھی تو میں نے انہیں قررأت کے بعد رکوع سے پہلے یہ قنوت پڑھتے ہوئے سنا:
اللهم إياك نعبد ولك نصلى ونسجد الخ
مصنف عبدالرزاق (3/110) میں بھی یہ روایت موجود ہے :
عن أبي رافع قال: صليت خلف عمر بن الخطاب الصبح فقنت بعد الركوع قال: فسمعته يقول: «اللهم إنا نستعينك، ونستغفرك، ونثني عليك ولا نكفرك، ونؤمن بك ونخلع ونترك من يفجرك، اللهم إياك نعبد، ولك نصلي ونسجد، وإليك نسعى ونحفد، ونرجو رحمتك ونخاف عذابك إن عذابك بالكفارين ملحق، اللهم عذب الكفرة۔
ابو رافع روایت کرتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھی تو میں نے انہیں رکوع کے بعد یہ قنوت پڑھتے ہوئے سنا: اللهم إنا نستعينك، ونستغفرك الخ
مراسیل ابی داود(1/109) میں یہ قنوت مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے:
عن خالد بن أبي عمران ، قال بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو على مضر إذ جاءه جبريل فأومأ إليه أن اسكت فسكت ، فقال يا محمد إن الله لم يبعثك سبابا ولا لعانا وإنما بعثك رحمة ولم يبعثك عذابا ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون قال : ثم علمه هذا القنوت اللهم إنا نستعينك ونستغفرك ونؤمن بك ونخضع لك ، ونخلع ونترك من يكفرك ، اللهم إياك نعبد ولك نصلي ونسجد ، وإليك نسعى ونحفد نرجو رحمتك ونخاف عذابك الجد ، إن عذابك بالكفار ملحق.
خالد بن ابی عمران سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ جبکہ آپ مضر قبیلے کے خلاف بد دعا کر رہے تھے۔ حضرت جبریل آۓ اور آپ کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا، جب آپ خاموش ہوگئے تو کہا: اے محمد ﷺ اللہ نے آپ کو برا کہنے والا اور لعنت کرنے والا بناکر نہیں بھیجا، آپ کو رحمت بناکر بھیجا بھیجا نہ کہ عذاب بناکر۔ آپ کو اس معاملے کا کچھ بھی اختیار نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب دے ، یہ لوگ تو ظالم ہیں ہی، پھر جبریل نے نبی ﷺ کو یہ قنوت سکھایا: اللهم إنا نستعينك ونستغفرك ونؤمن بك الخ
(مراسیل ابوداؤد: 1/109)
لیکن مرفوعاً یہ روایت مرسل ہے، خالد بن ابی عمران تابعی ہیں جوکسی صحابی کے واسطے کے بغیر براہ راست نبی کریم ﷺ سے روایت کر رہے ہیں۔ کسی تابعی کا براہِ راست نبی کریم ﷺ سے روایت مرسل کہلاتی ہے اور جمہور محدثین کے یہاں مرسل روایت ضعیف مانی جاتی ہے۔
صحیح یہی ہے کہ یہ روایت موقوفا صحیح ہے۔
یہ روایت موقوفا گرچہ صحیح ہے لیکن موقوف روایت کے مقابلے میں کسی صحیح مرفوع حدیث رسول ﷺ کو یکسر نظر انداز کردینا، کون سا اتباع رسول ہے۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!
No comments:
Post a Comment