Monday, July 3, 2023

خطبہ قربانی

اابسم الله الرحمن الرحيم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

محمد اقبال قاسمي سلفي

موضوع: خطبہ قربانی 

1) قربانی کا تصور تمام قوموں میں موجود ہے۔ 

 وَلِكُلِّ أُمَّةٍۢ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُواْ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلْأَنْعَٰمِ ۗ فَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ فَلَهُۥٓ أَسْلِمُواْ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُخْبِتِينَ 
(سوره حج:34) 

سب سے پہلی قربانی 

وَاتْلُ عَلَيْہِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِہِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ قَالَ لَاَقْتُلَـنَّكَ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ (المائدہ:27)

ابراہیم علیہ السلام کی قربانی! 

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: 

{وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ (99) رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ (100) فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ (101) فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (102) فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ (103) وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ (104) قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (105) إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ (106) وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (107) وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ (108) سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ (109) كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (110) إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ (111)  

(سورہ الصافات: 99۔ 111) 

ہندو دھرم میں بھی قربانی کا تصور موجود ہے! 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

اس امت میں بھی قربانی کی مشروعیت کو برقرار رکھا گیا۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

2) قربانی اللہ سے قرب اور تقرب کا ذریعہ ہے۔ قربانی کا معنی ہی اللہ سے قریب ہونا ہے۔ چاہے اپنوں سے سماج سے ،خاندان‌سے وطن سے کیوں نہ دور ہو جائے ۔
رَّبَّنَآ إِنِّيٓ أَسۡكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيۡرِ ذِي زَرۡعٍ عِندَ بَيۡتِكَ ٱلۡمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱجۡعَلۡ أَفۡـِٔدَةٗ مِّنَ ٱلنَّاسِ تَهۡوِيٓ إِلَيۡهِمۡ وَٱرۡزُقۡهُم مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡكُرُونَ (سورہ ابراہیم : 37)

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ، وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ»

 ذکوان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے ، لہذا اس میں کثرت سے دعا

 7405) 

، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ :، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا ، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا ، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ ، وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ۔

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے ( یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں ۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ کا طالب ہوتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے ۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے ۔
(صحیح البخاری:6502) 

3) قربانی یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی عداوتوں، نفرتوں، اور اپنوں سے دوریوں کی قربانی دیں۔  

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا۔ 
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا ، اس بندے کے سوا جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو ، چنانچہ کہا جاتا ہے : ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ، ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ۔ ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ۔‘‘ ( اور صلح کے بعد ان کی بھی بخشش کر دی جائے ۔ ) 
(صحیح مسلم: 6544) 

4) قربانی ہم سے اخلاص کا مطالبہ کرتی ہے. 

لن ينال الله لحومها الخ (سوره حج:37)

عن ابی ہریرەؓ
إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ، وَلَا إِلَى صُوَرِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ» وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَى صَدْرِهِ۔ 
اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کو دیکھتا ہے نہ تمہاری صورتوں کو لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے ۔‘‘ اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا ۔ 
(صحیح مسلم: 6542)


سوشل میڈیا پر فوٹو شئیر کرنا یہ ریا ہے جو قربانی کے عمل کو ضائع کردیتا ہے۔ 

5) عیدین کی نمازوں میں عورتوں کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ 

 عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَانَا لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ قَالَ لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا۔ 
عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ میں عورتوں کو باہر نکالیں ، دوشیزہ ، حائضہ اور پردہ نشیں عورتوں کو ، لیکن حائضہ نماز سے دور رہیں ۔ وہ خیر و برکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کسی عورت کے پاس چادر نہیں ہوتی ۔ آپ نے فرمایا :’’ اس کی ( کوئی مسلمان ) بہن اس کو اپنی چادر کا ایک حصہ پہنا دے ۔‘‘

(صحیح مسلم: 2056)  

6) عیدین کے دن مسلمان بالخصوص صدقے کا اہتمام کریں۔ 
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَكَانَ يَقُولُ تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ مِنْهُ قُلْتُ أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ قُلْتُ كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ انْصَرَفَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر کے دن تشریف لاتے تو نماز سے آغاز فرماتے اور جب اپنی نماز پڑھ لیتے اور سلام پھیرتے تو کھڑے ہو جاتے ، لوگوں کی طرف رخ فرماتے جبکہ لوگ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں بیٹھے ہوتے ۔ اگر آپ کو کوئی لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو اس کا لوگوں کے سامنے ذکر فرماتے اور اگر آپ کو اس کے سوا کوئی اور ضرورت ہوتی تو انھیں اس کا حکم دیتے اور فرمایا کرتے :’’ صدقہ کرو ، صدقہ کرو ، صدقہ کرو ۔‘‘ زیادہ صدقہ عورتیں دیا کرتی تھیں ، پھر آپ واپس ہو جاتے اور یہی معمول چلتا رہا حتیٰ کہ مروان بن حکم کا دور آ گیا ، میں اس کے ساتھ ، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر نکلا حتیٰ کہ ہم عیدگاہ میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ کثیر بن صلت نے وہاں مٹی ( کے گارے ) اور اینٹوں سے منبر بنایا ہوا تھا ۔ تو اچانک مروان کا ہاتھ مجھ سے کھینچا تانی کرنے لگا ، جیسے وہ مجھے منبر کی طرف کھینچ رہا ہو اور میں اسے نماز کی طرف کھینچ رہا ہوں ۔ جب میں نے اس کی طرف سے یہ بات دیکھی تو میں نے کہا : نماز سے آغاز ( کا مسنون طریقہ ) کہاں ہے ؟ اس نے کہا : اے ابوسعید ! نہیں ، جو آپ جانتے ہیں اسے ترک کر دیا گیا ہے ۔ میں نے کہا : ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو میں جانتا ہوں تم لوگ اس سے بہتر طریقہ نہیں لا سکتے ۔۔۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ کہا ، پھر چل دیے ۔ 
(صحیح مسلم: 2053)

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ ، ثُمَّ خَطَبَ فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ : زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ حِينَئِذٍ تُلْقِي فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ ، قُلْتُ : أَتُرَى حَقًّا عَلَى الْإِمَامِ ذَلِكَ وَيُذَكِّرُهُنَّ ، قَالَ : إِنَّهُ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَهُ۔ 

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
 نبی کریم ﷺ نے عیدالفطر کی نماز پڑھی ۔ پہلے آپ نے نماز پڑھی اس کے بعد خطبہ دیا ۔ جب آپ خطبہ سے فارغ ہو گئے تو اترے اور عورتوں کی طرف آئے ۔ پھر انہیں نصیحت فرمائی ۔ آپ ﷺ اس وقت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے ۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں ۔ میں نے عطاء سے پوچھا کیا یہ صدقہ فطر دے رہی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ وہ صدقہ کے طور پر دے رہی تھیں ۔ اس وقت عورتیں اپنے چھلے ( وغیرہ ) برابر ڈال رہی تھیں ۔ پھر میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ اب بھی امام پر اس کا حق سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کو نصیحت کرے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ان پر یہ حق ہے اور کیا وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔ 
(صحیح بخاری: 978) 

7) ایام تشریق تک تکبیرات کا اہتمام کریں۔
 
ایام تشریق یعنی گیارہ ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ کو بھی تکبیرات کہنا مشروع ہے :

”عن نبيشة الهذلي، قال: قال رسول الله ﷺ: «أيام التشريق أيام أكل وشرب وذكر لله» “
”نبیشہ ھذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:تشریق کے دن کھانے ، پینے اوراللہ کے ذکر کے دن ہیں“ 
(صحيح مسلم ،رقم 1141) 

اس حدیث میں وارد ”ذکر“ کے اندر ”تکبیر“ بھی شامل ہے ، نیز متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایام تشریق میں تکبیرات کہنے کا ثبوت ملتا ہے ، چنانچہ:

 امام ابن أبي شيبة رحمه الله فرماتے ہیں :
”حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن أبي بكار، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنه كان يكبر من صلاة الفجر يوم عرفة إلى آخر أيام التشريق، لا يكبر في المغرب“

ترجمہ : ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن نماز فجر کی صبح سے تشریق کے آخری دن تک تکبیر کہتے تھے ، اور مغرب میں نہیں کہتے تھے“ 
(مصنف ابن أبي شيبة: 4/ 212 ، رقم 5764 إسناده صحيح) 

 امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
”حدثنا حسين بن علي، عن زائدة، عن عاصم، عن شقيق، عن علي أنه كان يكبر بعد صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق، ويكبر بعد العصر“

”علی رضی للہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ عرفہ کے دن نماز فجرکے بعد سے لیکر تشریق کے آخری دن عصر تک تکبیر کہتے تھے اورعصر کے بعد بھی تکبیر کہتے تھے“ 
(مصنف ابن أبي شيبة : 4/ 209 ، إسناده حسن) 

اللہ کے نبی ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ان دنوں میں تکبیر کا کوئی بھی صیغہ منقول نہیں ہے ، اس لئے دیگر مقامات پر ثابت شدہ کسی بھی صیغہ تکبیر کے ساتھ ان دنوں میں تکبیر کہی جاسکتی ہے ، مثلا:

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے الفاظ:
  اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا  
(مصنف عبد الرزاق، رقم 20581 ، إسناده صحيح) 

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ:
 الله أكبر كبيرا، الله أكبر كبيرا، الله أكبر وأجل، الله أكبر ولله الحمد! 
 (مصنف ابن أبي شيبه ، رقم : 5773، إسناده صحيح) 


8) قربانی کے جانور کو خود ہی ذبح کرنی چاہیے ! 

ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند پر خود ہی چھری چلائی تھی جبکہ وہ اپنے لخت جگر کی قربانی دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔ 

نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع سے اپنے ہاتھوں سے تریسٹھ اونٹ قربان کئے.
ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ، فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا، فَنَحَرَ مَا غَبَرَ،
(صحیح مسلم: 2950) 

9)قربانی کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے ۔

10) قربانی کا گوشت خود بھی کھائیں ،دوسروں کو بھی کھلائیں۔

11)عید الاضحٰی کی نماز کی ادائیگی تک کچھ نہ کھانے پینے کو روزہ سمجھنا ایک غلط فہمی ہے جو عوام الناس میں ہمارے یہاں پانی جاتی ہے۔

12) اسی طرح لوگ آج کے دن کےدن گلے ملنے کو ضروری خیال کرتے ہیں جس کی کوئی اصل نہیں ہے ۔۔مزید یہ کہ لوگ معانقہ کرتے ہوئے تین بار گلے ملتے ہیں ۔جو سررسر غلط ہے ۔معانقہ ایک بار گلے ملتے کو کو کہتے ہیں ۔جیسے مصافحہ ۔


No comments:

Post a Comment

Recent posts

وقف ترمیمی بل

عامۃ المسلمین میں ایسے کئی لوگ ہوسکتے ہیں جو نئے وقف قانون کی باریکیوں سے واقف نہ ہوں اسی لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس پر تفصیلی گفتگو ہو۔ م...