بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
مصادر: مختلف مراجع و مصادر
موضوع: قربانی کا جانور اور پل صراط کی سواری !
قربانی کے فضائل بیان کرتے ہوئے اکثر یہ روایت بیان کی جاتی ہے:
"استفرهوا ضحاياكم فانها علي الصراط مطاياكم۔"
ترجمہ: اپنی قربانی کے جانوروں کو موٹاتازہ بناؤ کیونکہ وہ پل صراط پر تمہارے لیے سواریاں بنیں گی۔
دارالعلوم دیوبند نے بھی ایک استفتاء کا جواب دیتے ہوئے اس روایت کو پیش کیا ہے۔
سوال: بعض لوگ قربانی کے لیے جانور ایک ماہ پہلے خرید تے ہیں اس نیت سے بعد میں جانور کی قیمت زیادہ ہو جاتی ہے تو ان کی قربانی میں فرق تو نہیں آجاتا؟
جواب:
اس سے قربانی میں کوئی فرق نہیں آتا، یہ تو پسندیدہ چیز ہے، پہلے خریدنا اور اسے کھلاپلاکر فربہ بنانا تو مستحب ہے، سمنوا ضحایاکم فإنہا علی الصراط مطایاکم․ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی قربانی کے جانوروں کو موٹا بنانا کیونکہ وہ پل صراط پر تمہارے لیے سواریاں بنیں گی، یہ صورت بہت پہلے ہی خریدنے میں حاصل ہوگی۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 42399
ملا على قارى حنفى نے اپنی مشہور شرح "مرقاة المصابيح"میں فضائل قربانی کے تحت اس روایت کو ذکر کیا ہے۔ (مرقاۃ ج2 ص 286)
مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی اپنی کتاب " حیاۃ المسلمین" میں روح ہشدہم کے تحت اس روایت کو ذکر کیا ہے۔
چنانچہ لکھتے ہیں: حضرت ابو ہریرەؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی قربانیوں کو خوب قوی کیا کرو(یعنی کھلا پلا کر) کیونکہ پل صراط پر وہ تمہاری سواریاں ہوں گی۔ (کزالعمال عن ابی ہریرەؓ)
(حیاۃ المسلمین، روح ہشدہم ص 124)
لیکن یہ روایت جمہور محدثین کے نزدیک انتہائی ضعیف، منکر، غیر معروف اور غیر ثابت ہے۔
اس حدیث کے متعلق امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "اس کی تخریج صاحب مسند الفردوس نے یحییٰ بن عبیداللہ بن موہب کے طریق سے کی ہے اور یحییٰ بہت زیادہ ضعیف ہے"
(تلخیص الحدیث: ج نمبر 4 ص 138)
علامہ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "اس کو دیلمی نے ابن المبارک میں یحییٰ بن عبیداللہ عن ابیہ عن ابی ہریرۃ مرفوعا مسندا روایت کیا ہے اور یحییٰ بہت زیادہ ضعیف ہے۔
(مقاصد الحسنہ للسخاوی ص 58)
علامہ شیبانی اثری رحمہ اللہ فرماتے ہیں "مختلف الفاظ کے ساتھ متعدد طرق سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے۔ حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ کا قول ہے: "یہ حدیث غیر معروف ہے اور ہمارے علم کے مطابق اس بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔"
(تمییز الطیب من الخیث الشیبانی ص 27-28)
علامہ عجلونی جراحی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں "دیلمی رحمہ اللہ نے اس کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ ضعیف سند کے ساتھ مرفوعا روایت کیا ہے"۔
(کشف الخفاء و مزیل الالباس للعجلونی رحمہ اللہ ج نمبر 1 ص 133)
علامہ محمد درویش حوت البیروتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "یہ حدیث غیر ثابت ہے جیسا کہ ابن الصلاح رحمہ اللہ وغیرہ نے بیان کیا ہے۔
اسی طرح "انها مطاياكم في الجنه" والی حدیث بھی غیر ثابت ہے اور فضیلتِ اضحیہ کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔ "
(اسنى المطالب في احاديث مختلفة المراتب للحوت بیروتی ص 55)
علامہ سمہودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں "ابن الصلاح رحمہ اللہ نے اس کو بے اصل بتایا ہے"۔ بعض دوسرے محققین فرماتے ہیں ضحایا (کی فضیلت) کے متعلق کوئی صحیح روایت وارد نہیں ہے۔ "
(الغماز علی اللماز للسمہودی ص 41)
اس روایت کی سند میں
یحییٰ بن عبیداللہ بن عبداللہ بن موہب المدنی التیمی ہےجو بقول امام نسائی رحمہ اللہ و دارقطنی رحمہ اللہ ضعیف ہے۔
ابن حبان فرماتے ہیں "اپنے والد سے بے اصل چیزوں کی روایت کرتا ہے اس کا باپ ثقہ ہے لیکن یہ ساقط الاحتجاج ہے"۔
شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "میں نے اس کی احادیث کو ترک کر دیا ہے"۔
ابن معین رحمہ اللہ کا قول ہے "کچھ بھی نہیں ہے"۔
ابن مثنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: "اس سے یحییٰ القطان رحمہ اللہ نے روایت کی تھی پھر اسے ترک کر دیا تھا"۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں "اس کی احادیث مناکیر ہوتی ہیں: " ایک مرتبہ آں رحمہ اللہ نے فرمایا "ثقہ نہیں ہے"۔
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "طبقہ ششم کا متروک راوی ہے"۔
امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کو فاحش بتایا ہے اور حدیث گھڑنے کے لئے مہتم قرار دیا ہے.
ابو حاتم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ "بہت زیادہ ضعیف الحدیث و منکر الحدیث ہے"۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی اسے "متروک الحدیث" قرار دیا ہے۔
ان محدثین عظام کی تحقیق و تحکیم کے مقابلے میں دارالعلوم دیوبند جیسے تقلیدی ادارے کے فتوے اور مولانا اشرف علی تھانوی جیسے صوفی عالم کی بات کو کسی اعتبار کے کھاتے میں رکھنے بجائے یکسر ناقابل اعتبار اور مردود سمجھا جائے گا۔
جبکہ دارالعلوم دیوبند نے بھی اپنے ایک فتوے میں اس طرح کی انتہائی ضعیف اور موضوع روایتوں کو پیش کرنے سے منع کیا ہے۔
چنانچہ اپنے فتوے میں رقمطراز ہے:
"جہاں تک ان حدیثوں(انتہائی ضعیف حدیثوں) کو بیان کرنے کی بات ہے تو اس سلسلے میں یہ وضاحت کی جائے کہ بیان کرنے والا کیسا شخص ہے؟ عالم دین یا عامی؟ کس طرح کے مجمع میں بیان کرے گا؟ بہرحال محدثین نے صراحت کی ہے کہ جو حدیثیں بہت زیادہ ضعیف ہوں یا قابل اعتماد ناقدین نے موضوعات میں شمار کیا ہو انھیں بیان نہ کرنا چاہیے الا یہ کہ کبھی درس یا کسی مقام میں ان حدیثوں کے ضعیف یا وضع کو بیان کرنے کی ضرورت ہو تو ضعف اور وضع کی صراحت کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے۔ "
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
فتوی نمبر: 43595
واضح ہو کہ یہ روایت (استفرهوا ضحاياكم فانها مطاياكم على الصراط) کے علاوہ "عظموا ضحاياكم فانها مطاياكم على الصراط" اور "سمنوا ضحاياكم فانها مطاياكم على الصراط" کے الفاظ کے ساتھ بھی بیان کی جاتی ہے۔ لیکن ان الفاظ کے ساتھ بھی یہ روایت بالکل بے اصل اور بے سندہے۔
اور بے سند روایت کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کرنا آپ پر بہتان باندھنے کے مترادف ہے جس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا:
جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔
(صحیح بخاری: 109)
یہ جاننا چاہیے پل صراط پر کسی جانور کے سواری بننے کے متعلق کوئی بھی صحیح روایت موجود نہیں ہے۔
پل صراط کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"پھر انہیں پل پر لایا جائے گا ۔ ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پل کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا , وہ ایک پھسلواں گرنے کا مقام ہے اس پر سنسنیاں ہیں ، آنکڑے ہیں ، چوڑے چوڑے کانٹے ہیں ، ان کے سر خمدار سعدان کے کانٹوں کی طرح ہیں جو نجد کے ملک میں ہوتے ہیں ۔ مومن اس پر پلک مارنے کی طرح ، بجلی کی طرح ، ہوا کی طرح ، تیز رفتار گھوڑے اور سواری کی طرح گزر جائیں گے ۔ ان میں بعض تو صحیح سلامت نجات پانے والے ہوں گے اور بعض جہنم کی آگ سے جھلس کر بچ نکلنے والے ہوں گے یہاں تک کہ آخری شخص اس پر سے گھسٹتے ہوئے گزرے گا. "
(صحيح البخاري: 7439)
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!
No comments:
Post a Comment