السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
غزوہ احد میں حضرت حمزہ کا کلیجہ چباۓ جانے کا واقعہ!! پارٹ 2
مولا اقبال قاسمی سلفی
اس سے پہلے کے پوسٹ میں ہم نے بتایا تھا کہ اس واقعے کے متعلق صحیح احادیث میں حضرت ہند بنت عتبہ کے ذریعہ حضرت حمزہ کا کلیجہ چبانے ذکر کہیں موجود نہیں ہے۔
آئیے اب ان روایتوں کا جائزہ لیتے جن میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ بیان ہوا ہے۔
یہ روایتیں مسند اور مرسل دونوں طرح نقل ہوئی ہیں۔
یعنی اس واقعے کی بعض سندیں براہ راست صحابی رسول تک پہنچتی ہیں اور بعض تابعی پر موقوف ہے۔
ابن سعد، ابن ابی شیبہ اور امام احمد بن حنبل نے من طريق حماد بن سلمة، عن عطاء بن السائب، عن الشعبي، عن ابن مسعود اسے مسند بیان کیا ہے۔ چنانچہ مسند احمد میں ہے:
(۱۰۷۳۱)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النِّسَائَ کُنَّ یَوْمَ أُحُدٍ خَلْفَ الْمُسْلِمِینَ یُجْہِزْنَ عَلٰی جَرْحٰی الْمُشْرِکِینَ، فَلَوْ حَلَفْتُ یَوْمَئِذٍ رَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنَّا یُرِیدُ الدُّنْیَا، حَتَّی أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الْآخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ} فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَعَصَوْا مَا أُمِرُوا بِہِ، أُفْرِدَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی تِسْعَۃٍ سَبْعَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ وَہُوَ عَاشِرُہُمْ، فَلَمَّا رَہِقُوہُ، قَالَ: ((رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلًا رَدَّہُمْ عَنَّا۔)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ سَاعَۃً حَتّٰی قُتِلَ، فَلَمَّا رَہِقُوہُ أَیْضًا قَالَ: ((یَرْحَمُ اللّٰہُ رَجُلًا رَدَّہُمْ عَنَّا۔)) فَلَمْ یَزَلْیَقُولُ ذَا حَتّٰی قُتِلَ السَّبْعَۃُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لِصَاحِبَیْہِ: ((مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا۔)) فَجَائَ أَبُو سُفْیَانَ فَقَالَ: اعْلُ ہُبَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((قُولُوا: اَللَّہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ۔)) فَقَالُوا: اللّٰہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ: لَنَا عُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((قُولُوا: اللّٰہُ مَوْلَانَا وَالْکَافِرُونَ لَا مَوْلٰی لَہُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ، یَوْمٌ لَنَا وَیَوْمٌ عَلَیْنَا، وَیَوْمٌ نُسَائُ وَیَوْمٌ نُسَرُّ، حَنْظَلَۃُ بِحَنْظَلَۃَ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((لَا سَوَائً أَمَّا قَتْلَانَا فَأَحْیَائٌیُرْزَقُونَ، وَقَتْلَاکُمْ فِی النَّارِ یُعَذَّبُونَ۔)) قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: قَدْ کَانَتْ فِی الْقَوْمِ مُثْلَۃٌ، وَإِنْ کَانَتْ لَعَنْ غَیْرِ مَلَإٍ مِنَّا مَا أَمَرْتُ وَلَا نَہَیْتُ وَلَا أَحْبَبْتُ وَلَا کَرِہْتُ وَلَا سَائَ نِیْ وَلَا سَرَّنِی، قَالَ: فَنَظَرُوا فَإِذَا حَمْزَۃُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُہُ وَأَخَذَتْ ہِنْدُ کَبِدَہُ فَلَاکَتْہَا فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْکُلَہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((أَأَکَلَتْ مِنْہُ شَیْئًا؟)) قَالُوا: لَا، قَالَ: ((مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُدْخِلَ شَیْئًا مِنْ حَمْزَۃَ النَّارَ۔)) فَوَضَعَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ، وَجِیئَ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَوُضِعَ إِلَی جَنْبِہِ،فَصَلَّی عَلَیْہِ، فَرُفِعَ الْأَنْصَارِیُّ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ، ثُمَّ جِیء َ بِآخَرَ فَوَضَعَہُ إِلَی جَنْبِ حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ، ثُمَّ رُفِعَ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ، حَتَّی صَلَّی عَلَیْہِیَوْمَئِذٍ سَبْعِینَ صَلَاۃ۔ (مسند احمد: ۴۴۱۴)
ترجمہ:سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ احد کے دن خواتین مسلمانوں کے پیچھے تھیں اور وہ مشرکین کے زخمی لوگوں کی مرہم پٹی اور خدمت کر رہی تھیں، میں اس روز قسم اُٹھا کر کہہ سکتا تھا کہ ہم میں سے ایک بھی آدمی دنیا کا خواہش مند اور طالب نہ تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الْآخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ}… اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے، تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ جب بعض صحابہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم عدولی کے مرتکب ہوئے اور حالات نے رخ بدلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات انصار اور دو قریشیوں کے ایک گروپ میں علیحدہ ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں دسویں فرد تھے، جب کفار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر چڑھ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی پر اللہ کی رحمت ہو جو ان حملہ آوروں کو ہم سے ہٹائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برابر یہ بات کہتے رہے تاآنکہ ان میں سے سات آدمی شہید ہو گئے اور صرف دو آدمی باقی بچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ان دونوں ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ان ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا (یعنی قریشیوں نے انصاریوں سے انصاف نہیں کیا کہ انصاری ہییکے بعد دیگرے نکل نکل کر شہید ہوتے گئے یا ہمارے جو لوگ میدان سے راہِ فرار اختیار کر گئے ہیں انہوں نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا)۔ ابو سفیان نے آکر کہا: اے ہبل! تو سربلند ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے جواب میں تم یوں کہو اَللّٰہُ أَعْلَی وَأَجَلُّ (اللہ ہی بلند شان والا اور بزرگی والا ہے۔) صحابہ نے بلند آواز سے کہا: اَللّٰہُ أَعْلَی وَأَجَلّ۔ُپھر ابو سفیان نے کہا: ہمارا تو ایک عزی ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہو اللہ ہمارا مدد گار ہے اور کافروں کا کوئی بھی مدد گار نہیں ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے، آج ہمیں فتح ہوئی ہے، اس روز ہمیں شکست ہوئی تھی، ایک دن ہمیں برا لگا اور ایک دن ہمیں اچھا لگا، حنظلہ کے مقابلے میں حنظلہ، فلاں کے فلان مقابلے میں اور فلاں بالمقابل فلاں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے تمہارے درمیان کوئی برابری نہیں، ہمارے مقتولین زندہ ہیں، انہیں اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں، انہیں عذاب سے دو چار کیا جاتا ہے۔ ابو سفیان نے کہا: تمہارے یعنی مسلمانوں کے مقتولین کا مثلہ کیا گیا ہے ،یہ کام ہماری رائے یا مشاورت کے بغیر ہوا ہے، میں نے نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے روکا۔ اور میں نے اسے پسند یا نا پسند بھی نہیں کیا، مجھے اس کا نہ غم ہوا ہے اور نہ خوشی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے جب شہدائے کرام کو دیکھاتو سیّد نا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چاک کیا گیا تھا، ابو سفیان کی بیوی ہند نے ان کا جگر نکال کر اسے چبایا، مگر وہ اسے کھا نہ سکی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس نے اس میں سے کچھ کھایا تھا؟ صحابہ نے عرض کیا: جی نہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ حمزہ کے جسم کے کسی بھی حصہ یا اس کے جزء کو جہنم میں داخل کرنے والا نہیں ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو سامنے رکھ کر ان کی نماز جنازہ ادا کی، بعد ازاں ایک انصاری رضی اللہ عنہ کی میت کو لایا گیا، اسے سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھ کر اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی، انصاری کی میت کو اُٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو وہیں رہنے دیا گیا، پھر ایک اور شہید کو لایا گیا، اسے بھی سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھ کر اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی، پھر اسے اُٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو وہیں رہنے دیا گیا،یہاں تک کہ اس روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ستر بار ادا فرمائی۔
(Musnad Ahmad:10731)
علامہ ابن کثیر اس کی سند کے متعلق فرماتے ہیں:" تفرد به أحمد وهذا إسناد فيه ضعف أيضا من جهة عطاء بن السائب. فالله أعلم. والذي رواه البخاري أثبت۔
اس روایت کو بیان کرنے میں امام احمد منفرد ہیں
یہ سند عطاء بن سائب کی وجہ سے بھی ضعیف ہے، اور امام بخاری کی روایت ہی اثبت ہے۔
(البدایہ والنہایہ ج4 ص 46)
عطاء بن سائب مختط راوی ہیں، اسی وجہ سے علامہ ہیثمی اس سند کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سند میں عطاء بن سائب ہیں اور وہ مختلط ہیں۔
ابن حجر العسقلاني عطاء بن سائب کے بارے میں میں فرماتے ہیں:
صدوق اختلط بأخرة، وقال مرة: صدوق اختلط، ومرة: من مشاهير الرواة الثقات إلا أنه اختلط فضعفوه بسبب ذلك وتحصل لي من مجموع كلام الأئمة أن رواية شعبة وسفيان الثوري وزهير بن معاوية وزائدة وأيوب وحماد بن زيد عنه قبل الاختلاط وأن جميع من روى عنه غير هؤلاء فحديثه ض۔
اور عطا بن سائب سے روایت کرنے والے حماد بن سلمہ ہیں، جن کا سماع عطاء بن سائب سے مختلف فیہ ہے، انہوں نے اپنے استاد عطاء بن سائب سے قبل الاختلاط سنا ہے یا بعد الاختلاط، یہ مختلف فیہ ہے۔ بعض نے سماعت قبل الاختلاط کو تسلیم کیا ہے اور بعض نے بعد الاختلاط کو۔ حافظ ابن حجر دونوں حال میں سننے کو تر جیح دیا یے، قبل الاختلاط بھی اور بعد الاختلاط بھی۔
اور اگر حماد بن سلمہ کا سماع عطاء بن سائب سے قبل الاختلاط تسلیم بھی کرلیں تب بھی عطاء بن سائب کے استاد عامر الشعبی کا سماع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے:
قال الحاكم:"لم يسمع عبد الله بن مسعود ، إنما رآه رؤية".(سؤالات مسعود بن علي السجزي.149).قال الهيثمي:"الشعبي لم يسمع من ابن مسعود".(مجمع الزوائد.298/5). قال الداراقطني:"لم يسمع من ابن مسعود و إنما رآه رؤية".(رواة التهذيب.3092).
.
لہذا یہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
دوسری وجہ ضعف اس روایت کا شاذ ہونا ہے۔
اس روایت میں کئی ایسی باتیں ہیں جو دوسری صحیح روایات میں نہیں ہے جیسے:
1)صحیح بخاری ودیگر کتب ِصحاح میں مسلمان عورتوں کے مشرکین زخمیوں پرحملہ آور ہونے کا ذکرنہیں ہے جبکہ یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ مسلمان عورتیں زخمی مشرکوں پرحملہ آور ہو رہی تھیں ۔
2) صحیح احادیث میں : یوم لنا ویوم علینا، ویوم نُسَاء ویوم نُسَرُّ، حنظلة بحنظلة وفلان بفلان کا ذکر بھی نہیں ہے جبکہ اس روایت میں مسجع ومقفیٰ عبارت موجود ہے جو خود ساختہ معلوم ہوتی ہے۔
3)اس روایت میں ذکر ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کے جواب میں خود فرمایا: لا سواء أما قتلانا فأحیاء یُرزقون وقتلاکم في النار یُعذَّبون جبکہ صحیح حدیث میں منقول ہے کہ حضرت عمربن خطابؓ نے اس مفہوم کا جواب دیا تھا۔
4)اس روایت میں اس بات کا ذکر ہے کہ ابوسفیان نے پہلےأعلُ ھُبل کانعرہ لگایا تھا جبکہ صحیح احادیث میں ہے کہ اس نے دامنِ اُحد میں کھڑا ہوکر پوچھا تھا کہ تم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے؟ کیا تم میں ابن ابی قحافہ ہے؟ کیا تم میں ابن خطاب ہے، پھر اس کے بعد اس نے أعلُ ھبل کہا تھا۔
5) اس روایت میں ہے کہ حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداے اُحد کی فرداً فرداً نمازِ جنازہ پڑھی اور حضرت حمزہؓ کی ستر مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھی جبکہ صحیح احادیث میں ہے کہ آپؐ نے شہداے اُحد کو نہ توغسل دیا تھااور نہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی بلکہ اُنہیں خود شہادت سمیت دفن کردیا تھا۔ علاوہ ازیں اس میں کئی ایسی باتیں اوربھی ہیں جو اس روایت کے شاذ ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔
6) اس روایت کامتن بھی منکر ہے اور وہ اس طرح کہ اس روایت میں ذکر ہے کہ آپ نے پوچھا: (أ أکلت منھا شیئا؟) قالوا: لا، (قال ما کان اﷲ لیدخل شیئًا من حمزة النار) اس روایت کامدعا ہے کہ ہندبن عتبہ اسلام قبول نہیں کرے گی اور جہنم میں داخل ہوگی کیونکہ اللہ نے حمزہؓ بن عبدالمطلب کے بدن کے کسی جز کو ایسے بدن میں داخل نہیں ہونے دیا جو آگ میں جلنا ہے۔ جبکہ صحیح بخاری جیسی کتب ِصحاح میں صحیح الاسناد روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندؓ نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا اور ساری زندگی اسلام و ایمان پرقائم رہیں۔
بلکہ ایمان لانے کے بعد محبت رسول کا اظہار ان الفاظ میں کرتی ہیں: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ أَهْلِ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ ، أَنْ يَعِزُّوا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، قَالَ : وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِ۔ ترجمہ:
یا رسول اللہ! روئے زمین پر کسی گھرانے کی ذلت آپ کے گھرانے کی ذلت سی زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپ کے گھرانے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس میں ابھی اور ترقی ہو گی۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔
(Sahi bukhari:3825)
اگرچہ اس روایت کو شیخ احمد شاکر اور دوسرے بعض محققین مسند احمد نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے لیکن وہ من حیث المجموع ہے۔ اور مجموعی حیثیت سے کسی حدیث کو صحیح قرآن دینا اس بات کو مستلزم نہیں ہوتا کہ اس حدیث کا ہر ہر جز صحیح یے۔
اس سے پہلے ہم نے یہ دیکھا تھا کہ غزوہ احد میں حضرت ہند بنت عتبہ کا حضرت حمزہ کا جگر چبانے کے متعلق جو مسند روایات آئی ہیں وہ منقطع، شاذ اور منکر المتن ہیں۔
اب ہم ان روایات کو دیکھیں گے جو اس واقعے کے متعلق مرسل وارد ہوئی ہیں۔
امامِ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں، ابن اسحاق نے "السیرۃ" میں، علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اور واقدی نے مغازی میں اس روایت کو مرسلاً بیان کیا ہے۔
چنانچہ امام بیہقی نے
من طريق ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عروة بن الزبير اسے روایت کیا ہے:
1)قال البيهقي:
أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، قال: أخبرنا أبو جعفر البغدادي، قال: حدثنا محمد بن عمرو بن خالد، قال: حدثنا أبي قال: حدثنا ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عروة بن الزبير.. ووجدوا حمزة بن عبد المطلب عم رسول الله صلى الله عليه وسلم قد بقر بطنه، واحتملت كبده، حملها وحشي، وهو قتله وشق بطنه، فذهب بكبده إلى هند بنت عتبة في نذر نذرته حين قتل أباها يوم بدر..
(دلائل النبوة.3/282)
ترجمہ: عروہ ابن زبیر کہتے ہیں کہ:لوگوں نے حضرت حمزہ کو اس حال میں پایا تھا کہ ان کا پیٹ چیر کر کلیجہ نکال لیا گیا تھا، وحشی اسے لئے ہواتھا، اسی نے قتل کیا تھا اور ہیٹ بھی اسی نے چاک کئے تھے، وہ حضرت حمزہ کے کلیجے کو لے کر ہند بنت عتبہ کے پاس گیا اس نذر کو پوری کرنے کے لئے جو ہند بنت عتبہ نے اس دن مانی تھی جب اس کا باپ بدر کے دن مارا گیا تھا۔
اس روایت میں ابن لہیعہ راوی یے جو ضعیف ہیں کیونکہ کتابیں جلنے کے بعد یہ کثیر اختلاط کے شکار ہو گئے تھے۔ نیز عروہ بن زبیر تابعی ہیں جو براہ راست اس واقعے کو بیان کر رہےہیں جبکہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔لہذا یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے بھی ضعیف ہے۔
2) ابن اسحاق کی ذکر کردہ روایت:
ابن اسحاق نےاسے "السیرۃ" میں بیان کیا ہے۔
روایت : أخبرنا عبد الله بن الحسن الحراني قال: نا النفيلي قال: نا محمد بن سلمة عن محمد بن اسحق قال: قد وقفت هند بنت عتبة كما حدثني صالح بن كيسان والنسوة الآتون معها يمثلن بالقتلى من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يجدعن الآذان والآناف حتى اتخذت هند من آذان الرجال وأنافهم خذماً وقلائداً، وأعطت خذمها وقلائدها وقرطيها وحشياً غلام جبير بن مطعم، وبقرت عن كبد حمزة فلاكتها فلم تستطيع أن تسيغها، ثم علت على صخرة مشرفة فصرخت بأعلى صوتها وقالت، من الشعر حين ظفروا بما أصابوا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم:نحن جزيناكم بيوم بدرفأجابتها هند بنت أثاثة بن عباد بن المطلب بن عبد مناف فقالت:والحرب بعد الحرب ذات سعر ما كان لي عن عتبة من صبر ولا أخي وعمه وبكر شفيت نفسي وقضيت نذري شفيت وحشي غليل صدري فشكر وحشي علي عمري حتى ترم أعظمي في قبري
(سيرة ابن إسحاق :كتاب السير والمغازي)
ابن اسحاق سے مروی ہے کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھ شریک خواتین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہدا ساتھیوں کا مثلہ کرنے لگیں ، وہ ان کے ناک اور کان کاٹ رہی تھیں، یہاںتک کہ ہند رضی اللہ عنہا نے جو اپنے ہار ، پازیب اور بالیاں وغیرہ وحشی کو دے چکی تھیں ، ان شہدا کے کٹے ہوئے ناکوں اور کانوں کے پازیب بنائے ہوئی تھیں اور انہوں نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہا کا کلیجہ چیر کر نکالا اور چبانے لگیں، لیکن اسے بآسانی حلق میں اتار نہ سکیں تو تھوک دیا ۔ پھر ایک اونچی چٹان پر چڑھ گئیں اور بلند آواز سے چیختے ہوئے کہا :
'' ہم نے تمہیں یومِ بدر کا بدلہ دے دیا ، جنگ کے بعد جنگ جنون والی ہوتی ہے ، عتبہ کے معاملے میں مجھ میں صبر کی سکت نہ تھی ، اور نہ ہی اپنے بھائی اور اس کے چچا ابوبکر پر میں نے اپنی جان کو شفا دی اور انتقام کو پور کیا ، وحشی تو نے میرے غصہ کی آگ بجھا دی ، پس وحشی کا مجھ پر عمربھراحسان رہے گا ، یہاںتک کہ قبر میں میری ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں'
(سیرۃ ابن اسحاق ج3 ص36)
یہ روایت ابن اسحاق کی ہے اور ابن اسحاق خود ہی ضعیف ہے۔یحییٰ بن سعيد القطان ابن اسحاق کے بارے میں فرماتے ہیں :
"كذاب، ومرة: تركته متعمدا ولم أكتب عنه حديثا قط، ومرة: جرحه۔"
نیز صالح بن کیسان گرچہ ثقہ ہیں لیکن تابعی ہیں، انہوں نے اس واقعے کو پایا ہی نہیں ہے لہذا یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے بھی ضعیف ہے۔
3) علامہ ابن کثیر نے اس واقعے کو بلا سند موسی بن عقبہ تابعی کے حوالے سے بیان ہے۔ لکھتے ہیں:
وذكر موسى بن عقبة: أن الذي بقر عن كبد حمزة وحشي فحملها إلى هند فلاكتها فلم تستطع أن تسيغها۔
ترجمہ:حضرت حمزہ کا جگر چاک کرنے والا وحشی تھا وہ اسے ہند بنت عتبہ کے پاس لے کر گیا اور وہ اسے چبانے لگی لیکن نگل نہ سکی۔
(البدایہ والنہایہ ج4 ص 43)
لیکن موسی بن عقبہ تابعی ہیں انہوں نے بھی رسول ﷺ کو نہیں پایا ہے اور نہ یہ اس غزوے میں شریک تھے۔ اور اس کی سند کا بھی کو پتہ نہیں ہے۔
اس کے علاوہ اس واقعے کو اردو سیرت نگاروں نے بھی خوب جگہ دی ہے ۔
صاحب الرحیق المختوم نے بھی اس واقعے کو سیرت ابن ہشام کے حوالےسے بیان کیا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے یہاں یہ جھوٹا واقعہ تعلیمی نصاب کی کتابوں میں بھی درج ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ ان تحقیقات سے واضح ہوگیا کہ اس واقعے کی ایک بھی سند صحیح نہیں ہے۔ یہ واقعہ بنوامیہ کے خلاف رافضیوں کی طرف سے پھیلایا گیا ایک جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔ جسے قصہ گو واعظین فتح مکہ کے پر اللہ کے رسول ﷺ کے حسن اخلاق کی مثال بیان کرتے ہوئے پیش کرتے ہیں۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
No comments:
Post a Comment