السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مولانا اقبال قاسمی سلفی
اس سے پہلے کے دو ہوسٹ میں ہم نے یہ دیکھا تھا کہ غزوہ احد میں حضرت ہند بنت عتبہ کا حضرت حمزہ کا جگر چبانے کے متعلق جو مسند روایات آئی ہیں وہ منقطع، شاذ اور منکر المتن ہیں۔
اب ہم ان روایات کو دیکھیں گے جو اس واقعے کے متعلق مرسل وارد ہوئی ہیں۔
امامِ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں، ابن اسحاق نے "السیرۃ" میں، علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اور واقدی نے مغازی میں اس روایت کو مرسلاً بیان کیا ہے۔
چنانچہ امام بیہقی نے
من طريق ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عروة بن الزبير اسے روایت کیا ہے:
1)قال البيهقي:
أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، قال: أخبرنا أبو جعفر البغدادي، قال: حدثنا محمد بن عمرو بن خالد، قال: حدثنا أبي قال: حدثنا ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عروة بن الزبير.. ووجدوا حمزة بن عبد المطلب عم رسول الله صلى الله عليه وسلم قد بقر بطنه، واحتملت كبده، حملها وحشي، وهو قتله وشق بطنه، فذهب بكبده إلى هند بنت عتبة في نذر نذرته حين قتل أباها يوم بدر..
(دلائل النبوة.3/282)
ترجمہ: عروہ ابن زبیر کہتے ہیں کہ:لوگوں نے حضرت حمزہ کو اس حال میں پایا تھا کہ ان کا پیٹ چیر کر کلیجہ نکال لیا گیا تھا، وحشی اسے لئے ہواتھا، اسی نے قتل کیا تھا اور ہیٹ بھی اسی نے چاک کئے تھے، وہ حضرت حمزہ کے کلیجے کو لے کر ہند بنت عتبہ کے پاس گیا اس نذر کو پوری کرنے کے لئے جو ہند بنت عتبہ نے اس دن مانی تھی جب اس کا باپ بدر کے دن مارا گیا تھا۔
اس روایت میں ابن لہیعہ راوی یے جو ضعیف ہیں کیونکہ کتابیں جلنے کے بعد یہ کثیر اختلاط کے شکار ہو گئے تھے۔ نیز عروہ بن زبیر تابعی ہیں جو براہ راست اس واقعے کو بیان کر رہےہیں جبکہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔لہذا یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے بھی ضعیف ہے۔
2) ابن اسحاق کی ذکر کردہ روایت:
ابن اسحاق نےاسے "السیرۃ" میں بیان کیا ہے۔
روایت : أخبرنا عبد الله بن الحسن الحراني قال: نا النفيلي قال: نا محمد بن سلمة عن محمد بن اسحق قال: قد وقفت هند بنت عتبة كما حدثني صالح بن كيسان والنسوة الآتون معها يمثلن بالقتلى من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يجدعن الآذان والآناف حتى اتخذت هند من آذان الرجال وأنافهم خذماً وقلائداً، وأعطت خذمها وقلائدها وقرطيها وحشياً غلام جبير بن مطعم، وبقرت عن كبد حمزة فلاكتها فلم تستطيع أن تسيغها، ثم علت على صخرة مشرفة فصرخت بأعلى صوتها وقالت، من الشعر حين ظفروا بما أصابوا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم:نحن جزيناكم بيوم بدرفأجابتها هند بنت أثاثة بن عباد بن المطلب بن عبد مناف فقالت:والحرب بعد الحرب ذات سعر ما كان لي عن عتبة من صبر ولا أخي وعمه وبكر شفيت نفسي وقضيت نذري شفيت وحشي غليل صدري فشكر وحشي علي عمري حتى ترم أعظمي في قبري
(سيرة ابن إسحاق :كتاب السير والمغازي)
ابن اسحاق سے مروی ہے کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھ شریک خواتین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہدا ساتھیوں کا مثلہ کرنے لگیں ، وہ ان کے ناک اور کان کاٹ رہی تھیں، یہاںتک کہ ہند رضی اللہ عنہا نے جو اپنے ہار ، پازیب اور بالیاں وغیرہ وحشی کو دے چکی تھیں ، ان شہدا کے کٹے ہوئے ناکوں اور کانوں کے پازیب بنائے ہوئی تھیں اور انہوں نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہا کا کلیجہ چیر کر نکالا اور چبانے لگیں، لیکن اسے بآسانی حلق میں اتار نہ سکیں تو تھوک دیا ۔ پھر ایک اونچی چٹان پر چڑھ گئیں اور بلند آواز سے چیختے ہوئے کہا :
'' ہم نے تمہیں یومِ بدر کا بدلہ دے دیا ، جنگ کے بعد جنگ جنون والی ہوتی ہے ، عتبہ کے معاملے میں مجھ میں صبر کی سکت نہ تھی ، اور نہ ہی اپنے بھائی اور اس کے چچا ابوبکر پر میں نے اپنی جان کو شفا دی اور انتقام کو پور کیا ، وحشی تو نے میرے غصہ کی آگ بجھا دی ، پس وحشی کا مجھ پر عمربھراحسان رہے گا ، یہاںتک کہ قبر میں میری ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں'
(سیرۃ ابن اسحاق ج3 ص36)
یہ روایت ابن اسحاق کی ہے اور ابن اسحاق خود ہی ضعیف ہے۔یحییٰ بن سعيد القطان ابن اسحاق کے بارے میں فرماتے ہیں :
"كذاب، ومرة: تركته متعمدا ولم أكتب عنه حديثا قط، ومرة: جرحه۔"
نیز صالح بن کیسان گرچہ ثقہ ہیں لیکن تابعی ہیں، انہوں نے اس واقعے کو پایا ہی نہیں ہے لہذا یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے بھی ضعیف ہے۔
3) علامہ ابن کثیر نے اس واقعے کو بلا سند موسی بن عقبہ تابعی کے حوالے سے بیان ہے۔ لکھتے ہیں:
وذكر موسى بن عقبة: أن الذي بقر عن كبد حمزة وحشي فحملها إلى هند فلاكتها فلم تستطع أن تسيغها۔
ترجمہ:حضرت حمزہ کا جگر چاک کرنے والا وحشی تھا وہ اسے ہند بنت عتبہ کے پاس لے کر گیا اور وہ اسے چبانے لگی لیکن نگل نہ سکی۔
(البدایہ والنہایہ ج4 ص 43)
لیکن موسی بن عقبہ تابعی ہیں انہوں نے بھی رسول ﷺ کو نہیں پایا ہے اور نہ یہ اس غزوے میں شریک تھے۔ اور اس کی سند کا بھی کو پتہ نہیں ہے۔
اس کے علاوہ اس واقعے کو اردو سیرت نگاروں نے بھی خوب جگہ دی ہے ۔
صاحب الرحیق المختوم نے بھی اس واقعے کو سیرت ابن ہشام کے حوالےسے بیان کیا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے یہاں یہ جھوٹا واقعہ تعلیمی نصاب کی کتابوں میں بھی درج ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ ان تحقیقات سے واضح ہوگیا کہ اس واقعے کی ایک بھی سند صحیح نہیں ہے۔ یہ واقعہ بنوامیہ کے خلاف رافضیوں کی طرف سے پھیلایا گیا ایک جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔ جسے قصہ گو واعظین فتح مکہ کے پر اللہ کے رسول ﷺ کے حسن اخلاق کی مثال بیان کرتے ہوئے پیش کرتے ہیں۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
No comments:
Post a Comment