السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محمد اقبال قاسمي سلفي
کیا امت کا اختلاف رحمت ہے؟
تم جو سنتے ہو بہت شوق سے اپنی تعریف
تم کو آئینہ دکھاؤں گا تو ڈر جاؤ گے!
"اختلاف امتي رحمة " ترجمہ: میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔
بے سند، موضوع اور من گھڑت قصے کہانیوں پر عمل کرنے والےحنفی علماء، خطباء اور مفتیان دین و شرع متین کی زبانی منبر و محراب اور اجلاس عام کے پرشکوہ اسٹیجوں سے اس روایت کو پیش ہوتے ہوئے بارہا آپ نے سنا ہوگا۔
لیکن یہ بالکل جھوٹی ، بے سند، موضوع اور من گھڑت روایت ہے، صحیح تو کیا، کوئی ضعیف سند بھی کتب حدیث میں اس کی موجود نہیں ہے۔ محدثین کرام کو تلاش بسیار کے باوجود اس کی کوئی سند نہیں ملی۔
علامہ مناوی نے امام سبکی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے : و ليس بمعروف عند المحدثين , و لم أقف له على سند صحيح و لا ضعيف و لا موضوع . و أقره الشيخ زكريا الأنصاري في تعليقه على " تفسير البيضاوي ".
علامہ سبکی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث محدثین کے ہاں معروف نہیں ہے اور مجھے اس کی صحیح ، ضعیف اور موضوع سند پر بھی آگاہی حاصل نہیں ہو سکی ہے ، چانچہ شیخ زکریا انصاری نے "تفسیر بیضاوی" کے حواشی میں اس بات کا اعتراف کیا ہے
(بحوالہ السلسلة الضعيفة والموضوعة و اثرها السئ في الامة للالباني)
ملا علی قاری حنفی ا"لاسرار المرفوعة " میں اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں:
قيل لا أصل له أو بأصله موضوع .
اس کی کوئی اصل نہیں ہے یا اصلا یہ موضوع ہے۔
علامہ الوداعی "الفتاوى الحديثيه " میں فرماتے ہیں:
"لا يوجد له سند ولا يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم".
اس کی نہ کوئی سند پائی جاتی ہے اور نہ یہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے۔
علامہ شوکانی فتح الربانی میں لکھتے ہیں:
"لا أصل له كما قال المحدثون ".
اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے جیسا کہ محدثین نے فرمایا ہے۔
(الفتح الرباني:2156)
علامہ البانی " السلسلة الضعيفة والموضوعة و اثرها السيء في الامة" میں فرماتے ہیں:
"لا اصل له".
اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
(السلسلة الضعيفة: 57)
صفة الصلاة میں علامہ البانی نے اس حدیث کو باطل جبکہ ضعيف الجامع میں موضوع قرار دیا ہے۔
امام عجلونی نے " كشف الخفاء " میں امام سیوطی کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام سیوطی نے کہا : "اسے نصر مقدسی نے "الحجه " میں اور امام بیہقی نے "الرسالة الاشعرية " میں بغیر کسی سند کے ذکر کیا ہے۔ "
(كشف الخفاء للعجلوني )
مذکورہ بالا تفصیلات سے یہ بخوبی معلوم ہوا کہ جملہ محدثین کرام نے اس روایت کو بے سند اور موضوع قرار دیا ہے، محدثین کو تلاش بسیار کے باوجود اس کی سند نہیں مل سکی، صحیح تو کیا کوئی ضعیف سند بھی ذخیرہ حدیث میں اس کی موجود نہیں ہے۔
ایسی بے سند اور موضوع روایت کو پیش کرنا یا بیان کرنا نبی کریم ﷺ پر کذب اور جھوٹ کی تہمت لگانا ہے، ایسے لوگوں کو نبی ﷺ کا درج ذیل فرمان ضرور یاد رکھنا چاہئیے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ بولا وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنا لے ۔‘‘
(صحيح مسلم: 4)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے میرے ذمے وہ بات لگائی جو میں نے نہیں کہی ، اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا ( جہنم کی ) آگ میں بنا لے ۔‘‘
(سنن ابن ماجه:34)
یہ روایت اس لئے بھی باطل ہے کیونکہ یہ ان قرآنی آیات اور صحیح احادیث کے خلاف ہے جن میں اختلاف کی مذمت اور ممانعت وارد ہوئی ہیں۔
تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا انہی لوگوں کے لئے عذاب ہے۔ (سورہ آل عمران:105)
اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو، نہیں تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی
(سورہ انفال :46)
سورہ نساء آیت نمبر 59 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :
اے ایمان والوں! اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امر کی اطاعت کرو، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہو جاۓ تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دودو، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام بہت اچھا ہے۔
(سورة النساء: 59)
اس حدیث کے بطلان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس باطل روایت میں اختلاف کو رحمت قرار دیا گیا ہے، اور رحمت کے حصول کی کوشش اور طلب ہر انسان، جماعت اور گروہ کو کرنی چاہئیے اور ہمیں ہمہ وقت اللہ کی رحمت کا طلبگار رہنا چاہئیے۔
رحمت کی دعا مانگتے کی تعلیم تو خود رب العالمین ہمیں سکھائی ہے:
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔
اے ہمارے پروردگار! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد (گمراہی کے راستے پر) نہ پھیر، اور اپنے پاس سے ہم کو رحمت عطا فرما، بےشک تو ہی عطا والا ہے۔
(سورہ آل عمران: 8)
سورۃ الکہف میں اللہ رب العزت نے اپنی رحمت کو طلب کرنے کی تعلیم اس انداز میں دی ہے:
رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔
اے ہمارے پروردگار! اپنی طرف سے ہمیں خاص رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں آسانی فرما دیجیئے۔
اب جبکہ اختلاف رحمت ہے تو کیا ہمیں اختلاف کی دعا مانگنی چاہئیے اور اختلاف کے لئے کوشاں رہنا چاہئیے۔
العیاذ بالللہ!
سورہ ہود میں اللہ رب العزت نے اختلاف کرنے والوں کو اپنی رحمت سے خارج قرار دیتے ہوئے فرمایا :
وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ۔ لوگ برابر اختلاف کرتے رہیں گے مگر وہ لوگ جن پر تیرا پروردگار رحم فرماۓ۔
اس آیت کی تفسیر میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جن پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے وہ اختلاف نہیں کرتے۔
ان تفصیلات سے معلوم ہوا کہ " اختلاف امتي رحمة " (میری امت کا اختلاف رحمت ہے) کو تمام محدثین نے بےاصل اور موضوع قرار دیا ہے ، لیکن محدثین کے اس اجماعی فیصلے کے بر خلاف دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ملاحظہ کریں۔
چنانچہ اس روایت کی بابت جب دارالعلوم دیوبند سے پوچھا گیا:
سوال : علماء کے اختلاف یا امت کا اختلاف رحمت ہے: ایسی بات کسی حدیث شریف میں موجود ہے یا کسی عالم دین نے بعد کے زمانے میں کبھی سمجھانے کے لیے کہی ہے؟
جواب : حدیث: ”اختلاف أمتي رحمة“ بالکل بے اصل نہیں ہے؛ بلکہ کئی ایک محدثین نے اسے حدیث کے طور پر ذکر کیا ہے جیسے نصر مقدسی نے کتاب الحجة میں، خطابی نے غریب الحدیث میں اورامام بیہقی نے رسالة اشعریہ میں (تفصیل کے لیے جامع الأحادیث للسیوطی ۱:۱۲۴ حدیث نمبر: ۷۰۶ اور کشف الخفاء ۱:۶۴-۶۶ حدیث نمبر، ۱۵۳ وغیرہ دیکھیں)۔
دارالافتاء
دارالعلوم دیوبند
(فتویٰ نمبر : 57654)
1) دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں درج یہ بات کہ " حدیث: ”اختلاف أمتي رحمة“ بالکل بے اصل نہیں ہے "، نہ صرف جمہور محدثین کرام کے فیصلے کے خلاف ہے بلکہ خود ان کے اکابر حنفی علماء کی تصریحات کے بھی منافی ہے۔
2) دارالعلوم دیوبند کا اس روایت کے متعلق یہ فتویٰ دینا کہ : " کئی ایک محدثین نے اسے حدیث کے طور پر ذکر کیا ہے جیسے نصر مقدسی نے کتاب الحجة میں، خطابی نے غریب الحدیث میں اورامام بیہقی نے رسالة اشعریہ میں" ایک مغالطے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ یقیناً ان محدثین نے اس ذکر کیا ہے لیکن سند کے بغیر۔
اور کسی روایت کے محض ذکر کر دینے سے وہ روایت اصل کے درجے کو نہیں پہنچ جاتی جب تک اس کی سند نہ ذکر کی جاۓ۔
بے سند روایت محدثین کے یہاں بے اصل ہی ہوا کرتی ہے، کیونکہ کسی روایت کی اصل اور مدار اس کی سند ہوتی ہے۔
اب یہ کوئی جاکر مفتیان دارالعلوم دیوبند سے ہی معلوم کرے کہ ایسی روایت جس کی صحیح تو کیا، کوئی ضعیف اور موضوع سند بھی ذخیرہ احادیث میں موجود نہ ہو، متقدمین و متاخرین میں سے جملہ محدثین نے تلاش بسیار کے بعد لا اصل له (جس کی کوئی اصل نہیں ہے) کا متفقہ فتویٰ لگا دیا ہو ، تاہم وہ روایت " بالکل بے اصل نہیں ہے " کس اصول کی روشنی میں روا ہے۔
اس جوابی فتوے سے تو ایسا مترشح ہوتا ہے کہ ایک نہیں، اس روایت کی کئی کئی سندیں اس ادارے کے پاس موجود ہے، بس سائل نے سند کا مطالبہ ہی نہیں کیا ورنہ سندوں کا یہ ازھر ہند انبار لگا دیتا۔ افسوس!
دیانت داری کا تقاضا تھا کہ جہاں کئی محدثین کے حوالے سے اسے" بطور حدیث " کہا گیا وہاں ان ہی محدثین کے حوالے سے یہ بات بھی کہہ دی جاتی کہ ان محدثین نے اسے بغیر سند کے ہی ذکر کیا ہے، دیانت کا پاس بھی رہ جاتا اور سائل کا مقصد بھی تمام۔
اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!
اے اللہ! ہمارے سامنے حق کو ظاہر کردے اور اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما! اور باطل کو بھی واضح فرما دے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما!
No comments:
Post a Comment