Tuesday, May 9, 2023

کیا علماء کا اختلاف رحمت ہے؟؟ ‏

بسم الله الرحمن الرحيم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد اقبال قاسمي سلفي

کیا علماء کا اختلاف رحمت ہے؟؟ 

علماء کے درمیان اختلاف کو اکثر لوگ یہ کہہ کر ہضم کرجاتے ہیں کہ علماء کا اختلاف رحمت ہے اور آج تو دو عالموں کی ذاتی اور مفاد پرستی پر مبنی جھگڑوں کو بھی ، جو سراسر قوم وملت کے لئے زحمت ہوا کرتی ہے، اسے رحمت باور کرادیا جاتا ہے۔ 
اختلاف العلماء رحمۃ یعنی علماء کا اختلاف رحمت ہے،  

یہ جملہ نہ قرآن کی آیت ہے 
نہ حدیث رسول ہے. 
نہ کسی صحابی رسول کا قول ہے . 
صحیح تو کیا، ایسی کوئی ضعیف، موضوع اور من گھڑت روایت بھی ذخیرہ احادیث میں موجود نہیں ہے۔ 
یہ بالکل بے سند، بے اصل اور من گھڑت مفروضہ ہے جو ان قرآنی آیات اور صحیح احادیث کے بھی خلاف ہے جن میں اختلاف کی مذمت اور ممانعت وارد ہوئی ہیں۔ 

سورہ آل عمران میں ارشاد باری ہے :

تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا انہی لوگوں کے لئے عذاب ہے۔ (سورہ آل عمران:105)

سورہ انفال میں اللہ رب العزت یوں ارشاد فرماتا ہے:

اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو، نہیں تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی 
(سورہ انفال :46)

سورہ نساء آیت نمبر 59 میں اللہ رب العزت فرماتا ہے :

اے ایمان والوں! اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امر کی اطاعت کرو، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہو جاۓ تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دودو، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام بہت اچھا ہے۔
(سورة النساء: 59) 

سورہ الانعام میں اللہ رب العزت فرماتا ہے:
وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ.

اور یہ کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے تو تم اسی کی پیروی کرو اور مختلف راستوں کی پیروی سے بچو کہ وہ تمہیں اس کے راستے سے ہٹادیں گے، اسی بات کی اس نے تمہیں نصیحت کی ہے تاکہ تم ڈرو۔ 
(سورۃ الانعام :153) 

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے :

خطَّ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ خطًّا بيدِه ثم قال : هذا سبيلُ اللهِ مستقيمًا، وخطَّ خطوطًا عن يمينِه وشمالِه، ثم قال : هذه السبلُ ليس منها سبيلٌ إلا عليه شيطانٌ يدعو إليه، ثم قرأ : وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكم عَنْ سَبِيلِهِ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا یہ اللہ کا(بتایا ہوا) سیدھا راستہ ہے ، اس لکیر کے دائیں بائیں اور بھی لکیریں کھینچی اور فرمایا یہ مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر راستے پر شیطان ہے جو اپنے راستے کی دعوت دے رہا ہے پھر اس آیت کی تلاوت کی"وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكم عَنْ سَبِيلِهِ۔ 

اور یہ کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے تو تم اسی کی پیروی کرو اور مختلف راستوں کی پیروی سے بچو کہ وہ تمہیں اس کے راستے سے ہٹادیں گے۔ 

اس مفروضے کے بطلان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس مفروضے میں اختلاف کو رحمت قرار دیا گیا ہے، اور رحمت کے حصول کی کوشش اور طلب ہر انسان، جماعت اور گروہ کو کرنی چاہئیے اور ہمیں ہمہ وقت اللہ کی رحمت کا طلبگار رہنا چاہئیے۔

رحمت کی دعا مانگتے کی تعلیم تو خود رب العالمین نے ہمیں یوں سکھائی ہے:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔ 

اے ہمارے پروردگار! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد (گمراہی کے راستے پر) نہ پھیر، اور اپنے پاس سے ہم کو رحمت عطا فرما، بےشک تو ہی عطا والا ہے۔ 
(سورہ آل عمران: 8)

سورۃ الکہف میں اللہ رب العزت نے اپنی رحمت کو طلب کرنے کی تعلیم اس انداز میں دی ہے: 
 
رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔ 
اے ہمارے پروردگار! اپنی طرف سے ہمیں خاص رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں آسانی فرما دیجیئے۔  

اب جبکہ اختلاف رحمت ہے تو کیا ہمیں اختلاف کی دعا مانگنی چاہئیے اور اختلاف کے لئے کوشاں رہنا چاہئیے۔ 
 العیاذ بالللہ!

سورہ ہود میں اللہ رب العزت نے اختلاف کرنے والوں کو اپنی رحمت سے خارج قرار دیتے ہوئے فرمایا :
وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ۔ لوگ برابر اختلاف کرتے رہیں گے مگر وہ لوگ جن پر تیرا پروردگار رحم فرماۓ۔

اس آیت کی تفسیر میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جن پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے وہ اختلاف نہیں کرتے۔ 

نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو اختلاف سے بچنے اور اختلاف کے وقت اپنی اور اپنے خلفاء کی سنت کو لازم پکڑنے کی وصیت کرتے ہوئے فرمایا:

 حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : ایک دن رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور ایک متاثر کن وعظ فرمایا ، جس سے دل ( اللہ کی ناراضی اور عذاب سے ) خوف زدہ ہو گئے اور آنکھیں اشک بار ہو گئیں ۔ عرض کیا گیا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے ہمیں ایسے نصیحت فرمائی ہے جس طرح رخصت کرنے والا نصیحت کیا کرتا ہے ، آپ ہم سے کوئی عہد و پیمان لے لیجیے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور حکم سن کر تعمیل کرو اگرچہ ( تمہارا حاکم ) کوئی حبشی غلام ہو ۔ اور تم میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے ، تو میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو اختیار کرنا ، اسے ڈاڑھوں سے پکڑ کر رکھنا ، ( اس پر مضبوطی سے قائم رہنا ) اور نئے نئے کاموں سے پرہیز کرنا ، کیوں کہ ہر بدعت گمراہی ہے ۔‘‘  
(سنن ابن ماجه: 42)

اللهم ارناالحق حقا وارزقنااتباعه وارناالباطل باطلا وارزقنااجتنابه!!
ترجمہ:
اے اللہ! ہمارے سامنے حق کو واضح فرمادے اور اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما! 
اور باطل کو بھی ظاہر کردے اور اس سے بچنے کی تو فیق عطا فرما!

No comments:

Post a Comment

Recent posts

786 کی بدعت

بسم اللہ الرحمن الرحیم  السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  موضوع: 786 کی بدعت   اقبال قاسمی سلفی  مصادر: مختلف مراجع و مصادر  ہمارے یہاں دیوب...